یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏2 ص.‏ 27-‏31
  • ‏”‏اُس سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏اُس سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جو باتیں اُنہوں نے سنیں
  • جو جذبہ اُس نے دکھایا
  • اُسکا خدا پر عاجزانہ توکل
  • اُس کیلئے اپنی محبت کا اظہار کرنا
  • کیا آپ یسوع کی محبت کیلئے جوابی عمل دکھائیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • پوری طرح گواہی دینے کیلئے تربیت‌یافتہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • یسوع مسیح کون ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • آجکل یہوواہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏2 ص.‏ 27-‏31

‏”‏اُس سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو“‏

‏”‏اُس سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو اور اگرچہ اس وقت اُسکو نہیں دیکھتے توبھی اُس پر ایمان لاکر ایسی خوشی مناتے ہو۔“‏—‏۱-‏پطرس ۱:‏۸‏۔‏

۱.‏ اگرچہ آجکل زمین پر کسی شخص نے بھی یسوع کو نہیں دیکھا، بعض مذہبی لوگ کیسے اُس کیلئے عقیدت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟‏

آجکل زمین پر کوئی ایسا انسان نہیں جس نے کبھی یسوع مسیح کو دیکھا ہو۔ پھربھی، لاکھوں لوگ اُس سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہر سال جنوری ۹ کو منیلا، فلپائن میں مُلک کے مشہورومعروف مذہب کے نہایت پُرہجوم، نہایت قابلِ‌دید مظاہرے کے دوران صلیب اُٹھائے ہوئے یسوع مسیح کے قدِآدم مجسّمے کو گلیوں اور بازاروں میں گھمایا جاتا ہے۔ پُرجوش ہجوم میں دھکاپیل ہوتی ہے؛ لوگ مورت کو چھونے کی مضطرب کوشش میں ایک دوسرے کے اُوپر چڑھ جاتے ہیں۔ وہاں کھڑے ہوکر دیکھنے والے بیشتر لوگ شاندار جلوس سے اثرپذیر ہوتے ہیں۔ تاہم، اُن میں سے بعض بلا‌شُبہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خلوصدلی سے یسوع کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس کے اظہار میں وہ شاید گلے میں مسیح مصلوب کا مجسّمہ پہن کر رکھیں یا پھر شاید باقاعدہ چرچ جائیں۔ تاہم، کیا ایسی بُت‌پرستی کو سچی پرستش سمجھا جا سکتا ہے؟‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ یسوع کے پیروکاروں میں سے کون تھے جنہوں نے واقعی اُسے دیکھا اور اُسکی باتیں سنی تھیں؟ (‏ب)‏ پہلی صدی میں اَور کس نے یسوع سے محبت کی اور اُس پر ایمان رکھا اگرچہ اُنہوں نے کبھی اُسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا؟‏

۲ پہلی صدی میں، یہودیہ، سامریہ، پیریہ اور گلیل کے رومی صوبوں میں ایسے ہزارہا لوگ تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے واقعی یسوع مسیح کو دیکھا اور اُسکی باتیں سنیں تھیں۔ اُنہوں نے دل کو گرما دینے والی سچائیوں کو سنا جسکی اُس نے وضاحت کی تھی۔ وہ ان معجزات کے عینی شاہد تھے جو اُس نے کئے تھے۔ اُن میں سے بعض اُسکے عقیدتمند شاگرد بن گئے جنہیں اس بات کا یقین تھا کہ وہ ”‏زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔“‏ (‏متی ۱۶:‏۱۶‏)‏ تاہم، پطرس رسول نے جن لوگوں کو اپنا پہلا الہامی خط لکھا وہ اِن میں شامل نہیں تھے۔‏

۳ جنکو پطرس نے لکھا تھا وہ پُنطُس، گلتیہ، کپدُکیہ، آسیہ اور بتُھنیہ کے رومی صوبوں میں آباد تھے جو سب کے سب موجودہ ترکی کے علاقہ میں واقع ہیں۔ پطرس نے اُنہیں لکھا:‏ ”‏اُس سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو اور اگرچہ اس وقت اُسکو نہیں دیکھتے توبھی اُس پر ایمان لاکر ایسی خوشی مناتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۱:‏۱،‏ ۸‏)‏ اُنہوں نے یسوع مسیح کو محبت کرنے اور اُس پر ایمان لانے کی حد تک کیسے جانا تھا؟‏

