”ایمان کے واسطے جانفشانی کرو“!
”اُس ایمان کے واسطے جانفشانی کرو جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا۔“—یہوداہ ۳۔
۱. سچے مسیحی آجکل کس مفہوم میں جنگ لڑتے ہیں؟
جنگ لڑنے والے فوجیوں کی زندگی ہمیشہ کٹھن رہی ہے۔ تمام جنگی ہتھیار اُٹھائے ہر طرح کے موسم میں میلوں پیدل چلنے، اسلحہ استعمال کرنے کی کڑی تربیت حاصل کرنے یا اپنی زندگی اور اعضائےبدن کیلئے ہر طرح کے تشددآمیز خطرات کیخلاف اپنا دفاع کرنے کا تصور کریں۔ تاہم، سچے مسیحی قوموں کی جنگوں میں حصہ نہیں لیتے۔ (یسعیاہ ۲:۲-۴؛ یوحنا ۱۷:۱۴) پھربھی، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب ایک طرح سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ شیطان یسوع مسیح اور اُسکے زمینی پیروکاروں سے بہت نفرت کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۷) درحقیقت، یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کرنے والے تمام لوگ روحانی جنگ لڑنے کیلئے فوجیوں کے طور پر بھرتی ہو رہے ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۱۰:۴۔
۲. یہوداہ مسیحی جنگ کو کیسے بیان کرتا ہے اور اُسکا خط اس میں برداشت کرنے کیلئے کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے؟
۲ موزوں طور پر، یسوع کا سوتیلا بھائی یہوداہ لکھتا ہے: ”اے پیارو! جس وقت مَیں تم کو اُس نجات کی بابت لکھنے میں کمال کوشش کر رہا تھا جس میں ہم سب شریک ہیں تو مَیں نے تمہیں یہ نصیحت لکھنا ضرور جانا کہ تُم اُس اِیمان کے واسطے جانفشانی کرو جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا۔“ (یہوداہ ۳) جب یہوداہ مسیحیوں کو ”ایمان کے واسطے جانفشانی“ کرنے کی تاکید کرتا ہے تو وہ ”ذہنی اذیت“ کے مترادف لفظ سے متعلق اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ جیہاں، ایسی جانفشانی مشکل، ذہنی اذیت پہنچانے والی بھی ہو سکتی ہے! کیا آپ کبھیکبھی اس جنگ میں برداشت کرنا مشکل پاتے ہیں؟ یہوداہ کا مختصر مگر اثرآفرین خط ہماری مدد کر سکتا ہے۔ یہ ہمیں بداخلاقی کی مزاحمت کرنے، الہٰی طور پر مُتعیّنہ اختیار کا احترام کرنے اور خود کو خدا کی محبت میں قائم رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ہم اس مشورت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں۔
بداخلاقی کی مزاحمت کریں
۳. یہوداہ کے زمانے میں مسیحی کلیسیا کو کس ہنگامی صورتحال کا سامنا تھا؟
۳ یہوداہ دیکھ سکتا تھا کہ اُسکے تمام مسیحی ساتھی شیطان کے خلاف جنگ میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔ گلّے کو ایک نہایت ہنگامی صورتحال کا سامنا تھا۔ بدکار آدمی ”چپکے سے . . . آ ملے“ تھے، یہوداہ لکھتا ہے۔ یہ آدمی خفیہ طور پر بداخلاقی کو فروغ دے رہے تھے۔ نیز وہ ”ہمارے خدا کے فضل کو شہوتپرستی سے بدل“ کر، بڑی عیاری سے اپنے کاموں کی توجیہ کرتے تھے۔ (یہوداہ ۴) غالباً، بعض قدیم غناسطیوں کی طرح، اُنہوں نے بھی یہی استدلال کِیا کہ ایک شخص جتنا زیادہ گناہ کرتا ہے اُتنا ہی وہ خدا کے فضل کا تجربہ کرتا ہے—لہٰذا، عملاً، زیادہ گناہ کرنا ہی اچھا ہے! یا شاید اُنہوں نے یہ سوچا ہو کہ ایک رحیم خدا اُنہیں کبھی سزا نہیں دیگا۔ بہرصورت، وہ غلطی پر تھے۔—۱-کرنتھیوں ۳:۱۹۔
۴. یہوواہ کی ماضی کی عدالتی کارروائیوں کی کونسی تین مثالیں یہوداہ پیش کرتا ہے؟
۴ یہوداہ ماضی سے یہوواہ کی عدالتی کارروائی کی تین مثالیں پیش کرنے سے اُنکے شرانگیز دلائل کی تردید کرتا ہے: اسرائیلیوں کے خلاف جو ”ایمان نہ لائے“؛ اُن ”فرشتوں“ کے خلاف جنہوں نے عورتوں کیساتھ گناہ میں پڑنے کیلئے ”اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا“؛ اور سدوم اور عمورہ کے باشندوں کے خلاف جو ”حرامکاری میں پڑ گئے اور غیرجسم کی طرف راغب ہوئے۔“ (یہوداہ ۵-۷؛ پیدایش ۶:۲-۴؛ ۱۹:۴-۲۵؛ گنتی ۱۴:۳۴) ہر معاملے میں، یہوواہ نے گنہگاروں کے خلاف سخت عدالتی کارروائی کی۔
۵. یہوداہ کس قدیمی نبی کی تحریر سے حوالہ دیتا ہے اور اُس پیشینگوئی نے اپنی تکمیل کے یقینی ہونے کو کیسے بیان کِیا؟
۵ بعدازاں، یہوداہ اس سے بھی زیادہ دُوررس عدالتی کارروائی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ حنوک کی پیشینگوئی کا حوالہ دیتا ہے—ایسا اقتباس جو الہامی صحائف میں اَور کہیں نہیں ملتا۔a (یہوداہ ۱۴، ۱۵) حنوک نے ایک ایسے وقت کی پیشینگوئی کی جب یہوواہ تمام گنہگاروں اور اُنکے گنہگارانہ کاموں کی عدالت کریگا۔ دلچسپی کی بات ہے کہ حنوک نے فعلماضی میں بات کی کیونکہ خدا کی عدالتی کارروائیاں اتنی یقینی ہیں کہ گویا یہ واقع ہو چکی ہیں۔ لوگوں نے حنوک اور بعدازاں نوح کا مذاق تو ضرور اُڑایا ہوگا مگر ایسے تمام ٹھٹھاباز عالمگیر طوفان میں ڈوب مرے۔
۶. (ا) یہوداہ کے زمانے کے مسیحیوں کو کس بات کی یاددہانی کرانے کی ضرورت تھی؟ (ب) ہمیں یہوداہ کی یاددہانی کو دلنشین کیوں کرنا چاہئے؟
۶ یہوداہ نے ان الہٰی عدالتی کارروائیوں کو کیوں قلمبند کِیا تھا؟ اسلئےکہ وہ جانتا تھا کہ اُسکے زمانے میں مسیحی کلیسیا سے وابستہ بعض لوگ بالکل ویسے ہی گھناؤنے اور نفرتانگیز گناہ کر رہے تھے جو ماضی کی اُن عدالتی کارروائیوں کا باعث بنے تھے۔ پس، یہوداہ لکھتا ہے کہ کلیسیاؤں کو بعض بنیادی روحانی سچائیاں یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ (یہوداہ ۵) بدیہی طور پر وہ بھول گئے تھے کہ یہوواہ اُنکے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ جیہاں، جب اُس کے خادم خود کو اور دوسروں کو ناپاک کرتے ہوئے، اُسکے قوانین کی قصداً خلافورزی کرتے ہیں تو وہ دیکھتا ہے۔ (امثال ۱۵:۳) ایسے کام اُسے بہت دُکھ پہنچاتے ہیں۔ (پیدایش ۶:۶؛ زبور ۷۸:۴۰) یہ ایک مہیب خیال ہے کہ ہم انسان کائنات کے حاکمِاعلیٰ کے احساسات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ وہ ہر روز ہمیں دیکھتا ہے اور جب ہم اُسکے بیٹے، یسوع مسیح کے نقشِقدم پر چلنے کی حتیالمقدور کوشش کرتے ہیں تو ہمارا چالچلن اُسکے دل کو شاد کرتا ہے۔ پس آئیے، ایسی یاددہانیوں سے جو یہوداہ پیش کرتا ہے کبھی بھی آزردہ نہ ہوں بلکہ اُنہیں اپنے دل میں جگہ دیں۔—امثال ۲۷:۱۱؛ ۱-پطرس ۲:۲۱۔
۷. (ا) سنگین غلطکاری میں ملوث لوگوں کیلئے فوراً مدد حاصل کرنا کیوں نہایت اہم ہے؟ (ب) ہم سب بداخلاقی سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۷ یہوواہ نہ صرف دیکھتا ہے بلکہ کارروائی بھی کرتا ہے۔ ایک عادل خدا کے طور پر، وہ—جلد یا بدیر—بدکاروں کو سزا دیتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۲۴) جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اُسکی عدالتی کارروائیاں محض پُرانی باتیں ہیں اور یہ کہ وہ اُنکی بدی کی کوئی پرواہ نہیں کرتا وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔ آجکل بداخلاقی میں ملوث کسی بھی شخص کیلئے بِلاتاخیر مسیحی بزرگوں سے مدد حاصل کرنا کتنا اہم ہے! (یعقوب ۵:۱۴، ۱۵) ہماری روحانی جنگ میں بداخلاقی جس خطرے کا باعث بنتی ہے وہ ہم سب کو تشویش میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ہر سال کئی اسکا شکار ہو جاتے ہیں—ایسے افراد جنکی اکثریت کو ہمارے درمیان سے نکال دیا گیا ہے کیونکہ وہ تائب ہوئے بغیر بداخلاقی کے کام کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں ایسی آزمائشوں کی مزاحمت کرنے کا عزمِمُصمم کرنا چاہئے جو ہمیں اس راہ پر ڈال سکتی ہیں۔—مقابلہ کریں متی ۲۶:۴۱۔
الہٰی طور پر مُتعیّنہ اختیار کا احترام کریں
۸. یہوداہ ۸ میں بیانکردہ ”عزتدار“ کون تھے؟
۸ الہٰی طور پر مُتعیّنہ اختیار کیلئے احترام کی کمی ایک اَور مسئلہ ہے جس پر یہوداہ باتچیت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ۸ آیت میں وہ اُنہی بدکار اشخاص پر ”عزتداروں پر لعنطعن“ کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ یہ ”عزتدار“ کون تھے؟ یہ ناکامل انسان تھے مگر اُنہیں یہوواہ کی روحالقدس کے ذریعے ذمہداریاں سونپی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر، کلیسیاؤں میں بزرگ تھے جن کو خدا کے گلّے کی گلّہبانی کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ (۱-پطرس ۵:۲) پولس رسول کی طرح، سفری نگہبان بھی تھے۔ نیز یروشلیم میں مجلسِبزرگان بطور گورننگ باڈی سرگرمِعمل تھی جو اجتماعی طور پر مسیحی کلیسیا پر اثرانداز ہونے والے فیصلے کِیا کرتی تھی۔ (اعمال ۱۵:۶) یہوداہ اس بات کی بابت فکرمند تھا کیونکہ کلیسیاؤں میں بعض لوگ ایسے اشخاص پر لعنطعن یا ان کیساتھ گستاخی کر رہے تھے۔
۹. اختیار کی بےحُرمتی کے سلسلے میں یہوداہ کونسی مثالیں پیش کرتا ہے؟
۹ ایسی گستاخ گفتگو کی مذمت کرنے کیلئے، ۱۱ آیت میں یہوداہ یاددہانی کے طور پر مزید تین مثالوں کا حوالہ دیتا ہے: قائن، بلعام اور قورح۔ قائن نے یہوواہ کی مشفقانہ مشورت کو نظرانداز کر دیا اور جانبوجھ کر اپنی قاتلانہ عداوت کی روش پر چل نکلا۔ (پیدایش ۴:۴-۸) بلعام کو مسلمہ طور پر مافوقالفطرت ذریعے سے بارہا آگاہیاں دی گئیں—حتیٰکہ اُسکی گدھی بھی اُسکے سامنے بول اُٹھی! تاہم بلعام خودغرضانہ طور پر خدا کے لوگوں کیخلاف سازش کرنے سے باز نہ آیا۔ (گنتی ۲۲:۲۸، ۳۲-۳۴؛ استثنا ۲۳:۵) قورح خود بھی ذمہدارانہ مرتبے پر فائز تھا مگر وہ اس سے مطمئن نہیں تھا۔ اُس نے زمین پر سب سے زیادہ حلیم آدمی، موسیٰ کے خلاف بغاوت کو اپنے اندر بڑھنے دیا۔—گنتی ۱۲:۳؛ ۱۶:۱-۳، ۳۲۔
۱۰. آجکل بعض ”عزتداروں پر لعنطعن“ کرنے کے پھندے میں کیسے پھنس سکتے ہیں اور ایسی گفتگو سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟
۱۰ یہ مثالیں کتنے اثرآفرین طریقے سے ہمیں مشورت کو سننے اور یہوواہ کی طرف سے ذمہدارانہ مرتبوں پر فائز اشخاص کا احترام کرنے کا درس دیتی ہیں! (عبرانیوں ۱۳:۱۷) مقررہ بزرگوں میں نقص نکالنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی ہم سب کی طرح ناکامل ہیں۔ تاہم اگر ہم اُنکی غلطیوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اُن کیلئے کم احترام دکھاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہم بھی ”عزتداروں پر لعنطعن“ کر رہے ہوں؟ یہوداہ ۱۰ آیت میں، ایسے لوگوں کا ذکر کرتا ہے جو ”جن باتوں کو نہیں جانتے اُن پر لعنطعن کرتے ہیں۔“ بعضاوقات، کچھ لوگ مجلسِبزرگان یا عدالتی کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کرینگے۔ تاہم، وہ اُن تمام تفصیلات سے آگاہ نہیں ہوتے جن پر بزرگوں نے کسی فیصلے پر پہنچنے کیلئے غوروخوض کِیا تھا۔ پس ایسی باتوں پر لعنطعن کیوں کریں جنہیں درحقیقت وہ جانتے نہیں؟ (امثال ۱۸:۱۳) مسلسل ایسی منفی گفتگو کرنے والے لوگ کلیسیا میں تفرقوں کا باعث بن سکتے ہیں اور اُنہیں غالباً ساتھی ایمانداروں کے اجتماعات پر ”دریا کی“ خطرناک ”پوشیدہ چٹانوں“ سے بھی تشبِیہ دی جا سکتی ہے۔ (یہوداہ ۱۲، ۱۶، ۱۹) ہم کبھی بھی دوسروں کیلئے روحانی خطرے کا موجب نہیں بننا چاہینگے۔ اِسکی بجائے آئیے ہم سب ذمہدار اشخاص کی محنت اور خدا کے گلّے کیلئے اُنکی جاںنثاری کی قدر کرنے کا عزم کریں۔—۱-تیمتھیس ۵:۱۷۔
۱۱. میکائیل نے شیطان پر لعنطعن کے ساتھ نالش کرنے سے کیوں احتراز کِیا؟
۱۱ یہوداہ ایک ایسی ہستی کی مثال پیش کرتا ہے جس نے واجب مُتعیّنہ اختیار کیلئے احترام کا مظاہرہ کِیا تھا۔ وہ لکھتا ہے: ”مقرب فرشتہ میکائیلؔ نے موسیٰؔ کی لاش کی بابت ابلیس سے بحثوتکرار کرتے وقت لعنطعن کے ساتھ اُس پر نالش کرنے کی جرأت نہ کی بلکہ یہ کہا کہ خداوند تجھے ملامت کرے۔“ (یہوداہ ۹) یہ جاذبِتوجہ سرگزشت جو الہامی صحائف میں صرف یہوداہ نے ہی قلمبند کی دو امتیازی اسباق سکھاتی ہے۔ ایک طرف تو یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ عدالتی کارروائی یہوواہ پر چھوڑ دیں۔ شیطان بدیہی طور پر وفادار انسان موسیٰ کی لاش کو جھوٹی پرستش کو رواج دینے کیلئے غلط طریقے سے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ کتنا عیار! پھر بھی، فروتنی سے میکائیل نے نالش کرنے سے گریز کِیا کیونکہ ایسا کرنا صرف یہوواہ کے اختیار میں تھا۔ پس، پھر ہمیں وفادار انسانوں پر نالش کرنے سے کسقدر گریز کرنا چاہئے جو یہوواہ کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
۱۲. مسیحی کلیسیا میں ذمہدارانہ مرتبوں پر فائز لوگ میکائیل کے نمونے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۲ دوسری طرف، کلیسیا میں کچھ اختیار رکھنے والوں کو بھی میکائیل سے سبق سیکھنا چاہئے۔ بہرحال، اگرچہ میکائیل ”مقرب فرشتہ،“ تمام فرشتوں کا سردار تھا، پھر بھی اُس نے اشتعال دلائے جانے کے باوجود اپنی بااختیار حیثیت کا ناجائز استعمال نہ کِیا۔ وفادار بزرگ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے اس نمونے کی پیروی کرتے ہیں کہ اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرنا یہوواہ کی حاکمیت کی بےحُرمتی کرنے کے مترادف ہے۔ یہوداہ کا خط ایسے اشخاص کی بابت بہت کچھ بیان کرتا ہے جو قابلِاحترام مرتبوں پر فائز تھے مگر اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرنے لگے۔ مثال کے طور پر، ۱۲ سے ۱۴ آیت میں، یہوداہ ”بےدھڑک اپنا پیٹ بھرنے والے چرواہوں“ کو علانیہ ملامت کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں حزقیایل ۳۴:۷-۱۰۔) باالفاظِدیگر، اُنکا اوّلین مقصد یہوواہ کے گلّے کی بجائے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا تھا۔ آجکل بزرگ ایسی منفی مثالوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ واقعی، یہاں یہوداہ کے الفاظ واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ ہم کیا نہیں بننا چاہتے۔ جب ہم مفادپرستی میں پڑ جاتے ہیں تو پھر ہم مسیح کے سپاہی نہیں بن سکتے؛ ہم اپنی ذات کیلئے جانفشانی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اسکی بجائے، آئیے ہم سب یسوع کے الفاظ کے مطابق زندگی بسر کریں: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“—اعمال ۲۰:۳۵۔
”اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو“
۱۳. ہم سب کو خدا کی محبت میں قائم رہنے کے متمنی کیوں ہونا چاہئے؟
۱۳ اپنے خط کے اختتام پر پہنچ کر، یہوداہ دل کو گرما دینے والی یہ مشورت پیش کرتا ہے: ”اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو۔“ (یہوداہ ۲۱) یہوواہ خدا کی محبت کے حامل بنے رہنے سے بڑھکر اَور کوئی چیز نہیں جو مسیحی جنگ لڑنے میں ہماری مدد کریگی۔ بہرحال، محبت یہوواہ کی امتیازی خوبی ہے۔ (۱-یوحنا ۴:۸) پولس نے روم کے مسیحیوں کو لکھا: ”مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔“ (رومیوں ۸:۳۸، ۳۹) تاہم، ہم ایسی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟ یہوداہ کے مطابق، تین ایسے اقدام پر غور کریں جو ہم کر سکتے ہیں۔
۱۴، ۱۵. (ا) ”پاکترین ایمان“ میں ترقی کرنے سے کیا مُراد ہے؟ (ب) ہم اپنے روحانی بکتر کی حالت کا جائزہ کیسے لے سکتے ہیں؟
۱۴ اوّل، یہوداہ ہمیں اپنے ”پاکترین ایمان“ میں ترقی کرتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ (یہوداہ ۲۰) جیسے ہم نے پچھلے مضمون میں دیکھا تھا، یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔ ہم ایسی عمارتوں کی مانند ہیں جنہیں موسمیاتی سختیوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ (مقابلہ کریں متی ۷:۲۴، ۲۵۔) پس آئیے کبھی بھی حد سے زیادہ پُراعتماد نہ ہوں۔ بلکہ، آئیے یہ دیکھیں کہ مسیح کے مضبوط، زیادہ وفادار سپاہی بنتے ہوئے ہم ایمان کی بنیاد پر کس حلقے میں خود کو مستحکم کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم افسیوں ۶:۱۱-۱۸ میں بیانکردہ روحانی زرہبکتر کے مختلف حصوں پر غور کر سکتے ہیں۔
۱۵ ہمارے روحانی بکتر کی حالت کیسی ہے؟ کیا ہمارے ”ایمان کی سپر“ اتنی ہی مضبوط ہے جتنی کہ اسے ہونا چاہئے؟ جب ہم اپنے ماضیقریب پر نظر کرتے ہیں تو کیا ہم سُست ہو جانے کی کچھ علامات دیکھتے ہیں، جیسےکہ اجلاسوں پر کم حاضر ہونا، خدمتگزاری کے لئے جوش کا فقدان یا ذاتی مطالعے کے لئے گرمجوشی کی کمی؟ ایسی علامات تشویشناک ہیں! ہمیں اب ہمت کرنے اور سچائی میں خود کو مضبوط کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۵؛ ۲-تیمتھیس ۴:۲؛ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵۔
۱۶. روحالقدس سے دُعا کرنے کا کیا مطلب ہے اور وہ ایک چیز کونسی ہے جس کیلئے ہمیں یہوواہ سے باقاعدگی کیساتھ درخواست کرنی چاہئے؟
۱۶ خدا کی محبت میں قائم رہنے کا دوسرا طریقہ ”روحالقدس میں دُعا“ کرتے رہنا ہے۔ (یہوداہ ۲۰) اسکا مطلب یہوواہ کی روح کے زیرِاثر اور روح کی ہدایت سے مُلہَم اُس کے کلام کی مطابقت میں دُعا کرنا ہے۔ دُعا ذاتی طور پر یہوواہ کے قریب جانے اور اُس کے لئے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں اس شاندار استحقاق سے کبھی غفلت نہیں برتنی چاہئے! نیز جب ہم دُعا کرتے ہیں تو ہم روحالقدس کے لئے درخواست—دراصل، مسلسل درخواست—کر سکتے ہیں۔ (لوقا ۱۱:۱۳) یہ ہمارے لئے ممکنالحصول سب سے زبردست قوت ہے۔ ایسی مدد کے سہارے، ہم ہمیشہ خدا کی محبت میں قائم رہ سکتے اور مسیح کے سپاہیوں کے طور پر برداشت کر سکتے ہیں۔
۱۷. (ا) رحم کے معاملے میں یہوداہ کی مثال اسقدر عمدہ کیوں ہے؟ (ب) ہم سب کیسے رحم دکھانا جاری رکھ سکتے ہیں؟
۱۷ تیسری بات یہ ہے کہ یہوداہ ہمیں مسلسل رحم دکھانے کی تاکید کرتا ہے۔ (یہوداہ ۲۲) اس سلسلے میں اُسکی اپنی مثال نہایت عمدہ ہے۔ بہرصورت، مسیحی کلیسیا میں بتدریج سرایت کرنے والی بدعنوانی، بداخلاقی اور برگشتگی کی بابت اُسکا پریشان ہونا بجا تھا۔ تاہم، وہ یہ نظریہ اپناتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوا تھا کہ ایسے خطرناک حالات میں رحم جیسی ”معمولی“ خوبی کا مظاہرہ کرنا مناسب نہیں۔ ہرگز نہیں، اُس نے اپنے بھائیوں کو جب کبھی ممکن ہو شکوک میں مبتلا لوگوں کو پیار سے سمجھانے اور بھولے سے بھی سنگین گناہ کے قریب جانے والوں کو ’جھپٹ کر آگ میں سے نکالنے‘ سے مسلسل رحم دکھانے کی تاکید کی۔ (یہوداہ ۲۳؛ گلتیوں ۶:۱) اس پُرآشوب زمانے میں بزرگوں کیلئے کیا ہی عمدہ نصیحت! ضرورت کے مطابق مستقلمزاجی دکھانے کے باوجود وہ بھی جہاں تک ممکن ہو رحم دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم سب بھی ایک دوسرے کیلئے رحم دکھانا چاہتے ہیں۔ مثلاً، چھوٹی چھوٹی رنجشوں کو بڑھانے کی بجائے، ہم معاف کرنے کے سلسلے میں فراخدلی کا ثبوت دے سکتے ہیں۔—کلسیوں ۳:۱۳۔
۱۸. اپنی روحانی جنگ میں ہم فتح کا یقین کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۸ ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ آسان نہیں ہے۔ یہوداہ کے مطابق، یہ ”جانفشانی“ ہے۔ (یہوداہ ۳) ہمارے دشمن بہت طاقتور ہیں۔ صرف شیطان ہی نہیں بلکہ اُسکی بدکار دُنیا اور ہماری ناکاملیتیں سب ہمارے خلاف صفآراء ہیں۔ پھربھی، ہم فتح کا یقین رکھ سکتے ہیں! کیوں؟ اسلئےکہ ہم یہوواہ کی طرف ہیں۔ یہوداہ اس یاددہانی کیساتھ اپنے خط کا اختتام کرتا ہے کہ ”جلال اور عظمت اور سلطنت اور اختیار . . . ازل سے . . . ابدالآباد“ تک بجا طور پر یہوواہ ہی کا ہے۔ (یہوداہ ۲۵) کیا یہ حیرتافزا خیال نہیں ہے؟ چنانچہ کیا اس میں کوئی شک کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ یہی خدا ”تم کو ٹھوکر کھانے سے بچا سکتا ہے“؟ (یہوداہ ۲۴) ہرگز نہیں! آئیے ہم سب ہمیشہ بداخلاقی کی مزاحمت کرنے، الہٰی طور پر مُتعیّنہ اختیار کا احترام کرنے اور خدا کی محبت میں قائم رہنے کا عزم کریں۔ اس طرح، ہم باہمی طور پر شاندار فتح سے لطفاندوز ہونگے۔
[فٹنوٹ]
a بعض محققین کا خیال ہے کہ یہوداہ کسی غیرالہامی تحریر حنوک کی کتاب سے حوالہ دے رہا تھا۔ تاہم، آر. سی. ایچ. لینسکی بیان کرتا ہے: ”ہم پوچھتے ہیں: ’اس مجموعۂمتفرقات یعنی، حنوک کی کتاب کا ماخذ کیا ہے؟‘ یہ کتاب تدریجی اضافے کا نتیجہ ہے اور کوئی بھی اسکے مختلف حصوں کی تاریخوں کی بابت وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا . . .؛ نہ ہی کوئی وثوق سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اسکے اظہارات، غالباً، خود یہوداہ سے نہیں لئے گئے تھے۔“
سوالات برائے اعادہ
◻یہوداہ کا خط ہمیں بداخلاقی کی مزاحمت کرنا کیسے سکھاتا ہے؟
◻الہٰی طور پر مُتعیّنہ اختیار کا احترام کرنا اسقدر اہم کیوں ہے؟
◻کلیسیائی اختیار کا غلط استعمال اتنا سنگین کیوں ہے؟
◻ہم خدا کی محبت میں قائم رہنے کی کوشش کیسے کر سکتے ہیں؟
[صفحہ 24 پر تصویر]
رومی فوجیوں کے برعکس، مسیحی روحانی جنگ لڑتے ہیں
[صفحہ 26 پر تصویر]
مسیحی چرواہے خودغرضانہ مفاد کے لئے نہیں بلکہ محبت سے خدمت کرتے ہیں