’یہوواہ کے دن‘ سے بچ نکلنا
”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا روزِعظیم نہایت خوفناک ہے۔ کون اُس کی برداشت کر سکتا ہے؟“—یوایل ۲:۱۱۔
۱. ’یہوواہ کے خوفناک دن‘ کو خوشی کا موقع کیوں ہونا چاہئے؟
”خوفناک“! خدا کا نبی یوایل ”یہوؔواہ کے دن“ کو یوں بیان کرتا ہے۔ تاہم، ہمیں جو یہوواہ سے محبت کرتے ہیں اور یسوع کے فدیے کی قربانی کی بِنا پر مخصوصیت کر کے اُسکے پاس آئے ہیں یہوواہ کے دن کی نزدیکی کے خوف سے تھرتھرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ دن یقیناً مہیب مگر عظیم نجات کا دن ہوگا، بدکار نظامالعمل سے چھٹکارے کا دن جس نے ہزارہا برس سے نوعِانسان کو دق کر رکھا ہے۔ اُس دن کی آس میں، یوایل خدا کے لوگوں سے کہتا ہے کہ ”خوشی اور شادمانی [کرو] کیونکہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] نے بڑے بڑے کام کئے ہیں،“ اور وہ مزید یہ یاددہانی کراتا ہے: ”کیونکہ جو کوئی خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا نام لیگا نجات پائیگا۔“ اسکے بعد خدا کے بادشاہتی بندوبست میں ”بچ نکلنے والے ہونگے اور باقی لوگوں میں وہ جنکو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] بلاتا ہے۔“—یوایل ۲:۱۱، ۲۱، ۲۲، ۳۲۔
۲. خدا کے مقاصد کی تکمیل میں (ا) ”خداوند کے دن“ پر (ب) ”یہوواہ کے دن“ پر کیا رُونما ہوتا ہے؟
۲ یہوواہ کے خوفناک دن کو مکاشفہ ۱:۱۰ کے ”خداوند کے دن“ سے خلطملط نہیں کِیا جانا چاہئے۔ اس مؤخرالذکر دن میں مکاشفہ ۱ تا ۲۲ ابواب میں بیانکردہ ۱۶ رویتوں کی تکمیل شامل ہے۔ اس میں اُن تمام واقعات کی تکمیل کا وقت شامل ہے جنکی یسوع نے اپنے شاگردوں کے اس سوال کے جواب میں پیشینگوئی کی تھی: ”یہ باتیں کب ہونگی؟ اور تیرے آنے [”موجودگی،“ اینڈبلیو] اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ یسوع کی آسمانی موجودگی کی نشاندہی زمین پر دہشتناک ’جنگوں، قحطوں، نفرتوں، وباؤں اور قانونشکنی‘ سے کی گئی ہے۔ جُوںجُوں ان افسوسناک حالتوں میں اضافہ ہوا ہے، یسوع ”تمام دُنیا میں“ ”بادشاہی کی اس خوشخبری“ کی منادی کرنے کیلئے اپنے دورِحاضر کے شاگردوں کو بھیجنے سے خداترس انسانوں کو تسلی فراہم کرتا رہا ہے تاکہ ”سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔“ اسکے بعد خداوند کے دن کے نقطۂعروج پر موجودہ نظامالعمل کا ”خاتمہ،“ یہوواہ کا خوفناک دن، شروع ہوگا۔ (متی ۲۴:۳-۱۴؛ لوقا ۲۱:۱۱) یہ پلبھر میں شیطان کی بدعنوان دُنیا کو سزا دینے کیلئے یہوواہ کا دن ہوگا۔ ”آسمانوزمین کانپیں گے لیکن خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے لوگوں کی پناہگاہ اور . . . قلعہ“ ہوگا۔—یوایل ۳:۱۶۔
زمانۂنوح میں یہوواہ کارروائی کرتا ہے
۳. آجکل حالتیں نوح کے زمانہ کے مشابہ کیسے ہیں؟
۳ آجکل دُنیا کے حالات ۴،۰۰۰ سال سے زیادہ عرصہ قبل ”نوح کے دنوں“ جیسے ہیں۔ (لوقا ۱۷:۲۶، ۲۷) پیدایش ۶:۵ میں ہم پڑھتے ہیں: ”خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اُسکے دل کے تصور اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں۔“ آج کی دُنیا کے کسقدر مشابہ! بدکاری، حرص اور سردمہری ہر جگہ عام ہے۔ بعضاوقات ہم سوچ سکتے ہیں کہ نوعِانسان کی سیاہکاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ لیکن ”اخیر زمانہ“ کی بابت پولس رسول کی پیشینگوئی کی تکمیل جاری ہے: ”بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱، ۱۳۔
۴. قدیم وقتوں میں جھوٹی پرستش کا کیا اثر ہوا تھا؟
۴ کیا نوح کے زمانے کے مذہب نے نوعِانسان کو کوئی چھٹکارا دلوایا تھا؟ اسکے برعکس، اُس وقت کے برگشتہ مذہب نے تو تباہکُن حالتوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہوگا۔ ہمارے پہلے والدین اُس ”پُرانے سانپ“ کی جھوٹی تعلیم سے مغلوب ہو گئے ”جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے۔“ آدم سے دوسری پُشت میں، بدیہی طور پر گستاخانہ انداز سے ”یہوواہ کا نام لیکر دُعا“ کی جانے لگی۔ (مکاشفہ ۱۲:۹؛ پیدایش ۳:۳-۶؛ ۴:۲۶) بعدازاں، خدا کی بِلاشرکتِغیرے عقیدت کو ترک کر دینے والے باغی فرشتوں نے انسانوں کی خوبصورت بیٹیوں سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے کی غرض سے انسانی جسم اختیار کئے۔ اِن عورتوں نے دوغلے دیوقامت اشخاص کو جنم دیا جو جبار کہلائے، جنہوں نے نوعِانسان پر بہت ظلم ڈھایا اور دُکھ پہنچایا۔ اس شیطانی اثر کے تحت، ’زمین پر ہر بشر نے اپنا طریقہ بگاڑ لیا تھا۔‘—پیدایش ۶:۱-۱۲۔
۵. زمانۂنوح کے واقعات کے حوالے سے، یسوع ہمیں کونسی انتباہی نصیحت کرتا ہے؟
۵ تاہم، ایک خاندان نے یہوواہ کیلئے راستی برقرار رکھی۔ لہٰذا، خدا نے ”بےدین دُنیا پر طوفان بھیج کر راستبازی کے منادی کرنے والے نوؔح کو مع اَور سات آدمیوں کے بچا لیا۔“ (۲-پطرس ۲:۵) اُس طوفان نے یہوواہ کے خوفناک دن کا عکس پیش کِیا جو اِس نظامالعمل کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے اور جسکی بابت یسوع نے پیشینگوئی کی تھی: ”لیکن اس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔ جیسا نوؔح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِآدم کے آنے [”موجودگی،“ اینڈبلیو] کے وقت ہوگا۔ کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتےپیتے اور بیاہشادی کرتے تھے اس دن تک کہ نوؔح کشتی میں داخل ہؤا۔ اور جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا انکو خبر نہ ہوئی اسی طرح ابنِآدم کا آنا [”موجودگی،“ اینڈبلیو] ہوگا۔“ (متی ۲۴:۳۶-۳۹) آجکل ہم ایسی ہی حالت میں ہیں، لہٰذا یسوع ہمیں تلقین کرتا ہے کہ ’خبردار رہیں، جاگتے رہیں اور ہر وقت دُعا کرتے رہیں تاکہ ہم اِن سب ہونے والی باتوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکیں۔‘—لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔
سدوم اور عمورہ کیلئے یہوواہ کی عدالتی سزا
۶، ۷. (ا) لوط کے زمانہ کے واقعات سے کس چیز کی عکاسی کی گئی ہے؟ (ب) یہ ہمیں کیا واضح آگاہی دیتا ہے؟
۶ طوفان سے کچھ سال بعد، جب نوح کی اولاد زمین پر بہت بڑھ گئی تو ایماندار ابرہام اور اُس کے بھتیجے لوط نے یہوواہ کے ایک اَور خوفناک دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ لوط اور اُس کا خاندان سدوم کے شہر میں آباد تھا۔ قریبی شہر عمورہ سمیت یہ شہر نفرتانگیز جنسی بداخلاقی کا شکار ہو چکا تھا۔ مادہپرستی بھی اوّلین دلچسپی تھی جس نے بالآخر لوط کی بیوی کو بُری طرح متاثر کِیا۔ یہوواہ نے ابرہام کو بتا دیا تھا: ”سدؔوم اور عموؔرہ کا شور بڑھ گیا اور اُن کا جُرم نہایت سنگین ہو گیا ہے۔“ (پیدایش ۱۸:۲۰) ابرہام نے یہوواہ کی مِنت کی کہ اُن شہروں کو اُن میں آباد راستباز لوگوں کی خاطر بخش دے مگر یہوواہ نے کہا کہ اُسے وہاں دس آدمی بھی راستباز دکھائی نہیں دیتے۔ خدا کے فرشتوں نے لوط اور اُس کی دو بیٹیوں کی قریبی شہر ضغر کو بھاگ جانے میں مدد کی۔
۷ اسکے بعد کیا واقع ہوا؟ لوط کے دنوں کیساتھ ہمارے ”اخیر زمانے“ کا موازنہ کرتے ہوئے لوقا ۱۷:۲۸-۳۰ بیان کرتی ہیں: ”جیسا لوؔط کے دنوں میں ہؤا تھا کہ لوگ کھاتےپیتے اور خریدوفروخت کرتے اور درخت لگاتے اور گھر بناتے تھے۔ لیکن جس دن لوؔط سدؔوم سے نکلا آگ اور گندھک نے آسمان سے برس کر سب کو ہلاک کِیا۔ ابنِآدم کے ظاہر ہونے کے دن بھی ایسا ہی ہوگا۔“ یہوواہ کے اُس ہولناک دن پر سدوم اور عمورہ کا جو حشر ہوا وہ یسوع کی موجودگی کے اس دَور میں ہمارے لئے واضح آگاہی فراہم کرتا ہے۔ نوعِانسان کی موجودہ پُشت بھی ”حرامکاری میں پڑ“ گئی ہے ”اور غیرجسم کی طرف راغب“ ہوئی ہے۔ (یہوداہ ۷) علاوہازیں، ہمارے دَور کے اخلاقسوز جنسی رُجحانات اُن متعدد ”وباؤں“ کے ذمہدار ہیں جن کی یسوع نے ہمارے زمانے کے لئے پیشینگوئی کی تھی۔—لوقا ۲۱:۱۱۔
اسرائیل ”گردباد“ کاٹتا ہے
۸. اسرائیل نے کس حد تک یہوواہ کیساتھ عہد قائم رکھا؟
۸ موزوں وقت پر، یہوواہ نے اپنے لئے اسرائیل کو ”سب قوموں میں سے . . . خاص ملکیت . . . کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مُقدس قوم“ کے طور پر چن لیا۔ مگر شرط یہ تھی کہ وہ ’سختی سے اُسکی بات مانیں اور اُسکے عہد پر چلیں۔‘ (خروج ۱۹:۵، ۶) کیا اُنہوں نے اس عظیم استحقاق کی کوئی قدر کی؟ ہرگز نہیں! سچ ہے کہ اُس قوم کے ایماندار لوگوں—موسیٰ، سموئیل، داؤد، یہوسفط، حزقیاہ، یوسیاہ اور عقیدتمند نبِیّہ اور نبیوں نے وفاداری سے اُسکی خدمت کی تھی۔ تاہم مجموعی طور پر وہ قوم بےوفا تھی۔ وقت آنے پر اُس مملکت کے دو ٹکڑے ہو گئے—اسرائیل اور یہوداہ۔ مجموعی طور پر، دونوں قومیں بُتپرستانہ پرستش اور خدا کی تحقیر کرنے والی ہمسایہ ملکوں کی دیگر رسومات میں اُلجھ گئیں۔—حزقیایل ۲۳:۴۹۔
۹. یہوواہ نے دس قبائلی باغی سلطنت کی عدالت کیسے کی؟
۹ یہوواہ نے اِن معاملات کو کیسے نپٹایا؟ ہمیشہ کی طرح، اُس نے عاموس کے بیانکردہ اس اُصول کے مطابق آگاہی دی: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] خدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمتگذار نبیوں پر پہلے آشکارا نہ کرے۔“ عاموس نے خود اسرائیل کی شمالی مملکت کیلئے مصیبت کا اعلان کِیا تھا: ”تم خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے دِن کی آرزو کیوں کرتے ہو؟ وہ تو تاریکی کا دِن ہے۔ روشنی کا نہیں۔“ (عاموس ۳:۷؛ ۵:۱۸) علاوہازیں، عاموس کے ساتھی ہوسیع نبی نے اعلان کِیا: ”اُنہوں نے ہوا بوئی۔ وہ گردباد کاٹیں گے۔“ (ہوسیع ۸:۷) یہوواہ نے ۷۴۰ ق.س.ع. میں، اسرائیل کی شمالی مملکت کو ہمیشہہمیشہ کیلئے تباہوبرباد کر دینے کی خاطر اسوری لشکر کو استعمال کِیا۔
برگشتہ یہوداہ کے ساتھ یہوواہ کا حساب
۱۰، ۱۱. (ا) یہوداہ کو معاف کرنے کے لئے یہوواہ کیوں راضی نہیں تھا؟ (ب) کن نفرتانگیز کاموں نے قوم کو ناپاک کر دیا تھا؟
۱۰ یہوواہ نے یہوداہ کی جنوبی مملکت کے پاس بھی اپنے نبی بھیجے۔ پھربھی، منسی اور اُس کے جانشین، امون جیسے یہوداہ کے بادشاہ ’کثرت سے بےگناہوں کا خون بہانے اور مکروہ بُتوں کی پوجا کرنے اور اُن کو سجدہ‘ کرنے سے وہی کام کرتے رہے جو اُس کی نظر میں بُرے تھے۔ اگرچہ امون کے بیٹے یوسیاہ نے یہوواہ کی نظر میں راست کام کئے، پھربھی بعد میں آنے والے بادشاہ اور لوگ دوبارہ بدکاری میں پڑ گئے کہ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] نے معاف کرنا نہ چاہا۔“—۲-سلاطین ۲۱:۱۶-۲۱؛ ۲۴:۳، ۴۔
۱۱ یہوواہ نے اپنے نبی یرمیاہ کی معرفت اعلان کِیا: ”مُلک میں ایک حیرتافزا اور ہولناک بات ہوئی ہے۔ نبی جھوٹی نبوّت کرتے ہیں اور کاہن اُن کے وسیلہ سے حکمرانی کرتے ہیں اور میرے لوگ ایسی حالت کو پسند کرتے ہیں۔ اب تم اِس کے آخر میں کیا کرو گے؟“ یہوداہ کی قوم انتہائی خونی بن چکی تھی اور اس کے لوگ چوری، قتل، زناکاری، جھوٹی قسم، غیرمعبودوں کی پیروی اور دیگر نفرتانگیز کاموں کے باعث بدکار بن گئے تھے۔ خدا کی ہیکل ”ڈاکوؤں کا غار“ بن چکی تھی۔—یرمیاہ ۲:۳۴؛ ۵:۳۰، ۳۱؛ ۷:۸-۱۲۔
۱۲. یہوواہ نے سرکش یروشلیم کو سزا دینے کیلئے کیسے کارروائی کی؟
۱۲ یہوواہ نے اعلان کِیا: ”مَیں بلا اور ہلاکتِشدید کو شمال [کسدیہ] کی طرف سے لاتا ہوں۔“ (یرمیاہ ۴:۶) یوں وہ سرکش یروشلیم اور اُسکی ہیکل کو مسمار کرنے کے لئے بابلی طاقت کو چڑھا لایا جو اُس وقت کے لئے ”تمام دُنیا کا ہتھوڑا“ تھی۔ (یرمیاہ ۵۰:۲۳) سخت محاصرے کے بعد، ۶۰۷ ق.س.ع. میں، شہر نبوکدنضر کی طاقتور فوج کے سامنے زیر ہو گیا۔ ”اور شاہِبابلؔ نے صدؔقیاہ [بادشاہ] کے بیٹوں کو رِبلہؔ میں اُس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کِیا اور یہوؔداہ کے سب شرفا کو بھی قتل کِیا۔ اور اُس نے صدؔقیاہ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور بابلؔ کو لے جانے کے لئے اُسے زنجیروں سے جکڑا۔ اور کسدیوں نے شاہی محل کو اور لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلا دیا اور یرؔوشلیم کی فصیل کو گِرا دیا۔ اس کے بعد جلوداروں کا سردار نبوزؔرادان باقی لوگوں کو جو شہر میں رہ گئے تھے اور اُن کو جو اُس کی طرف ہو کر اُس کے پاس بھاگ آئے تھے یعنی قوم کے سب باقی لوگوں کو اسیر کرکے بابلؔ کو لے گیا۔“—یرمیاہ ۳۹:۶-۹۔
۱۳. کون ۶۰۷ ق.س.ع. کے یہوواہ کے دن سے بچا لئے گئے تھے اور کیوں؟
۱۳ واقعی ایک خوفناک دن! تاہم، یہوواہ کی فرمانبرداری کرنے والے چند ایک لوگوں کو اُس آتشی عدالت سے بچا لیا گیا۔ ان میں غیراسرائیلی ریکابی شامل تھے جنہوں نے یہوداہ کے باشندوں کی نسبت فروتنی اور اطاعتشعاری کی روح دکھائی تھی۔ اس کے علاوہ یرمیاہ کو کیچ کے حوض سے بچانے والے خواجہسرا عبدملک اور یرمیاہ کے وفادار مُنشی، باروک کو بھی بچا لیا گیا تھا۔ (یرمیاہ ۳۵:۱۸، ۱۹؛ ۳۸:۷-۱۳؛ ۳۹:۱۵-۱۸؛ ۴۵:۱-۵) ایسے لوگوں کے حق میں یہوواہ نے فرمایا تھا: ”مَیں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں . . . سلامتی کے خیالات۔ بُرائی کے نہیں تاکہ مَیں تم کو نیک انجام کی اُمید بخشوں۔“ اس وعدے کی تکمیل چھوٹے پیمانے پر ۵۳۹ ق.س.ع. میں ہوئی جب بابل کو فتح کرنے والے خورس بادشاہ نے خداترس یہودیوں کو رہائی بخشی اور وہ شہر اور ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے واپس آئے۔ اسی طرح آجکل وہ لوگ جو بابلی مذہب سے نکل آتے ہیں اور یہوواہ کی پاک پرستش کی طرف لوٹ آئے ہیں یہوواہ کی بحالشُدہ فردوس میں ابدی اَمن کے پُرشکوہ مستقبل کے متمنی ہو سکتے ہیں۔—یرمیاہ ۲۹:۱۱؛ زبور ۳۷:۳۴؛ مکاشفہ ۱۸:۲، ۴۔
پہلی صدی کی ”بڑی مصیبت“
۱۴. یہوواہ نے اسرائیل کو مستقل طور پر کیوں رد کر دیا؟
۱۴ آئیے اب ذرا پہلی صدی پر توجہ دیں۔ اُس وقت تک بحالشُدہ یہودی پھر سے برگشتگی میں پھنس چکے تھے۔ یہوواہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنا ممسوح یا مسیحا ہونے کے لئے زمین پر بھیجا۔ یسوع نے، ۲۹ سے ۳۳ س.ع. کے دوران، اسرائیل کے پورے ملک میں یہ کہتے ہوئے منادی کی: ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔“ (متی ۴:۱۷) علاوہازیں، اُس نے شاگرد اکٹھے کئے اور بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کرنے کے کام میں اپنے ساتھ شریک ہونے کے لئے اُنہیں تربیت دی۔ یہودیوں کے حکمرانوں نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ اُنہوں نے یسوع کی بےحرمتی کی اور آخرکار اُسے سولی پر تکلیفدہ موت مارنے کے قابلِنفرت جُرم کے مُرتکب ہوئے۔ یہوواہ نے یہودیوں کو اپنی قوم کے طور پر رد کر دیا۔ اب اس قوم کا استرداد مستقل تھا۔
۱۵. تائب یہودیوں کو کیا کام سرانجام دینے کا شرف حاصل ہوا؟
۱۵ قیامتیافتہ یسوع نے، ۳۳ س.ع. کے پنتِکُست کے دن پر روحالقدس نازل کی اور اِس نے اُس کے شاگردوں کو یہودیوں اور نومُریدوں کے سامنے مختلف زبانیں بولنے کی طاقت بخشی جو وہاں فوراً جمع ہو گئے تھے۔ بِھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے پطرس نے کہا: ”اِسی یسوؔع کو خدا نے جلایا جس کے ہم سب گواہ ہیں۔ . . . پس اؔسرائیل کا سارا گھرانا یقین جان لے کہ خدا نے اُسی یسوؔع کو جسے تم نے مصلوب کِیا خداوند بھی کِیا اور مسیح بھی۔“ خلوصدل یہودیوں نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟ ”اُن کے دلوں پر چوٹ لگی،“ اُنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور بپتسمہ لیا۔ (اعمال ۲:۳۲-۴۱) بادشاہتی منادی میں تیزی آ گئی اور ۳۰ سال کے اندر اندر یہ ”آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات“ تک پہنچ چکی تھی۔—کلسیوں ۱:۲۳۔
۱۶. یہوواہ اسرائیل پر سزا لانے والے واقعات کا سبب کیسے بنا؟
۱۶ اب اپنی مسترد قوم، پیدائشی اسرائیل کو سزا دینے کے لئے یہوواہ کا مقررہ وقت آنے والا تھا۔ اُس وقت کی دریافتشُدہ دُنیا کی قوموں میں سے کئی ہزار لوگ مسیحی کلیسیا میں آ چکے تھے اور ”خدا کے“ روحانی ”اسرائیل“ کے طور پر مسح ہو چکے تھے۔ (گلتیوں ۶:۱۶) تاہم، اُس زمانے کے یہودیوں کا ایک گروہ نفرت اور فرقہوارانہ تشدد کی راہ پر چل نکلا تھا۔ ’اعلیٰ حکومتوں کے تابع رہنے‘ کی بابت پولس نے جوکچھ لکھا تھا اُس کے برعکس، اُنہوں نے اپنے اُوپر مسلّط رومی اقتدار کے خلاف کھلمکُھلا بغاوت کر دی تھی۔ (رومیوں ۱۳:۱) بدیہی طور پر، یہوواہ اس کے بعد رُونما ہونے والے واقعات کا سبب بنا۔ رومی لشکروں نے جنرل گیلس کے زیرِکمان، ۶۶ س.ع. میں یروشلیم کا محاصرہ کرنے کے لئے پیشقدمی کی۔ حملہآور رومی ہیکل کی فصیل کو کھوکھلا کرنے کی حد تک شہر میں گھس آئے۔ جوزیفس کی تاریخ کے مطابق، یہ شہر اور لوگوں کے لئے واقعی مصیبت تھی۔a لیکن حملہآور فوجی اچانک پسپا ہو گئے۔ اس سے یسوع کے شاگردوں کو متی ۲۴:۱۵، ۱۶ میں درج اُس کی پیشینگوئی کی تلقین کے مطابق ’پہاڑوں پر بھاگ جانے‘ کا موقع مِل گیا۔
۱۷، ۱۸. (ا) یہوواہ نے کس مصیبت کے ذریعے یہودیوں کا انصاف کِیا؟ (ب) کونسا بشر ’بچ‘ نکلا اور یہ کس چیز کا عکس تھا؟
۱۷ تاہم، مصیبت کے نقطۂعروج پر یہوواہ کی طرف سے سزا کی مکمل تعمیل ابھی ہونی تھی۔ سن ۷۰ میں، رومی لشکر، اس مرتبہ جنرل ٹائٹس کی زیرِکمان، حملہ کرنے کیلئے واپس آئے۔ اس بار جنگ فیصلہکُن تھی! یہودی جو آپس میں بھی جھگڑ رہے تھے کسی بھی طرح رومیوں کی ٹکر کے نہیں تھے۔ شہر اور اُسکی ہیکل کو ملیامیٹ کر دیا گیا تھا۔ ایک ملین سے زیادہ نحیفونزار یہودیوں نے سخت مصیبت اُٹھائی اور مر گئے، کوئی ۶،۰۰،۰۰۰ لاشیں شہر کے پھاٹکوں کے باہر پھینک دی گئیں۔ شہر کے زیر ہو جانے کے بعد، ۹۷،۰۰۰ یہودیوں کو اسیر کر لیا گیا جن میں سے زیادہتر کو بعد میں تماشاگاہوں میں جانوروں سے لڑتے لڑتے مرنا تھا۔ واقعی، مصیبت کے اُن برسوں میں جس بشر کو بچایا گیا وہ وہی فرمانبردار مسیحی تھے جو یردن پار پہاڑوں پر بھاگ گئے تھے۔—متی ۲۴:۲۱، ۲۲؛ لوقا ۲۱:۲۰-۲۲۔
۱۸ اسطرح، ۶۶-۷۰ س.ع. میں باغی یہودی قوم کا انصاف کرنے کیلئے یہوواہ کے دن کے نقطۂعروج کو پہنچنے کے ساتھ، ”دُنیا کے آخر“ سے متعلق یسوع کی عظیم پیشینگوئی کی پہلی تکمیل ہوئی۔ (متی ۲۴:۳-۲۲) تاہم، وہ پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی آخری مصیبت، ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] [کے] خوفناک روزِعظیم“ کی آمد کا محض عکس تھی۔ (یوایل ۲:۳۱) آپ کیسے ”بچ“ سکتے ہیں؟ اگلا مضمون بتائیگا۔
]فوٹنوٹس[
a جوزیفس بیان کرتا ہے کہ حملہآور رومیوں نے شہر کو گھیرے میں لے لیا، فصیل کے ایک حصے کو کھوکھلا کر دیا اور یہوواہ کی ہیکل کے پھاٹک کو آگ لگانے والے تھے۔ اس سے اندر پھنسے ہوئے یہودیوں پر ہولناک دہشت چھا گئی کیونکہ اُنہیں اپنی موت سامنے کھڑی نظر آ رہی تھی۔—وارز آف دی جیوز، بُک II، باب ۱۹۔
سوالات برائے اعادہ
◻”خداوند کا دن“ ”یہوواہ کے دن“ سے کیسے وابستہ ہے؟
◻زمانۂنوح پر غور کرتے ہوئے، ہمیں کس آگاہی پر کان لگانا چاہئے؟
◻سدوم اور عمورہ کیسے اثرآفرین سبق فراہم کرتے ہیں؟
◻پہلی صدی کی ”بڑی مصیبت“ سے کون بچائے گئے تھے؟
]صفحہ ۰۱ پر تصویری عبارت[
یہوواہ نے نوح اور لوط کے خاندانوں کیلئے، نیز ۶۰۷ ق.س.ع. اور ۷۰ س.ع. میں رہائی بخشی