یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏11 ص.‏ 23-‏27
  • دُنیا میں مگر اِس کا حصہ نہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دُنیا میں مگر اِس کا حصہ نہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • عالمی طاقتوں کا بڑھنا
  • خدا کی بادشاہت کی آنے والی حکمرانی
  • ‏”‏حیوان“‏ کے ”‏نشان“‏ سے بچنا
  • ‏”‏حیوان“‏ اور ”‏قیصر“‏
  • فرض‌شناس شہری
  • مسیحی آخری ایّام میں غیرجانبدار رہتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • خدا اور قیصر
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • مکاشفہ کی کتاب میں خدا کے دُشمنوں کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • حیوان اور اُسکی چھاپ کی شناخت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2004ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏11 ص.‏ 23-‏27

دُنیا میں مگر اِس کا حصہ نہیں

‏”‏چونکہ تم دُنیا کے نہیں .‏ .‏ .‏ اس واسطے دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے۔“‏—‏یوحنا ۱۵:‏۱۹‏۔‏

۱.‏ مسیحیوں کا دُنیا کیساتھ کیا رشتہ ہے لیکن دُنیا اُنہیں کیسا خیال کرتی ہے؟‏

اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنی آخری رات، یسوع نے اُنہیں بتایا:‏ ”‏تم دُنیا کے نہیں۔“‏ وہ کس دُنیا کی بات کر رہا تھا؟ کیا اُس نے پہلے ایک دوسرے موقع پر یہ نہیں کہا تھا:‏ ”‏خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشدیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے“‏؟ (‏یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ واضح طور پر شاگرد اُس دُنیا کا حصہ تھے کیونکہ وہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے یسوع پر ایمان لائے تھے۔ تاہم، اب یسوع یہ کیوں کہتا ہے کہ اُسکے شاگرد دُنیا سے علیٰحدہ تھے؟ نیز اُس نے یہ بھی کیوں کہا:‏ ”‏چونکہ تم دُنیا کے نہیں .‏ .‏ .‏ اس واسطے دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے“‏؟—‏یوحنا ۱۵:‏۱۹‏۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ مسیحیوں کو کس ”‏دُنیا“‏ کا حصہ نہیں ہونا تھا؟ (‏ب)‏ بائبل ”‏دُنیا“‏ کی بابت کیا کہتی ہے جسکا مسیحیوں کو حصہ نہیں ہونا ہے؟‏

۲ جواب یہ ہے کہ بائبل لفظ ”‏دُنیا“‏ (‏یونانی، کوسموس)‏ کو مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہے۔ جیساکہ پچھلے مضمون میں وضاحت کی گئی تھی، بعض‌اوقات بائبل میں ”‏دُنیا“‏ عام نوعِ‌انسان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ وہ دُنیا ہے جس سے خدا نے محبت رکھی اور جس کے لئے یسوع نے جان دی۔ تاہم، دی آکسفورڈ ہسٹری آف کرسچینٹی بیان کرتی ہے:‏ ”‏مسیحی طریقِ‌استعمال میں ’‏دُنیا‘‏ ایک ایسی اصطلا‌ح بھی ہے جو خدا سے بیگانی اور اُس کے مخالف چیز کے لئے ہے۔“‏ یہ بات کسقدر سچ ہے؟ کیتھولک مصنف رولنڈ منرتھ اپنی کتاب لا کریتیاں اے لی مونڈ (‏مسیحی اور دُنیا)‏ میں وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏منفی مفہوم میں، دُنیا سے مُراد ایسی عملداری ہے جہاں خدا کے مخالف طاقتیں اپنی کارگزاری کو عمل میں لاتی ہیں اور جو مسیح کی فاتح حکمرانی کے لئے اپنی مخالفت سے شیطان کے زیرِتسلط ایک دشمن سلطنت کو تشکیل دیتی ہے۔“‏ یہ ”‏دُنیا“‏ انسانوں کا انبوہ ہے جو خدا سے بیگانہ ہے۔ سچے مسیحی اس دُنیا کا حصہ نہیں اس لئے یہ اُن سے عداوت رکھتی ہے۔‏

۳ پہلی صدی کے اختتام پر، یوحنا کے ذہن میں یہ بات تھی جب اُس نے لکھا:‏ ”‏نہ دُنیا سے محبت رکھو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ جو کوئی دُنیا سے محبت رکھتا ہے اُس میں باپ کی محبت نہیں۔ کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵، ۱۶‏)‏ اُس نے مزید لکھا:‏ ”‏ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں اور ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ یسوع نے خود شیطان کو ”‏دُنیا کا سردار“‏ کہا تھا۔—‏یوحنا ۱۲:‏۳۱؛‏ ۱۶:‏۱۱‏۔‏

عالمی طاقتوں کا بڑھنا

۴.‏ عالمی طاقتیں کیسے وجود میں آئیں؟‏

۴ خدا سے بیگانہ نوعِ‌انسان کی موجودہ دُنیا طوفانِ‌نوح کے زمانہ کے تھوڑی دیر بعد بڑھنا شروع ہوئی جب نوح کی اولاد میں سے بہتیروں نے یہوواہ کی پرستش کرنا ترک کر دیا تھا۔ اُن ابتدائی دنوں میں نمرود ایک ممتاز ہستی تھا جو ایک شہر کا معمار اور ”‏خداوند کے سامنے .‏ .‏ .‏ ایک شکاری سورما“‏ تھا۔ (‏پیدایش ۱۰:‏۸-‏۱۲‏)‏ اُس زمانے میں یہ دُنیا چھوٹی‌چھوٹی کشوری سلطنتوں کی صورت میں آباد تھی جو وقتاًفوقتاً باہمی الحاق سے ایک دوسرے کیخلاف جنگ کرتی تھیں۔ (‏پیدایش ۱۴:‏۱-‏۹‏)‏ بعض کشوری سلطنتیں دیگر کو شکست دے کر علاقائی طاقتیں بن جاتی تھیں۔ بعض علاقائی طاقتیں بالآخر عظیم عالمی طاقتیں بن گئیں۔‏

۵، ۶.‏ (‏ا)‏ بائبل تاریخ کی سات عالمی طاقتیں کونسی ہیں؟ (‏ب)‏ ان عالمی طاقتوں کو کس چیز سے علامت دی گئی ہے اور وہ اپنا اختیار کہاں سے حاصل کرتی ہیں؟‏

۵ نمرود کے نمونے کی پیروی میں، عالمی طاقتوں کے حکمرانوں نے یہوواہ کی پرستش نہ کی، ایسی حقیقت جو اُنکی سفاکی، متشدّد کاموں سے عیاں تھی۔ صحائف میں جنگلی حیوانوں سے ان عالمی طاقتوں کی علامت پیش کی گئی ہے اور صدیوں کے دوران، بائبل ان میں سے چھ کی شناخت کراتی ہے جو یہوواہ کے لوگوں پر زبردست اثر رکھتی تھیں۔ یہ مصر، اسور، بابل، مادی‌فارس، یونان اور روم تھیں۔ روم کے بعد ایک ساتویں عالمی طاقت کے منظرِعام پر آنے کی پیشینگوئی کی گئی تھی۔ (‏دانی‌ایل ۷:‏۳-‏۷؛‏ ۸:‏۳-‏۷،‏ ۲۰، ۲۱؛‏ مکاشفہ ۱۷:‏۹، ۱۰‏)‏ یہ اینگلو-‏امریکن عالمی طاقت ثابت ہوئی جو برطانیہ کی سلطنت اور اسکی حلیف ریاستہائے‌متحدہ پر مشتمل تھی جس نے برطانیہ کی طاقت کو ماند کر دیا۔ برطانیہ کی سلطنت روم کی سلطنت کی مکمل تباہی کے بعد بڑھنا شروع ہوئی۔‏a

۶ مکاشفہ کی کتاب میں ان ساتوں سلسلہ‌وار عالمی طاقتوں کو سات سروں والے جنگلی حیوان کے سروں سے تشبِیہ دی گئی ہے جو انسانوں کے متلاطم سمندر سے نکلتا ہے۔ (‏یسعیاہ ۱۷:‏۱۲، ۱۳؛‏ ۵۷:‏۲۰، ۲۱؛‏ مکاشفہ ۱۳:‏۱‏)‏ اس حکمران حیوان کو اختیار کون دیتا ہے؟ بائبل جواب دیتی ہے:‏ ”‏اژدہا نے اپنی قدرت اور اپنا تخت اور بڑا اختیار اُسے دے دیا۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۳:‏۲‏)‏ اژدہا شیطان ابلیس کے سوا اَور کوئی نہیں۔—‏لوقا ۴:‏۵، ۶؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۹‏۔‏