۴، ۵.‏ جن لوگوں نے کبھی یسوع کو نہیں دیکھا تھا اُنہوں نے کیسے اُسکی بابت اتنا علم حاصل کِیا کہ اُس سے محبت رکھ سکیں اور اُس پر ایمان لے آئیں؟‏

۴ بدیہی طور پر، بعض اُسوقت یروشلیم میں موجود تھے جب پطرس رسول نے ۳۳ س.‏ع.‏ میں عیدِپنتِکُست پر حاضر ہونے والے ہجوم کو گواہی دی تھی۔ عید کے بعد بہت سے شاگردوں نے رسولوں سے مزید تعلیم پانے کے لئے یروشلیم ہی میں قیام کِیا۔ (‏اعمال ۲:‏۹،‏ ۴۱، ۴۲‏؛ مقابلہ کریں ۱-‏پطرس ۱:‏۱‏۔)‏ اپنے متعدد مشنری دَوروں پر، پولس نے بھی اُن لوگوں کے درمیان اپنی سرگرم خدمتگزاری جاری رکھی جو اُسی علاقے میں رہائش‌پذیر تھے جہاں پطرس نے بعدازاں اپنے نام سے پہلا بائبلی خط بھیجا تھا۔—‏اعمال ۱۸:‏۲۳؛‏ ۱۹:‏۱۰؛‏ گلتیوں ۱:‏۱، ۲‏۔‏

۵ جن لوگوں نے یسوع کو کبھی نہیں دیکھا تھا وہ اُسکی طرف اسقدر کیوں مائل ہوئے تھے؟ ہمارے زمانے میں، پوری دُنیا میں لاکھوں لوگ کیوں اُس سے گہری محبت رکھتے ہیں؟‏

جو باتیں اُنہوں نے سنیں

۶.‏ (‏ا)‏ اگر آپ نے ۳۳ س.‏ع.‏ میں پنتِکُست پر یسوع کی بابت پطرس کی گواہی سنی ہوتی تو آپ نے کیا کچھ سیکھا ہوتا؟ (‏ب)‏ اس نے تقریباً ۳۰۰۰ لوگوں کو کیسے متاثر کِیا جو وہاں حاضر تھے؟‏

۶ اگر آپ اُسوقت یروشلیم میں موجود ہوتے جب پطرس نے ۳۳ س.‏ع.‏ کی عید کیلئے جمع ہونے والے ہجوم سے خطاب کِیا تو آپ نے یسوع کی بابت کیا کچھ سیکھا ہوتا؟ بِلاشُبہ اُس نے جو معجزات کئے اُنہوں نے ظاہر کِیا کہ اُسے خدا نے بھیجا تھا۔ اگرچہ گنہگار انسانوں نے یسوع کو موت کے گھاٹ اُتار دیا توبھی وہ اب قبر میں نہیں تھا بلکہ زندہ کر دیا گیا تھا اور بعدازاں اُسے آسمان پر خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھنے کا اعزاز بخشا گیا تھا۔ یہ کہ یقیناً یسوع ہی مسیح یعنی وہ مسیحا تھا جس کے حق میں نبیوں نے تحریر کِیا تھا۔ یہ کہ یسوع مسیح کے وسیلے سے، اُسکے پیروکاروں پر روح‌القدس نازل کی گئی تھی تاکہ وہ بہت سی قوموں کے لوگوں کو خدا کے پُرجلال کاموں کی بابت جو وہ اپنے بیٹے کے وسیلے سے انجام دے رہا تھا فوراً گواہی دینے کے قابل ہو سکیں۔ اُس موقع پر پطرس کی تقریر سننے والے بہت سے لوگوں نے باطنی تحریک پائی اور تقریباً ۳۰۰۰ نے مسیحی شاگردوں کے طور پر بپتسمہ پایا۔ (‏اعمال ۲:‏۱۴-‏۴۲‏)‏ اگر آپ وہاں ہوتے تو کیا آپ نے ایسی فیصلہ‌کُن کارروائی کی ہوتی؟‏

