ایمان اور آپ کا مستقبل
”ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد . . . ہے۔“—عبرانیوں ۱۱:۱۔
۱. بہتیرے لوگ کس قسم کے مستقبل کی آرزو کرتے ہیں؟
کیا آپ مستقبل میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ بیشتر لوگ رکھتے ہیں۔ جس چیز کی وہ اُمید کرتے ہیں وہ پُرامن مستقبل، خوف سے آزادی، معقول معیارِزندگی، نتیجہخیز اور پُرلطف کام، اچھی صحت اور لمبی زندگی ہے۔ بیشک تاریخ میں ہر پُشت نے ان چیزوں کی آرزو کی ہے۔ تاہم آجکل، مصیبت سے پُر اس دُنیا میں ایسی حالتیں پہلے سے کہیں زیادہ مرغوب لگتی ہیں۔
۲. ایک مُدبّر نے مستقبل کی بابت ایک نظریے کو کیسے بیان کِیا؟
۲ نوعِانسان جب ۲۱ ویں صدی کی جانب بڑھتا ہے تو کیا یہ تعیّن کرنے کا بھی کوئی طریقہ ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا؟ کوئی ۲۰۰ سال قبل امریکی مُدبّر پیٹرک ہنری نے ایک طریقے کا اظہار کِیا تھا۔ اُس نے کہا: ”ماضی کے بغیر مستقبل کا تعیّن کرنے کا مَیں کوئی طریقہ نہیں جانتا۔“ اس نظریے کے مطابق، انسان نے ماضی میں جوکچھ کِیا ہے اُس سے کافی حد تک انسانی خاندان کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بہتیرے اس نظریے سے متفق ہیں۔
ماضی کیسا تھا؟
۳. مستقبل کے امکانات کے سلسلے میں تاریخ کا ریکارڈ کیا ظاہر کرتا ہے؟
۳ اگر مستقبل کو ماضی کا عکس ہونا ہے تو کیا آپ اُسے حوصلہافزا پاتے ہیں؟ کیا مختلف زمانوں کے دوران گزشتہ نسلوں کیلئے مستقبل بہتر ہوا تھا؟ درحقیقت نہیں۔ ہزاروں برسوں سے لوگوں کی اُمیدوں اور بعض علاقوں میں مادّی ترقی کے باوجود، انسانی تاریخ ظلم، استبداد، جُرم، تشدد، جنگ اور غربت سے بھری پڑی ہے۔ اِس دُنیا نے ایک کے بعد ایک آفت کا تجربہ کیا ہے جو بنیادی طور پر غیرتسلیبخش انسانی حکمرانی کی وجہ سے آئی ہے۔ بائبل دُرست طور پر بیان کرتی ہے: ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کر کے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔“—واعظ ۸:۹۔
۴، ۵. (ا) لوگ ۲۰ ویں صدی کے اوائل میں پُراُمید کیوں تھے؟ (ب) مستقبل کی بابت اُنکی اُمیدوں کیساتھ کیا ہوا؟
۴ سچ تو یہ ہے کہ نوعِانسان کی المناک تاریخ خود کو دُہراتی رہتی ہے—مگر پہلے سے وسیع اور زیادہ تباہکُن پیمانے پر۔ یہ ۲۰ ویں صدی اِس بات کا ثبوت ہے۔ کیا نوعِانسان نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھا اور اُن سے گریز کِیا؟ چنانچہ، اس صدی کے شروع میں نسبتاً طویل عرصے تک امن رہنے اور صنعت، سائنس اور تعلیم کے میدان میں ترقیوں کی وجہ سے بہتیروں نے بہتر مستقبل کی توقع کی تھی۔ ایک یونیورسٹی پروفیسر نے ۱۹۰۰ کے دہے کے اوائل میں یہ کہا کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ اب جنگ ممکن نہیں تھی کیونکہ ”لوگ نہایت مہذب تھے۔“ ایک سابق برطانوی وزیرِاعظم نے اس نظریے کی بابت کہا جو لوگ اُس وقت رکھتے تھے: ”ہر چیز بہتر سے بہتر ہو جائیگی۔ مَیں ایسی ہی دُنیا میں پیدا ہوا تھا۔“ تاہم اِس کے بعد اُس نے بیان کِیا: ”دفعتہً، غیرمتوقع طور پر، ۱۹۱۴ کی ایک صبح سب چیزوں کا شیرازہ بکھر گیا۔“
۵ اُس وقت بہتر مستقبل کی بابت مستحکم یقین کے غالب ہونے کے باوجود، نئی صدی بمشکل شروع ہی ہوئی تھی کہ اُس وقت انسان کی برپاکردہ بدترین تباہی—پہلی عالمی جنگ—نے دُنیا پر پنجہ جما لیا۔ اس کی ایک مثال کے طور پر، ۱۹۱۶ کی ایک جنگ میں جوکچھ ہوا اُس پر غور کریں جب برطانوی فوجوں نے دریائے سومی کے قریب جرمن مورچوں پر حملہ کر دیا تھا۔ صرف گھنٹوں کے اندر برطانیہ ۲۰،۰۰۰ فوجیوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور بہت سے جرمن سپاہی بھی مارے گئے تھے۔ چار سالہ قتلِعام نے تقریباً دس ملین فوجیوں اور کئی شہریوں کی جانیں لے لیں۔ فرانس کی آبادی کچھ دیر کے لئے کم ہو گئی کیونکہ بہت زیادہ مرد مارے گئے تھے۔ معیشت تباہ ہو گئی جو ۱۹۳۰ کے دہے کی طویل کسادبازاری کا سبب بنی۔ کچھ عجب نہیں کہ بعض نے کہا ہے کہ جس دن پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی اُسی دن دُنیا پاگل ہو گئی تھی!
۶. کیا پہلی عالمی جنگ کے بعد زندگی بہتر ہو گئی تھی؟
۶ کیا اُس نسل نے اِسی طرح کے مستقبل کی توقع کی تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ اُنکی اُمیدیں ٹوٹ گئی تھیں؛ نہ ہی وہ کسی بہتر چیز کا پیشخیمہ ثابت ہوئیں۔ پہلی عالمی جنگ کے صرف ۲۱ سال بعد یا ۱۹۳۹ میں، انسان کی برپاکردہ ایک اَور بدترین تباہی—دوسری عالمی جنگ—کا آغاز ہوا۔ اِس نے تقریباً ۵۰ ملین مردوں، عورتوں اور بچوں کی جانیں لے لیں۔ بھاری بمباری نے شہروں کو ملیامیٹ کر دیا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران تو گھنٹوں میں چند ہزار فوجی مارے گئے تھے مگر دوسری عالمی جنگ میں، صرف دو ایٹم بموں نے سیکنڈوں میں ۱۰۰,۰۰۰ سے زائد لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ بہتیرے لوگوں کے خیال میں نازی کیمپوں میں لاکھوں لوگوں کا باضابطہ قتلِعام اِس سے بھی زیادہ بدترین تھا۔
۷. اس تمام صدی کی حقیقت کیا ہے؟
۷ کئی دستاویزات بیان کرتی ہیں کہ اگر ہم قوموں کے مابین جنگوں، خانہجنگیوں اور اپنی حکومتوں کے ہاتھوں شہریوں کی اموات کا حساب لگائیں تو اِس صدی میں ہلاکشُدگان کی تعداد ۲۰۰ ملین کے لگبھگ ہوگی۔ ایک دستاویز تو ۳۶۰ ملین کی تعداد بتاتی ہے۔ اس سب—دُکھدرد، آنسو، ذہنی اذیت اور تباہحال زندگیوں—کی دہشت کا تصور کریں! اس کے علاوہ، اوسطاً، تقریباً ۴۰،۰۰۰ لوگ، زیادہتر بچے، ہر روز غربت سے پیدا ہونے والی وجوہات کے باعث مر جاتے ہیں۔ اس تعداد کا تین گُنا ہر روز اسقاطِحمل سے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ نیز، تقریباً ایک بلین لوگ اتنے غریب ہیں کہ وہ دن کے معمول کے کام کرنے کے لئے درکار غذا بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ تمام حالتیں بائبل پیشینگوئی میں بیان کی گئی حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ہم اس بدکار نظامالعمل کے ”اخیر زمانہ“ میں رہتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، ۱۳؛ متی ۲۴:۳-۱۲؛ لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱؛ مکاشفہ ۶:۳-۸۔
کوئی انسانی حل نہیں
۸. انسانی راہنما دُنیا کے مسائل کو حل کیوں نہیں کر سکتے؟
۸ جب یہ ۲۰ ویں صدی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے تو ہم اِسکے تجربات کا گزشتہ صدیوں کے تجربات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے؟ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی راہنماؤں نے دُنیا کے بڑے مسائل کو کبھی حل نہیں کِیا ہے، وہ اب بھی اُنہیں حل نہیں کر رہے اور نہ ہی وہ اُنہیں مستقبل میں حل کر پائینگے۔ ایسا مستقبل فراہم کرنا جسکی ہم خواہش کرتے ہیں اُنکی دسترس سے باہر ہے، خواہ وہ کتنے ہی نیکنیت کیوں نہ ہوں۔ علاوہازیں، بہتیرے بااختیار لوگ اتنے نیکنیت ہوتے بھی نہیں؛ وہ دوسروں کی بھلائی کی بجائے اپنے خودغرضانہ اور مادّی مفادات کیلئے عہدہ اور اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔
۹. اس بات کی بابت مُتشکِک ہونے کی وجہ کیوں موجود ہے کہ سائنس کے پاس انسان کے مسائل کا حل ہے؟
۹ کیا سائنس کے پاس اس کا جواب ہے؟ اگر ہم ماضی پر غور کریں تو نہیں۔ حکومتی سائنسدان نہایت تباہکُن کیمیائی، حیاتیاتی اور دیگر اقسام کے ہتھیار بنانے کے لئے کثیر رقم، وقت اور محنت کو کام میں لاتے ہیں۔ وہ اقوام بھی جو اس کی استطاعت نہیں رکھتیں ہر سال ۷۰۰ بلین ڈالر سے زیادہ ہتھیاروں پر خرچ کرتی ہیں! علاوہازیں، ’سائنسی ترقی‘ جزوی طور پر ہوا، زمین، پانی اور خوراک کی آلودگی کا سبب بننے والے کیمیاوی مادوں کی ذمہدار ہے۔
۱۰. تعلیم بھی بہتر مستقبل کی ضمانت کیوں نہیں دیتی؟
۱۰ کیا ہم اس بات کی اُمید کر سکتے ہیں کہ دُنیا کے تعلیمی ادارے بلند اخلاقی معیاروں، دوسروں کے لئے پاسولحاظ، پڑوسی کے لئے محبت کی تعلیم دینے سے مستقبل کو بہتر بنانے میں مدد کرینگے؟ نہیں۔ اِسکی بجائے، وہ ذرائعمعاش، پیسہ کمانے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ وہ تعاون کرنے والی روح کی بجائے مقابلہبازی کی روح پیدا کرتے ہیں؛ نہ ہی سکول اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ اِسکی بجائے، اُن میں سے بہتیرے جنسی آزادی کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو نوعمری کے حمل اور جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں میں بڑے اضافے کا سبب بنا ہے۔
۱۱. کاروباری اداروں کا ریکارڈ مستقبل کو کیسے مشکوک بنا دیتا ہے؟
۱۱ کیا دُنیا کے بڑے بڑے کاروباری ادارے دفعتہً ہمارے سیّارے کا دھیان رکھنے اور ایسی مصنوعات تیار کرنے سے دوسروں کیلئے محبت دکھانے کی طرف مائل ہو جائینگے جو نہ صرف نفع کیلئے بلکہ حقیقی فائدے کیلئے ہونگی؟ اسکا کوئی امکان نہیں ہے۔ کیا وہ ایسے ٹیلیوِژن پروگرام تیار کرنا بند کر دینگے جو تشدد اور بداخلاق کاموں سے پُر ہیں جو لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کے ذہنوں کو آلودہ کرنے کا سبب بنتے ہیں؟ اِس سلسلے میں ماضی قریب کسی بھی لحاظ سے حوصلہافزا نہیں ہے کیونکہ، کافی حد تک، ٹیوی بداخلاقی اور تشدد کا گڑھ بن گیا ہے۔
۱۲. بیماری اور موت کے حوالے سے انسانوں کی حالت کیسی ہے؟
۱۲ مزیدبرآں، ڈاکٹر خواہ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں وہ بیماری اور موت پر فتح نہیں پا سکتے۔ مثال کے طور پر، پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر، وہ سپینش انفلوئنزا کے پھیلاؤ کو روکنے کے قابل نہیں تھے؛ عالمگیر پیمانے پر اِس نے ۲۰ ملین لوگوں کی جانیں لے لیں۔ آجکل، دل کی بیماری، کینسر اور دیگر مُہلک امراض قابو سے باہر ہیں۔ ایڈز کی جدید وبا پر بھی طبّی دُنیا نے فتح نہیں پائی ہے۔ اسکے برعکس، نومبر ۱۹۹۷ میں شائع ہونے والی ایک یو.این. رپورٹ نے یہ بیان کِیا کہ ایڈز کے وائرس کے پھیلنے کی شرح گزشتہ تخمینہجات سے دُگنی ہے۔ لاکھوں لوگ پہلے ہی اس کی وجہ سے مر چکے ہیں۔ پچھلے سال مزید تین ملین لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
یہوواہ کے گواہ مستقبل کو کیسا خیال کرتے ہیں
۱۳، ۱۴. (ا) یہوواہ کے گواہ مستقبل کو کیسا خیال کرتے ہیں؟ (ب) انسان بہتر مستقبل کیوں نہیں لا سکتے؟
۱۳ تاہم، یہوواہ کے گواہ یقین رکھتے ہیں کہ نوعِانسان کا مستقبل درخشاں، نہایت ہی عمدہ ہے! مگر وہ یہ توقع نہیں کرتے کہ بہتر مستقبل انسانی کوششوں سے آنے والا ہے۔ اِسکی بجائے، وہ خالق، یہوواہ خدا پر آس لگاتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا اور یہ شاندار ہوگا! وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان ایسا مستقبل نہیں لا سکتے۔ اُنکا خالق ہونے کی وجہ سے خدا کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بہتر طور پر اُنکی حدبندیوں سے واقف ہے۔ اپنے کلام میں، وہ واضح طور پر ہمیں بتاتا ہے کہ اُس نے انسان کو الہٰی راہنمائی کے بغیر کامیابی سے انتظام چلانے کی صلاحیت کیساتھ خلق نہیں کِیا تھا۔ طویل عرصے سے خدا نے خودمختار انسانی حکمرانی کو جو اجازت دے رکھی ہے اُس سے بِلاشُبہ یہ نااہلیت ظاہر ہو گئی ہے۔ ایک مصنف نے تسلیم کِیا: ”انسانی ذہن نے حکمرانی کے تمام ممکنہ الحاق آزما لئے ہیں جو بیکار ثابت ہوئے ہیں۔“
۱۴ یرمیاہ ۱۰:۲۳ میں ہم مُلہَم نبی کے الفاظ پڑھتے ہیں: ”اَے خداوند! [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] مَیں جانتا ہوں کہ اِنسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ نیز زبور ۱۴۶:۳ بیان کرتی ہے: ”نہ اُمرا پر بھروسہ کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔“ درحقیقت، رومیوں ۵:۱۲ کے مطابق، چونکہ ہم پیدائشی ناکامل ہیں اسلئے خدا کا کلام ہمیں اپنی ذات پر بھی بھروسہ کرنے کے خلاف متنبہ کرتا ہے۔ یرمیاہ ۱۷:۹ بیان کرتی ہے: ”دِل سب چیزوں سے زیادہ حیلہباز اور لاعلاج ہے۔“ اِسی وجہ سے، امثال ۲۸:۲۶ بیان کرتی ہے: ”جو اپنے ہی دل پر بھروسہ رکھتا ہے بیوقوف ہے لیکن جو دانائی سے چلتا ہے رہائی پائیگا۔“
۱۵. ہم اپنی راہنمائی کیلئے حکمت کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۵ ہم ایسی حکمت کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا خوف حکمت کا شروع ہے اور اُس قدوس کی پہچان فہم ہے۔“ (امثال ۹:۱۰) صرف یہوواہ ہی کے پاس وہ حکمت ہے جو اِن خوفناک اوقات کے دوران ہماری راہنمائی کر سکتی ہے۔ چنانچہ اُس نے پاک صحائف کے ذریعے اپنی حکمت کو ہمارے لئے ممکنالحصول بنایا ہے جسکا اُس نے ہماری راہنمائی کے لئے الہام بخشا تھا۔—امثال ۲:۱-۹؛ ۳:۱-۶؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷۔
انسانی حکمرانی کا مستقبل
۱۶. کس نے مستقبل کا تعیّن کِیا ہے؟
۱۶ پس، خدا کا کلام ہمیں مستقبل کی بابت کیا بتاتا ہے؟ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسانوں نے ماضی میں جوکچھ کیا ہے مستقبل ہرگز اُسکا عکس نہیں ہوگا۔ لہٰذا پیٹرک ہنری کا نظریہ غلط تھا۔ اس زمین اور اس پر آباد لوگوں کے مستقبل کا تعیّن انسان نہیں بلکہ یہوواہ خدا کریگا۔ زمین پر انسانوں یا اِس دُنیا کی اقوام کی مرضی نہیں بلکہ اُس کی مرضی پوری ہوگی۔ ”آدمی کے دِل میں بہت سے منصوبے ہیں لیکن صرف خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا اِرادہ ہی قائم رہیگا۔“—امثال ۱۹:۲۱۔
۱۷، ۱۸. ہمارے زمانے کیلئے خدا کی مرضی کیا ہے؟
۱۷ ہمارے زمانے کیلئے خدا کی مرضی کیا ہے؟ اُس نے اِس موجودہ متشدّد، بداخلاق نظام کا خاتمہ لانے کا قصد کر رکھا ہے۔ جلد ہی صدیوں پُرانی خراب انسانی فرمانروائی کی جگہ خدا کی طرف سے تشکیل دی گئی حکمرانی لے لیگی۔ دانیایل ۲:۴۴ میں پائی جانے والی پیشینگوئی بیان کرتی ہے: ”اُن بادشاہوں [جو آجکل موجود ہیں] کے ایّام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت [آسمان پر] برپا کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہوگی اور اُس کی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائے گی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی ابد تک قائم رہے گی۔“ بادشاہت شیطان ابلیس کے شرانگیز اثرورسوخ کو بھی ختم کرے گی، ایسا کام جو انسان کبھی بھی نہیں کر سکتے۔ اس زمین پر اُس کی حکمرانی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔—رومیوں ۱۶:۲۰؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۴؛ ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
۱۸ غور کریں کہ آسمانی حکومت تمام طرح کی انسانی حکمرانی کو صفحۂہستی سے مٹا دیگی۔ پھر زمین کی باگڈور لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں رہیگی۔ آسمان میں، خدا کی بادشاہت کو تشکیل دینے والے لوگ نوعِانسان کی فلاحوبہبود کیلئے زمین کے معاملات پر اختیار رکھینگے۔ (مکاشفہ ۵:۱۰؛ ۲۰:۴-۶) زمین پر، وفادار انسان خدا کی بادشاہت کی ہدایات کے مطابق عمل کرینگے۔ اِسی حکمرانی کیلئے یسوع نے ہمیں دُعا کرنا سکھائی تھی جب اُس نے کہا: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“—متی ۶:۱۰۔
۱۹، ۲۰. (ا) بائبل بادشاہتی انتظام کو کیسے بیان کرتی ہے؟ (ب)اسکی حکمرانی نوعِانسان کے لئے کیا کرے گی؟
۱۹ یہوواہ کے گواہ خدا کی بادشاہت پر ایمان رکھتے ہیں۔ پطرس رسول نے اِسی ”نئے آسمان“ کی بابت لکھا: ”اُسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ (۲-پطرس ۳:۱۳) ”نئی زمین“ نیا انسانی معاشرہ ہے جس پر نئے آسمان، خدا کی بادشاہت کا اختیار ہوگا۔ اِسی انتظام کی بابت خدا نے رویا میں یوحنا رسول پر آشکارا کِیا تھا، اُس نے لکھا: ”پھر مَیں نے ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی . . . اور [خدا] اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۱، ۴۔
۲۰ غور کریں کہ نئی زمین راست ہوگی۔ تمام ناراست عناصر الہٰی مداخلت، ہرمجِدّون کے ذریعے مٹا دئے گئے ہونگے۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶) امثال ۲:۲۱، ۲۲ کی پیشینگوئی اِسے یوں بیان کرتی ہے: ”راستباز مُلک میں بسیں گے اور کامل اُس میں آباد رہیں گے۔ لیکن شریر زمین پر سے کاٹ ڈالے جائیں گے۔“ اسی طرح زبور ۳۷:۹ وعدہ کرتی ہے: ”بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جنکو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی آس ہے مُلک کے وارث ہونگے۔“ کیا آپ ایسی نئی دُنیا میں رہنا پسند نہیں کریں گے؟
یہوواہ کے وعدوں پر ایمان رکھیں
۲۱. ہم یہوواہ کے وعدوں پر ایمان کیوں رکھ سکتے ہیں؟
۲۱ کیا ہم یہوواہ کے وعدوں پر ایمان رکھ سکتے ہیں؟ غور کریں کہ وہ اپنے نبی یسعیاہ کی معرفت کیا فرماتا ہے: ”پہلی باتوں کو جو قدیم سے ہیں یاد کرو کہ مَیں خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں۔ مَیں خدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں۔ جو ابتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا ہوں اور ایّامِقدیم سے وہ باتیں جو اَب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہیگی اور مَیں اپنی مرضی بالکل پوری کرونگا۔“ ۱۱ آیت کا دوسرا حصہ بیان کرتا ہے: ”مَیں ہی نے یہ کہا اور مَیں ہی اِسکو وقوع میں لاؤنگا۔ مَیں نے اِسکا ارادہ کِیا اور مَیں ہی اِسے پورا کرونگا۔“ (یسعیاہ ۴۶:۹-۱۱) جیہاں، ہم یہوواہ اور اُسکے وعدوں پر اس یقین کیساتھ ایمان رکھ سکتے ہیں کہ جیسے یہ وعدے پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں۔ بائبل اسے یوں بیان کرتی ہے: ”اب ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“—عبرانیوں ۱۱:۱۔
۲۲. ہم کیوں پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ اپنے وعدوں کو پورا کریگا؟
۲۲ فروتن لوگ ایسا ایمان ظاہر کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔ مثال کے طور پر، ہم زبور ۳۷:۲۹ میں پڑھتے ہیں: ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ کیا ہم اِس بات کا یقین کر سکتے ہیں؟ جیہاں، کیونکہ عبرانیوں ۶:۱۸ بیان کرتی ہے: ”خدا کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔“ کیا زمین خدا کی ملکیت ہے تاکہ وہ اِسے فروتن اشخاص کو دے سکے؟ مکاشفہ ۴:۱۱ بیان کرتی ہے: ”تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“ پس زبور ۲۴:۱ بیان کرتی ہے: ”زمین اور اُس کی معموری خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہی کی ہے۔“ یہوواہ ہی نے زمین کو خلق کِیا، وہ اِس کا مالک ہے اور اِسے اُن لوگوں کو دیتا ہے جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس بات پر ہمارے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لئے اگلا مضمون ظاہر کرے گا کہ کیسے یہوواہ ماضی میں اور ہمارے زمانے میں اپنے لوگوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کا پابند رہا ہے اور کس وجہ سے ہم قطعی اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ وہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کرے گا۔
نکات برائے اعادہ
◻پوری تاریخ کے دوران لوگوں کی اُمیدوں کیساتھ کیا واقع ہوا ہے؟
◻ہمیں بہتر مستقبل کیلئے انسانوں پر آس کیوں نہیں لگانی چاہئے؟
◻مستقبل کے سلسلے میں خدا کی مرضی کیا ہے؟
◻ہم کیوں پُراعتماد ہیں کہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کریگا؟
[صفحہ 9 پر تصویر]
بائبل درست طور پر بیان کرتی ہے: ”انسان . . . اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“—یرمیاہ ۱۰:۲۳
[تصویر کا حوالہ]
;Bomb: U.S. National Archives photo; famished children: WHO/OXFAM
:refugees: UN PHOTO 186763/J. Isaac; Mussolini and Hitler
U.S. National Archives photo