خدا کی بادشاہت کی آنے والی حکمرانی

۷.‏ مسیحیوں کی اُمید کس پر ہے اور یہ دُنیا کی حکومتوں کے ساتھ اُن کے رشتے پر کیسے اثر ڈالتا ہے؟‏

۷ تقریباً ۲۰۰۰ سال سے، مسیحی دُعا کرتے رہے ہیں:‏ ”‏تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ (‏متی ۶:‏۱۰‏)‏ یہوواہ کے گواہ جانتے ہیں کہ صرف خدا کی بادشاہت زمین پر حقیقی امن لا سکتی ہے۔ بائبل پیشینگوئی کے مستعد طالبعلموں کی حیثیت سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جلد ہی اس دُعا کا جواب ملیگا اور یہ کہ تھوڑی ہی دیر میں بادشاہت زمین کے معاملات کا اختیار سنبھال لیگی۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ اس بادشاہت کیلئے اُنکی حمایت اُنہیں دُنیا کی حکومتوں کے معاملات کے سلسلے میں غیرجانبدار رہنے کی تحریک دیتی ہے۔‏

۸.‏ زبور ۲ کی پیشینگوئی کے مطابق، حکومتیں خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کیلئے کیسا ردِعمل دکھاتی ہیں؟‏

۸ بعض قومیں مذہبی اصولوں کی پابندی کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ لیکن، عملاً وہ اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتی ہیں کہ یہوواہ کائنات کا حاکمِ‌اعلیٰ ہے اور اُس نے یسوع کو زمین کا اختیار سونپ کر آسمانی بادشاہ کے طور پر تخت‌نشین کِیا ہے۔ (‏دانی‌ایل ۴:‏۱۷؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۱۵‏)‏ ایک نبوّتی مزمور بیان کرتا ہے:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوؔواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اور اُس کے مسیح [‏یسوؔع]‏ کے خلاف زمین کے بادشاہ صف‌آرائی کر کے اور حاکم آپس میں مشورہ کرکے کہتے ہیں آؤ ہم اُن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اُن کی رسیاں اپنے اُوپر سے اُتار پھینکیں۔“‏ (‏زبور ۲:‏۲، ۳‏)‏ حکومتیں الہٰی ”‏بندھن“‏ یا ”‏رسیاں“‏ قبول نہیں کرتیں جو قومی حاکمیت کو عمل میں لانے کے اُن کے اختیار کو محدود کر دینگی۔ لہٰذا، یہوواہ اپنے منتخب بادشاہ یسوع سے کہتا ہے:‏ ”‏مجھ سے مانگ اور مَیں قوموں کو تیری میراث کے لئے اور زمین کے انتہائی حصے تیری ملکیت کے لئے تجھے بخشونگا۔ تُو اُنکو لوہے کے عصا سے توڑیگا۔ کمہار کے برتن کی طرح تُو اُن کو چکناچُور کر ڈالیگا۔“‏ (‏زبور ۲:‏۸، ۹‏)‏ تاہم، نوعِ‌انسان کی دُنیا جس کے لئے یسوع نے جان دی مکمل طور پر ’‏ختم‘‏ نہیں ہو گی۔—‏یوحنا ۳:‏۱۷‏۔‏

‏”‏حیوان“‏ کے ”‏نشان“‏ سے بچنا

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ مکاشفہ کی کتاب میں ہمیں کس چیز سے آگاہ کِیا گیا ہے؟ (‏ب)‏ ’‏حیوان کا نشان‘‏ پہننے کو کس چیز سے علامت دی گئی ہے؟ (‏پ)‏ خدا کے خادم کونسے نشان حاصل کرتے ہیں؟‏

۹ یوحنا رسول کو جو مکاشفہ ملا اُس میں یہ آگاہی دی گئی تھی کہ خدا سے بیگانہ نوعِ‌انسان کی دُنیا اپنے خاتمے سے پہلے بہت سے مطالبات کرے گی اور ”‏سب چھوٹے بڑوں دَولتمندوں اور غریبوں۔ آزادوں اور غلاموں کے دہنے ہاتھ یا اُن کے ماتھے پر ایک ایک چھاپ کرا دی“‏ جائیگی۔ ”‏تاکہ اُس کے سوا جس پر نشان .‏ .‏ .‏ ہو اَور کوئی خریدوفروخت نہ کر سکے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ اس کا کیا مطلب ہے؟ داہنے ہاتھ پر نشان فعال حمایت کی موزوں علامت ہے۔ ماتھے پر نشان سے کیا مُراد ہے؟ دی ایکسپوزیٹرز گریک ٹسٹامنٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏یہ سپاہیوں اور غلاموں کو واضح چھاپ یا مہر سے داغنے کے رواج کی طرف .‏ .‏ .‏ یا پھر زیادہ درست مفہوم میں کسی معبود کے نام کا تعویذ پہننے کی مذہبی رسم کی طرف علامتی طور پر اشارہ کرتا ہے۔“‏ بہتیرے انسان اپنے قول‌وفعل سے علامتی مفہوم میں اس نشان کو پہن لیتے ہیں جس سے ”‏حیوان“‏ کے ”‏غلاموں“‏ یا ”‏سپاہیوں“‏ کے طور پر اپنی شناخت کراتے ہیں۔ (‏مکاشفہ ۱۳:‏۳، ۴‏)‏ اُن کے مستقبل کی بابت تھیولاجیکل ڈکشنری آف دی نیو ٹسٹامنٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏خدا کے دشمن حیوان کے [‏نشان]‏، اُسکے نام پر مشتمل پُراسرار عدد کو اپنے ماتھے اور ایک ہاتھ پر داغنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس سے اُنہیں معاشی اور تجارتی ترقی کے بہت سے مواقع حاصل ہوتے ہیں مگر خدا کے قہر کی زد میں آ جاتے ہیں اور ہزارسالہ بادشاہت سے خارج ہو جاتے ہیں، مکاشفہ ۱۳:‏۱۶؛‏ ۱۴:‏۹؛‏ ۲۰:‏۴‏۔“‏

۱۰ ”‏نشان“‏ لگوانے کے دباؤ کی مزاحمت کرنے کے لئے بلند حوصلے اور برداشت کی ضرورت ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۹-‏۱۲‏)‏ خدا کے خادموں میں ایسی قوت ہے اسی لئے اُن سے اکثر عداوت رکھی جاتی ہے اور اُن پر بہتان باندھے جاتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۸-‏۲۰؛‏ ۱۷:‏۱۴، ۱۵‏)‏ حیوان کا نشان اپنے اُوپر لینے کی بجائے، یسعیاہ نے کہا کہ وہ علامتی طور پر اپنے ہاتھ پر لکھیں گے، ”‏یہوواہ کی ملکیت۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۴:‏۵‏، این‌ڈبلیو)‏ مزیدبرآں، چونکہ وہ برگشتہ مذہب کی طرف سے کئے جانے والے کاموں کے باعث ’‏روتے اور کراہتے‘‏ ہیں اسلئے اُن کے ماتھے پر ایک نشان لگایا جاتا ہے جس سے اُن کی شناخت ایسے لوگوں کے طور پر ہوتی ہے جو یہوواہ کے عدالتی فیصلوں کے نفاذ کے وقت بچنے کے لائق ہونگے۔—‏حزقی‌ایل ۹:‏۱-‏۷۔‏

۱۱.‏ جب تک خدا کی بادشاہت زمین کی حکمرانی کا اختیار نہیں سنبھال لیتی کون انسانی حکومتوں کی اجازت دیتا ہے؟‏

