یہوواہ ایمانداروں کیساتھ اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے
”جس نے وعدہ کِیا ہے وہ سچا ہے۔“—عبرانیوں ۱۰:۲۳۔
۱، ۲. ہم یہوواہ کے وعدوں پر مکمل بھروسہ کیوں رکھ سکتے ہیں؟
یہوواہ چاہتا ہے کہ اُس کے خادم اُس پر اور اُس کے وعدوں پر پُختہ ایمان پیدا کریں اور اسے قائم رکھیں۔ ایسے ایمان کیساتھ ایک شخص یہوواہ پر وہ کام کرنے کیلئے مکمل بھروسہ کر سکتا ہے جسکا اُس نے وعدہ فرمایا ہے۔ اُس کا الہامی کلام بیان کرتا ہے: ”ربُالافواج قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقیناً جیسا مَیں نے چاہا ویسا ہی ہو جائیگا اور جیسا مَیں نے ارادہ کِیا ہے ویسا ہی وقوع میں آئیگا۔“—یسعیاہ ۱۴:۲۴۔
۲ یہ بیان، ”ربُالافواج قسم کھا کر،“ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے اپنا قابلِبھروسہ حلف دیتا ہے۔ اسی لئے اُسکا کلام کہہ سکتا ہے: ”سارے دل سے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔“ (امثال ۳:۵، ۶) جب ہم یہوواہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور اُسکی حکمت سے راہنمائی پانے کا موقع حاصل کرتے ہیں تو ہماری راہیں بِلاشُبہ ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جائیں گی کیونکہ ”جو اُسے پکڑے رہتے ہیں“ خدا کی حکمت ”اُن کیلئے حیات کا درخت ہے۔“—امثال ۳:۱۸؛ یوحنا ۱۷:۳۔
قدیم وقتوں میں سچا ایمان
۳. نوح نے یہوواہ پر کس طرح ایمان کا مظاہرہ کِیا؟
۳ سچا ایمان رکھنے والوں کیلئے یہوواہ کے کاموں کا ریکارڈ اُسکے قابلِاعتماد ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ۴،۴۰۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے، خدا نے نوح سے کہا کہ اُس کے زمانے کی دُنیا ایک عالمگیر طوفان میں تباہوبرباد ہونے والی تھی۔ اُس نے نوح کو انسانی اور حیوانی زندگی کے بچاؤ کے لئے ایک بڑی کشتی بنانے کی ہدایت کی۔ نوح نے کیا کِیا؟ عبرانیوں ۱۱:۷ ہمیں بتاتی ہے: ”ایمان ہی کے سبب سے نوؔح نے اُن چیزوں کی بابت جو اُس وقت تک نظر نہ آتی تھیں ہدایت پا کر خدا کے خوف سے اپنے گھرانے کے بچاؤ کے لئے کشتی بنائی۔“ نوح نے ایسی چیز پر ایمان کیوں رکھا جو پہلے کبھی واقع نہیں ہوئی تھی، ایسی چیز ”جو اُس وقت تک نظر نہ آتی“ تھی؟ اِسلئےکہ اُسکے پاس انسانی خاندان کیساتھ خدا کے گزشتہ تعلقات کا اتنا علم ضرور تھا جس سے وہ یہ سمجھ سکتا تھا کہ خدا جو کچھ فرماتا ہے وہ سچ ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا نوح پُراعتماد تھا کہ طوفان بھی واقعی آئیگا۔—پیدایش ۶:۹-۲۲۔
۴، ۵. ابرہام نے یہوواہ پر مکمل بھروسہ کیوں رکھا؟
۴ سچے ایمان کی ایک اَور مثال ابرہام ہے۔ تقریباً ۳،۹۰۰ سال قبل، خدا نے اُسے اپنی بیوی، سارہ سے اپنے اکلوتے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ (پیدایش ۲۲:۱-۱۰) ابرہام نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟ عبرانیوں ۱۱:۱۷ بیان کرتی ہے: ”ایمان ہی سے اؔبرہام نے آزمایش کے وقت اؔضحاق کو نذر گذرانا۔“ تاہم، آخری لمحے پر یہوواہ کے فرشتے نے ابرہام کو روک دیا۔ (پیدایش ۲۲:۱۱، ۱۲) تاہم، ابرہام ایسا کام کرنے کا خیال کیوں کریگا؟ اِسلئےکہ عبرانیوں ۱۱:۱۹ بیان کرتی ہے، ”وہ سمجھا کہ خدا [اضحاق کو] مُردوں میں سے جلانے پر بھی قادر ہے۔“ لیکن ابرہام قیامت پر کیونکر ایمان رکھ سکتا تھا جب کہ اُس نے کوئی قیامت نہیں دیکھی تھی اور پہلے سے اسکا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا؟
۵ یاد کریں کہ جب خدا نے اُن سے بیٹے کا وعدہ کِیا تو سارہ ۸۹ برس کی تھی۔ سارہ کا رحم استقرارِحمل سے قاصر تھا—علامتی مفہوم میں مُردہ تھا۔ (پیدایش ۱۸:۹-۱۴) خدا نے سارہ کے رحم کو زندہ کر دیا اور اُس نے اضحاق کو جنم دیا۔ (پیدایش ۲۱:۱-۳) ابرہام جانتا تھا کہ جب خدا سارہ کے مُردہ رحم کو زندہ کر سکتا ہے تو بوقتِضرورت وہ اضحاق کی زندگی کو بھی بحال کر سکتا ہے۔ رومیوں ۴:۲۰، ۲۱ ابرہام کی بابت بیان کرتی ہیں: ”اور نہ بےایمان ہو کر خدا کے وعدہ میں شک کِیا بلکہ ایمان میں مضبوط ہو کر خدا کی تمجید کی۔ اور اُس کو کامل اعتقاد ہوا کہ جوکچھ اُس نے وعدہ کِیا ہے وہ اُسے پورا کرنے پر بھی قادر ہے۔“
۶. یشوع نے کس طرح یہوواہ پر اعتماد ظاہر کِیا؟
۶ چونتیس سو سال سے زیادہ عرصہ پہلے جب یشوع سو برس کی عمر سے زیادہ کا تھا اور خدا کے قابلِبھروسہ ہونے کے عمربھر کے تجربے کے بعد اُس نے اپنے اعتماد کی یہ وجہ بیان کی: ”تُم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“—یشوع ۲۳:۱۴۔
۷، ۸. پہلی صدی میں ایماندار مسیحیوں نے کونسی زندگی بچانے والی روش اختیار کی اور کیوں؟
۷ کوئی ۱۹۰۰ سال قبل، بہت سے فروتن لوگوں نے سچے ایمان کا مظاہرہ کِیا۔ اُنہوں نے بائبل پیشینگوئی کی تکمیل سے سمجھ لیا تھا کہ یسوع ہی مسیحا ہے اور اُسکی تعلیمات کو قبول کِیا۔ وہ حقائق اور عبرانی صحائف پر مضبوط بنیاد کی وجہ سے یسوع کی تعلیمات پر ایمان لائے۔ پس جب یسوع نے کہا کہ خدا کی طرف سے یہودیہ اور یروشلیم پر بیوفائی کی وجہ سے خدائی سزا آنے والی ہے تو اُنہوں نے اُسکا یقین کِیا۔ لہٰذا جب اُس نے اُنہیں بتایا کہ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے اُنہیں کیا کرنے کی ضرورت ہوگی تو اُنہوں نے ویسا ہی کِیا۔
۸ یسوع نے ایمانداروں کو بتایا کہ جب یروشلیم فوجوں سے گِھرا ہوا ہو تو اُنہیں بھاگ جانا چاہئے۔ رومی فوجیں ۶۶ س.ع. میں واقعی یروشلیم کے خلاف چڑھ آئیں۔ مگر اِسکے بعد رومی کسی ناقابلِوضاحت وجہ کی بِنا پر واپس چلے گئے۔ یہ مسیحیوں کیلئے شہر کو چھوڑنے کا اشارہ تھا کیونکہ یسوع کہہ چکا تھا: ”جب تُم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گِھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔ اُس وقت جو یہوؔدیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یرؔوشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔“ (لوقا ۲۱:۲۰، ۲۱) سچا ایمان رکھنے والوں نے یروشلیم اور گِردونواح کے علاقے کو چھوڑ دیا اور محفوظ مقام کی طرف بھاگ گئے۔
ایمان کی کمی کے نتائج
۹، ۱۰. (ا) کس طرح مذہبی پیشواؤں نے یسوع پر ایمان کی کمی کا مظاہرہ کِیا؟ (ب)اس ایمان کی کمی کے نتائج کیا تھے؟
