یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏11 ص.‏ 30
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ملتا جلتا مواد
  • یسوع کی آمد یا یسوع کی موجودگی—‏کیا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏11 ص.‏ 30

سوالات از قارئین

کیا متی کے عبرانی متن میں پائے جانے والے ٹیٹراگریمٹن (‏خدا کے نام کے چار عبرانی حروف)‏ کی ۱۴ویں صدی کے یہودی طبیب شم‌طوب بن آئزک ابنِ شاپرت نے نقل کی تھی؟‏

جی‌نہیں، ایسا نہیں ہے۔ تاہم، متی کا یہ متن لفظ ہاش شم (‏لکھا ہوا یا مخفف)‏ ۱۹ مرتبہ ضرور استعمال کرتا ہے جیساکہ مینارِنگہبانی اکتوبر ۱۹۹۶ کے صفحہ ۱۰ پر ظاہر کِیا گیا ہے۔‏

عبرانی لفظ ہاش شم کا مطلب ہے ”‏ایک نام“‏ جو یقیناً الہٰی نام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، شم‌طوب کے متن میں، ہاش شم کا مخفف متی ۳:‏۳ میں نظر آتا ہے، ایک ایسا اقتباس جس میں متی نے یسعیاہ ۴۰:‏۳ کا حوالہ دیا تھا۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا معقول بات ہے کہ جب متی نے عبرانی صحائف سے اس آیت کا حوالہ دیا جہاں ٹیٹراگریمٹن پایا جاتا ہے تو اُس نے اپنی انجیل میں الہٰی نام ہی کو استعمال کِیا تھا۔ لہٰذا شم‌طوب کا پیش‌کردہ عبرانی متن اگرچہ ٹیٹراگریمٹن تو استعمال نہیں کرتا مگر اس میں ”‏ایک نام“‏ کا استعمال جیسے‌کہ متی ۳:‏۳ میں کِیا گیا ہے، مسیحی یونانی صحائف میں ”‏یہوؔواہ“‏ کے استعمال کی حمایت کرتا ہے۔‏

شم‌طوب نے اپنی مناظراتی کتاب ایوَین بوکن میں متی کے عبرانی متن کی نقل کی تھی۔ لیکن، اُس عبرانی متن کا ماخذ کیا تھا؟ پروفیسر جارج ہاورڈ، جس نے اس معاملے میں بڑی وسیع تحقیق کی، خیال پیش کرتا ہے کہ ”‏شم‌طوب کی عبرانی متی کی انجیل کی تاریخ مسیحی سنِ‌عام کی پہلی چار صدیوں کے کسی وقت ہی کی ہے۔“‏a دیگر اُس سے اس بات پر شاید متفق نہ ہوں۔‏

ہاورڈ بیان کرتا ہے:‏ ”‏اس متن میں استعمال ہونے والی عبرانی متی کی انجیل الہامی کُتب کی فہرست میں شامل یونانی متی کی انجیل سے بالخصوص بہت فرق ہے۔“‏ مثال کے طور پر، شم‌طوب کے متن کے مطابق، یسوع نے یوحنا کی بابت کہا:‏ ”‏مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوؔحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔“‏ یہ یسوع کے اگلے الفاظ کو تحریر نہیں کرتا:‏ ”‏لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔“‏ (‏متی ۱۱:‏۱۱‏)‏ اسی طرح، عبرانی صحائف کے ابھی تک موجود عبرانی متن اور یونانی سپتواُجنتا ورشن کے مماثل متن کے الفاظ میں بہت سے افراق ہیں۔ اگرچہ ہم ان کے افراق کو تسلیم کرتے ہیں تو بھی ایسے قدیمی متن تقابلی مطالعے میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔‏

جیسے‌کہ بیان کِیا گیا ہے کہ متی کے شم‌طوب کے متن میں ایسے مقامات پر ”‏ایک نام“‏ پایا جاتا ہے جہاں اس بات کو ماننے کی معقول وجہ ہے کہ متی نے درحقیقت ٹیٹراگریمٹن کو استعمال کِیا تھا۔ لہٰذا، ۱۹۵۰ سے لیکر، مسیحی یونانی صحائف میں الہٰی نام کو استعمال کرنے کی حمایت کیلئے شم‌طوب کے متن کو استعمال کِیا گیا ہے اور آج بھی دی نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز—‏وِد ریفرنسز میں اس کا حوالہ ملتا ہے۔‏b

‎]فٹ‌نوٹس[‎

a نیو ٹسٹامنٹ سٹڈیز، جِلد ۴۳، نمبر ۱، جنوری ۱۹۹۷، صفحات ۵۸-‏۷۱ کو بھی دیکھیں۔‏

b ۱۹۸۴ میں واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں