اصول کو سمجھ لینا پختگی کو ظاہر کرتا ہے
بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔ آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹیں گے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳؛ گلتیوں ۶:۷) جسمانی یا روحانی لحاظ سے، اِن میں سے ہر بیان ایک بنیادی سچائی—ایک اصول—کی مثال ہے اور ہر ایک قوانین کیلئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تاہم، قوانین عارضی ہو سکتے ہیں اور مخصوص ہونے کا رُجحان رکھتے ہیں۔ اِسکے برعکس، اصولوں میں وسعت پائی جاتی ہے اور یہ ہمیشہ قائم رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا خدا کا کلام ہماری حوصلہافزائی کرتا ہے کہ جہاں تک بھی ممکن ہو، اصولپسندانہ سوچ رکھیں۔
ویبسٹرز تھرڈ نیو انٹرنیشنل ڈکشنری اصول کی تعریف ”ایک عمومی اور بنیادی سچائی: ایک جامع اور بنیادی قانون، عقیدے یا مفروضے“ کے طور پر کرتی ہے، ”جس کی بِنا پر دوسرے قائم کئے جائیں یا جس سے دوسرے اخذ کئے جائیں۔“ مثال کے طور پر، ایک بچے کیلئے شاید کوئی ایک قانون وضع کرے، ”آپ نے چولہے کو ہاتھ نہیں لگانا۔“ لیکن ایک بالغ سے صرف یہ کہنا کہ ”چولہا گرم ہے،“ کافی ہوگا۔ غور کریں کہ موخرالذکر بیان میں زیادہ وسعت پائی جاتی ہے۔ اِسلئےکہ ایک شخص جوکچھ کرتا ہے—شاید کوئی کچھ پکاتا، بیک کرتا یا چولہے کو بند کرتا ہے—یہ اُس پر اثرانداز ہوتا ہے اور یوں یہ ایک لحاظ سے ایک اصول بن جاتا ہے۔
بِلاشُبہ زندگی کے کلیدی اصول روحانی ہیں؛ وہ خدا کیلئے ہماری پرستش اور خوشی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ تاہم، بعض اُس محنت سے بچنا چاہتے ہیں جو اصولوں پر استدلال کیلئے درکار ہے۔ جب اُنہیں کسی فیصلے کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ایک ضابطے کو ترجیح دینا زیادہ سہل خیال کرتے ہیں۔ یہ غیردانشمندانہ اور اُن نمونوں کے برعکس ہے جو ماضی میں بائبل وقتوں کے قدیم وفادار آدمیوں نے قائم کئے۔—رومیوں ۱۵:۴۔
خدائی اصولوں کے پابند آدمی
ناکامل آدمیوں کے درمیان، ہابل کو خدائی اصول کا پابند پہلا آدمی کہا جا سکتا ہے۔ اُس نے یقیناً ”نسل“ کی بابت وعدے کے متعلق کافی غوروفکر کِیا اور سمجھ لیا کہ گناہوں سے نجات پانے کیلئے خون کی قربانی ضروری ہو گی۔ (پیدایش ۳:۱۵) لہٰذا وہ خدا کیلئے ”اپنی بھیڑبکریوں کے پہلوٹھے بچوں“ کا ہدیہ لایا۔ اصطلاح ”اُنکی چربی“ واضح کرتی ہے کہ ہابل نے یہوواہ کو بہترین ہدیہ پیش کِیا۔ تاہم، ہابل کی موت کے دو ہزار سال بعد، یہوواہ نے قربانیوں کی بابت تفصیلی معلومات مہیا کی ہونگی۔ خدائی اصول کے پابند ہابل جیسے خداترس آدمی کے برعکس قائن نے سطحی جذبے سے خدا کیلئے قربانی پیش کی۔ مگر اُسکے قدرشناسی سے عاری رویے اور اُسکے ہدیے نے اصول سے ناواقف دل کی عکاسی کی۔—پیدایش ۴:۳-۵۔
نوح بھی خدائی اصولوں کا پابند تھا۔ اگرچہ بائبل ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ خدا نے اُسے کشتی بنانے کا واضح حکم دیا مگر ہمیں دوسروں کو منادی کرنے کی بابت کسی حکم کا ذکر نہیں ملتا۔ پھربھی، نوح ”راستبازی کا منادی کرنے والا“ کہلاتا ہے۔ (۲-پطرس ۲:۵) غالباً خدا کی طرف سے منادی کرنے کی ہدایت کے علاوہ نوح نے بِلاشُبہ اصولوں کی سمجھ اور پڑوسی کیلئے محبت سے بھی ایسا کرنے کی تحریک پائی تھی۔ چونکہ ہم نوح جیسے زمانے میں رہتے ہیں لہٰذا آئیے اُسکے عمدہ رویے اور نمونے کی پیروی کریں۔
اپنے زمانے کے مذہبی پیشواؤں کے برعکس، یسوع نے لوگوں کو اصولپسندانہ سوچ اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ یسوع کا پہاڑی وعظ اِسکی ایک مثال ہے۔ جس کی اصل روح اصولوں پر توجہ مبذول کرنا ہے۔ (متی ابواب ۵-۷) یسوع نے اِس طریقے سے اِسلئے تعلیم دی کیونکہ وہ ہابل اور نوح کی طرح جو اُس سے پہلے ہو گزرے تھے، خدا سے بخوبی واقف تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر اُس نے اِس بنیادی سچائی کیلئے احترام دکھایا: ”انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“ (استثنا ۸:۳؛ لوقا ۲:۴۱-۴۷) جیہاں، یہوواہ کو جاننا، اُسکی پسند، ناپسند اور مقاصد سے واقف ہونا ہی، خدائی اصولوں کا پابند شخص بننے کی کُنجی ہے۔ جب خدا کی بابت یہ بنیادی اصول ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں تو پھر یہ جیتےجاگتے اصول بن جاتے ہیں۔—یرمیاہ ۲۲:۱۶؛ عبرانیوں ۴:۱۲۔
اصول اور دل
کسی قانون کی بےدلی سے، شاید نافرمانی کے نتیجے میں ملنے والی سزا کے خوف سے، پابندی کرنا ممکن ہے۔ تاہم، کسی اصول کی پابندی کرنا ایسے رُجحان سے باز رکھے گا کیونکہ یہ اصولوں کا فطری وصف ہے کہ اُن کیلئے دل سے جوابیعمل دکھائیں۔ یوسف پر غور کریں جو کہ ہابل اور نوح کی طرح موسوی شریعت کے عہد سے پہلے کے دَور میں رہتا تھا۔ جب فوطیفار کی بیوی نے اُسے ورغلانے کی کوشش کی تو یوسف نے جواب دیا: ”مَیں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟“ جیہاں، یوسف اِس اصول سے واقف تھا کہ میاں بیوی ”ایک جسم“ ہیں۔—پیدایش ۲:۲۴؛ ۳۹:۹۔
آجکل دُنیا میں راست اُصولوں کا فقدان ہے۔ بداخلاقی اور تشدد اِسکی پسندیدہ روش ہے۔ اِس میں خطرہ یہ ہے کہ ایک مسیحی بھی، شاید خفیتہً، اِس جنکفوڈ—فلموں، ویڈیوز یا کتابوں—کو چکھنے کی آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ توپھر یہ قابلِتعریف ہوگا کہ ہم بھی یوسف کی طرح اصول کی بنیاد پر بُرائی کو رد کر دیں، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ آنے والی ”بڑی مصیبت“ میں خدا وفاداروں کو ہی بچائے گا۔ (متی ۲۴:۲۱) جیہاں، جیسے ہم جلوت میں ہیں اُس سے نہیں بلکہ جیسے ہم خلوت میں ہیں اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں ہماری باطنی انسانیت کیسی ہے۔—زبور ۱۱:۴؛ امثال ۱۵:۳۔
اگر ہم بائبل اصولوں کی راہنمائی میں چلتے ہیں تو ہم خدا کے قوانین میں فرضی نقص تلاش نہیں کرینگے اور نہ ہی ہم یہ جاننے کی کوشش کرینگے کہ کسی خاص قانون کو توڑے بغیر ہم کس حد تک جا سکتے ہیں۔ ایسی سوچ ہمیں شکستگی سے دوچار کرتی ہے اور بالآخر ہمارے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
قانون کی روح کو سمجھیں
بِلاشُبہ، قوانین ایک مسیحی کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ محافظوں کی مانند ہمارا تحفظ کرتے ہیں اور اِنکی تہہ میں بہت سے اہم اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ اِن اصولوں کو سمجھنے میں ناکامی شاید اِن قوانین کیلئے ہماری محبت کو ٹھنڈا کر دے۔ قدیم اسرائیلی قوم نے اِسکا مظاہرہ کِیا۔
خدا نے اسرائیل کو دس احکام دئے، جس میں شامل پہلے حکم نے اُنہیں یہوواہ کے علاوہ کسی بھی خدا کی پرستش کرنے سے منع کِیا۔ اِس قانون کے پیچھے بنیادی سچائی یہ ہے کہ یہوواہ نے تمام چیزوں کو خلق کِیا۔ (خروج ۲۰:۳-۵) لیکن کیا قوم اِس اصول کی پابند رہی؟ یہوواہ خود جواب دیتا ہے: ”[اسرائیلی] لکڑی سے کہتے ہیں کہ تُو میرا باپ ہے اور پتھر سے کہ تُو نے مجھے جنم دیا کیونکہ اُنہوں نے میری طرف مُنہ نہ کِیا بلکہ پیٹھ کی۔“ (یرمیاہ ۲:۲۷) کیا ہی غیراصولپسندانہ اور سنگدلانہ حماقت! علاوہازیں، اِس نے یہوواہ کے دل کو کتنی تکلیف پہنچائی!—زبور ۷۸:۴۰، ۴۱؛ یسعیاہ ۶۳:۹، ۱۰۔
خدا مسیحیوں کیلئے بھی قوانین رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، اُنہیں بتپرستی، جنسی بداخلاقی اور خون کے ناجائز استعمال سے گریز کرنا ہے۔ (اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹) جب آپ اِسکی بابت سوچتے ہیں تو ہم اِنکے پسِپردہ اصولوں کو دیکھ سکتے ہیں جیساکہ: خدا ہماری بِلاشرکتِغیرے پرستش کا حقدار ہے؛ ہمیں اپنے ساتھی کا وفادار ہونا چاہئے اور یہوواہ ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے۔ (پیدایش ۲:۲۴؛ خروج ۲۰:۵؛ زبور ۳۶:۹) اگر ہم اِن ہدایات کی پُشت پر موجود اصولوں کا فہم حاصل کرتے اور اُن کیلئے گہری قدردانی بھی دکھاتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ہمارے ہی فائدے کیلئے ہیں۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۷) ہمارے لئے، خدا کے ”حکم سخت نہیں۔“—۱-یوحنا ۵:۳۔
ایک وقت میں، اگرچہ اسرائیلیوں نے خدا کے احکام کو نظرانداز کر دیا، تو مسیح کے وقت میں، ”قوانین کے ماہر“ فقیہ دوسری انتہا پر چلے گئے۔ اُنہوں نے قواعدوضوابط اور روایات کا ایک انبار لگا دیا جس نے سچی پرستش کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی اور خدائی اصولوں کو مدفون کر دیا۔ (متی ۲۳:۲، اینایبی) لوگوں نے ناکامی، نااُمیدی، یا ریاکاری کو برداشت کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ (متی ۱۵:۳-۹) اِس کے علاوہ، بہت سے انسانساختہ قوانین غیرانسانی تھے۔ جب یسوع ایک ایسے آدمی کو شفا دینے والا تھا جسکا ہاتھ سوکھا ہوا تھا تو اُس نے وہاں موجود فریسیوں سے پوچھا: ”سبت کے دن نیکی کرنا روا ہے؟“ اُنکی خاموشی چیخچیخ کر اُنکے انکار کا اظہار کر رہی تھی اور یسوع ”اُنکی سختدلی کے سبب سے غمگین“ ہوا۔ (مرقس ۳:۱-۶) سبت کے دن فریسی ایک گمشُدہ یا زخمی پالتو جانور (مالی سرمایہکاری) کی مدد کیلئے تو شاید آ جاتے مگر ایک مرد یا ایک عورت کی مدد کیلئے ہرگز نہیں—جب تک کہ یہ زندگی اور موت کا معاملہ نہ ہوتا۔ وہ انسانساختہ قوانین اور تفصیلات میں یقیناً اُن چیونٹیوں کی مانند محو تھے جو ایک تصویر پر تیزی سے اِدھراُدھر رینگ رہی ہیں مگر پوری تصویر—خدائی اصولوں—کو سمجھ نہیں پاتیں۔—متی ۲۳:۲۳، ۲۴۔
تاہم، خلوصدل نوجوان بھی بائبل اصولوں کیلئے اپنی قدردانی کے ذریعے یہوواہ کی تعظیم کا سبب بن سکتے ہیں۔ ۱۳ سالہ ربقہ کی اُستانی نے پوچھا کہ کون جوا کھیلے گا۔ اکثریت نے انکار کِیا۔ تاہم، جب مختلف حالتوں کی نشاندہی کی گئی تو ربقہ کے علاوہ تمام نے اعتراف کِیا کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں جوا کھیلیں گے۔ اُستانی نے ربقہ سے پوچھا کہ کیا وہ ایک اہم مقصد کیلئے ۲۰ سینٹ کی ریفل ٹکٹ خریدے گی۔ ربقہ نے کہا کہ نہیں اور اِس کیلئے صحیفائی وجوہات پیش کیں کہ کیوں ایسا کرنا بھی جوئےبازی کی ایک قسم ہوگا۔ پھر اُس کی اُستانی نے پوری جماعت سے کہا: ’میری رائے میں، یہاں ربقہ ہی ایسی لڑکی ہے جوکہ واقعی درست مفہوم میں ”اصول پرست“ ہے۔‘ جیہاں، ربقہ صرف یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ ”یہ میرے مذہب کے خلاف ہے،“ لیکن اُس نے اِس سے زیادہ گہرائی میں سوچا؛ وہ بتا سکتی تھی کہ جوئےبازی کیوں غلط ہے اور اُس نے کیوں اِس میں حصہ لینے سے انکار کِیا ہے۔
ہابل، نوح، یوسف اور یسوع کے نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کسطرح یہوواہ کی پرستش میں اپنی ”تمیز“ اور ”معقولیت“ سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ (امثال ۲:۱۱؛ رومیوں ۱۲:۱) مسیحی بزرگ جب ”خدا کے اُس گلّہ کی گلّہبانی [کرتے ہیں] جو [اُن] میں ہے“ تو وہ یسوع کے نمونے کی پیروی کر کے اچھا کرتے ہیں۔ (۱-پطرس ۵:۲) جیساکہ یسوع نے واضح طور پر ظاہر کِیا، خدائی اصولوں سے محبت رکھنے والے ہی یہوواہ کی حاکمیت میں پھلتےپھولتے ہیں۔—یسعیاہ ۶۵:۱۴۔