اتنی زیادہ تکلیف
”اتنی زیادہ انفرادی اور اجتماعی تکلیف کیوں پائی جاتی ہے . . . ؟ خدا کو ہر طرح کے مقصد کا مجسّمہ سمجھا جاتا ہے لیکن پھربھی دُنیا میں اتنی زیادہ بےمقصدیت، اتنی زیادہ بےمعنی تکلیف اور ناقابلِفہم گناہ پایا جاتا ہے۔ جیساکہ نٹزش نے الزام لگایا کیا خدا واقعی جابر، دغاباز، فریبی، جلاد ہے؟“—آن بیاینگ اے کرسچین از ہنز کنگ۔
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیتھولک عالمِدین ہنز کنگ ایک ایسا مسئلہ منظرِعام پر لاتا ہے جو بہتیرے لوگوں کو اُلجھن میں ڈال دیتا ہے—ایک قادرِمطلق، شفیق خدا اتنی زیادہ تکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی لوگوں کو ایسا سوال پوچھتے ہوئے نہیں سنا؟ ہر رحمدل شخص کنگ کے بیانکردہ ”خون کے غیرمختتم دریا، جفاکشی اور آنسو، دُکھدرد، غم اور خوف، تنہائی اور موت“ پر کافی حد تک افسوس کرتا ہے۔ یہ دراصل، دہشت اور ذہنی کوفت کے تندوتیز، سیلاب کی مانند ہے جس نے تاریخ کے دوران لاکھوں لوگوں کی زندگیاں چھین لی ہیں۔—ایوب ۱۴:۱۔
”مشقت اور غم“ سے پُر
جنگ سے پیدا ہونے والی تکلیف کا تصور کریں، دُکھدرد کا تجربہ نہ صرف نشانہ بننے والوں کو ہی ہوتا ہے بلکہ اُن کو بھی ہوتا ہے جو غم کیلئے پیچھے رہ جاتے ہیں جیسےکہ سفاکی کا نشانہ بننے والے بچوں اور دیگر لوگوں کے والدین اور رشتہدار۔ ریڈکراس نے حال ہی میں کہا کہ ”گذشتہ ۱۰ سال کے دوران، ۵.۱ ملین بچے مسلح فسادات میں ہلاک ہوئے تھے۔“ ۱۹۹۴ میں روانڈا کے اندر، ریڈکراس رپورٹ دیتا ہے کہ ”لاکھوں مردوں، عورتوں اور بچوں کو وحشیانہ طور پر اور سوچےسمجھے منصوبے کے تحت قتل کِیا گیا تھا۔“
ہمیں بچوں کیساتھ جنسی بدفعلی کرنے والوں کے باعث پیدا ہونے والے دُکھدرد کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ ایک غمزدہ ماں نے بیان کِیا، جس کے بیٹے کیساتھ کسی چائلڈ کئیر کے کارکُن نے جنسی بدفعلی کی اور اُس نے خودکُشی کر لی تھی: ”میرے بیٹے کیساتھ بدفعلی کرنے والے شخص نے . . . نہایت منظم، کجرو طریقے سے جس کا آپ تصور کر سکتے ہیں اُسے اور کئی دوسرے لڑکوں کو تباہوبرباد کر دیا۔“ اور اُس دُکھدرد کے خوف کی بابت کیا ہے جو سفاک قاتلوں یا سلسلہوار قتل کرنے والوں کا نشانہ بننے والے لوگوں کے تجربے میں آیا ہے جیسےکہ وہ قاتل جو برطانیہ میں گرفتار ہوئے جنہوں نے ”۲۵ سال تک بِلاخوفِعقوبت اغوا، زنابالجبر، تشدد اور قتل کا ارتکاب کِیا“؟ پوری تاریخ میں جس طرح مردوں اور عورتوں نے دُکھدرد اور تکلیف کی صورت میں ایک دوسرے پر ظلم کئے ہیں اسکی کوئی انتہا نہیں ہے۔—واعظ ۴:۱-۳۔
اسکے علاوہ جذباتی اور جسمانی امراض اور عزیزوں کی قبلازوقت موت سے متاثرہ خاندانوں کا شدید غم بھی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ قحط یا دیگر قدرتی آفات کا نشانہ بننے والے لوگ بھی ذہنی کوفت محسوس کرتے ہیں۔ بعض لوگ موسیٰ کے اس بیان سے متفق ہونگے کہ ہمارے ۷۰ یا ۸۰ سال ”مشقت اور غم“ سے پُر ہیں۔—زبور ۹۰:۱۰۔
خدا کے مقصد کا حصہ؟
جیسے بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کیا یہ ممکن ہے کہ یہ مسلسل تکلیف خدا کے کسی ناقابلِفہم مقصد کا حصہ ہو؟ کیا ’اگلے جہان میں‘ زندگی کی قدروقیمت جاننے کیلئے ہمارا اب تکلیف اُٹھانا لازمی ہے؟ جیسےکہ فرانسیسی فلاسفر تلہارڈ ڈی کارڈن کا ایمان تھا، کیا یہ سچ ہے کہ ”مار ڈالنے اور نیستونابود کرنے والی تکلیف انسان کیلئے ضروری ہے تاکہ یہ قائم رہے اور روح بن جائے“؟ (دی ریلیجن آف تلہارڈڈی کارڈن؛ نسخ ہمارا۔) ہرگز نہیں!
کیا کوئی شفیق نمونہساز دیدہدانستہ مُہلک فضا پیدا کریگا اور پھر جب وہ لوگوں کو اسکے اثرات سے بچاتا ہے تو کیا رحمدل ہونے کا دعویٰ کریگا؟ بمشکل! ایک شفیق خدا ایسا کیوں کریگا؟ پس خدا تکلیف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ کیا تکلیف کبھی ختم ہوگی؟ اگلا مضمون ان سوالات پر بحث کریگا۔
[صفحہ 3 پر تصویروں کے حوالہجات]
WHO photo by P. Almasy