جب تکلیف نہ رہیگی
تکلیف انسانی خاندان کیلئے خدا کے ابتدائی مقصد کا حصہ نہیں تھی۔ یہ اُسکے مقصد میں شامل نہیں تھی اور نہ ہی وہ ایسا چاہتا تھا۔ ’اگر ایسا ہے‘ تو شاید آپ پوچھیں، ’اُسکا آغاز کیسے ہوا اور خدا نے اِسے اب تک رہنے کی اجازت کیوں دی ہے؟‘—مقابلہ کریں یعقوب ۱:۱۳۔
جواب انسانی تاریخ کے ابتدائی ریکارڈ، بائبل، بالخصوص پیدایش کی کتاب میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا نے خدا کے خلاف باغیانہ روش میں شیطان ابلیس کی پیروی کی۔ اُنکے افعال نے ایسے بنیادی مسائل کھڑے کر دئے جنہوں نے عالمگیر نظموضبط کی بنیادوں کو ہلا دیا۔ جب اُنہوں نے اپنے لئے اچھے اور بُرے کا فیصلہ کرنے کے حق کا دعویٰ کِیا تو اُنہوں نے خدا کی حاکمیت کو للکارا۔ اُنہوں نے حکمرانی کرنے اور ”نیکوبد“ کے واحد منصف ہونے کے اُسکے حق پر اعتراض کِیا۔—پیدایش ۲:۱۵-۱۷؛ ۳:۱-۵۔
اپنی مرضی کو فوراً عمل میں کیوں نہ لایا؟
’توپھر، خدا اپنی مرضی کو فوراً عمل میں کیوں نہ لایا؟‘ آپ شاید پوچھیں۔ بہتیرے لوگوں کو یہ معاملہ نہایت سادہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خدا کے پاس طاقت تھی۔ اُسے اُن باغیوں کو تباہ کرنے کیلئے اِسے استعمال کرنا چاہئے تھا۔‘ (زبور ۱۴۷:۵) لیکن ذرا خود سے یہ پوچھیں، ’کیا مَیں بِلاجھجھک ایسے تمام لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جو اپنی مرضی پر عمل کرانے کیلئے زبردست طاقت کا استعمال کرتے ہیں؟ جب کوئی آمر اپنے دشمنوں کا قلعقمع کرنے کیلئے مسلح فوجی دستوں کو استعمال کرتا ہے تو کیا میرے اندر جبلّی طور پر انقلاب کا احساس پیدا نہیں ہو جاتا؟‘ بیشتر معقول حضرات ایسی بات پر چونک جاتے ہیں۔
’اوہو‘، آپ کہتے ہیں، ’لیکن اگر خدا ایسی طاقت استعمال کرتا بھی تو کوئی اُسکی کارروائیوں پر اعتراض نہ کرتا۔‘ کیا آپکو یقین ہے؟ کیا یہ بات سچ نہیں کہ لوگ واقعی طاقت کو استعمال کرنے کے سلسلے میں خدا پر اعتراض کرتے ہیں؟ وہ اعتراض کرتے ہیں کہ بدکاری کو برداشت کرنے کے اوقات پر اُس نے اِسے کیوں استعمال نہیں کِیا اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ دیگر مواقع پر اُس نے اِسے کیوں استعمال کِیا ہے۔ ایماندار ابرہام کو بھی اپنے دشمنوں کے خلاف خدا کے طاقت استعمال کرنے کی بابت مسئلہ درپیش تھا۔ یاد کریں جب خدا نے سدوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ کِیا۔ ابرہام کو یہ غلطفہمی تھی کہ نیک لوگ بھی بدکار لوگوں کے ساتھ ہلاک ہو جائینگے۔ وہ پکار اُٹھا: ”ایسا کرنا تجھ سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے۔“ (پیدایش ۱۸:۲۵) ابرہام جیسے راست ذہنیت والے لوگوں کو بھی اس یقیندہانی کی ضرورت ہے کہ مطلق طاقت کا ناجائز استعمال نہیں کِیا جائے گا۔
بِلاشُبہ، خدا فوری طور پر آدم، حوا اور شیطان کو ہلاک کر سکتا تھا۔ لیکن ذرا سوچیں کہ یہ چیز دیگر فرشتگان اور آئندہ مخلوقات پر کیا اثر چھوڑتی جنہیں بعدازاں اُسکی کارروائیوں کا علم ہوتا۔ کیا یہ اُنکے ذہن میں خدا کی حکمرانی کی راستی کی بابت پریشانکُن سوالات پیدا نہ کرتا؟ کیا اس سے خدا پر یہ الزام عائد نہ ہو جاتا کہ وہ واقعی نٹزش کے کہنے کے مطابق ایک قسم کا آمریتپسند جابر ہے، ایسا خدا جو قہرِشدید سے اپنے خلاف سر اُٹھانے والے ہر شخص کو نیستونابود کر دیتا ہے؟
لوگوں کو نیک کام کرنے پر مجبور کیوں نہیں کرتا؟
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ’کیا خدا لوگوں کو صرف نیک کام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا؟‘ ذرا اس پر بھی غور کریں۔ پوری تاریخ کے دوران حکومتوں نے لوگوں کو اپنے طرزِفکر کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ بعض حکومتوں یا حکمرانوں نے اپنے زیرِتسلط لوگوں کو آزاد مرضی کی شاندار بخشش سے محروم کرتے ہوئے، منشیات یا سرجری کے استعمال سے ذہن کو قابو میں کرنے کے مختلف طریقے آزمائے ہیں۔ اگرچہ اس بخشش کا غلط استعمال کِیا جا سکتا ہے، کیا ہم آزاد مرضی کے مالک ہونے کی قدر نہیں کرتے؟ کیا ہم اسے چھین لینے کیلئے کسی بھی حکومت یا حاکم کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں؟
اُس وقت قانون نافذ کرنے کیلئے خدا کی طرف سے اپنی طاقت کو فوری طور پر استعمال کرنے کے علاوہ کونسا متبادل موجود تھا؟ یہوواہ خدا نے فیصلہ کِیا کہ بغاوت سے نپٹنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اُسکے قوانین کو رد کِیا ہے اُنہیں اُسکی حکمرانی سے کچھ عرصہ کیلئے آزاد کر دیا جائے۔ اس سے انسانی خاندان یعنی آدم اور حوا کی اولاد کو کچھ محدود عرصہ مِل گیا جس میں اُنہوں نے خدا کے قانون کی اطاعت کئے بغیر خود کو منظم کرنا تھا۔ اُس نے ایسا کیوں کِیا؟ اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ ایک وقت ایسا آئیگا جب اس بات کی ناقابلِتردید شہادت مِل جائیگی کہ اُسکا طرزِحکومت ہمیشہ راست اور دُرست ہے حتیٰکہ اُسوقت بھی جب وہ اپنی مرضی کے مطابق عمل کرانے کیلئے اپنی غیرمحدود طاقت کو استعمال کرتا ہے اور یہ بھی کہ اُسکے خلاف کسی بھی قسم کی بغاوت کا انجام جلد یا بدیر تباہکُن ہوگا۔—استثنا ۳۲:۴؛ ایوب ۳۴:۱۰-۱۲؛ یرمیاہ ۱۰:۲۳۔
تمام بےگناہ متاثرین کی بابت کیا ہے؟
’اسکے باوجود، تمام بےگناہ متاثرین کی بابت کیا ہے؟‘ آپ شاید پوچھیں۔ ’کیا کسی قانونی مقصد کو پورا کرنے کیلئے اُنکا دکھدردواقعی ضروری ہے؟‘ خدا نے محض قانون کے کسی مبہم مقصد کو ثابت کرنے کیلئے بدکاری کو قائم رہنے کی اجازت نہیں دے رکھی ہے۔ اس کے برعکس، یہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس بنیادی حقیقت کو ثابت کرنے کیلئے ہے کہ صرف وہی حاکمِاعلیٰ ہے اور یہ کہ اُسکے قوانین کی فرمانبرداری اُسکی تمام مخلوقات کے مسلسل امن اور خوشحالی کیلئے لازمی ہے۔
ایک نہایت اہم بات جو ذہن میں رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ خدا جانتا ہے کہ وہ ہر اُس نقصان کی مکمل طور پر تلافی کر سکتا ہے جو یہ انسانی خاندان کو پہنچا سکتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بالآخر، دُکھدرداور تکلیف کی اس عارضی مدت کا انجام فائدہمند ہوگا۔ اب ذرا ایک ماں کا تصور کریں جو اپنے بچے کو مضبوطی سے پکڑ کر رکھتی ہے جبکہ ڈاکٹر کسی ایسی بیماری سے بچانے کیلئے جو بصورتِدیگر بچے کو ہلاک کر دیگی ویکسین سے بھرا ہوا ٹیکہ لگا کر تکلیف پہنچاتا ہے۔ کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اُسکے بچے کو درد ہو۔ کوئی بھی ڈاکٹر اپنے مریض کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا۔ وقتی طور پر تو بچہ اس درد کی وجہ کو نہیں سمجھتا لیکن بعدازاں وہ سمجھ جائیگا کہ اسکی اجازت کیوں دی گئی تھی۔
تکلیف اُٹھانے والوں کیلئے حقیقی تسلی؟
بعض شاید محسوس کریں کہ ان باتوں کی بابت تھوڑا بہت علم رکھنا تکلیف اُٹھانے والوں کیلئے بہت کم تسلی کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہنز کنگ بیان کرتا ہے کہ تکلیف کے وجود کی بابت معقول وضاحت ”تکلیف اُٹھانے والے کیلئے اُتنی ہی فائدہمند ہوگی جتنیکہ کسی فاقہزدہ شخص کیلئے اشیائےخوردنی کے کیمیاوی اجزاء پر مبنی لیکچر۔“ وہ استفسار کرتا ہے: ”کیا تکلیف میں مبتلا کسی شخص کے لئے تمام دانشمندانہ استدلال واقعی حوصلہافزائی کا باعث ہو سکتا ہے؟“ خدا کے کلام، بائبل کو نظرانداز کرنے والے انسانوں کے ”دانشمندانہ استدلال“ نے تکلیف میں مبتلا لوگوں کو کوئی حوصلہافزائی فراہم نہیں کی۔ ایسے انسانی استدلال نے تو محض اسطرح کی سوچ سے مسئلے میں اضافہ کِیا ہے کہ یہ خدا کا مقصد تھا کہ انسان تکلیف اُٹھائے اور یہ کہ زمین کو اُن لوگوں کیلئے جو بالآخر آسمانی زندگی حاصل کرینگے آنسوؤں کی وادی یا آزمائشی میدان بنایا گیا تھا۔ کتنا بڑا کفر!
تاہم، بائبل خود حقیقی تسلی فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ صرف تکلیف کے موجود ہونے کی بابت بااُصول وضاحت پیش کرتی ہے بلکہ خدا کے اس یقینی وعدے پر اعتماد کو تقویت بخشتی ہے کہ وہ اُس تمام نقصان کی تلافی کریگا جو تکلیف کی عارضی اجازت سے واقع ہوا ہے۔
”سب چیزیں بحال“ ہوتی ہیں
اب بہت جلد خدا تمام چیزوں کو اُسی حالت میں لے آئیگا جسکا اُس نے اپنی پہلی انسانی مخلوقات کی بغاوت سے پہلے قصد کِیا تھا۔ انسان کی آزادانہ حکومت کیلئے اُسکا مقررہ وقت تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہم ایسے دَور میں رہ رہے ہیں جب وہ ”یسوع“ کو بھیجیگا جو ”ضرور ہے کہ . . . آسمان میں اُس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں جنکا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کِیا ہے جو دُنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔“—اعمال ۳:۲۰، ۲۱۔
یسوع مسیح کیا کرے گا؟ وہ زمین کو خدا کے تمام دشمنوں سے پاک کرے گا۔ (۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۱۰) یہ کوئی سرسری سزا نہیں ہوگی جیسیکہ انسانی آمر دیتے ہیں۔ انسان کی غلط حکمرانی کے تباہکُن نتائج کو ثابت کرنے والی شہادت کا انبار یہ ظاہر کرے گا کہ جلد ہی خدا اپنی مرضی پر عملدرآمد کرانے کیلئے اپنی بےپناہ طاقت کو استعمال کرنے میں بالکل حقبجانب ہے۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۷، ۱۸) شروع شروع میں یہ ایک ایسی ”مصیبت“ ہوگی جسکا زمین کو پہلے کبھی تجربہ نہیں ہوا، یہ طوفانِنوح جیسی مگر اس سے کہیں بڑی ہوگی۔ (متی ۲۴:۲۱، ۲۹-۳۱، ۳۶-۳۹) وہ لوگ جو اس ”بڑی مصیبت“ سے بچ جائینگے اُنہیں اُسوقت ”تازگی کے دنوں“ کا تجربہ ہوگا جب وہ خدا کے اُن تمام وعدوں کی تکمیل دیکھینگے جسکا ”ذکر“ اُس نے ”اپنے پاک نبیوں کی زبانی کِیا ہے۔“ (اعمال ۳:۱۹؛ مکاشفہ ۷:۱۴-۱۷) خدا نے کیا وعدہ فرمایا ہے؟
زمانۂقدیم کے خدا کے نبی کہتے ہیں کہ جنگ اور قتلوغارت کے نتیجے میں واقع ہونے والی تکلیف کا خاتمہ ہو جائیگا۔ مثال کے طور پر، زبور ۴۶:۹ ہمیں بتاتی ہے: ”وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔“ کوئی بےگناہ متاثرین اور خستہحال پناہگزین نہیں ہونگے، کوئی بھی سفاکانہ جنگوں میں زنابالجبر کا شکار، معذور اور ہلاک نہیں ہوگا! یسعیاہ نبی فرماتا ہے: ”قوم قوم پر تلوار نہ چلائیگی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھینگے۔“—یسعیاہ ۲:۴۔
نبیوں نے جُرم اور ناانصافی کے باعث واقع ہونے والی تکلیف کے خاتمے کی بابت بھی پیشینگوئی کی۔ امثال ۲:۲۱، ۲۲ وعدہ کرتی ہے کہ ”راستباز مُلک میں بسینگے“ اور یہ بھی کہ دُکھدرد اور تکلیف کا باعث بننے والے ”اُس سے اُکھاڑ پھینکے جائینگے۔“ پھرکبھی کوئی ’انسان دوسرے انسان پر حکومت کر کے اپنے اُوپر بلا‘ نہیں لائے گا۔ (واعظ ۸:۹) تمام بدکار ہمیشہ کے لئے نیستونابود کر دئے جائینگے۔ (زبور ۳۷:۱۰، ۳۸) تکلیف سے آزاد ہر شخص، امن اور سلامتی سے زندگی بسر کرنے کے قابل ہوگا۔—میکاہ ۴:۴۔
مزیدبرآں، نبیوں نے یہ وعدہ بھی کِیا کہ جسمانی اور جذباتی امراض کے باعث واقع ہونے والی تکلیف بھی ختم کر دی جائیگی۔ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) یسعیاہ وعدہ کرتا ہے کہ اندھے، بہرے، معذور اور بیماری اور علالت میں مبتلا تمام لوگوں کو تندرست کر دیا جائیگا۔ (یسعیاہ ۳۵:۵، ۶) خدا موت کے اثرات کو بھی زائل کر دیگا۔ یسوع نے پیشینگوئی کی کہ ”جتنے قبروں میں ہیں اُسکی آواز سنکر نکلینگے۔“ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) یوحنا رسول نے ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کی جو رویا دیکھی اُس میں اُسے بتایا گیا تھا کہ ”خدا آپ . . . اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ (مکاشفہ ۲۱:۱-۴) ذرا اسکا تصور کریں! نہ درد، نہ آنسو، نہ آہونالہ، نہ موت—نہ کوئی تکلیف!
عارضی طور پر بدکاری کو برداشت کرنے کے دوران جوبھی المیے واقع ہوئے ہیں اُن سب کا ازالہ ہو جائے گا۔ یہانتککہ انسانی دُکھدرد اور تکلیف کی یادیں بھی—جوکبھی بھی خدا کے مقصد کا حصہ نہیں تھیں—مکمل طور پر مٹا دی جائینگی۔ یسعیاہ نے پیشینگوئی کی کہ ”گذشتہ مصیبتیں فراموش ہو گئیں . . . پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہوگا۔ (یسعیاہ ۶۵:۱۶، ۱۷) فردوسی زمین پر مکمل امن اور خوشحالی میں آباد کامل انسانی خاندان کے لئے خدا کا ابتدائی مقصد پوری طرح پایۂتکمیل تک پہنچ جائیگا۔ (یسعیاہ ۴۵:۱۸) اُس کی حاکمیت پر بھروسہ حقیقی ہوگا۔ ایسے وقت میں زندگی بسر کرنا کتنا بڑا شرف ہے جب خدا تمام انسانی تکلیف کو ختم کر دیگا، ایک ایسا وقت جب وہ ظاہر کرتا ہے کہ نٹزش کے الزام کے مطابق وہ کوئی ”جابر، دغاباز، فریبی، جلاد“ نہیں بلکہ یہ کہ وہ مطلق طاقت کو استعمال کرنے میں ہمیشہ پُرمحبت، فہیم اور راست ہے!
[صفحہ 5 پر تصویر]
بعض حکمرانوں نے اپنے زیرِتسلط لوگوں کو آزاد مرضی سے محروم کرتے ہوئے، ذہن کو قابو میں کرنے کے طریقے آزمائے ہیں
[تصویر کا حوالہ]
UPI/Bettmann
[صفحہ 7 پر تصویر]
جب تکلیف نہیں رہیگی تو پھر تمام لوگ پوری طرح زندگی سے لطفاندوز ہونگے