یونان میں یہوواہ کے گواہوں کی ایک اَور فتح
اکتوبر ۶، ۱۹۹۵ کو، اتھینے میں، مجسٹریٹ کی ایک تین رُکنی عدالت کے سامنے یہوواہ کے دو کُلوقتی خادموں سے متعلق ایک قانونی مُقدمہ کی سماعت ہوئی۔ الزام مذہب تبدیل کرنے کا تھا اور دعویٰ ایک پولیس اہلکار نے گواہوں کے اُس کے گھر پر جانے کے بعد دائر کِیا تھا۔
صدارتی جج کی طرف سے کئے جانے والے سوالات نے ظاہر کِیا کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے کام میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتی تھی۔ مثال کے طور پر، اُس نے پوچھا: ”آپ کتنے عرصہ سے یہ کام کر رہے ہیں؟ سالوں کے دوران لوگ آپ کیساتھ کیسا برتاؤ کرتے رہے ہیں؟ آپ کے کام کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا گیا ہے؟ دروازوں پر آپ لوگوں سے کیا کہتے ہیں؟“ کمرۂعدالت میں موجود تمام لوگوں نے دی جانے والی گواہی کو انہماک کیساتھ سنا۔
گواہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سرکاری وکیل بھی اُنکی حمایت میں بول رہا تھا۔ ”یہوواہ کے گواہوں کو قانونی طور پر نہ صرف اپنے خدا کی پرستش کرنے اور اُس پر ایمان رکھنے کا حق حاصل ہے“ اُس نے بیان کِیا، ”بلکہ گھرباگھر، عوامی مقامات، سڑکوں پر اپنے ایمان کا مظاہرہ کرنے اور اگر وہ پسند کریں تو اپنا لٹریچر تقسیم کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں۔“ سرکاری وکیل نے ایسے فیصلوں کا حوالہ دیا جن میں عدالتوں اور مُلک کی کونسل نے مختلف مقدمات کو خارج کر دیا۔ اُس نے کوکیناکس بمقابلہ گریس کے مُقدمہ کا بھی حوالہ دیا جس میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے یہوواہ کے گواہوں کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔a ”مہربانی سے نوٹ کریں،“ سرکاری وکیل نے آگاہ کِیا کہ ”اُس مُقدمے میں یونان کی حکومت نے جرمانہ بھی ادا کِیا تھا۔ لہٰذا جب ہم سے ایسے مُقدمات کا فیصلہ کرنے کا تقاضا کِیا جائے تو ہمیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے مُقدمات عدالت میں لائے ہی نہیں جانے چاہئیں۔“
سرکاری وکیل کی تقریر کے بعد، گواہوں کے وکیل کو اَور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم، اُس نے اس بات پر زور دینے کیلئے موقع سے فائدہ اُٹھایا کہ مذہب کی تبدیلی سے متعلق قانون غیرآئینی ہے اور یہ کہ اس نے بینالاقوامی پیمانے پر یونان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
صدارتی جج نے صرف دونوں جج صاحبان کی طرف دیکھا اور بھائی اور بہن کو اتفاقِرائے سے بری کر دیا۔ مُقدمہ جس کی سماعت تقریباً ایک گھنٹہ دس منٹ تک جاری رہی، یہوواہ کے نام اور اُسکے لوگوں دونوں کی فتح تھی۔
انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں کوکیناکس کے مُقدمہ کی سماعت کے بعد مذہب کی تبدیلی سے متعلق بری کر دئے جانے والے مُقدمات کے سلسلے میں یہ چوتھا مُقدمہ تھا۔ یونان میں یہوواہ کے گواہ خوش ہیں کہ اُن کے منادی سے متعلق مسائل اب تقریباً ختم ہو گئے ہیں اور یہ کہ اب کام کو بِلاروکٹوک جاری رکھنا ممکن ہے۔
[فٹنوٹ]
a دی واچٹاور ستمبر ۱، ۱۹۹۳ کے صفحات ۲۷-۳۱ کو دیکھیں۔