۹ جو سچا ایمان نہیں رکھتے تھے اُنہوں نے کیا کِیا؟ جب اُنہیں موقع ملا تو وہ وہاں سے نہ بھاگے۔ اُن کا خیال تھا کہ اُنکے پیشوا اُنہیں بچا سکتے ہیں۔ تاہم، اُن پیشواؤں اور اُنکے پیروکاروں کے پاس بھی یسوع کی مسیحائیت کا ثبوت تھا۔ پس اُنہوں نے اُسکی بات کو کیوں تسلیم نہ کِیا؟ اپنے دل کی بُری حالت کی وجہ سے۔ اِسکا انکشاف پہلے ہو چکا تھا جب لعزر کو زندہ کرنے کے بعد اُنہوں نے بہت سے عام لوگوں کو یسوع کے پاس جاتے دیکھا۔ یوحنا ۱۱:۴۷، ۴۸ بیان کرتی ہیں: ”پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدرِعدالت [یہودی ہائی کورٹ] کے لوگوں کو جمع کرکے کہا ہم کرتے کیا ہیں؟ یہ آدمی [یسوع] تو بہت معجزے دکھاتا ہے۔ اگر ہم اُسے یوں ہی چھوڑ دیں تو سب اُس پر ایمان لے آئینگے اور رومی آ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کر لینگے۔“ ۵۳ آیت بیان کرتی ہے: ”پس وہ اُسی روز سے اُسے قتل کرنے کا مشورہ کرنے لگے۔“
۱۰ یسوع نے لعزر کو مُردوں میں سے زندہ کرکے کیا ہی حیرتانگیز معجزہ انجام دیا تھا! مگر مذہبی پیشوا یسوع کو ایسا کرنے کی وجہ سے ہلاک کرنا چاہتے تھے۔ اُنکی سنگین بدکاری کا مزید انکشاف اُس وقت ہوا جب ”سردار کاہنوں نے مشورہ کِیا کہ لعزؔر کو بھی مار ڈالیں۔ کیونکہ اُسکے باعث بہت سے یہودی چلے گئے اور یسوؔع پر ایمان لائے۔“ (یوحنا ۱۲:۱۰، ۱۱) لعزر کو تھوڑی دیر پہلے ہی مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تھا اور وہ کاہن اُسے پھر مردہ دیکھنا چاہتے تھے! اُن کو خدا کی مرضی یا عام لوگوں کی فلاحوبہبود کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ خودغرض تھے اور صرف اپنے مرتبوں اور مفادات کی فکر رکھتے تھے۔ ”وہ خدا سے عزت حاصل کرنے کی نسبت اِنسان سے عزت حاصل کرنا زیادہ چاہتے تھے۔“ (یوحنا ۱۲:۴۳) تاہم اُنہیں اپنے ایمان کی کمی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ ۷۰ س.ع. میں، رومی فوجیں واپس آ گئیں اور اُنکی جگہ اور اُنکی قوم کیساتھ ساتھ اُن میں سے بھی بہتوں کو تباہوبرباد کر دیا۔
ہمارے زمانے میں ظاہرکردہ ایمان
۱۱. اس صدی کے شروع میں، سچے ایمان کا مظاہرہ کس طرح کِیا گیا؟
۱۱ اِس صدی میں بھی سچا ایمان رکھنے والے بہت سے مرد اور عورتیں رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۰۰ کے دہے کے اوائل میں عام لوگ پُرامن، خوشحال مستقبل کے منتظر تھے۔ اُس وقت، یہوواہ پر ایمان رکھنے والے آگاہی دے رہے تھے کہ نوعِانسان ابھی بدترین مصیبت کے دَور میں داخل ہونے والا تھا۔ خدا کے کلام میں متی ۲۴ باب، ۲-تیمتھیس ۳ باب اور دیگر مقامات پر اِسی بات کی پیشینگوئی کی گئی تھی۔ اُن ایماندار لوگوں نے جوکچھ کہا وہ واقعی ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ کی ابتدا کیساتھ وقوعپذیر ہوا تھا۔ واقعی دُنیا پہلے سے بتائے گئے ایسے ”اِخیر زمانہ“ میں داخل ہو گئی جس میں ”نازک ایّام سے نپٹنا مشکل“ تھا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱، اینڈبلیو) اُس وقت یہوواہ کے خادم دُنیاوی حالتوں کی بابت سچائی جاننے کے قابل کیوں تھے جبکہ دوسرے نہیں تھے؟ اِسلئےکہ وہ یشوع کی طرح ایمان رکھتے تھے کہ یہوواہ کی ایک بات بھی نہیں چُھوٹے گی۔
۱۲. آجکل یہوواہ کے خادم اُسکے کس وعدے پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں؟
۱۲ آجکل تمام دُنیا میں تقریباً چھ ملین یہوواہ کے خادم اپنا بھروسہ اُس پر رکھتے ہیں۔ وہ خدا کے نبوّتی کلام کی تکمیل کی شہادت سے جانتے ہیں کہ وہ جلد ہی اِس متشدّد، بداخلاق نظاماُلعمل کو ختم کر دیگا۔ لہٰذا وہ پُراعتماد ہیں کہ وہ وقت قریب ہے جب وہ ۱-یوحنا ۲:۱۷ کی تکمیل دیکھینگے جو کہتی ہے: ”دُنیا اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“ اُسکے خادم مکمل طور پر یہ بھروسہ رکھتے ہیں کہ یہوواہ اس وعدے کو پورا کریگا۔
۱۳. آپ یہوواہ پر کس حد تک بھروسہ کر سکتے ہیں؟
۱۳ آپ کس حد تک یہوواہ پر بھروسہ رکھ سکتے ہیں؟ آپ اُس کی خاطر اپنی زندگی کو داؤ پر لگا سکتے ہیں! اگر آپ اُسکی خدمت کرنے کی وجہ سے اب اپنی زندگی کھو بیٹھیں توبھی وہ قیامت میں آپکو کہیں شاندار زندگی دوبارہ عطا کریگا۔ یسوع ہمیں یقیندہانی کراتا ہے: ”وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں [یعنی خدا کی یاد] میں ہیں اُسکی آواز سنکر نکلینگے۔“ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) کیا آپ کسی ڈاکٹر، سیاسی لیڈر، سائنسدان، کاروباری شخص، یا کسی اَور انسان کو جانتے ہیں جو ایسا کام کر سکتا ہے؟ اُنکا ماضی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ یہوواہ کر سکتا ہے اور وہ کریگا بھی!
ایمانداروں کیلئے شاندار مستقبل
۱۴. وفادار اشخاص کیلئے خدا کا کلام کس شاندار مستقبل کا وعدہ کرتا ہے؟
۱۴ یسوع نے یہ کہتے ہوئے خدا کی آسمانی بادشاہت کے تحت نئی دُنیا کے یقینی ہونے کا اشارہ دیا: ”مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہونگے۔“ (متی ۵:۵) یہ زبور ۳۷:۲۹ میں پائے جانے والے خدا کے اس وعدے کو اَور زیادہ مستحکم کرتا ہے: ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“ نیز یسوع کی موت سے تھوڑا پہلے جب ایک ڈاکو نے اُس پر ایمان ظاہر کِیا تو یسوع نے اُس آدمی سے کہا: ”تُو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا۔“ (لوقا ۲۳:۴۳) جیہاں، خدا کی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر، یسوع اِس چیز کا خیال رکھیگا کہ وہ آدمی اُس فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہنے کے موقع کے ساتھ زمین پر زندگی کی قیامت پائے۔ آجکل، یہوواہ کی بادشاہت پر ایمان لانے والے لوگ بھی فردوس میں زندہ رہنے کی توقع کر سکتے ہیں جب ”[خدا] اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“—مکاشفہ ۲۱:۴۔
۱۵، ۱۶. نئی دُنیا میں زندگی اتنی پُراَمن کیوں ہو گی؟
۱۵ آئیے اپنی توجہ آنے والی اُس نئی دُنیا پر مرکوز کریں۔ تصور کریں کہ ہم پہلے ہی اُس میں رہ رہے ہیں۔ فوراً ہی ہم یہ مشاہدہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاداںوفرحاں لوگ مکمل اَمن سے اکٹھے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ ویسی ہی حالتوں سے لطفاندوز ہو رہے ہیں جیسےکہ یسعیاہ ۱۴:۷ میں بیان کی گئی ہیں: ”ساری زمین پر آراموآسایش ہے۔ وہ یکایک گیت گانے لگتے ہیں۔“ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ایک بات پر غور کریں کہ گھروں کے دروازوں پر کوئی تالے نہیں ہیں۔ اُنکی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ کوئی جرم یا تشدد نہیں ہے۔ یہ خدا کے کلام کے بیان کی مطابقت میں ہے: ”تب ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور اُنکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“—میکاہ ۴:۴۔
۱۶ کوئی جنگ بھی نہیں ہے کیونکہ اس نئی دُنیا میں جنگ ممنوع ہے۔ تمام ہتھیاروں کو اَمن کے سازوسامان میں بدل دیا گیا ہے۔ یسعیاہ ۲:۴ مکمل مفہوم میں پوری ہو گئی ہے: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“ تاہم، اُس وقت، ہمیں اِسی بات کی توقع ہے! کیوں؟ اِسلئےکہ نئی دُنیا کے بہتیرے باشندوں نے پُرانی دُنیا میں خدا کی خدمت کرتے وقت ایسا کرنا سیکھ لیا تھا۔
۱۷. خدا کی بادشاہت کے تحت زندگی بسر کرنے کی کونسی حالتیں عام ہونگی؟
۱۷ آپ ایک اَور بات بھی دیکھتے ہیں کہ وہاں کوئی غربت نہیں ہے۔ کوئی گندی جھونپڑی میں نہیں رہتا یا چتھڑے پہنے ہوئے نہیں ہے یا بےخانماں نہیں ہے۔ ہر کوئی ایک آرامدہ گھر اور خوبصورت درختوں اور پھولوں سے اچھی طرح آراستہ جائداد کا مالک ہے۔ (یسعیاہ ۳۵:۲،۱؛ ۶۵:۲۱، ۲۲؛ حزقیایل ۳۴:۲۷) نیز وہاں پر کوئی بھوک نہیں کیونکہ خدا نے اپنے اس وعدے کو پورا کر دیا ہے کہ وہاں سب کیلئے خوراک باافراط ہوگی: ”زمین پر اناج کی کثرت ہوگی؛ پہاڑوں کی چوٹیوں پر فراوانی ہوگی۔“ (زبور ۷۲:۱۶، اینڈبلیو) واقعی، خدا کی بادشاہت کی راہبری میں، ایک پُرشکوہ فردوس ساری زمین پر پھیل جائیگا جیساکہ عدن میں یہوواہ نے قصد کِیا تھا۔—پیدایش ۲:۸۔
۱۸. نئی دُنیا میں کونسی چیزیں لوگوں کیلئے خطرے کا باعث نہ ہونگی؟
۱۸ آپ ہر ایک کی بےپناہ توانائی پر بھی حیران ہوتے ہیں۔ اِسکی وجہ یہ ہے کہ اب اُنکا بدن اور ذہن کامل ہے۔ اب کوئی بیماری، درد یا موت نہیں ہے۔ کوئی بھی ویلچیئر یا ہسپتال کے بستر پر نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں ہمیشہ کیلئے نابود ہو گئی ہیں۔ (یسعیاہ ۳۳:۲۴؛ ۳۵:۵، ۶) واہ، اب تو کسی جانور سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ اُنہیں بھی خدا کی قوت سے پُراَمن بنا دیا گیا ہے!—یسعیاہ ۱۱:۶-۸؛ ۶۵:۲۵؛ حزقیایل ۳۴:۲۵۔
۱۹. نئی دُنیا میں ہر دن ”شادمان“ ہونے کا باعث کیوں ہوگا؟
۱۹ اِس نئی دُنیا کے وفادار باشندوں کے ذریعے کیا ہی شاندار تمدن کو تشکیل دیا گیا ہے! اُنکی قوتیں اور مہارتیں اور زمین کی دولت نقصاندہ کاموں کی بجائے مثبت کاموں؛ دوسروں کیساتھ مقابلہبازی کی بجائے اُن سے تعاون کرنے کیلئے وقف ہیں۔ نیز، آپ جس شخص سے بھی ملتے ہیں آپ اُس پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیونکہ سب اشخاص ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] سے تعلیم“ پائے ہوئے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) چونکہ ہر ایک خدا کے آئین اور اصولوں کے مطابق چلتا ہے اِسلئے ”جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح“ زمین ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے عرفان سے معمور“ ہے۔ (یسعیاہ ۱۱:۹) واقعی، زبور ۳۷:۱۱ کے مطابق اس نئی دُنیا میں ہر دن ”شادمان“ ہونے کا باعث ہوگا۔
ایک خوشآئند مستقبل کی ضمانت دی گئی
۲۰. ایک پُراَمن مستقبل سے لطف اُٹھانے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۲۰ اُس خوشآئند مستقبل کا حصہ بننے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ یسعیاہ ۵۵:۶ ہمیں بتاتی ہے: ”جب تک خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] مل سکتا ہے اُسکے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اُسے پکارو۔“ چنانچہ جب ہم اُسے ڈھونڈتے ہیں تو ہمارا میلان بھی ویسا ہی ہونا چاہئے جیساکہ زبور ۱۴۳:۱۰ میں بیان کِیا گیا ہے: ”مجھے سکھا کہ تیری مرضی پر چلوں اِسلئےکہ تو میرا خدا ہے۔“ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ان آخری ایّام میں یہوواہ کے حضور بےنقص چل سکتے ہیں اور ایک عمدہ مستقبل کے مشتاق ہو سکتے ہیں۔ ”کامل آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ کیونکہ صلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے۔ لیکن خطاکار اکٹھے مر مٹینگے۔ شریروں کا انجام ہلاکت ہے۔“—زبور ۳۷:۳۷، ۳۸۔
۲۱، ۲۲. آجکل خدا کیا تشکیل دے رہا ہے اور تربیت دینے کا کام کس طرح انجام دیا گیا ہے؟
۲۱ اِس وقت یہوواہ ہر قوم سے اُن لوگوں کو بلا رہا ہے جو اُس کی مرضی بجا لانا چاہتے ہیں۔ وہ اُنہیں اپنے نئے زمینی معاشرے کی بنیاد بنا رہا ہے جیساکہ بائبل پیشینگوئی بیان کرتی ہے: ”آخری دنوں میں [وہ وقت جس میں اب ہم رہتے ہیں] . . . بہت سی اُمتیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے پہاڑ [اُس کی بلندپایہ سچی پرستش] پر چڑھیں . . . وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلینگے۔“—یسعیاہ ۲:۲، ۳۔
۲۲ مکاشفہ ۷:۹ اُنہیں ”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک . . . بڑی بِھیڑ“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ ۱۴ آیت بیان کرتی ہے: ”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں“ یعنی موجودہ نظام کے خاتمے سے زندہ بچ گئے ہیں۔ نئی دُنیا کی یہ بنیاد اب تقریباً چھ ملین کی تعداد پر مشتمل ہے اور بہتیرے نئے اشخاص ہر سال اِسکا حصہ بن رہے ہیں۔ یہوواہ کے اُن تمام ایماندار خادموں کو اُسکی نئی دُنیا میں ہمیشہ کی زندگی کیلئے تربیت دی جا رہی ہے۔ وہ اِس زمین کو فردوس میں تبدیل کرنے کیلئے درکار روحانی اور دیگر مہارتوں پر عبور حاصل کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ پورا بھروسہ رکھتے ہیں کہ فردوس ایک حقیقت بن جائیگی کیونکہ ”جس نے وعدہ کِیا ہے وہ سچا ہے۔“—عبرانیوں ۱۰:۲۳۔
نکات برائے اعادہ
◻پہلی صدی میں ایمان کی کمی کا کیا انجام ہوا؟
◻خدا کے خادم اُس پر کس حد تک توکل کر سکتے ہیں؟
◻ایمانداروں کیلئے کیسا مستقبل محفوظ ہے؟
◻خدا کی نئی دُنیا میں اپنے لئے ایک خوشآئند مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
[صفحہ 16 پر تصویر]
یہوواہ ابھی سے ایک نئے زمینی معاشرے کی بنیاد ڈال رہا ہے