زندگی کی راہ میں آپکی راہنمائی کیلئے ایک چراغ
”اے خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو]! مَیں جانتا ہوں کہ انسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) اِن الفاظ کے ذریعے یرمیاہ نبی نے ظاہر کِیا کہ انسان مدد کے بغیر کامیابی سے زندگی کی راہ کا تعیّن نہیں کر سکتے۔ ایسی مدد کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟ زبورنویس یہوواہ خدا سے دُعا کرتے ہوئے، جواب دیتا ہے: ”تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے۔“—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
جو خدا کے کلام، مقدس بائبل کا مطالعہ کرتے اور جو کچھ یہ کہتی ہے اُسکا اطلاق کرتے ہیں اُس کی مانند ہونگے جو صبح سویرے اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ شروع میں تو وہ صاف طور پر نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اندھیرا ہے۔ لیکن جب سورج طلوع ہونا شروع کرتا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ آخرکار، سورج بالکل سر پر آ جاتا ہے۔ وہ ہر چیز کو بالکل واضح طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یہ تمثیل ایک بائبل امثال کی یاد دلاتی ہے: ”لیکن صادقوں کی راہ نورِسحر کی مانند ہے جسکی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔“—امثال ۴:۱۸۔
اُنکی بابت کیا ہے جو خدا کی راہنمائی کو رد کرتے ہیں؟ بائبل بیان کرتی ہے: ”شریروں کی راہ تاریکی کی مانند ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ کن چیزوں سے اُنکو ٹھوکر لگتی ہے۔“ (امثال ۴:۱۹) جیہاں، شریر اُس شخص کی مانند ہے جو اندھیرے میں ٹھوکر کھاتا ہے۔ حتیٰکہ اُنکی ظاہری کامیابیاں بھی وقتی ہیں کیونکہ ”کوئی حکمت کوئی فہم اور کوئی مشورت نہیں جو خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کے مقابل ٹھہر سکے۔“—امثال ۲۱:۳۰۔
لہٰذا خدا کے کلام، بائبل، کی راہنمائی کی پیروی کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ امثال ۳:۵، ۶ کے ان الفاظ کی صداقت کو جان لیں گے: ”سارے دل سے خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔“