شخصی خدا یہوواہ کو جانیں
خدا کی بابت ہندو نظریے کا دیگر مذہبی نظاموں سے موازنہ کرتے ہوئے، ڈاکٹر رادھےکرشنا بیان کرتا ہے: ”عبرانیوں کا خدا مختلف قسم کا ہے۔ وہ تاریخ میں شخصی اور فعال ہے اور اِس ترقیپذیر دُنیا کے تغیرات اور حوادث میں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی ہستی ہے جو ہمارے ساتھ رابطہ رکھتی ہے۔“
بائبل کے خدا کا عبرانی نام יהוה ہے جسکا ترجمہ عموماً ”یہوواہ“ کِیا جاتا ہے۔ وہ دیگر تمام معبودوں سے ممتاز ہے۔ ہم اُس کے متعلق کیا جانتے ہیں؟ بائبل وقتوں میں اُس نے انسانوں کیساتھ کیسا برتاؤ کِیا؟
یہوواہ اور موسیٰ ”رُوبرو“
یہوواہ اور اُسکا خادم موسیٰ ”روبرو“ ہوتے تھے اگرچہ موسیٰ حقیقی معنوں میں خدا کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔ (استثنا ۳۴:۱۰؛ خروج ۳۳:۲۰) اپنی جوانی سے ہی موسیٰ کا دل اسرائیلیوں کیساتھ تھا جوکہ اُس وقت مصر کی غلامی میں تھے۔ اُس نے فرعون کے گھرانے کے فرد کی حیثیت سے مُنہ موڑتے ہوئے ”خدا کی اُمت کے ساتھ بدسلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کِیا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۵) نتیجتاً، یہوواہ نے موسیٰ کو بہت سارے خاص استحقاقات عطا کئے۔
فرعون کے گھرانے کے فرد کی حیثیت سے، ”موسیٰؔ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی۔“ (اعمال ۷:۲۲) لیکن اسرائیلی قوم کی راہنمائی کرنے کے لئے اُسے فروتنی، تحمل اور حلیمی جیسی خوبیاں اپنانے کی ضرورت تھی۔ مدیان میں ۴۰ سال کے دوران ایک چرواہے کے طور پر اُس نے یہی کِیا۔ (خروج ۲: ۱۵-۲۲؛ گنتی ۱۲:۳) یہوواہ اگرچہ نادیدہ رہا توبھی اُس نے خود کو اور اپنے مقصد کو موسیٰ پر ظاہر کِیا اور خدا نے فرشتوں کے ذریعے دس احکام اُسکے سپرد کئے۔ (خروج ۳:۱-۱۰؛ ۱۹:۳–۲۰:۲۰؛ اعمال ۷:۵۳؛ عبرانیوں ۱۱:۲۷) بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ”جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خداوند [”یہوؔواہ،“] رُوبُرو ہو کر موسیٰؔ سے باتیں کرتا تھا۔“ (خروج ۳۳:۱۱) واقعی یہوواہ نے خود فرمایا: ”مَیں اُس سے . . . رُوبُرو باتیں کرتا ہوں۔“ موسیٰ نے اپنے نادیدہ مگر شخصی خدا کیساتھ کیا ہی بیشقیمت، ذاتی رشتے سے لطف اُٹھایا!—گنتی ۱۲:۸۔
موسیٰ نے اسرائیل کی ابتدائی تاریخ کے ساتھ ساتھ شریعتی ضابطے کو تمامتر تفصیلات سمیت تحریر کِیا۔ اُسے ایک اَور انمول استحقاق بھی بخشا گیا یعنی پیدایش کی کتاب کی تحریر۔ کتاب کا آخری حصہ وہ تاریخ تھی جسے اُس کا خاندان بخوبی جانتا تھا اِس لئے اُسے تحریری شکل دینا نسبتاً آسان تھا۔ لیکن انسان کی ابتدائی تاریخ کے متعلق موسیٰ نے تفصیلات کہاں سے حاصل کیں؟ یہ ممکن ہے کہ موسیٰ کے پاس قدیم تحریری دستاویزات موجود ہوں جو اُسکے آباؤاجداد نے محفوظ کر رکھی تھیں جنہیں اُس نے مواد کے ماخذ کے طور پر استعمال کِیا ہو۔ دوسری طرف ممکن ہے کہ یہوواہ کی طرف سے اُسے یہ تفصیلات زبانی مہیا کی گئی ہوں یا براہِراست خدائی الہام کے ذریعے دی گئی ہوں۔ اس سلسلے میں موسیٰ نے اپنے خدا کیساتھ جس ذاتی رشتے سے لطف اُٹھایا، تمام ادوار کے معزز اشخاص نے اُسے تسلیم کِیا ہے۔
یہوواہ—ایلیاہ کا شخصی خدا
ایلیاہ نبی بھی یہوواہ کو ایک شخصی خدا کے طور پر جانتا تھا۔ ایلیاہ یہوواہ کی پاک پرستش کیلئے سرگرم تھا اور کنعانیوں کے مندر کے ممتاز دیوتا بعل کے پرستاروں کی طرف سے انتہائی نفرت اور مخالفت کا نشانہ بننے کے باوجود، اُس نے یہوواہ کی خدمت کی۔—۱-سلاطین ۱۸:۱۷-۴۰۔
اسرائیل کے بادشاہ اخیاب اور اُسکی بیوی ایزبل نے ایلیاہ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اپنی جان کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے ایلیاہ بحرِمُردار کے مغرب میں بیرسبع کی طرف بھاگ گیا۔ وہاں وہ دشتِگرداں رہا اور مرنے کی دُعا مانگی۔ (۱-سلاطین ۱۹:۱-۴) کیا یہوواہ نے ایلیاہ کو چھوڑ دیا تھا؟ کیا اب وہ اپنے وفادار خادم میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا؟ ایلیاہ نے شاید ایسا محسوس کِیا ہو لیکن وہ کسقدر غلطی پر تھا! بعدازاں، یہوواہ نے خاموشی سے اُس سے بات کرتے ہوئے پوچھا: ”اَے ایلیاؔہ! تُو یہاں کیا کرتا ہے؟“ مافوقالفطرت قوت کے غیرمعمولی مظاہرے کے بعد، ”اُسے [دوبارہ] یہ آواز آئی کہ اَے ایلیاؔہ تُو یہاں کیا کرتا ہے؟“ یہوواہ نے ایلیاہ میں ذاتی دلچسپی کا اظہار اِسلئے کِیا تاکہ وہ اپنے قابلِاعتماد خادم کو حوصلہافزائی مہیا کر سکے۔ خدا کے پاس اُس کیلئے اَور کام تھا اور ایلیاہ نے اِس کیلئے پُرجوش جوابیعمل دکھایا! ایلیاہ نے اپنے شخصی خدا یہوواہ کے نام کی تقدیس کرتے ہوئے، وفاداری سے اپنی تفویض کو پورا کِیا۔—۱-سلاطین ۱۹:۹-۱۸۔
اسرائیلی قوم کو ردّ کر دینے کے بعد، یہوواہ زمین پر اپنے خادموں سے ذاتی طور پر کبھی ہمکلام نہیں ہوا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اُن میں اُسکی ذاتی دلچسپی کم ہو گئی تھی۔ اپنی روحالقدس کے ذریعے، وہ پھر بھی اُنہیں اپنی خدمت کیلئے راہنمائی اور تقویت مہیا کرتا رہا۔ مثال کے طور پر، پولس رسول کو ہی لے لیں جو پہلے ساؤل کے نام سے جانا جاتا تھا۔
پولس کی روحالقدس کے ذریعے راہنمائی
ساؤل کِلکیہ کے ایک اہم شہر، ترسس سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کے والدین عبرانی تھے مگر اُسکی پیدائش رومی شہری کے طور پر ہوئی۔ تاہم، ساؤل کی پرورش، فریسیوں کے سخت عقائد کے مطابق ہوئی۔ بعدازاں، یروشلیم میں، اُسے شریعت کے ایک ممتاز اُستاد ”گملیؔایل کے قدموں میں“ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔—اعمال ۲۲:۳، ۲۶-۲۸۔
یہودی روایات کیلئے ساؤل کے گمراہکُن جوش کی وجہ سے وہ یسوع مسیح کے پیروکاروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم میں شامل ہونے کا باعث بنا۔ وہ تو پہلے مسیحی شہید، ستفنس کے قتل پر بھی راضی تھا۔ (اعمال ۷:۵۸-۶۰؛ ۸:۱، ۳) بعدازاں اُس نے اعتراف کِیا کہ اگرچہ وہ پہلے کفر بکنے والا اور ستانے والا اور بےعزت کرنے والا تھا تَوبھی، ”[اُس] پر رحم ہوا اِس واسطے کہ [اُس] نے بےایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔“—۱-تیمتھیس ۱:۱۳۔
ساؤل نے خدا کی خدمت کرنے کیلئے حقیقی خواہش سے تحریک پائی تھی۔ دمشق کے راستے میں ساؤل کی تبدیلی کے بعد، یہوواہ نے اُسے پُرزور طور پر استعمال کِیا۔ حننیاہ نامی ایک ابتدائی شاگرد کو قیامتیافتہ مسیح کی طرف سے اُسکی مدد کرنے کی ہدایت ملی۔ اِس کے بعد یورپ اور ایشیائےکوچک کے تمام حصوں میں ایک طویل اور پھلدار خدمتگزاری کو پایۂتکمیل تک پہنچانے کے لئے یہوواہ کی روحالقدس نے پولس (رومی نام جس سے ساؤل مسیحی ہونے کے بعد پہچانا جانے لگا) کی راہنمائی کی تھی۔—اعمال ۱۳:۲-۵؛ ۱۶:۹، ۱۰۔
کیا روحالقدس کے ذریعے ایسی راہنمائی کی آجکل بھی نشاندہی کی جا سکتی ہے؟ جیہاں، کی جا سکتی ہے۔
دہریت یہوواہ کی ذاتی دلچسپی کے اظہار میں رُکاوٹ نہیں
جوزف ایف رتھرفورڈ واچ ٹاور سوسائٹی کے دوسرے صدر تھے۔ اُنہوں نے ۱۹۰۶ میں بائبل سٹوڈنٹ کے طور پر بپتسمہ لیا—اُس وقت یہوواہ کے گواہوں کا نام—اگلے سال سوسائٹی کے قانونی مشیر مقرر ہوئے اور جنوری ۱۹۱۷ میں اِس کے صدر بن گئے۔ تاہم، یہ نوجوان وکیل کبھی ایک دہریہ تھا۔ وہ یہوواہ کا ایک اتنا سرگرم مسیحی خادم کیسے بن گیا؟
جولائی ۱۹۱۳ میں، رتھرفورڈ نے سپرنگفیلڈ، ماساچوسیٹس، یو۔ایس۔اے میں ہونے والی انٹرنیشنل بائبل سٹوڈنٹس ایسوسیایشن کے کنونشن کی صدارت کی۔ ایک مقامی اخبار، دی ہومسٹیڈ، کے رپورٹر نے رتھرفورڈ سے انٹرویو کِیا اور تفصیلات کو اُس کنونشن کی یادگار رپورٹ میں دوبارہ شائع کِیا گیا۔
رتھرفورڈ نے وضاحت کی کہ جب اُس نے شادی کرنے کا فیصلہ کِیا تو وہ بپٹسٹ مذہبی عقائد سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اُسکی ہونے والی بیوی کا تعلق پریسبٹیرین سے تھا۔ جب رتھرفورڈ کے پادری نے کہا کہ ”وہ دوزخ میں جائیگی کیونکہ اُس نے غوطہ نہیں لیا تھا اور وہ سیدھا آسمان پر جائیگا کیونکہ اُس نے غوطہ لیا تھا تو اُس کے منطقی ذہن نے بغاوت کر دی اور وہ ایک دہریہ بن گیا۔“
ایک شخصی خدا پر ایمان کی ازسرِنو تعمیر کیلئے رتھرفورڈ کو محتاط تحقیق کرتے ہوئے کئی سال لگے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اِس مفروضے کو سامنے رکھتے ہوئے کام شروع کِیا کہ ”جو چیز ذہن کو مطمئن نہ کر سکے، اُسے دل کو مطمئن کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔“ مسیحیوں کو ”یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ جن صحائف پر وہ ایمان رکھتے ہیں وہ درست ہیں،“ رتھرفورڈ نے وضاحت کرتے ہوئے مزید بیان کِیا: ”اُنہیں اُس بنیاد کا علم ہونا چاہئے جس پر وہ قائم ہیں۔“—دیکھیں ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷۔
جیہاں، آجکل بھی ایک دہریے یا لاادریے کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ صحائف کی تحقیقوتفتیش کرے، ایمان کی تعمیر کرے اور یہوواہ خدا کیساتھ مضبوط ذاتی رشتہ اُستوار کرے۔ واچ ٹاور کی اشاعت علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کی مدد سے بائبل کا محتاط مطالعہ کرنے کے بعد، ایک نوجوان شخص نے تسلیم کِیا: ”جب مَیں نے مطالعہ شروع کِیا تو مَیں خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا لیکن اب مَیں محسوس کرتا ہوں کہ بائبل کے علم نے میری سوچ کو بالکل بدل دیا ہے۔ مَیں یہوواہ کو جاننا اور اُس پر اعتماد کرنا شروع کر رہا ہوں۔“
”احمق“ اور خدا
”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پُرانے عہدنامے [عبرانی صحائف] کے مصنّفین نے خدا کی موجودگی کو ثابت کرنے یا اُسکی کی بابت بحث کی ہو،“ ڈاکٹر جیمز ہیسٹنگز اے ڈکشنری آف دی بائبل میں بیان کرتا ہے۔ ”خدا کے وجود سے انکار کرنا یا اُسے ثابت کرنے کیلئے دلائل استعمال کرنا قدیم زمانے کے عمومی رُجحان کے مطابق نہیں۔ یہ عقیدہ انسانی ذہن کیلئے فطری تھا اور سب انسانوں میں مشترک تھا۔“ بِلاشُبہ، اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اُس وقت تمام لوگ خداترس تھے۔ معاملہ اِس کے برعکس تھا۔ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن میں زبور ۱۴:۱ اور ۵۳:۱ دونوں ہی ”بیوقوف“ کا ذکر کرتی ہیں یا جیساکہ اُردو ریوائزڈ ورشن بیان کرتی ہے، ”احمق“ نے اپنے دل میں کہا، ”کوئی خدا [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] نہیں۔“
یہ احمق کس قسم کا شخص ہے جو خدا کے وجود کا منکر ہے؟ وہ ذہنی طور پر بےبہرہ نہیں ہے۔ بلکہ، عبرانی لفظ نیا.ول اخلاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ پروفیسر ایس۔آر۔ ڈرائیور دی پیرالل سالٹر میں درج اپنے تبصرے میں کہتا ہے کہ خامی ”کمزور استدلال نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی بےعقلی، دانشمندی یا بصیرت کی انتہائی کمی ہے۔“
ایسا میلان جس اخلاقی تنزلی پر منتج ہوتا ہے، اُسے زبورنویس یوں بیان کرتا ہے: ”وہ بگڑ گئے۔ اُنہوں نے نفرتانگیز کام کئے ہیں۔ کوئی نیکوکار نہیں۔“ (زبور ۱۴:۱) ڈاکٹر ہیسٹنگز نتیجہ اخذ کرتا ہے: ”اِس دُنیا سے خدا کی عدمموجودگی اور خوفِعقوبت سے آزادی کی بدولت، انسان انتہائی بگڑ گئے ہیں اور نفرتانگیز کام کرتے ہیں۔“ وہ علانیہ بےدین اصولوں کو اپناتے ہیں اور یوں شخصی خدا کی تحقیر کرتے ہیں جس کے حضور وہ جوابدہ نہیں ہونا چاہتے۔ مگر یہ سوچ آج بھی اتنی ہی احمقانہ اور جاہلانہ ہے جتنیکہ آج سے ۳،۰۰۰ سال پہلے تھی جب زبورنویس نے یہ الفاظ تحریر کئے۔
ہمارے شخصی خدا کی طرف سے آگاہیاں
آئیے اب، اپنے ابتدائی مضمون میں اُٹھائے جانے والے سوالات پر توجہ دیں۔ بہتیرے لوگ آج کی دُنیا میں پھیلی ہوئی تکلیف اور شخصی خدا کے درمیان تعلق کو کیوں نہیں سمجھ پاتے؟
بائبل ایسے اشخاص کی تحریری معلومات پر مشتمل ہے جو ”روحالقدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔“ (۲-پطرس ۱:۲۱) صرف یہی شخصی خدا یہوواہ کو ہم پر ظاہر کرتی ہے۔ یہ ہمیں ایک ناگوار شخصیت کی بابت بھی آگاہ کرتی ہے جوکہ آدمیوں کیلئے نادیدہ ہے اور وہ انسانوں کی سوچ پر قابو رکھنے اور اُنہیں ہدایات دینے پر قادر ہے—شیطان ابلیس۔ منطقی لحاظ سے، اگر ہم ایک شخصی خدا پر یقین نہیں رکھتے تو پھر ہم ایک شخصی ابلیس یا شیطان پر بھی کیسے یقین رکھ سکتے ہیں؟
یوحنا رسول نے الہام سے تحریر کِیا: ”جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۹) بعدازاں یوحنا نے کہا: ”ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں اور ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) یہ بیانات یسوع کے اُن الفاظ کی عکاسی کرتے ہیں جو یوحنا نے اپنی انجیل میں قلمبند کئے: ”دُنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اُسکا کچھ نہیں۔“—یوحنا ۱۴:۳۰۔
یہ صحیفائی تعلیم لوگوں کے اعتقاد سے کس قدر افضل ہے! ”آجکل شیطان کی بابت بات کرنا قطعاً غیرمروج ہے۔ ہمارے مُتشکِک اور سائنسی دَور نے شیطان کو سبکدوش کر دیا ہے،“ کیتھولک ہیرلڈ بیان کرتا ہے۔ تاہم، یسوع نے اُسے قتل کرنے کے درپے آدمیوں سے پُرزور طور پر کہا: ”تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔“—یوحنا ۸:۴۴۔
شیطان کی قوت کے متعلق بائبل کی وضاحت معقول ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت کے اَمن اور آشتی سے رہنے کی خواہاں ہونے کے باوجود نفرت، جنگیں اور بیجا تشدد، جیسا کہ ڈبلن میں ہوا، (صفحہ ۳ اور ۴ پر درج ہے)، دُنیا کو پریشان کیوں کر رہے ہیں۔ مزیدبرآں، شیطان واحد دشمن نہیں ہے جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے۔ بائبل شیاطین یا بدروحوں—شریر روحانی مخلوقات کے متعلق بھی آگاہیاں دیتی ہے جو نوعِانسان کیساتھ بدسلوکی کرنے اور اُنہیں گمراہ کرنے کیلئے کافی پہلے شیطان کے ساتھ مل گئیں۔ (یہوداہ ۶) یسوع مسیح نے اِن روحوں کی طاقت کا کافی دفعہ سامنا کِیا اور وہ اُن پر اختیار رکھتا تھا۔—متی ۱۲:۲۲-۲۴؛ لوقا ۹:۳۷-۴۳۔
سچے خدا یہوواہ نے اِس زمین کو بدکاری سے پاکصاف کرنے اور انجامکار شیطان اور اُس کے شیاطین کی سرگرمیوں کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ یہوواہ کے متعلق علم کی بِنا پر، ہم اُسکے وعدوں پر پُختہ ایمان اور بھروسہ رکھ سکتے ہیں۔ وہ فرماتا ہے: ”مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہو گا۔ مَیں ہی یہوؔواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔“ یہوواہ اُن سبھوں کیلئے واقعی شخصی خدا ہے جو اُسے جانتے، اُسکی پرستش کرتے اور اُسکی خدمت کرتے ہیں۔ اپنی نجات کیلئے ہم صرف اور صرف اُسی پر اُمید رکھ سکتے ہیں۔—یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۱۱۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
۱۸ویں صدی کا ایک کتبہ جوکہ ظاہر کرتا ہے کہ موسیٰ پیدایش ۱:۱ الہام سے لکھ رہا ہے
[تصویر کا حوالہ]
by J. Baskett, Oxford The Holy Bible From