یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏6 ص.‏ 28-‏31
  • آپ روحانی ترقی کر سکتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ روحانی ترقی کر سکتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ اپنے خادموں کو تقویت بخشتا ہے
  • ‏”‏پُرانی انسانیت کو اُتار پھینکو“‏
  • ہمارے اندر ”‏ آگ“‏ کی مانند
  • جیسے لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے
  • روحانی ترقی کرنے کے لئے اچھی وجوہات
  • ہیروں کے جنون کی داستان
    جاگو!‏—‏2006ء
  • خدا کی خدمت میں بہتری لانے کی کوشش کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • نوجوانو!‏ بپتسمے کے بعد بھی پُختہ مسیحی بننے کی کوشش کرتے رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • خدا پر بھروسے نے مجھے بچائے رکھا
    جاگو!‏—‏2002ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏6 ص.‏ 28-‏31

آپ روحانی ترقی کر سکتے ہیں

حقیقی قدروقیمت کو پہچاننا مشکل ہو سکتا ہے۔ ہیروں کیساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ اگرچہ ایک پالش‌شُدہ ہیرا جگمگاتا ہے، تاہم ایک خام ہیرا انتہائی معمولی چمک رکھتا ہے۔ تاہم، ایک خام ہیرے کی تہہ میں یقیناً ایک خوبصورت گوہر پوشیدہ ہوتا ہے۔‏

مسیحی کئی لحاظ سے خام ہیروں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ہم ابھی تک کاملیت سے بہت دُور ہیں تو بھی ہم میں کچھ ایسی خوبیاں پنہاں ہیں جنکی یہوواہ قدر کرتا ہے۔ ہیروں کی مانند، ہم سب مخصوص خوبیوں کے مالک ہیں۔ پس اگر ہماری دلی خواہش ہو تو ہم میں سے ہر ایک مزید روحانی ترقی کر سکتا ہے۔ ہماری شخصیات میں مزید نکھار پیدا ہو سکتا ہے تاکہ یہوواہ کا جلال ظاہر کرنے کیلئے وہ اَور زیادہ آب‌وتاب کیساتھ چمکیں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۳۱‏۔‏

ہیرے کو تراشنے اور پالش کرنے کے بعد اُسے ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں اُسکی انعکاسی خصوصیات کی دلکشی اَور بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ہم ”‏نئی انسانیت کو [‏پہن لیتے ہیں]‏ جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے“‏ تو یہوواہ ہمیں مختلف حالات اور تفویضات کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔—‏افسیوں ۴:‏۲۰-‏۲۴‏۔‏

ایسی روحانی ترقی قدرتی طور پر واقع نہیں ہو سکتی جیسے‌کہ ہیرا اپنی فطری حالت میں شاذونادر ہی گوہر کی مانند چمکتا ہے۔ ہمیں اپنی طویل‌اُلمدت کمزوری سے چھٹکارا پانے، ذمہ‌داریوں کی بابت اپنے رویے میں تبدیلی لانے حتیٰ‌کہ ایک پُختہ روحانی عادت کو بدلنے کے لئے سخت کوشش کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر ہم واقعی چاہتے ہیں تو ہم ترقی کر سکتے ہیں کیونکہ یہوواہ خدا ہمیں ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ عطا کر سکتا ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷؛‏ فلپیوں ۴:‏۱۳‏۔‏

یہوواہ اپنے خادموں کو تقویت بخشتا ہے

ہیروں کو تراشنے کے لئے اعتماد درکار ہے جو درست علم سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ایک مرتبہ جب ہیرے کے کسی حصے کو کاٹ دیا جائے تو وہ عموماً ضائع ہو جاتا ہے۔ مطلوبہ شکل میں لانے کے لئے، اس قیمتی گوہر کا بہت سا حصہ—‏بعض‌اوقات تو خام پتھر کا ۵۰ فیصد—‏کاٹنا پڑتا ہے۔ اپنی شخصیت کو مطلوبہ شکل دینے اور روحانی ترقی کرنے کے لئے ہمیں بھی درست علم سے حاصل ہونے والے اعتماد کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ہمیں یہ اعتماد رکھنا چاہئے کہ یہوواہ ہمیں قوت فراہم کریگا۔‏

تاہم، ممکن ہے کہ ہم نااہل محسوس کریں یا یہ سوچیں کہ ہم اس سے زیادہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ماضی میں، خدا کے وفادار خادموں نے بھی بعض‌اوقات ایسا ہی محسوس کِیا۔ (‏خروج ۳:‏۱۱، ۱۲؛‏ ۱-‏سلاطین ۱۹:‏۱-‏۴‏)‏ جب یرمیاہ کو خدا نے ”‏قوموں کیلئے نبی“‏ ٹھہرایا تو وہ بے‌ساختہ پکار اُٹھا:‏ ”‏دیکھ مَیں بول نہیں سکتا کیونکہ مَیں تو بچہ ہوں۔“‏ (‏یرمیاہ ۱:‏۵، ۶‏)‏ اپنے خاموش‌طبع ہونے کے باوجود، یرمیاہ ایک دلیر نبی ثابت ہوا جس نے مخالفین کو پُرزور پیغامات سنائے۔ یہ کیسے ممکن ہوا تھا؟ اُس نے یہوواہ پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا۔ بعدازاں یرمیاہ نے لکھا:‏ ”‏مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ پر توکل کرتا ہے اور جسکی اُمیدگاہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔“‏—‏یرمیاہ ۱۷:‏۷؛‏ ۲۰:‏۱۱‏۔‏

آج بھی، یہوواہ اُن لوگوں کو قوت بخشتا ہے جو اُس پر توکل کرتے ہیں۔ چار بچوں کے باپ ایڈورڈa نے اس بات کو درست پایا جو روحانی ترقی کرنے میں بہت سُست تھا۔ وہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏مَیں نو سال سے یہوواہ کا گواہ تھا لیکن روحانی اعتبار سے مجھ مَیں ٹھہراؤ سا تھا۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ مَیں محرک کی کمی اور عدم‌اعتماد کا شکار تھا۔ سپین نقل‌مکانی کرنے کے بعد، مَیں نے خود کو ایک چھوٹی سی کلیسیا میں پایا جس میں صرف ایک بزرگ اور ایک خادم تھا۔ ضرورت کے پیشِ‌نظر، بزرگ نے مجھے بہت سی تفویضات سونپ دیں۔ جب میں نے اپنی پہلی تقاریر اور کلیسیائی اجلاسوں میں حصے پیش کئے تو مَیں کانپ گیا تھا۔ تاہم، مَیں نے یہوواہ پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا۔ وہ بزرگ ہمیشہ میری تعریف کرتا اور بہتری کیلئے دانشمندانہ تجاویز پیش کرتا تھا۔‏

‏”‏اسی اثنا میں، مَیں نے اپنی میدانی خدمتگزاری کو بڑھایا اور اپنے خاندان میں بہتر روحانی پیشوائی کرنے لگا۔ نتیجتاً، سچائی تمام خاندان کیلئے زیادہ پُرمطلب بن گئی اور مجھے بہت زیادہ اطمینان حاصل ہوا۔ اب مَیں ایک خدمتگزار خادم ہوں اور ایک مسیحی نگہبان کی لیاقتیں پیدا کرنے کیلئے سخت محنت کر رہا ہوں۔“‏

‏”‏پُرانی انسانیت کو اُتار پھینکو“‏

جیساکہ ایڈورڈ نے تسلیم کِیا، روحانی ترقی کیلئے یہوواہ پر توکل کرنا ضروری ہے۔ مسیح جیسی ”‏نئی انسانیت“‏ پیدا کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ یہ کیسے کِیا جا سکتا ہے؟ اس کیلئے پہلا قدم اُن خصلتوں کو ”‏اُتار“‏ پھینکنا ہے جو پُرانی شخصیت کا حصہ ہیں۔ (‏کلسیوں ۳:‏۹، ۱۰‏)‏ جس طرح ایک خام ہیرے کو درخشاں گوہر بنانے کیلئے اُس پر سے غیرمتعلقہ معدنیات جیسی خرابیوں کا دُور کِیا جانا ضروری ہے، اُسی طرح ہماری نئی انسانیت کو نمایاں کرنے کیلئے ”‏دنیوی باتوں“‏ سے متعلق رجحانات کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔—‏گلتیوں ۴:‏۳‏۔‏

ایک ایسا رجحان اس خوف کے باعث ذمہ‌داری قبول کرنے سے ہچکچانا ہے کہ ہم سے بہت زیادہ کی توقع کی جائیگی۔ درست ہے کہ ذمہ‌داری کا مطلب کام ہے مگر یہ اطمینان‌بخش کام ہے۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۲۰:‏۳۵‏۔)‏ پولس نے تسلیم کِیا کہ خدائی عقیدت ہم سے ’‏محنت اور جانفشانی‘‏ کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اُس نے بیان کِیا کہ ہم خوشی سے ایسا کرتے ہیں ”‏کیونکہ ہماری اُمید اُس زندہ خدا پر“‏ لگی ہے جو اُس محنت کو کبھی نہیں بھولتا جو ہم اپنے ساتھی مسیحیوں اور دیگر لوگوں کیلئے کرتے ہیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۹، ۱۰؛‏ عبرانیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

بعض ہیرے اپنی بناوٹ کے دوران ”‏نقائص“‏ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اسلئے وہ احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں۔ تاہم پولاری‌سکوپ نامی آلے کی مدد سے پالش کرنے والا ”‏نقص“‏ والی جگہ کا پتہ لگا سکتا اور یوں کامیابی کیساتھ پتھر پر کام کر سکتا ہے۔ ہم بھی شاید اپنے پس‌منظر یا کسی تلخ تجربے کے باعث کسی اندرونی کھچاؤ یا شخصیتی خامی کا شکار ہیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اوّل، ہمیں خود مسئلے کو تسلیم کرنے اور ممکنہ حد تک اُس پر قابو پانے کا عزم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقیناً دُعا میں اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈالنے اور اگر ممکن ہو تو کسی مسیحی بزرگ سے روحانی مدد کے طالب ہونا چاہئے۔—‏زبور ۵۵:‏۲۲؛‏ یعقوب ۵:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

ایسے ہی اندرونی کھچاؤ نے نکولس کو متاثر کِیا۔ ”‏میرا باپ شرابی تھا اور اُس نے مجھے اور میری بہن کو بہت پریشان کِیا،“‏ وہ بیان کرتا ہے۔ ”‏جب مَیں سکول سے فارغ ہوا تو مَیں فوج میں بھرتی ہو گیا مگر میرے باغیانہ میلان نے جلد ہی مجھے مشکل میں ڈال دیا۔ منشیات میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوجی حکام نے مجھے جیل میں ڈال دیا اور ایک دوسرے موقع پر مَیں نوکری چھوڑ کر بھاگ گیا۔ بالآخر مَیں نے فوج سے کنارہ‌کشی کر لی لیکن پھر بھی مجھے مشکلات درپیش تھیں۔ اگرچہ منشیات کے استعمال اور بِلانوشی کے سبب میری زندگی ابتری کا شکار تھی تو بھی مجھے بائبل میں دلچسپی تھی اور مَیں بامقصد زندگی کا متمنی تھا۔ آخرکار میرا رابطہ یہوواہ کے گواہوں سے ہوا، مَیں نے اپنا طرزِزندگی بدل لیا اور سچائی کو قبول کر لیا۔‏

‏”‏تاہم اپنی شخصیت میں اس خامی کو پہچاننے اور تسلیم کرنے میں مجھے کئی سال لگ گئے۔ میرے دل میں اختیار کیلئے سخت نفرت تھی اور جب بھی مجھے مشورت دی جاتی تو میرا رویہ جارحانہ ہوتا تھا۔ اگرچہ میری خواہش تھی کہ یہوواہ مجھے بھرپور طریقے سے استعمال کرے تو بھی یہ خامی میری راہ میں حائل تھی۔ آخرکار، دو فہیم بزرگوں کی مدد سے مَیں نے اپنے مسئلے کو تسلیم کِیا اور اُنکی پُرمحبت مشورت کا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔ اگرچہ بعض‌اوقات کسی حد تک آزردگی پیدا ہو جاتی ہے تاہم، اب مَیں نے اپنی باغیانہ فطرت پر قابو پا لیا ہے۔ یہوواہ جس صبر سے مجھے برداشت کرتا رہا ہے، مَیں اُس کیلئے اور بزرگوں کی پُرمحبت مدد کا بہت ممنون ہوں۔ اپنی روحانی ترقی کی وجہ سے حال ہی میں مجھے خدمتگزار خادم مقرر کِیا گیا ہے۔“‏

جیساکہ نکولس نے محسوس کِیا کہ گہری جڑ پکڑ جانے والے رویوں کو بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ ہمیں بھی ایسے ہی چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ شاید ہم حد سے زیادہ حساس ہیں۔ شاید ہم کسی دکھ کی آبیاری کر رہے ہیں یا ممکن ہے کہ خودمختاری پر حد سے زیادہ زور دے رہے ہوں۔ پس ہماری مسیحی ترقی محدود ہو سکتی ہے۔ ہیرے کو پالش کرنے والے بھی پتھروں کی بابت ایسی ہی حالت کا تجربہ کرتے ہیں جسے وہ نیٹس کہتے ہیں۔ یہ دراصل دو پتھر ہوتے ہیں جنہیں ہیرا بنانے کے عمل کے دوران پگھلایا جاتا ہے۔ نتیجتاً، نیٹس میں دو متضاد نمونے بن جاتے ہیں جو جوہر کے مطابق کٹائی کے عمل کو بہت دشوار بنا دیتے ہیں۔ ہمارے معاملے میں، ہم آمادہ روح کے ”‏جوہر“‏ کو ناکامل جسم کے ”‏جوہر“‏ سے نبردآزما پاتے ہیں۔ (‏متی ۲۶:‏۴۱؛‏ گلتیوں ۵:‏۱۷‏)‏ بعض‌اوقات ہم اس پُرفریب توجیہ کے پیشِ‌نظر کہ ہماری شخصیتی خامیاں اتنی اہم نہیں ہیں جدوجہد کو بالکل ہی ختم کرنے کی طرف مائل محسوس کر سکتے ہیں۔ ’‏بہرصورت‘‏ شاید ہم کہیں، ’‏میرا خاندان اور دوست اب بھی مجھے پسند کرتے ہیں۔‘‏

تاہم اگر ہم اپنے بھائیوں کی خدمت کرنا اور اپنے آسمانی باپ کو جلال دینا چاہتے ہیں تو ہمیں نئی انسانیت کو پہنتے ہوئے ’‏اپنی عقل کو نیا بنانے‘‏ کی ضرورت ہے۔ ایسی کوشش نہایت سودمند ہے جیسے‌کہ نکولس اور بے‌شمار دیگر لوگ تصدیق کر سکتے ہیں۔ ہیرے کو پالش کرنے والا جانتا ہے کہ ایک داغ ہیرے کی تمام خوبصورتی کو خراب کر سکتا ہے۔ اسی طرح، اپنی شخصیت کے کسی کمزور پہلو کو نظرانداز کرنے سے، ہم اپنی روحانی شکل‌وصورت کو خراب کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی بدتر، ایک سنگین کمزوری ہمارے روحانی زوال پر منتج ہو سکتی ہے۔—‏امثال ۸:‏۳۳‏۔‏

ہمارے اندر ”‏ آگ“‏ کی مانند

ہیرے کو پالش کرنے والا، اُس کے اندر کی چمک پر قابو پانے کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہ ہیرے کے مختلف پہلوؤں کو اس طرح ترتیب دینے سے کِیا جاتا ہے کہ وہ قوسِ‌قزح جیسے رنگ منعکس کرے۔ ہیرے کے اندر رنگارنگ روشنی کے ہر طرف منعکس ہونے سے، چمک پیدا ہوتی ہے جو ہیروں کے جگمگانے کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح، خدا کی روح بھی ہمارے اندر ”‏آگ“‏ کی مانند ہو سکتی ہے۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۹؛‏ اعمال ۱۸:‏۲۵؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱۱‏۔‏

تاہم اگر ہم روحانی طور پر تحریک پانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو کیا ہو؟ یہ کیسے کِیا جا سکتا ہے؟ ہمیں ’‏اپنی راہوں پر غور‘‏ کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۵۹، ۶۰‏)‏ اس میں روحانی طور پر سُست کرنے والی چیزوں کو پہچاننا اور پھر اس بات کا فیصلہ کرنا شامل ہوگا کہ کن تھیوکریٹک کارگزاریوں کی ہمیں اَور زیادہ دلجمعی سے جستجو کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم باقاعدہ ذاتی مطالعے اور پُرجوش دُعا کے ذریعے روحانی قدردانی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۱۸،‏ ۳۲؛‏ ۱۴۳:‏۱،‏ ۵،‏ ۸،‏ ۱۰‏)‏ مزیدبرآں، ایمان میں جانفشانی کرنے والوں کے ساتھ رفاقت رکھنے سے، ہم گرمجوشی کے ساتھ یہوواہ کی خدمت کرنے کے عزم کو اَور مضبوط بنائیں گے۔—‏ططس ۲:‏۱۴‏۔‏

لوئیز نامی ایک نوجوان مسیحی خاتون نے تسلیم کِیا:‏ ”‏ریگولر پائنیر یا کُل‌وقتی بادشاہتی مناد کے طور پر اندراج کروانے سے پہلے مَیں نے دو سال تک ریگولر پائنیر خدمت پر غوروفکر کِیا۔ کوئی چیز مجھے روک نہیں رہی تھی لیکن مَیں ایک سہل زندگی کی عادی تھی اور اُس میں سے نکلنے کیلئے مَیں نے کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ پھر اچانک ہی میرے والد فوت ہو گئے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ زندگی کتنی کمزور چیز ہے اور یہ کہ مَیں اپنی ذات کا بہترین استعمال نہیں کر رہی تھی۔ پس مَیں نے اپنے روحانی نقطۂ‌نظر میں تبدیلی پیدا کی، اپنی خدمت کو بڑھایا اور ریگولر پائنیر بن گئی۔ اس سلسلے میں بالخصوص میرے وہ روحانی بھائی بہن بہت مددگار ثابت ہوئے جو ہمیشہ میدانی خدمتگزاری کے انتظامات کی حمایت کرتے تھے اور جو باقاعدگی سے خدمتگزاری میں میرے ساتھ جاتے تھے۔ مَیں نے سیکھ لیا ہے کہ خواہ اچھے یا بُرے، ہم اپنے رفقاء کی اقدار اور مقاصد میں شریک ہوتے ہیں۔“‏

جیسے لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے

قدرتی طور پر، ہیرا زمین میں پایا جانا والا ایک سخت‌ترین مادہ ہے۔ لہٰذا ایک ہیرے کو تراشنے کے لئے دوسرے ہیرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بائبل طالبعلموں کو اُس مثل کی یاد دلا سکتی ہے جو بیان کرتی ہے کہ ”‏جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرہ کی آب اُسی سے ہے۔“‏ (‏امثال ۲۷:‏۱۷‏)‏ ایک آدمی کے چہرے کی ”‏آب“‏ کس طرح برقرار ہوتی ہے؟ جیسے لوہے کے بلیڈ کو تیز کرنے کے لئے لوہے کا ٹکڑا استعمال کِیا جاتا ہے بالکل اُسی طرح ایک شخص دوسرے کی ذہنی اور روحانی حالت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم کسی ناکامی پر افسردہ ہو جاتے ہیں تو کسی دوسرے شخص کی حوصلہ‌افزائی نہایت تقویت‌بخش ہو سکتی ہے۔ پس ہماری اُداس حالت میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے اور ہم سرگرم کارگزاری کے لئے ازسرِنو تازگی پا سکتے ہیں۔ (‏امثال ۱۳:‏۱۲‏)‏ بالخصوص کلیسیا کے بزرگ بہتری کے لئے صحیفائی حوصلہ‌افزائی اور مشورت فراہم کرنے سے ہمیں تیز بننے میں مدد دے سکتے ہیں۔ وہ سلیمان کے بیان‌کردہ اصول کی پیروی کرتے ہیں:‏ ”‏دانا کو تربیت کر اور وہ اَور بھی دانا بن جائے گا۔ صادق کو سکھا اور وہ علم میں ترقی کرے گا۔“‏—‏امثال ۹:‏۹‏۔‏

بِلاشُبہ روحانی تربیت میں وقت لگتا ہے۔ دس سال سے زیادہ عرصے تک پولس نے تیمتھیس کو اپنے تجربے اور طریقۂ‌تعلیم میں شریک کِیا۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۷؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۴:‏۶،‏ ۱۶‏)‏ موسیٰ نے ۴۰ سال تک یشوع کو جو طویل تربیت فراہم کی، اُس نے اسرائیلی قوم کو کافی عرصے تک فائدہ پہنچایا۔ (‏یشوع ۱:‏۱، ۲؛ ۲۴:‏۲۹، ۳۱)‏ اپنی خدمتگزاری کے لئے جو تقریباً ۶۰ سال جاری رہی تھی اچھی تربیت حاصل کرتے ہوئے، الیشع تقریباً ۶ سال تک ایلیاہ کیساتھ رہا۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۹:‏۲۱؛‏ ۲-‏سلاطین ۳:‏۱۱‏)‏ صبر کے ساتھ مسلسل تربیت فراہم کرنے سے، بزرگ پولس، موسیٰ اور الیشع کی پیروی کرتے ہیں۔‏

شاباش دینا، تربیت کا ایک اہم حصہ ہے۔ تفویضات کو بخوبی انجام دینے پر قدردانی کے پُرخلوص اظہارات یا قابلِ‌قدر کاموں کیلئے تعریف، دوسروں کو زیادہ بھرپور طریقے سے خدا کی خدمت کرنے کی تحریک دینے کا سبب بن سکتی ہے۔ تعریف، اعتماد کو بڑھاتی ہے جو کہ کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کرنے کا محرک بن سکتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲‏۔)‏ بادشاہتی منادی کے کام اور دیگر کلیسیائی کارگزاریوں میں پوری طرح مشغول رہنے سے بھی سچائی میں ترقی کرنے کیلئے حوصلہ‌افزائی حاصل ہوتی ہے۔ (‏اعمال ۱۸:‏۵‏)‏ جب بزرگ بھائیوں کو اُنکی روحانی ترقی کے مطابق ذمہ‌داری تفویض کرتے ہیں تو یہ ان اشخاص کو قابلِ‌قدر تجربہ عطا کرتا ہے اور یہ یقیناً روحانی طور پر ترقی کرتے رہنے کی اُنکی خواہش کو تقویت دیتا ہے۔—‏فلپیوں ۱:‏۸، ۹‏۔‏

روحانی ترقی کرنے کے لئے اچھی وجوہات

ہیروں کو بیش‌قیمت خیال کِیا جاتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی بابت بھی سچ ہے جو اب یہوواہ کے پرستاروں کے عالمگیر خاندان کیساتھ رفاقت رکھ رہے ہیں۔ درحقیقت، خدا خود اُنہیں قوموں کی ”‏مرغوب“‏ یا ”‏بیش‌قیمت“‏ چیزیں کہتا ہے۔ (‏حجی ۲:‏۷، فٹ‌نوٹ)‏ گزشتہ سال، ۳،۷۵،۹۲۳ لوگ یہوواہ کے بپتسمہ‌یافتہ گواہ بن گئے۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنے اندر شامل کرنے کیلئے ’‏خیموں کو کشادہ کرنے‘‏ کی ضرورت ہے۔ روحانی طور پر ترقی کرنے سے—‏نیز مسیحی خدمت کے شرف کو حاصل کرنے سے—‏اس توسیع کی دیکھ‌بھال کرنے کے کام میں شریک ہونا ممکن ہے۔—‏یسعیاہ ۵۴:‏۲؛‏ ۶۰:‏۲۲‏۔‏

اُن بیشمار بیش‌قیمت ہیروں کے برعکس جو بنک یا پرس میں رکھے جاتے ہیں اور شاذونادر ہی نظر آتے ہیں، ہماری روحانی قدروقیمت آب‌وتاب کیساتھ چمک سکتی ہے۔ لہٰذا جب ہم باقاعدگی کیساتھ اپنی مسیحی خوبیوں کو پالش کرتے اور آشکارا کرتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کو جلال دیتے ہیں۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو تاکید کی:‏ ”‏اسی طرح تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھکر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔“‏ (‏متی ۵:‏۱۶‏)‏ بِلاشُبہ، یہ ہمیں روحانی ترقی کرنے کیلئے معقول وجہ فراہم کرتا ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اس مضمون میں استعمال کئے جانے والے نام فرضی ہیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں