جدید کرسمس کی جڑیں
پوری دُنیا میں لاکھوں لوگوں کیلئے کرسمس کا موسم سال کا نہایت پُرمسرت وقت ہوتا ہے۔ یہ پُرتکلف ضیافتوں، قدیمومُقدس روایات اور خاندان کی باہمی رفاقت کا وقت ہوتا ہے۔ کرسمس کا تہوار ایسا وقت بھی ہے جب دوست اور عزیزواقارب ایک دوسرے کیساتھ کارڈز اور تحائف کے تبادلے سے محظوظ ہوتے ہیں۔
تاہم، صرف ۱۵۰ سال قبل، کرسمس بالکل فرق نوعیت کا تہوار ہوا کرتا تھا۔ اپنی کتاب دی بیٹل فار کرسمس میں، تاریخ کا پروفیسر سٹیفن نائسنبام لکھتا ہے: ”کرسمس بلانوشی کا وقت ہوتا تھا جب دسمبر مارڈی گراس کے ایک بےقابو ’جشن‘ کی حمایت میں لوگوں کے عام رویے کو منظم کرنے والے اصولوں کو عارضی طور پر نظرانداز کر دیا جاتا تھا۔“
کرسمس کیلئے مؤدبانہ احترام رکھنے والے لوگوں کیلئے یہ بیان پریشانکُن ہو سکتا ہے۔ کوئی خدا کے بیٹے کی پیدائش کی یاد منانے کے اِدعائی تہوار کی بےحُرمتی کیونکر کریگا؟ جواب آپ کو حیران کر سکتا ہے۔
ناقص بنیاد
چوتھی صدی میں اپنی ابتدا ہی سے، کرسمس بحثوتکرار کا موضوع رہا ہے۔ مثال کے طور پر، یسوع کے یومِولادت کا مسئلہ تھا۔ چونکہ بائبل واضح طور پر مسیح کی پیدائش کے دن اور مہینے کا ذکر نہیں کرتی اسلئے مختلف تاریخیں تجویز کی گئی ہیں۔ تیسری صدی میں، مصری علمائےدین کے ایک گروہ نے اسکے لئے ۲۰ مئی مقرر کی جبکہ دیگر نے اس سے پہلے کی تاریخوں یعنی ۲۸ مارچ، ۲ اپریل یا ۱۹ اپریل کی حمایت کی۔ اٹھارویں صدی تک، یسوع کی پیدائش کو سال کے ہر مہینے کے ساتھ وابستہ کِیا جا چکا تھا۔ توپھر، ۲۵ دسمبر کا انتخاب بالآخر کیسے کِیا گیا؟
بیشتر علماء اس بات سے متفق ہیں کہ کیتھولک چرچ نے ۲۵ دسمبر کو یسوع کا یومِولادت مقرر کِیا تھا۔ کیوں؟ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا بیان کرتا ہے، ”بہت ممکن ہے کہ اسکی وجہ ابتدائی مسیحیوں کی یہ خواہش تھی کہ اسکی تاریخ ’غیرمفتوح سورج کے یومِولادت‘ کی نشاندہی کرنے والے بُتپرستانہ رومی جشن کے مطابق ہو۔“ لیکن ان بُتپرست لوگوں کے ہاتھوں اڑھائی سو سال تک وحشیانہ اذیت کا نشانہ بننے والے مسیحیوں نے اپنے اذیت پہنچانے والوں کی بات اتنی جلدی کیسے مان لی؟
خرابی پیدا کر دی گئی
پہلی صدی میں، پولس رسول نے تیمتھیس کو آگاہ کِیا کہ ”برے اور دھوکاباز آدمی“ مسیحی کلیسیا میں گھس آئینگے اور بہتیروں کو گمراہ کرینگے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۳) اس وسیع برگشتگی کا آغاز رسولوں کی وفات کے بعد ہوا۔ (اعمال ۲۰:۲۹، ۳۰) چوتھی صدی میں قسطنطین کی ظاہری مذہبی تبدیلی کے بعد، بُتپرستوں کی بہت بڑی تعداد اُس وقت کی مروّجہ مسیحیت میں شامل ہو گئی۔ کس نتیجے کیساتھ؟ کتاب ارلی کرسچینٹی اینڈ پیگنزم بیان کرتی ہے: ”حقیقی خلوصدل ایمانداروں کا نسبتاً چھوٹا سا گروہ نامنہاد مسیحیوں کی بِھیڑ میں کھو گیا۔“
پولس کے الفاظ کتنے سچے ثابت ہوئے! گویا یہ ایسے تھا کہ بُتپرستانہ خرابی نے حقیقی مسیحیت کو ہڑپ کر لیا ہو۔ تاہم یہ آلودگی اَور کسی چیز میں اتنی نمایاں نہیں تھی جتنی کہ تہواروں کی تقریبات میں تھی۔
دراصل، مسیحیوں کو صرف خداوند کے عشائیے کی تقریب منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۶) رومی تہواروں سے وابستہ بُتپرستانہ کاموں کے باعث، ابتدائی مسیحی ان میں حصہ نہیں لیتے تھے۔ اس وجہ سے تیسری صدی کے بُتپرستوں نے مسیحیوں کو یہ کہتے ہوئے ملامت کی: ”تم میلوں پر نہیں جاتے؛ تمہیں عوامی نمائشوں سے کوئی دلچسپی نہیں؛ تم عوامی ضیافتوں کو رد کرتے ہو اور پاک مقابلوں سے گھن کھاتے ہو۔“ اسکی دوسری جانب، بُتپرستوں نے بڑے فخر سے کہا: ”ہم خوشدلی، ضیافتوں، گیتوں اور ناچرنگ کیساتھ دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں۔“
چوتھی صدی کے وسط تک، یہ شکایت دُور ہو گئی۔ کیسے؟ زیادہ سے زیادہ نامنہاد مسیحیوں کے جماعت میں شامل ہونے کیساتھ ساتھ برگشتہ خیالات فروغ پاتے رہے۔ یہ رومی معاشرے کیساتھ مصالحت کرنے پر منتج ہوا۔ اس بات پر رائےزنی کرتے ہوئے کتاب دی پیگنزم ان آور کرسچینٹی بیان کرتی ہے: ”روایتاً لوگوں کے پسندیدہ بُتپرستانہ تہواروں کو اپنا کر اُنہیں مسیحیت کا رنگ دے دینا مسیحیوں کی قطعی حکمتِعملی ہوا کرتی تھی۔“ جیہاں، اس وسیع برگشتگی کے مُضر اثرات پیدا ہو رہے تھے۔ نامنہاد مسیحیوں کا بُتپرستانہ تقریبات کو اپنانے کیلئے آمادہ ہو جانا اب قدرے معاشرے کی خوشنودی حاصل کرنے کا باعث بنا۔ جلد ہی مسیحی بھی بُتپرست لوگوں جتنے سالانہ تہوار منانے لگے۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ کرسمس ان میں سرِفہرست تھا۔
ایک بینالاقوامی تعطیل
یورپ میں بااثر مسیحیت کے پھیلنے کیساتھ ساتھ، کرسمس بھی فروغ پاتا گیا۔ کیتھولک چرچ نے اس خیال کی حمایت کی کہ یسوع کے یومِولادت کی تعظیم میں ایک پُرمسرت تہوار کو ہمیشہ کیلئے قائم کر دینا موزوں ہوگا۔ اسکے مطابق، ۵۶۷ س.ع. میں، مجلسِٹوؤر نے ”کرسمس سے اپیفینی تک کے ۱۲ دنوں کا مُقدس اور خوشکُن وقت کے طور پر اعلان کِیا۔“—دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا فار سکول اینڈ ہوم۔
جلد ہی کرسمس نے شمالی یورپ کے فصل کی کٹائی کے دُنیاوی تہواروں کی بہت سی خصوصیات کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ موجمستی کے دلدادہ لوگوں کی بسیارخوری اور بلانوشی کی وجہ سے رنگرلیاں خداترسی کی نسبت زیادہ عام رہیں۔ اس بدچلنی کیخلاف آواز اُٹھانے کی بجائے، چرچ نے اُسے جائز قرار دے دیا۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۱۳:۱۳؛ ۱-پطرس ۴:۳۔) پوپ گریگوری اوّل نے، ۶۰۱ س.ع. میں، انگلینڈ کے اپنے ایک مشنری ملیتس کو خط لکھ کر آگاہ کِیا کہ ”ایسے قدیم بُتپرستانہ تہواروں کی مزاحمت نہ کرے بلکہ جس وجہ سے اُنہیں منایا جاتا ہے اُسے صرف الحاد سے مسیحی تحریک میں بدل کر اُنہیں چرچ کی رسومات میں ڈھال لے۔“ آرتھروِیگل نے یہ رپورٹ دی جو کبھی حکومتِمصر کا اثریّات کا انسپکٹر جنرل تھا۔
قرونِوسطیٰ میں، اصلاحپسند اشخاص نے ایسی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت کو محسوس کِیا۔ اُنہوں نے ”کرسمس کی خوشی سے ناجائز فائدہ اُٹھانے“ کے خلاف کئی فرمان جاری کئے۔ ڈاکٹر پینی رےسٹڈ، اپنی کتاب کرسمس ان امریکہ—اے ہسٹری میں بیان کرتی ہے: ”بعض پادریوں نے اصرار کِیا کہ ناکامل نوعِانسان کو زندہدلی اور مےخواری کے وقت کی ضرورت ہے بشرطیکہ اسے مسیحی انتظام کے تحت عمل میں لایا جائے۔“ اس سے ابتری اَور زیادہ بڑھ گئی۔ تاہم، اس سے کوئی فرق نہ پڑا کیونکہ بُتپرستانہ رسومات تو پہلے ہی سے کرسمس میں اسقدر سرایت کر چکی تھیں کہ بیشتر لوگ انہیں ترک کرنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ ایک مصنف ٹرسٹرم کوفن اسے یوں بیان کرتا ہے: ”لوگ مجموعی طور پر وہی کر رہے تھے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے تھے اور اخلاقیات کے حامیوں کے مباحثوں پر کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے۔“
جس وقت یورپیوں نے اپنی نئی دُنیا بسانا شروع کی تو کرسمس کافی مشہورومعروف تہوار تھا۔ تاہم، کرسمس کو نوآبادیوں میں مقبولیت حاصل نہ ہوئی۔ پیوریٹن مصلحین نے اس تقریب کو بُتپرستانہ سمجھ کر ۱۶۵۹ اور ۱۶۸۱ کے دوران ماساچوسیٹس میں اس پر پابندی عائد کر دی۔
پابندی اُٹھائے جانے کے بعد، کرسمس کی تقریب تمام نوآبادیوں بالخصوص نیو انگلینڈ کے جنوب میں زور پکڑ گئی۔ تاہم، اس تہوار کے ماضی کو مدِنظر رکھتے ہوئے، یہ حیرانی کی بات نہیں کہ بعض خدا کے بیٹے کے احترام کی نسبت عیشونشاط کی بابت زیادہ فکرمند تھے۔ کرسمس کی پینےپلانے کی ایک رسم واسلنگ خاص طور پر انتشارانگیز تھی۔ شوروغل مچانے والے نوجوانوں کی ٹولیاں متموّل ہمسایوں کے گھروں میں داخل ہوکر دھمکیآمیز انداز میں مُفت اشیائےخوردونوش کا مطالبہ کِیا کرتی تھیں۔ اگر صاحبِخانہ انکار کر دیتا تو عموماً اُسے گالیگلوچ کِیا جاتا اور کبھیکبھار تو اُسکے گھر میں توڑپھوڑ بھی کی جاتی تھی۔
حالات ۱۸۲۰ کے دہے میں اس حد تک خراب ہو گئے کہ ”کرسمس کے موقع پر بدنظمی ایک شدید سماجی خطرہ“ بن گئی، پروفیسر نائسنبام بیان کرتا ہے۔ نیو یارک اور فِلدلفیہ جیسے شہروں میں دولتمند جاگیرداروں نے اپنی جاگیروں کی حفاظت کیلئے چوکیدار رکھ لئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۱۸۲۷/۱۸۲۸ کے کرسمس کے موقع پر تشددآمیز بلوے کے نتیجے میں نیو یارک شہر نے اپنی پہلی پیشہوارانہ پولیس فورس کو منظم کِیا!
کرسمس کی تجدید
انیسویں صدی میں نوعِانسان کیلئے بینظیر تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ شاہراہوں اور ریل کی پٹریوں کے جال بچھ جانے سے لوگوں، اشیاء اور خبروں کی آمدورفت تیز ہو گئی۔ صنعتی انقلاب نے لاکھوں ملازمتوں کے مواقع پیدا کر دئے اور کارخانوں سے مالِتجارت بڑی تیزی سے نکلنے لگا۔ صنعتکاری سے نئے اور پیچیدہ سماجی مسائل بھی منظرِعام پر آئے جنہوں نے بالآخر کرسمس منانے کے طریقے کو متاثر کِیا۔
عرصۂدراز سے لوگ تہواروں کو خاندانی رشتوں کو مضبوط کرنے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں اور کرسمس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ کرسمس کی بعض پُرانی روایات میں انتخابپسندی سے تھوڑی بہت تبدیلی کرکے اسکے حمایتیوں نے بڑی اثرآفرینی سے کرسمس کو جارحانہ، رنگرلیوں کے جشن سے خاندانی تہوار میں بدل دیا۔
بِلاشُبہ، ۱۹ویں صدی کے اختتام تک، کرسمس کو جدید امریکی زندگی کی بُرائیوں کے خلاف تدارک خیال کِیا جانے لگا۔ ڈاکٹر رےسٹڈ بیان کرتی ہے: ”گھرانے میں مذہب اور مذہبی احساسات کو فروغ دینے اور عوامی معاشرے کی بےاعتدالیوں اور ناکامیوں کی اصلاح کرنے کیلئے کرسمس تمام تہواروں میں سے سب سے بہترین ذریعہ تھا۔“ وہ اضافہ کرتی ہے: ”تحائف دینے، بھلائی کے کام کرنے اور دوستانہ انداز میں تہوار کی مبارکباد دینے اور مہمانخانے یا بعدازاں سنڈے سکول کے ہال میں سدابہار درخت کو سجانے اور محظوظ ہونے سے ہر خاندان کے افراد ایک دوسرے کی، چرچ اور معاشرے کی قربت میں آ جاتے تھے۔“
اسی طرح، آجکل بہتیرے لوگ ایک دوسرے کیلئے اپنی محبت ظاہر کرنے اور خاندانی اتحاد کو برقرار رکھنے کے ذریعے کے طور پر کرسمس مناتے ہیں۔ تاہم، روحانی پہلوؤں سے بھی آنکھ نہیں چرانی چاہئے۔ لاکھوں لوگ یسوع کی پیدائش کے احترام میں کرسمس مناتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ چرچ کی خاص عبادات میں شریک ہوں، اپنے گھروں میں مسیح کی پیدائش کے مناظر کو نمایاں کریں یا خود یسوع کے حضور شکرانے کی دُعائیں پیش کریں۔ لیکن خدا اس معاملے کو کیسا خیال کرتا ہے؟ کیا ان تمام چیزوں کو اُسکی مقبولیت حاصل ہے؟ غور کریں کہ بائبل اس ضمن میں کیا بیان کرتی ہے۔
”سچائی اور سلامتی کو عزیز رکھو“
جب یسوع زمین پر تھا تو اُس نے اپنے پیروکاروں کو بتایا: ”خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اُسکے پرستار روح اور سچائی سے پرستش کریں۔“ (یوحنا ۴:۲۴) یسوع نے ان الفاظ کے مطابق زندگی بسر کی۔ اُس نے ہمیشہ سچ بولا۔ اُس نے اپنے باپ، ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو]! سچائی کے خدا“ کی مکمل طور پر نقل کی۔—زبور ۳۱:۵؛ یوحنا ۱۴:۹۔
بائبل کے اوراق کے ذریعے یہوواہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ہر طرح کے فریب سے نفرت کرتا ہے۔ (زبور ۵:۶) اس کے پیشِنظر، کیا یہ بات مضحکہخیز نہیں کہ کرسمس کی بہت سی خصوصیات پر جھوٹ کا رنگ چڑھا ہوا ہے؟ مثال کے طور پر، سانٹا کلاؤز کی فرضی داستان کی بابت سوچیں۔ کیا آپ نے کبھی کسی بچے کے سامنے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سانٹا دروازے کی بجائے چمنی سے داخل ہونا کیوں پسند کرتا ہے، جیساکہ بیشتر ممالک میں سمجھا جاتا ہے؟ نیز، سانٹا ایک ہی رات میں لاکھوں گھروں میں کیسے جاتا ہے؟ اُڑنے والے رینڈیر کی بابت کیا ہے؟ جب بچے کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اُسے یہ یقین کرنے کا فریب دیا گیا ہے کہ سانٹا ایک حقیقی شخص ہے تو کیا اُس کا اپنے والدین پر سے اعتماد نہیں اُٹھ جاتا؟
دی کیتھولک انسائیکلوپیڈیا صاف طور پر بیان کرتا ہے: ”بُتپرستانہ رسومات . . . کا جھکاؤ کرسمس کی جانب تھا۔“ پھر کیتھولک چرچ اور مسیحی دُنیا کے دیگر چرچ ایک ایسے تہوار کو کیوں قائم رکھے ہوئے ہیں جسکی رسومات مسیحی اصل سے نہیں؟ کیا یہ بُتپرستانہ تعلیمات سے چشمپوشی کی نشاندہی نہیں کرتا؟
جب یسوع زمین پر تھا تو اُس نے اپنی پرستش کرانے کیلئے انسانوں کی حوصلہافزائی نہیں کی تھی۔ یسوع نے خود کہا: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔“ (متی ۴:۱۰) اسی طرح، یسوع کے آسمانی جلال کے بعد، ایک فرشتے نے یہ بات اُجاگر کرتے ہوئے کہ اس سلسلے میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی یوحنا رسول کو بتایا ”خدا ہی کو سجدہ کر۔“ (مکاشفہ ۱۹:۱۰) اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کیا یسوع اُس تمام مؤدبانہ عقیدت کو قبول کریگا جو کرسمس کے موقع پر اُسکے باپ کی بجائے اُس کیلئے دکھائی جاتی ہے؟
صاف ظاہر ہے کہ جدید کرسمس کی بابت حقائق زیادہ موزوں نہیں ہیں۔ یہ کافی حد تک مصنوعی تہوار ہے جسکی بابت ثبوت یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسکا ماضی نہایت گھٹیا ہے۔ تاہم، صاف ضمیر کے ساتھ لاکھوں لوگوں نے کرسمس نہ منانے کا فیصلہ کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک ریان نامی نوجوان نے کرسمس کی بابت کہا: ”لوگ سارے سال میں اُن چند ایک دنوں کیلئے بہت جوشیلے ہو جاتے ہیں جب خاندان باہم جمع ہوتا ہے اور سب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں اتنی خاص بات کیا ہے؟ میرے والدین مجھے سارا سال تحائف دیتے رہتے ہیں!“ ایک اَور ۱۲سالہ نوجوان بیان کرتا ہے: ”مجھے محرومیت کا کوئی احساس نہیں۔ مجھے سارا سال تحائف ملتے رہتے ہیں، صرف ایک خاص دن پر نہیں جب لوگ مجبوراً تحائف خریدتے ہیں۔“
زکریاہ نبی نے ساتھی اسرائیلیوں کی حوصلہافزائی کی کہ ”سچائی اور سلامتی کو عزیز“ رکھیں۔ (زکریاہ ۸:۱۹) اگر ہم زکریاہ اور زمانۂقدیم کے دیگر ایماندار لوگوں کی طرح ”سچائی . . . کو عزیز“ رکھتے ہیں تو کیا ہمیں کسی بھی ایسی جھوٹی مذہبی تقریب سے گریز نہیں کرنا چاہئے جو ”زندہ اور حقیقی خدا،“ یہوواہ کی تحقیر کرتی ہے؟—۱-تھسلنیکیوں ۱:۹۔