۱۱ جب تک مسیح کی آسمانی بادشاہت اس زمین پر حکمرانی کا مکمل اختیار نہیں سنبھال لیتی اُس وقت تک خدا انسانی حکومتوں کو حکمرانی کی اجازت دیتا ہے۔ پروفیسر آسکر کولمین نے اپنی کتاب دی سٹیٹ اِن دی نیو ٹسٹامنٹ میں سیاسی ریاستوں کے لئے اس الہٰی اجازت کا حوالہ دیا۔ وہ لکھتا ہے:‏ ”‏حکومت کی ’‏عارضی‘‏ نوعیت کے پیچیدہ نظریے کی وجہ سے ہی حکومت کی بابت پہلے مسیحیوں کا رویہ ایک جیسا نہیں تھا بلکہ متضاد معلوم ہوتا ہے۔ مَیں اس بات پر مُصر ہوں کہ یہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ ہمیں صرف رومیوں ۱۳:‏۱‏، ’‏ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے .‏ .‏ .‏‘‏ کے ساتھ مکاشفہ ۱۳‏:‏ حکومت کا اتھاہ گڑھے کے حیوان کے طور پر ذکر کرنے کی ضرورت ہے۔“‏

‏”‏حیوان“‏ اور ”‏قیصر“‏

۱۲.‏ یہوواہ کے گواہ انسانی حکومتوں کی بابت کیا متوازن نقطۂ‌نظر رکھتے ہیں؟‏

۱۲ یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگا کہ حکومتی اختیار کے مالک تمام انسان شیطان کے آلۂ‌کار ہونگے۔ بہتیرے بااصول اشخاص ثابت ہوئے ہیں جیسے‌کہ صوبہ‌دار سرگیسؔ پولس جسکی بابت بائبل میں بیان کِیا گیا ہے کہ وہ ”‏صاحبِ‌تمیز آدمی“‏ تھا۔ (‏اعمال ۱۳:‏۷‏)‏ بعض حکمرانوں نے اپنے خداداد ضمیر سے تحریک پاکر بڑی دلیری سے اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کِیا ہے اگرچہ وہ یہوواہ اور اُسکے مقاصد کو جانتے تک نہیں تھے۔ (‏رومیوں ۲:‏۱۴، ۱۵‏)‏ یاد رکھیں، بائبل لفظ ”‏دُنیا“‏ کو دو مختلف طریقوں سے استعمال کرتی ہے:‏ نوعِ‌انسان کی دُنیا جس سے خدا محبت کرتا ہے اور ہمیں محبت کرنی چاہئے، نیز یہوواہ سے بیگانہ نوعِ‌انسان کی دُنیا جسکا خدا شیطان ہے اور جس سے ہمیں علیٰحدہ رہنا چاہئے۔ (‏یوحنا ۱:‏۹، ۱۰؛‏ ۱۷:‏۱۴؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴؛‏ یعقوب ۴:‏۴‏)‏ لہٰذا، یہوواہ کے خادم انسانی حکمرانی کی بابت متوازن رویہ رکھتے ہیں۔ ہم سیاسی معاملات میں غیرجانبدار رہتے ہیں کیونکہ ہم خدا کی بادشاہت کے سفیر یا ایلچیوں کے طور پر خدمت سرانجام دیتے ہیں اور ہماری زندگیاں خدا کیلئے مخصوص ہیں۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۲۰‏)‏ اس کیساتھ ہی ساتھ، ہم اربابِ‌اختیار کی فرض‌شناس اطاعت میں بھی ہیں۔‏

۱۳.‏ (‏ا)‏ یہوواہ انسانی حکومتوں کو کیسا خیال کرتا ہے؟ (‏ب)‏ انسانی حکومتوں کیلئے مسیحیوں کی اطاعت کس حد تک ہے؟‏

۱۳ یہ متوازن نظریہ خود یہوواہ خدا کے نقطۂ‌نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ جب عالمی طاقتیں یا چھوٹی ریاستیں اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتی، اپنے لوگوں پر ظلم‌وستم ڈھاتی یا خدا کے پرستاروں کو اذیت پہنچاتی ہیں تو وہ یقیناً اپنی بابت اس نبوّتی بیان پر پوری اُترتی ہیں کہ وہ ہولناک حیوان ہیں۔ (‏دانی‌ایل ۷:‏۱۹-‏۲۱؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۷‏)‏ تاہم، جب قومی حکومتیں انصاف سے امن‌وامان قائم رکھنے میں خدا کے مقصد کو پورا کرتی ہیں تو وہ انہیں اپنا ”‏خادم“‏ سمجھتا ہے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۶‏)‏ یہوواہ اپنے لوگوں سے توقع کرتا ہے کہ وہ انسانی حکومتوں کا احترام اور اُنکی اطاعت کریں لیکن اُنکی اطاعت غیرمحدود نہیں۔ جب انسان خدا کے خادموں سے ایسے کام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں جو خدا کے قانون کے مطابق ممنوع ہیں یا جب وہ ایسے کام کرنے سے منع کریں جو خدا اپنے خادموں سے کرانا چاہتا ہے تو مؤخرالذکر حالت کا نتیجہ وہی موقف ہوتا ہے جو رسولوں نے اپنایا تھا:‏ ”‏ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“‏—‏اعمال ۵:‏۲۹‏۔‏

۱۴.‏ انسانی حکومتوں کیلئے مسیحی اطاعت کی وضاحت کیسے کی یسوع نے؟ پولس نے؟‏

۱۴ جب یسوع نے یہ کہا کہ ”‏جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو“‏ تو اُس نے یہ واضح کِیا کہ اُسکے پیروکاروں کو حکومتوں اور خدا دونوں کیلئے فرائض کو پورا کرنا ہوگا۔ (‏متی ۲۲:‏۲۱‏)‏ پولس رسول نے الہام سے تحریر کِیا:‏ ”‏ہر شخص اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار رہے .‏ .‏ .‏ لیکن اگر تُو بدی کرے تو ڈر کیونکہ وہ تلوار بے‌فائدہ لئے ہوئے نہیں اور خدا کا خادم ہے کہ اُسکے غضب کے موافق بدکار کو سزا دیتا ہے۔ پس تابعدار رہنا نہ صرف غضب کے ڈر سے ضرور ہے بلکہ دل بھی یہی گواہی دیتا ہے۔ تم اسی لئے خراج بھی دیتے ہو۔“‏ (‏رومیوں ۱۳:‏۱،‏ ۴-‏۶‏)‏ پہلی صدی س.‏ع.‏ سے لیکر آج تک، مسیحیوں کو حکومت کے مطالبات پر غور کرنا پڑا ہے۔ اُنہیں اس بات پر سوچ‌بچار کرنے کی ضرورت رہی ہے کہ آیا ان مطالبات کو پورا کرنا اپنی پرستش سے مصالحت کرنے کا باعث بنیگا یا آیا ایسے مطالبات جائز ہیں اور اسلئے فرض‌شناسی سے پورے کئے جانے چاہئیں۔‏

فرض‌شناس شہری

۱۵.‏ یہوواہ کے گواہوں پر جو واجب ہے اُسے وہ کیسے فرض‌شناسی کیساتھ قیصر کو ادا کرتے ہیں؟‏

۱۵ سیاسی ”‏اعلیٰ حکومتیں“‏ اُس وقت خدا کی ”‏خادم“‏ ہوتی ہیں جب وہ خدا کی پسند کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہیں جس میں ”‏بدکاروں کی سزا اور نیکوکاروں کی تعریف کے لئے“‏ اختیار کو استعمال کرنا شامل ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۳، ۱۴‏)‏ قیصر خراج کی صورت میں جو بھی جائز تقاضے کرتا ہے یہوواہ کے خادم اُنکو فرض‌شناسی سے پورا کرتے ہیں اور جہاں تک اُنکا بائبل سے تربیت‌یافتہ ضمیر اُنہیں اجازت دیتا ہے وہ ”‏حاکموں اور اختیار والوں کے تابع .‏ .‏ .‏ ہر نیک کام کے لئے مستعد“‏ رہتے ہیں۔ (‏ططس ۳:‏۱‏)‏ ”‏نیک کام“‏ میں دوسروں کی مدد کرنا شامل ہے بالخصوص جب کوئی مصیبت آن پڑے۔ ایسی حالتوں میں یہوواہ کے گواہوں نے ساتھی انسانوں کیلئے جس شفقت کا مظاہرہ کِیا بہتیروں نے اُسکی تصدیق کی ہے۔—‏گلتیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

۱۶.‏ یہوواہ کے گواہ حکومتوں اور ساتھی انسانوں کیلئے کونسے نیک کام فرض‌شناسی سے سرانجام دیتے ہیں؟‏

۱۶ یہوواہ کے گواہ اپنے ساتھی انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ سب سے بڑی نیکی جو وہ اُن کیساتھ کر سکتے ہیں وہ راست ”‏نئے آسمان اور نئی زمین“‏ قائم کرنے کے خدا کے مقصد کی بابت صحیح علم حاصل کرنے میں اُنکی مدد کرنا ہے۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ بائبل کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی تعلیم دینے اور اُن پر عمل کرنے سے، بہتیرے لوگوں کو جُرم کرنے سے بچانے سے، وہ انسانی معاشرے کا اثاثہ ہیں۔ یہوواہ کے خادم قانون کی پابندی کرتے ہیں اور ’‏جنکی عزت کرنی چاہئے‘‏ اُنکی عزت کرتے ہوئے حکومتی خادموں، اہلکاروں، قاضیوں اور شہری حکام کیلئے احترام دکھاتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۷‏)‏ گواہ والدین بصد شوق اپنے بچوں کے سکول کے اساتذہ سے تعاون کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی اچھی طرح پڑھائی کرنے میں مدد کرتے ہیں تاکہ بعد میں وہ روزی کمانے کے قابل ہوں اور معاشرے پر بوجھ نہ بنیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۱، ۱۲‏)‏ اپنی کلیسیاؤں میں، گواہ نسلی تعصّب اور طبقاتی امتیاز کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ خاندانی زندگی کو مضبوط بنانے پر بہت زور دیتے ہیں۔ (‏اعمال ۱۰:‏۳۴، ۳۵؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۸-‏۲۱‏)‏ اسلئے، اپنے اعمال سے، وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن پر لگائے گئے خاندان دشمن یا معاشرے کیلئے بیکار ہونے کے الزامات جھوٹے ہیں۔ پس، پطرس رسول کے الفاظ سچ ثابت ہوتے ہیں:‏ ”‏خدا کی یہ مرضی ہے کہ تم نیکی کر کے نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔“‏—‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۵‏۔‏

۱۷.‏ مسیحی کیسے ”‏باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ“‏ کر سکتے ہیں؟‏

۱۷ پس مسیح کے اصلی پیروکار اگرچہ ”‏دُنیا کے نہیں،“‏ پھربھی وہ انسانی معاشرے کی دُنیا میں ہیں اور اُنہیں ”‏باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ“‏ کرنا ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۶؛‏ کلسیوں ۴:‏۵‏)‏ جب تک یہوواہ اعلیٰ حکومتوں کو اپنے خادم کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے ہم اُن کیلئے مناسب احترام دکھائیں گے۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱-‏۴‏)‏ سیاست کے معاملے میں غیرجانبدار رہتے ہوئے، ”‏بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں“‏ کے واسطے دُعا کرتے ہیں بالخصوص اُس وقت جب اُنہیں پرستش کی آزادی پر اثرانداز ہونے والے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ہم ”‏کمال دینداری اور سنجیدگی سے امن‌وآرام کے ساتھ زندگی“‏ گزارتے رہینگے تاکہ ’‏سب آدمی نجات پائیں۔‘‏—‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۱-‏۴‏۔‏

‎]فٹ نوٹس[‎

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب ریولیشن—‏اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!‏ کے باب ۳۵ کو دیکھیں۔‏

اعادے کے سوالات

◻مسیحی کس ”‏دُنیا“‏ کا حصہ ہیں مگر وہ کس ”‏دُنیا“‏ کا حصہ نہیں ہو سکتے؟‏

◻کسی شخص کے ہاتھ یا ماتھے پر ”‏حیوان“‏ کے ”‏نشان“‏ کو کس چیز سے علامت دی گئی ہے اور یہوواہ کے وفادار خادم کونسے نشان رکھتے ہیں؟‏

◻سچے مسیحی انسانی حکومتوں کی بابت کونسا متوازن نقطۂ‌نظر رکھتے ہیں؟‏

◻بعض طریقے کونسے ہیں جن سے یہوواہ کے گواہ انسانی معاشرے کی فلاح کیلئے مددگار ثابت ہوتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 25 پر تصویریں]‏

بائبل انسانی حکومتوں کی شناخت خدا کے خادم اور جنگلی حیوان دونوں کے طور پر کراتی ہے

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

دوسروں کے لئے پُرمحبت فکر دکھانے کے باعث یہوواہ کے گواہ اپنے علاقوں کا اثاثہ ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں