یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏10 ص.‏ 3-‏4
  • کیا آپ ایک شخصی خدا پر یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ ایک شخصی خدا پر یقین رکھ سکتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُکھ‌درد اور شخصی خدا
  • شخصی خدا یہوواہ کو جانیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • خدا نے سب چیزیں بنائی ہیں
    عظیم اُستاد سے سیکھیں
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏10 ص.‏ 3-‏4

کیا آپ ایک شخصی خدا پر یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

‏”‏مسیحی ہونے کیلئے آپکو خدا پر یقین رکھنے کی ضرورت نہیں .‏ .‏ .‏ اب ہم ایک انقلاب کا حصہ ہیں مگر ۲۱ویں صدی میں چرچ روایتی مفہوم میں خدا کے بغیر ہوگا،“‏ برطانوی یونیورسٹی کے گرجے کے ایک سینیئر پادری نے وضاحت کی۔ وہ سی آف فیتھ تحریک کی طرف سے بات کر رہا تھا جسکی تائید کم‌ازکم ایک سو برطانوی پادری کرتے ہیں۔ یہ ”‏مسیحی دہریے“‏ وثوق سے کہتے ہیں کہ مذہب انسانوں کی اختراع ہے اور جیساکہ ایک رُکن بیان کرتا ہے کہ خدا محض ”‏ایک خیال“‏ ہے۔ ایک مافوق‌الفطرت خدا اب اُن کے اندازِفکر کے مطابق نہیں ہے۔‏

‏”‏خدا مُردہ ہے“‏ ۱۹۶۰ کے دہوں میں یہ ایک عام نعرہ تھا۔ اُس نے ۱۹ویں صدی کے جرمن فلسفی فریڈرک نچ کے نظریات کی عکاسی کی اور اِس نے بہت سے نوجوان لوگوں کو اپنی پسند کے کام کرنے جیسے‌کہ کسی اخلاقی پابندی کے بغیر اباحتی محبت اور منشیات کے غلط استعمال سے لطف اُٹھانے کا عذر مہیا کِیا۔ لیکن کیا ایسی آزادی اِن نونہالوں [‏ہپیوں]‏، جس نام سے وہ مشہور ہو گئے، کیلئے خوشیوں سے معمور ایک زیادہ اطمینان‌بخش زندگی پر منتج ہوئی؟‏

اُسی دہے کے دوران، اینگلیکن بشپ جان اے ٹی روبن‌سن نے اپنی متنازعہ کتاب اونیسٹ ٹو گاڈ شائع کی۔ اُس کے پیشتر ساتھی پادریوں نے اُسکی اِس سوچ پر اُسے بڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ خدا ”‏ انسانی تجربے کی گہرائی کے ایک پہلو سے زیادہ کچھ نہیں۔“‏ تھیالوجی کے پروفیسر کیتھ وارڈ نے استفسار کِیا:‏ ”‏کیا خدا پر اعتقاد کوئی ایسی دقیانوسی ضعیف‌الاعتقادی ہے جسے اب دانشوروں نے ردّ کر دیا ہے؟“‏ اپنے سوال کا خود جواب دیتے ہوئے، اُس نے کہا:‏ ”‏آجکل مذہب میں خدا کی بابت روایتی تصور کے علم کی بازیابی سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں ہے۔“‏

دُکھ‌درد اور شخصی خدا

شخصی خدا پر یقین رکھنے والے بہتیرے لوگ اپنے یقین اور اُن تکالیف اور حادثوں کے مابین کسی معقول تعلق کو قائم کرنا مشکل پاتے ہیں جنکا وہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مارچ ۱۹۹۶ میں، ڈبلن، سکاٹ‌لینڈ میں ۱۶ چھوٹے بچوں کو اُن کی اُستانی سمیت فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا۔ ایک غصے سے پاگل خاتون نے کہا:‏ ”‏مجھے خدا کی مرضی کی سمجھ نہیں آتی۔“‏ بچوں کے سکول کے باہر پھولوں کے ساتھ ایک کارڈ رکھ کر غم‌وغصے کا اظہار کِیا گیا۔ اُس پر صرف ایک لفظ تحریر تھا، ”‏کیوں؟“‏ اِسکے جواب میں ڈبلن کیتھیڈرل کے ایک پادری نے کہا:‏ ”‏اِسکی کوئی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ ہم اِسکا کوئی جواب نہیں دے سکتے کہ ایسا کیوں واقع ہوا۔“‏

اُسی سال کے اختتام پر، چرچ آف انگلینڈ کے ایک معروف نوجوان پادری کو بے‌دردی سے قتل کر دیا گیا۔ چرچ ٹائمز نے بیان کِیا کہ حیرت‌زدہ کلیسیا نے لِورپول کے ایک آرچ‌ڈیکن کو ”‏خدا کے دروازے پر چلّاچلّا کر یہ سوال کرتے ہوئے سنا کیوں؟ کیوں؟“‏ اُس پادری کو بھی شخصی خدا کی طرف سے کوئی تسلی نہیں ملی تھی۔‏

پس ہمیں کیا یقین رکھنا چاہئے؟ شخصی خدا پر یقین رکھنا ایک معقول بات ہے۔ یہ مندرجہ‌بالا پُرزور سوالات کا جواب دینے کی کلید ہے۔ ہم آپ کو اگلے مضمون میں پیش‌کردہ ثبوت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر]‏

کارڈ نے پوچھا ”‏کیوں؟“‏

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

NEWSTEAM No. 278468/Sipa Press

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں