کیا معجزانہ شفائیں ابھی تک واقع ہوتی ہیں؟
”یسوع پر ایمان لائیں اور شفا پائیں!“ اس قسم کے نعرے ایونجلیکل چرچ کے ایک رُکن، الیگزینڈر کیلئے یہ یقین کرنے کا باعث بنے کہ اپنی بیماری کیلئے دوا کھانے سے ایمان کی کمی ظاہر ہوگی۔ وہ اس بات کا قائل ہو گیا کہ اُسے جس معجزانہ شفا کی ضرورت ہے وہ اسکا ایمان ہی اسے دیگا۔ ایک کٹر کیتھولک بینےڈیتا نے جب ساؤ پالو، برازیل کی ریاست میں آپریسیڈا ڈو نورٹے کے مُقدس مقام پر واقع ہونے والے شفائیہ معجزات کی بابت سنا تو وہ جوش سے بھر گئی۔ جادوئی الفاظ استعمال کرتے ہوئے جو اُسکی آنٹی نے اُسے سکھائے تھے، بینےڈیتا نے بیماروں کو شفا دینے کی طاقت حاصل کرنے کیلئے آور لیڈی آف آپریسیڈا، اینتھنی اور دیگر ”مُقدسین“ سے دُعا کی۔
ظاہری طور پر، ۲۰ویں صدی کے اختتام پر بھی بہت سے لوگ ابھی تک معجزانہ شفاؤں پر ایمان رکھتے ہیں—لیکن کیوں؟ غالباً، بیشتر لوگ جب یہ دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر حضرات بیماری، درد اور اُنکے عزیزوں بالخصوص اُنکے بچوں کی تکلیف دُور کرنے کے قابل نہیں تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ مزمن امراض میں مبتلا اشخاص شاید یہ محسوس کریں کہ جدید ادویات کی گرانی کے پیشِنظر اُن کیلئے ایمانی شفا کا خواہاں ہونا کوئی نقصان کی بات نہیں ہوگی۔ بعض لوگ مختلف کلیسیاؤں اور افراد کو ٹیوی پر دیکھتے ہیں جو ایڈز، افسردگی، کینسر، پاگلپن، بلند فشارِخون اور دیگر بیماریوں سے شفا کی پیشکش کرتے ہیں۔ ایسے دعوؤں پر اُنکا ایمان ہو یا نہ ہو وہ انہی کو آخری حل سمجھ کر اُنکی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بدروحوں کی وجہ سے بیماری میں مبتلا ہیں اسلئے وہ محسوس کرتے ہیں کہ روایتی طریقۂعلاج اُنکی مدد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
اسکی دوسری جانب، ایسے لوگ بھی ہیں جو مُتوَفّی ”مُقدسین“ یا شفا بخشنے والے زندہ اشخاص کی طرف سے معجزانہ شفاؤں کے نظریے کی سخت مخالفت کرتے ہیں حتیٰکہ انکی مذمت کرتے ہیں۔ جرنل ڈا ٹارڈ کے مطابق، علمِقوتِمدافعت کا ماہر ڈراؤسیو واریلا محسوس کرتا ہے کہ یہ اعتقاد ”سادہلوح اور شکستہدل اشخاص کے ایمان کا تمسخر اُڑاتا ہے۔“ اُس نے مزید بیان کِیا: ”بہتیرے لوگ معجزات کی اُمید میں ان دھوکےبازوں کی وجہ سے اہم طبّی علاج کو ترک کر دیتے ہیں۔“ اور دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا وضاحت کرتا ہے: ”ماضی میں غیرمروّجہ طریقے سے دی جانے والی شفاؤں کو پاک مقامات اور مذہبی رسومات سے وابستہ سمجھا جاتا تھا جبکہ طبّی سائنس ایسی تمام شفاؤں کو تنویمی طور پر روّیوں پر اثرانداز ہونے والے عام عمل سے منسوب کرنے کی طرف مائل ہے جو موافق حالات کے تحت کام کرتا ہے۔“ تاہم، بہتیرے یہ مانتے ہیں کہ اُنہوں نے واقعی ایک معجزے کے ذریعے شفا پائی تھی۔ اُن کیلئے شفا کارگر ثابت ہوئی ہے!
وہ لوگ جو بائبل سے اچھی طرح واقف ہیں اس بات کو بھی سمجھتے ہیں کہ یسوع مسیح نے بہت سے مواقع پر بیماروں کو شفا دی تھی اور ایسا اُس نے ”خدا کی شان [”طاقت،“ اینڈبلیو]“ سے کِیا تھا۔ (لوقا ۹:۴۲، ۴۳) پس وہ سوچ سکتے ہیں کہ ’کیا خدا کی طاقت ابھی تک سرگرمِعمل ہے اور آجکل بھی معجزانہ شفاؤں پر منتج ہو رہی ہے؟‘ اگر ایسا ہے تو پھر شفا دینے کی کوششیں متوقع نتائج لانے میں کیوں ناکام ہو جاتی ہیں؟ کیا اسکی وجہ یہ ہے کہ مریض میں کافی ایمان نہیں ہوتا یا یہ وجہ ہے کہ اُسکے چندے کی رقم کافی بڑی نہیں ہوتی؟ جب کوئی مسیحی دردناک یا شاید ناقابلِعلاج بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو کیا اُس کیلئے معجزانہ شفا کی خواہش کرنا درست ہے؟ نیز یسوع نے جس قسم کی قابلِاعتماد معجزانہ شفائیں بخشیں کیا وہ دوبارہ واقع ہونگی؟ آپ ان اہم سوالات کے جواب اگلے مضمون میں حاصل کر سکتے ہیں۔