۷.‏ (‏ا)‏ اگر آپ اُس وقت انطاکیہ میں ہوتے جب پولس رسول نے وہاں منادی کی تو آپ نے کیا سیکھا ہوتا؟ (‏ب)‏ بِھیڑ میں شامل بعض لوگ کیوں ایماندار بن گئے اور دوسروں کو خوشخبری میں شریک کِیا؟‏

۷ جب پولس رسول نے گلتیہ کے رومی صوبے انطاکیہ میں تعلیم دی تو اگر آپ وہاں موجود لوگوں کے درمیان ہوتے تو آپ نے یسوع کی بابت اَور کیا سیکھا ہوتا؟ آپ نے پولس کو یہ وضاحت کرتے ہوئے سنا ہوتا کہ نبیوں نے پہلے ہی سے بتا دیا تھا کہ یسوع یروشلیم کے حاکموں کے ہاتھوں موت کی سزا پائیگا۔ آپ نے یسوع کی قیامت کی بابت عینی شہادت کو بھی سنا ہوتا۔ آپ پولس کی اس وضاحت سے ضرور اثرپذیر ہوئے ہوتے کہ یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کرکے یہوواہ نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یقیناً یہی اُسکا بیٹا تھا۔ اور کیا آپ کا دل جوش سے بھر نہ گیا ہوتا جب آپ نے سنا ہوتا کہ یسوع پر ایمان لانے سے ممکن بنائی گئی گناہوں کی معافی ہمیشہ کی زندگی کا باعث بن سکتی ہے؟ (‏اعمال ۱۳:‏۱۶-‏۴۱،‏ ۴۶، ۴۷؛‏ رومیوں ۱:‏۴‏)‏ اُنہوں نے جوکچھ سنا اُسکی اہمیت کو پہچانتے ہوئے، انطاکیہ کے بعض لوگ شاگرد بن گئے اور گرمجوشی سے دوسروں کو بھی خوشخبری سنانے لگے اگرچہ اُن کیلئے ایسا کرنے کا مطلب تھا کہ وہ شدید اذیت کا سامنا کرینگے۔—‏اعمال ۱۳:‏۴۲، ۴۳،‏ ۴۸-‏۵۲؛‏ ۱۴:‏۱-‏۷،‏ ۲۱-‏۲۳‏۔‏

۸.‏ اگر آپ اُس وقت افسس کی کلیسیا کے اجلاس میں ہوتے جب اُنہیں پولس کا خط موصول ہوا تو آپ نے کیا سیکھا ہوتا؟‏

۸ اگر آپ کا تعلق آسیہ کے رومی صوبے، افسس کی مسیحی کلیسیا کیساتھ ہوتا تو اُس وقت کیا ہوتا جب وہاں کے شاگردوں کو پولس کا الہامی خط موصول ہوا؟ آپ نے اس سے خدا کے مقصد میں یسوع کے کردار کی بابت کیا سیکھا ہوتا؟ اُس خط میں پولس نے وضاحت کی کہ مسیح کے وسیلے سے آسمان اور زمین کی تمام چیزوں کا پھر سے خدا کیساتھ ملاپ ہو جائیگا، یہ کہ مسیح کے وسیلے سے تمام قوموں کے لوگوں کو خدا کی بخشش عطا کی گئی ہے، یہ کہ جو لوگ اپنی خطاؤں کے باعث خدا کی نظر میں مُردہ تھے اُنہیں مسیح پر ایمان کے وسیلے زندہ کر دیا گیا تھا اور یہ کہ اس فراہمی کی بدولت انسانوں کیلئے ایک بار پھر خدا کے عزیز فرزند بننا ممکن تھا۔—‏افسیوں ۱:‏۱،‏ ۵-‏۱۰؛‏ ۲:‏۴، ۵،‏ ۱۱-‏۱۳‏۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ کونسی چیز یہ دیکھنے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے کہ جوکچھ پولس نے افسیوں کو لکھا آیا آپ اُس کی اہمیت کو ذاتی طور پر سمجھتے ہیں؟ (‏ب)‏ رومی صوبوں میں آباد جن بھائیوں کا ذکر پطرس نے کِیا اُن پر یسوع کی بابت اُنکے علم کا کیا اثر ہوا؟‏

۹ کیا اس سب کیلئے قدردانی نے خدا کے بیٹے کے حق میں آپکی محبت کو گہرا کِیا ہوتا؟ کیا اُس محبت نے آپکی روزمرّہ زندگی کو متاثر کِیا ہوتاجیسے‌کہ پولس رسول افسیوں ۴ سے ۶ ابواب میں حوصلہ‌افزائی کرتا ہے؟ کیا ایسی قدردانی نے آپکو بڑی احتیاط سے زندگی میں اپنی ترجیحات کا جائزہ لینے کی تحریک دی ہوتی؟ خدا کی محبت اور اُسکے بیٹے کیلئے اظہارِتشکر کے باعث، کیا آپ نے ضروری تبدیلیاں کی ہوتیں تاکہ خدا کی مرضی پوری کرنا آپکی زندگی کا واقعی اہم مقصد ہوتا؟ (‏افسیوں ۵:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ آسیہ، گلتیہ اور دیگر رومی صوبوں کے مسیحیوں نے جوکچھ سیکھا اُس سے جو اثر لیا اُسکے سلسلے میں پطرس رسول نے لکھا:‏ ”‏اُس [‏یسوع مسیح]‏ سے تم بے‌دیکھے محبت رکھتے ہو .‏ .‏ .‏ اُس پر ایمان لاکر ایسی خوشی مناتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔“‏—‏۱-‏پطرس ۱:‏۸‏۔‏

۱۰.‏ (‏ا)‏ یسوع کیلئے ابتدائی مسیحیوں کی محبت میں بِلاشُبہ اَور کونسی چیز معاون ثابت ہوئی؟ (‏ب)‏ ہم بھی کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟‏

۱۰ جن ابتدائی مسیحیوں کو پطرس نے لکھا اُنہوں نے خدا کے بیٹے کیلئے جو محبت محسوس کی اُس کیلئے ایک اَور چیز بھی معاون ثابت ہوئی۔ وہ کیا تھی؟ جب پطرس نے اپنا پہلا خط تحریر کِیا تو اُس وقت تک کم‌ازکم دو اناجیل—‏متی اور لوقا—‏پہلے ہی سے تقسیم کی جا رہی تھیں۔ پہلی صدی کے جن مسیحیوں نے کبھی بھی یسوع کو نہیں دیکھا تھا وہ ان انجیلی بیانات کو پڑھ سکتے تھے۔ ہم بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اناجیل کوئی فرضی واقعات نہیں ہیں؛ ان میں نہایت معتبر تاریخ کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ ان الہامی ریکارڈز میں، ہمیں بہت سی ایسی باتیں ملتی ہیں جو خدا کے بیٹے کیلئے ہماری محبت کو گہرا کرتی ہیں۔‏

جو جذبہ اُس نے دکھایا

۱۱، ۱۲.‏ یسوع نے دوسرے انسانوں کیلئے جو جذبہ دکھایا اُسکے کونسے پہلو آپکو اُس سے محبت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں؟‏

۱۱ یسوع کی زندگی کی بابت تحریری ریکارڈ سے ہم سیکھتے ہیں کہ اُس نے دوسرے انسانوں کیساتھ کیسا سلوک کِیا۔ جو جذبہ اُس نے دکھایا وہ آج، اُسکی موت کے ۱۹۶۰ سال بعد بھی لوگوں کے دلوں کو موہ لیتا ہے۔ ہر انسان گناہ کے اثرات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ لاکھوں لوگ ناانصافیوں کا شکار ہوتے ہیں، بیماری کیخلاف نبردآزما ہیں یا دیگر وجوہات کی بِنا پر کچل ڈالنے والا مایوس‌کُن احساس رکھتے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کیلئے یسوع فرماتا ہے:‏ ”‏اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تمکو آرام دونگا۔ میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جُوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“‏—‏متی ۱۱:‏۲۸-‏۳۰‏۔‏

۱۲ یسوع نے نادار، فاقہ‌زدہ، اور غمزدہ لوگوں کیلئے گہری فکرمندی ظاہر کی۔ جب بعض حالات کے تحت یہ ضروری تھا تو اُس نے معجزانہ طور پر کئی ہزار لوگوں کو کھانا بھی کھلایا۔ (‏لوقا ۹:‏۱۲-‏۱۷‏)‏ اُس نے اُنہیں غلامانہ رسومات سے بھی آزاد کرایا۔ اُس نے سیاسی اور معاشی استبداد کا خاتمہ کرنے کے لئے خدا کے انتظام پر اُن کے ایمان کو بھی مضبوط کِیا۔ جو لوگ پہلے ہی سے افسردہ‌خاطر تھے یسوع نے اُن کے جذبات کو کبھی بھی ٹھیس نہ پہنچائی۔ نرم‌دلی اور محبت سے اُس نے بڑی مہارت کے ساتھ حلیموں کو حوصلہ دیا۔ اُس نے ایسے لوگوں کو تازگی بخشی جو مسلے ہوئے سرکنڈوں کی مانند تھے اور جو جلد بُجھنے والے چراغ کی مانند تھے۔ اُسوقت سے لیکر آج تک، اُس کا نام اُمید کی روح پھونک دیتا ہے حتیٰ‌کہ اُن میں بھی جنہوں نے اُسے کبھی نہیں دیکھا۔—‏متی ۱۲:‏۱۵-‏۲۱؛‏ ۱۵:‏۳-‏۱۰‏۔‏

۱۳.‏ جس طریقے سے یسوع نے گنہگاروں سے برتاؤ کِیا اُس نے لوگوں کو کیوں راغب کِیا؟‏

۱۳ یسوع نے غلط‌کاری کو پسند نہ کِیا، تاہم اُس نے ایسے لوگوں کے حق میں فہم سے کام لیا جنہوں نے زندگی میں غلطیاں تو کیں مگر توبہ ظاہر کرکے مدد کیلئے اُسکے پاس آئے تھے۔ (‏لوقا ۷:‏۳۶-‏۵۰‏)‏ وہ اس خیال سے معاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے لوگوں کیساتھ بیٹھ کر کھایا پیا کرتا تھا کہ ایسا کرنے سے اُسے اُنکی روحانی طور پر مدد کرنے کا موقع‌ملیگا۔ (‏متی ۹:‏۹-‏۱۳‏)‏ اُس نے جو جذبہ ظاہر کِیا اُسکے نتیجے میں، ایسے ہی حالات میں مبتلا لاکھوں لوگوں نے، جنہوں نے اُسے کبھی دیکھا تک نہیں اُسے جاننے کی تحریک پائی ہے اور اُس پر ایمان لائے ہیں۔‏

۱۴.‏ جس طریقے سے یسوع نے بیمار، معذور یا سوگوار لوگوں کی مدد کی اُس کی بابت کونسی بات آپ کو دلکش معلوم ہوتی ہے؟‏

۱۴ یسوع جس طریقے سے بیمار یا معذور لوگوں سے پیش آیا وہ اُسکی محبت اور رحم نیز اُنہیں تسکین پہنچانے کیلئے اُسکی قابلیت کی شہادت پیش کرتا ہے۔ لہٰذا، جب کوڑھ سے بھرا ہوا ایک بیمار شخص اُسکے پاس آیا اور مدد کیلئے درخواست کی تو یسوع گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹ گیا تھا۔ اور نہ ہی اُس نے اُس شخص سے یہ کہا کہ اگرچہ اُسے اُس پر رحم آتا ہے مگر اُسکی بیماری اسقدر بڑھ چکی ہے کہ اب کوئی مدد نہیں کی جا سکتی۔ اُس شخص نے التجا کی:‏ ”‏اَے خداونداگر تُو چاہے تو مجھے پاک‌صاف کر سکتا ہے۔“‏ یسوع نے بِلاہچکچاہٹ ہاتھ بڑھایا اور کوڑھی آدمی کو چھؤا اور کہا:‏ ”‏مَیں چاہتا ہوں تُو پاک‌صاف ہو جا۔“‏ (‏متی ۸:‏۲، ۳‏)‏ ایک دوسرے موقع پر ایک عورت نے چھپ کر اُسکی پوشاک کو چھو کر شفا پانے کی کوشش کی۔ یسوع اُس سے مہربانہ اور تسلی‌بخش طریقے سے پیش آیا۔ (‏لوقا ۸:‏۴۳-‏۴۸‏)‏ اور جب اُس نے ایک جنازہ دیکھا تو وہ اُس غمزدہ بیوہ کیلئے رحم سے بھر گیا جسکا اِکلوتا بیٹا مر گیا تھا۔ اگرچہ یسوع اپنی ذات کیلئے معجزانہ طور پر خوراک حاصل کرنے کی غرض سے اپنی خداداد قوت کو استعمال کرنے سے انکار کر چکا تھا توبھی اُس نے اُس مُردہ شخص کو زندہ کرنے کیلئے اسے بخوشی استعمال کِیا اور اُسے اُسکی ماں کو دے دیا۔—‏لوقا ۴:‏۲-‏۴؛‏ ۷:‏۱۱-‏۱۶‏۔‏

۱۵.‏ یسوع کی بابت بیانات کو پڑھنا اور اُن پر غور کرنا آپ پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟‏

۱۵ جب ہم ان بیانات کو پڑھتے ہیں اور یسوع کے ظاہرکردہ جذبے پر غور کرتے ہیں تو ہماری محبت اس کیلئے گہری ہو جاتی ہے جس نے اپنی انسانی زندگی محض اسلئے قربان کر دی کہ ہم ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔ اگرچہ ہم نے اُسے کبھی نہیں دیکھا، ہم اُسکی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں اور ہم اُسکے نقشِ‌قدم پر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔—‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏۔‏

اُسکا خدا پر عاجزانہ توکل

۱۶.‏ یسوع نے بنیادی توجہ کس پر مرکوز رکھی اور وہ ہمیں کیا کرنے کی حوصلہ‌افزائی دیتا ہے؟‏

۱۶ سب سے بڑھکر، یسوع نے اپنی اور ہماری توجہ اپنے آسمانی باپ، یہوواہ پر مُرتکز رکھی۔ اُس نے شریعت کے سب سے بڑے حکم کی شناخت ان الفاظ سے کرائی:‏ ”‏خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔“‏ (‏متی ۲۲:‏۳۶، ۳۷‏)‏ اُس نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کی:‏ ”‏خدا پر ایمان رکھو۔“‏ (‏مرقس ۱۱:‏۲۲‏)‏ جب اُنہیں اپنے ایمان کی سخت آزمائش کا سامنا ہوا تو اُس نے اُنہیں تاکید کی:‏ ”‏دُعا کرو۔“‏—‏متی ۲۶:‏۴۱‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ (‏ا)‏ یسوع نے اپنے باپ پر اپنے عاجزانہ توکل کا مظاہرہ کیسے کِیا؟ (‏ب)‏ اُس نے جوکچھ بھی کِیا وہ ہمارے لئے اتنا اہم کیوں ہے؟‏

۱۷ یسوع نے خود بھی نمونہ قائم کِیا۔ دُعا اسکی زندگی کا جزوِلازم تھی۔ (‏متی ۱۴:‏۲۳؛‏ لوقا ۹:‏۲۸؛‏ ۱۸:‏۱‏)‏ جب اپنے رسولوں کو منتخب کرنے کا اُسکا وقت آ پہنچا تو اگرچہ پہلے آسمان میں تمام فرشتے اُسکی زیرِنگرانی تھے پھربھی یسوع نے محض اپنے فہم پر تکیہ نہ کِیا۔ اُس نے عاجزی کیساتھ اپنے باپ سے دُعا کرنے میں ساری رات گزار دی۔ (‏لوقا ۶:‏۱۲، ۱۳‏)‏ جب اُسے گرفتاری اور اذیت‌ناک موت کا سامنا ہوا تو یسوع نے ایک بار پھر مستعدی سے دُعا کرتے ہوئے اپنے باپ سے رجوع کِیا۔ اُس نے یہ نہ سوچا کہ وہ شیطان کو اچھی طرح جانتا ہے اور یہ شریر ہستی جو بھی چال چلے گی وہ اُس پر بآسانی قابو پا لیگا۔ یسوع کو اس بات کا احساس تھا کہ یہ کسقدر اہم ہے کہ وہ ناکام نہ ہو۔ اُس کی ناکامی اُس کے باپ کیلئے کتنی رسوائی کا باعث بنے گی!‏ اور نوعِ‌انسان کو کتنا بڑا نقصان پہنچے گا جنکی زندگی کے امکانات کا انحصار اُسی قربانی پر تھا جو یسوع نے پیش کرنی تھی!‏

۱۸ یسوع جب یروشلیم میں اپنے رسولوں کیساتھ بالاخانے میں تھا تو اُس نے باربار دُعا کی اور گتسمنی باغ میں تو اَور بھی جوش‌وخروش کیساتھ دُعا کی۔ (‏متی ۲۶:‏۳۶-‏۴۴؛‏ یوحنا ۱۷:‏۱-‏۲۶؛‏ عبرانیوں ۵:‏۷‏)‏ سولی پر تکلیف سہتے وقت، اُس نے اپنا تمسخر اُڑانے والوں کو بُرابھلا نہ کہا۔ اسکی بجائے، اُس نے اُن کیلئے دُعا کی جو لاعلمی میں ایسا کر رہے تھے:‏ ”‏اَے باپ!‏ انکو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔“‏ (‏لوقا ۲۳:‏۳۴‏)‏ اُس نے ”‏اپنے آپ کو سچے انصاف کرنے والے کے سپرد“‏ کرتے ہوئے اپنا دھیان اپنے باپ کی طرف لگائے رکھا۔ سولی پر آخری الفاظ جو اُسکے مُنہ سے نکلے وہ بھی اُسکے باپ سے ایک دُعا ہی تھے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۳؛‏ لوقا ۲۳:‏۴۶‏)‏ ہم کسقدر مشکور ہیں کہ یہوواہ پر کامل توکل کیساتھ یسوع نے وفاداری سے اُس تفویض کو پورا کِیا جو اُسکے باپ نے اُسے سونپی تھی!‏ اگرچہ ہم نے کبھی یسوع مسیح کو نہیں دیکھا توبھی جوکچھ اُس نے کِیا ہم اُس کیلئے اُس سے کسقدر محبت رکھتے ہیں!‏

اُس کیلئے اپنی محبت کا اظہار کرنا

۱۹.‏ یسوع کے لئے محبت کا اظہار کرنے میں، ہم کونسے غیرموزوں کاموں سے گریز کرینگے؟‏

۱۹ ہم اس بات کا ثبوت کیسے فراہم کر سکتے ہیں کہ ہم جس محبت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ محض زبانی نہیں؟ چونکہ اُس کے باپ نے، جس سے یسوع نے محبت کی، مورتیاں بنانے اور اُنکی پرستش کرنے سے منع کِیا ہے اسلئے ایسی مورت کو زنجیر میں ڈال کر گلے میں لٹکائے پھرنایاگلیوں اور بازاروں میں اُٹھا کر گھومنا یسوع کیلئے باعثِ‌عزت نہیں ہوگا۔ (‏خروج ۲۰:‏۴، ۵؛‏ یوحنا ۴:‏۲۴‏)‏ اگر ہم ہفتے میں کئی مرتبہ مذہبی عبادات پر حاضر ہوتے ہیں مگر باقیماندہ ہفتے میں اُسکی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر نہیں کرتے تو اس سے بھی یسوع کیلئے کوئی احترام ظاہر نہیں ہوگا۔ یسوع نے فرمایا:‏ ”‏جسکے پاس میرے حکم ہیں اور وہ اُن پر عمل کرتا ہے وہی مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ میرے باپ کا پیارا ہوگا۔“‏—‏یوحنا ۱۴:‏۲۱،‏ ۲۳؛‏۱۵:‏۱۰‏۔‏

۲۰.‏ چند ایسے کام کونسے ہیں جو ظاہر کریں گے کہ آیا ہم واقعی یسوع سے محبت کرتے ہیں؟‏

۲۰ اُس نے ہمیں کونسے حکم دئے ہیں؟ سب سے پہلا تو یہ کہ سچے خدا یہوواہ کی، جی‌ہاں صرف اُسی کی پرستش کریں۔ (‏متی ۴:‏۱۰‏؛ یوحنا۱۷:‏۳)‏ خدا کے مقصد میں اپنے کردار کی وجہ سے، یسوع نے یہ بھی سکھایا کہ ہمیں اُسے خدا کا بیٹا جان کر اُس پر ایمان لانا چاہئے اور یہ کہ ہمیں بُرے کاموں کو ترک کرنے اور نور میں چلنے سے اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶-‏۲۱‏)‏ اُس نے ہمیں خدا کی بادشاہت اور اُس کی راستبازی کی پہلے تلاش کرنے کی یعنی اُنہیں جسمانی ضروریات کی فکر پر مُقدم رکھنے کی نصیحت کی۔ (‏متی ۶:‏۳۱-‏۳۳‏)‏ اُس نے ہمیں حکم دیا کہ ایک دوسرے سے محبت رکھیں جیسے اُس نے ہم سے محبت رکھی۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۲۲‏)‏ اور اُس نے ہمیں خدا کے مقصد کے گواہ ہونے کی تفویض سونپی جیسے‌کہ وہ خود بھی تھا۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ مکاشفہ ۳:‏۱۴‏)‏ اگرچہ اُنہوں نے یسوع کو کبھی نہیں دیکھا توبھی تقریباً پانچ ملین یہوواہ کے گواہ آجکل ان احکام کی تعمیل کرنے کیلئے اُسکی حقیقی محبت سے تحریک پاتے ہیں۔ انکا خوداپنی آنکھوں سے یسوع کو نہ دیکھنا اُنکے فرمانبرداری کرنے کے عزم کو کمزور نہیں کرتا۔ اُنکے ذہن میں وہی بات ہے جو اُنکے خداوند نے رسول توما سے کہی تھی:‏ ”‏تُو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے۔“‏—‏یوحنا ۲۰:‏۲۹‏۔‏

۲۱.‏ اس سال مارچ ۲۳، بروز اتوار منعقد ہونے والی مسیح کی موت کی یادگار پر حاضر ہونے سے ہم کیسے مستفید ہونگے؟‏

۲۱ اُمید ہے کہ پوری دُنیا کے اندر آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہونگے جو مارچ ۲۳، ۱۹۹۷ کو غروبِ‌آفتاب کے بعد نوعِ‌انسان کیلئے خدا کی محبت کے عظیم‌ترین اظہار کو یاد کرنے اور اُسکے وفادار بیٹے، یسوع مسیح کی موت کی یادگار منانے کیلئے یہوواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہالوں میں جمع ہونگے۔ اس تقریب پر جوکچھ بھی کہا یا کِیا جائیگا اُسے یہوواہ اور اُسکے بیٹے کیلئے محبت کو گہرا کرنا چاہئے اور یوں خدا کے احکام کی پابندی کرنے کی خواہش کو بڑھانا چاہئے۔—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ جن لوگوں سے پطرس کی پہلی کتاب مخاطب کی گئی اُنہوں‌نے یسوع کو کیسے جانا اور اُس سے محبت رکھی؟‏

▫ چند ایسی باتیں کونسی ہیں جو ابتدائی مسیحیوں نے سنیں جو آپ پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں؟‏

▫ جو جذبہ یسوع نے دکھایا اُسکے کونسے پہلو اُس کیلئے آپکی محبت کو گہرا کرتے ہیں؟‏

▫ خدا پر یسوع کا عاجزانہ توکل ہمارے لئے اتنا اہم کیوں ہے؟‏

▫ ہم یسوع مسیح کیلئے اپنی محبت کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں