آجکل یہوواہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟
”اُس بادل میں سے آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں اسکی سنو۔“—متی ۱۷:۵۔
۱. شریعت نے کب اپنا مقصد پورا کر دیا تھا؟
یہوواہ نے اسرائیلی قوم کو کئی خصوصیات پر مشتمل شریعت عطا کی تھی۔ پولس رسول نے انکی بابت لکھا: ”وہ . . . جسمانی احکام ہیں جو اصلاح کے وقت تک مقرر کئے گئے ہیں۔“ (عبرانیوں ۹:۱۰) شریعت نے اسرائیلی بقیے کی یسوع کو بطور مسیحا یا مسیح قبول کرنے تک راہنمائی کرکے اپنا مقصد پورا کر دیا تھا۔ لہٰذا، پولس نے بیان کِیا: ”مسیح شریعت کا انجام ہے۔“—رومیوں ۱۰:۴؛ گلتیوں ۳:۱۹-۲۵؛ ۴:۴، ۵۔
۲. کون شریعت کے ماتحت تھے اور وہ کب اس سے آزاد ہو گئے؟
۲ کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ آجکل ہم شریعت کے پابند نہیں ہیں؟ دراصل، نوعِانسان کی اکثریت کبھی بھی شریعت کے تابع نہیں تھی جیساکہ زبورنویس وضاحت کرتا ہے: ”[یہوواہ] اپنا کلام یعقوؔب پر ظاہر کرتا ہے اور اپنے آئینواحکام اؔسرائیل پر۔ اُس نے کسی اَور قوم سے ایسا سلوک نہیں کِیا اور اُس کے احکام کو اُنہوں نے نہیں جانا۔“ (زبور ۱۴۷:۱۹، ۲۰) جب خدا نے یسوع کی قربانی کی بنیاد پر نیا عہد قائم کِیا تو اسرائیلی قوم بھی شریعت پر عمل کرنے کی پابند نہیں رہی تھی۔ (گلتیوں ۳:۱۳؛ افسیوں ۲:۱۵؛ کلسیوں ۲:۱۳، ۱۴، ۱۶) پس، اگر شریعت نافذالعمل نہیں رہی تو پھر یہوواہ آجکل اُن لوگوں سے کیا تقاضا کرتا ہے جو اُس کی خدمت کرنے کے خواہشمند ہیں؟
یہوواہ کا تقاضا کیا ہے
۳، ۴. (ا) یہوواہ آجکل بنیادی طور پر ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ (ب) ہمیں یسوع کے نقشِقدم پر کیوں چلنا چاہئے؟
۳ یسوع کی خدمتگزاری کے آخری سال کے دوران، اُس کے رسول پطرس، یعقوب اور یوحنا ایک اونچے پہاڑ، کوہِحرمون پر اُس کیساتھ گئے۔ وہاں پر اُنہوں نے ایک نبوّتی رویا میں یسوع کو جاہوجلال میں دیکھا اور خدا کی آواز کو یہ کہتے سنا: ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں اس کی سنو۔“ (متی ۱۷:۱-۵) بنیادی طور پر، یہوواہ ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ ہم اُسکے بیٹے کی سنیں اور اُسکے نمونے اور تعلیمات کے مطابق عمل کریں۔ (متی ۱۶:۲۴) لہٰذا، پطرس رسول نے لکھا: ”مسیح بھی تمہارے واسطے دُکھ اُٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تاکہ اُسکے نقشِقدم پر چلو۔“—۱-پطرس ۲:۲۱۔
۴ ہمیں یسوع کے نقشِقدم پر کیوں چلنا چاہئے؟ اسلئے کہ اُس کی نقل کرنے سے ہم یہوواہ خدا کی نقل کرتے ہیں۔ یسوع اپنے باپ کو بہت اچھی طرح سے جانتا تھا کیونکہ اُس نے زمین پر آنے سے قبل آسمان میں اُس کے ساتھ غیرمُعیّنہ وقت گزارا تھا۔ (امثال ۸:۲۲-۳۱؛ یوحنا ۸:۲۳؛ ۱۷:۵؛ کلسیوں ۱:۱۵-۱۷) زمین پر یسوع نے وفاداری کیساتھ اپنے باپ کی نمائندگی کی۔ اُس نے واضح کِیا: ”جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔“ یسوع نے درحقیقت یہوواہ کی اس حد تک نقل کی کہ وہ کہہ سکتا تھا: ”جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔“—یوحنا ۸:۲۸؛ ۱۴:۹۔
۵. مسیحی کس شریعت کے تابع ہیں اور یہ شریعت کب نافذ کی گئی تھی؟
۵ یسوع کی بات سننے اور اُس کی نقل کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ کیا اس کا مطلب کسی شریعت کے تابع ہونا ہے؟ پولس نے لکھا: ”مَیں . . . خود شریعت کے ماتحت نہ تھا۔“ یہاں وہ ”پُرانے عہدنامے،“ اسرائیل کے ساتھ کئے گئے شریعتی عہد کا ذکر کر رہا تھا۔ پولس نے تسلیم کِیا کہ وہ ”مسیح کی شریعت کے تابع تھا۔“ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۰، ۲۱؛ ۲-کرنتھیوں ۳:۱۴) پُرانے شریعتی عہد کے ختم ہوتے ہی ”نیا عہد،“ ”مسیح کی شریعت“ کیساتھ نافذ ہوا جس کی آجکل یہوواہ کے تمام خادموں کو پابندی کرنی چاہئے۔—لوقا ۲۲:۲۰؛ گلتیوں ۶:۲؛ عبرانیوں ۸:۷-۱۳۔
۶. ”مسیح کی شریعت“ کو کیسے بیان کِیا جا سکتا ہے اور ہم اسکی تعمیل کیسے کر سکتے ہیں؟
۶ یہوواہ نے پُرانے شریعتی عہد کی طرح ”مسیح کی شریعت“ کو مختلف شقوں والے آئین کی صورت میں تحریر نہیں کرایا تھا۔ مسیح کے پیروکاروں کے لئے اس نئی شریعت میں اس سلسلے میں کوئی لمبیچوڑی فہرست نہیں ہے کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم، اپنے کلام میں یہوواہ نے اپنے بیٹے کی زندگی اور تعلیمات کی چار جامع سرگزشتیں ضرور محفوظ کرائی تھیں۔ مزیدبرآں، خدا نے یسوع کے ابتدائی پیروکاروں میں سے بعض کو ذاتی رُجحانات، کلیسیائی امور، خاندانی حلقے میں طرزِعمل اور دیگر معاملات کی بابت تحریری ہدایات فراہم کرنے کے لئے الہام بخشا تھا۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۱۸؛ ۱۴:۲۶-۳۵؛ افسیوں ۵:۲۱-۳۳؛ عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) جب ہم اپنی زندگیوں کو یسوع مسیح کے نمونے اور تعلیمات کے مطابق ڈھالتے ہیں اور پہلی صدی کے مُلہَم بائبلنویسوں کی مشورت پر دھیان دیتے ہیں تو ہم ”مسیح کی شریعت“ کی تعمیل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہوواہ آجکل اپنے خادموں سے یہی تقاضا کرتا ہے۔
محبت کی اہمیت
۷. یسوع نے اپنے رسولوں کیساتھ آخری فسح کے موقع پر اس شریعت کے جوہر کو کیسے نمایاں کِیا تھا؟
۷ اگرچہ شریعت کے تحت محبت خاص اہمیت رکھتی تھی مگر مسیح کی شریعت کا یہ مرکز یا جوہر ہے۔ جب یسوع ۳۳ س.ع. کی فسح منانے کے لئے اپنے رسولوں کیساتھ بیٹھا تو اُس نے اس حقیقت پر زور دیا۔ اُس رات کے واقعہ کی بابت یوحنا رسول کے بیان کے مطابق یسوع کے دل سے نکلنے والی باتوں میں ۲۸ مرتبہ محبت کا ذکر آیا۔ اس سے اُس کے شاگردوں پر اُس کی شریعت کی بنیادی خاصیت یا حقیقی مفہوم واضح ہو گیا۔ نہایت معنیخیز انداز میں، یوحنا اُس اہم شام کے واقعات کا بیان یوں شروع کرتا ہے: ”عیدِفسح سے پہلے جب یسوؔع نے جان لیا کہ میرا وہ وقت آ پہنچا کہ دُنیا سے رخصت ہو کر باپ کے پاس جاؤں تو اپنے ان لوگوں سے جو دُنیا میں تھے جیسی محبت رکھتا تھا آخر تک محبت رکھتا رہا۔“—یوحنا ۱۳:۱۔
۸. (ا) رسولوں کے درمیان مسلسل جھگڑے کا کیا اشارہ ملتا ہے؟ (ب) یسوع نے اپنے رسولوں کو فروتنی کا درس کیسے دیا تھا؟
۸ یسوع نے اپنے رسولوں سے محبت رکھی اگرچہ اُس نے مرتبے اور اختیار کے لئے اُن کی خواہش کو ختم کرنے کی کوشش کی توبھی اُسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ یروشلیم میں آنے سے کئی ماہ پہلے، ’وہ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ ہم میں سے بڑا کون ہے۔‘ نیز فسح کے لئے شہر میں داخل ہونے سے تھوڑا پہلے بھی اُن میں بڑے مرتبے کی بابت جھگڑا ہوا تھا۔ (مرقس ۹:۳۳-۳۷؛ ۱۰:۳۵-۴۵) جب رسول اپنی آخری فسح منانے کے لئے بالاخانے میں داخل ہوئے تو جوکچھ اس کے فوراً بعد واقع ہوا اُس سے بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اُن کے درمیان یہ مسئلہ مسلسل چل رہا تھا۔ اُس وقت اُن میں سے کسی نے بھی دوسروں کے پاؤں دھونے کی خدمت انجام دیکر مہماننوازی دکھانے کی رسم ادا کرنے کے موقع سے فائدہ نہ اُٹھایا۔ اُنہیں فروتنی کا درس دینے کے لئے یسوع نے خود اُن کے پاؤں دھوئے۔—یوحنا ۱۳:۲-۱۵؛ ۱-تیمتھیس ۵:۹، ۱۰۔
۹. آخری فسح کے بعد واقع ہونے والی صورتحال کو یسوع نے کیسے نپٹایا تھا؟
۹ اس عمدہ سبق کے باوجود، فسح منانے اور یسوع کے اپنی قریبی موت کی یادگار رائج کرنے کے بعد، غور فرمائیں کہ پھر کیا واقع ہوتا ہے۔ لوقا کی انجیل کا بیان کہتا ہے: ”اُن میں یہ تکرار بھی ہوئی کہ ہم میں سے کون بڑا سمجھا جاتا ہے؟“ رسولوں کو غصے سے جھڑکنے کی بجائے، یسوع نے نرمی کے ساتھ اُنہیں نصیحت کی کہ اُنہیں اقتدار کے بھوکے دُنیاوی حکمرانوں سے فرق نظر آنے کی ضرورت ہے۔ (لوقا ۲۲:۲۴-۲۷) اسکے بعد اُس نے وہ حکم دیا جو مسیح کی شریعت کی بنیاد ہے: ”مَیں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“—یوحنا ۱۳:۳۴۔
۱۰. یسوع نے اپنے شاگردوں کو کیا حکم دیا تھا اور اس میں کیا کچھ شامل تھا؟
۱۰ اسی شام، بعد میں یسوع نے واضح کِیا کہ مسیح جیسی محبت کی حد کیا ہونی چاہئے۔ اُس نے کہا: ”میرا حکم یہ ہے کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایکدوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دیدے۔“ (یوحنا ۱۵:۱۲، ۱۳) کیا یسوع یہ کہہ رہا تھا کہ اگر حالات کا تقاضا ہو تو اُس کے پیروکاروں کو اپنے ساتھی ایمانداروں کیلئے موت کو بھی گلے لگانے کیلئے تیار رہنا چاہئے؟ اس موقع کا عینیشاہد، یوحنا یہی سمجھا تھا کیونکہ اُس نے بعدازاں لکھا: ”ہم نے محبت کو اسی سے جانا ہے کہ [یسوع مسیح] نے ہمارے واسطے اپنی جان دے دی اور ہم پر بھی بھائیوں کے واسطے جان دینا فرض ہے۔“—۱-یوحنا ۳:۱۶۔
۱۱. (ا) ہم مسیح کی شریعت کو کیسے پورا کرتے ہیں؟ (ب) یسوع نے کونسا نمونہ فراہم کِیا؟
۱۱ پس، ہم صرف دوسروں کو مسیح کی بابت تعلیم دینے سے ہی اُس کی شریعت کو پورا نہیں کرتے۔ ہمیں یسوع کی طرح زندگی بھی گزارنی چاہئے اور اُس جیسا مزاج بھی رکھنا چاہئے۔ سچ ہے کہ یسوع نے اپنے خطبات میں جاذبِتوجہ، جچےتلے الفاظ استعمال کئے تھے۔ تاہم، اُس نے اپنے نمونے سے بھی سکھایا تھا۔ اگرچہ یسوع آسمان میں ایک طاقتور روحانی مخلوق رہ چکا تھا توبھی اُس نے زمین پر اپنے باپ کے مفادات کیلئے کام کرنے اور ہمیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کے موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ وہ فروتن، مہربان اور بامروّت تھا اور اکثر بوجھ تلے دبے ہوؤں اور مظلوموں کی مدد کِیا کرتا تھا۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰؛ ۲۰:۲۸؛ فلپیوں ۲:۵-۸؛ ۱-یوحنا ۳:۸) چنانچہ، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو تاکید کی کہ جیسے اُس نے اُن سے محبت رکھی تھی وہ بھی ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔
۱۲. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ مسیح کی شریعت یہوواہ کیلئے محبت کو کم نہیں کرتی؟
۱۲ یہوواہ کے لئے محبت—شریعت کے سب سے بڑے حکم کا مسیح کی شریعت میں کیا درجہ ہے؟ (متی ۲۲:۳۷، ۳۸؛ گلتیوں ۶:۲) دوسرا درجہ؟ ہرگز نہیں! یہوواہ کے لئے محبت اور اپنے ساتھی مسیحیوں کیلئے محبت لازموملزوم ہیں۔ اپنے بھائی سے محبت رکھے بغیر یہوواہ سے محبت رکھنا ناممکن ہے، اسی لئے یوحنا رسول نے لکھا: ”اگر کوئی کہے کہ مَیں خدا سے محبت رکھتا ہوں اور وہ اپنے بھائی سے عداوت رکھے تو جھوٹا ہے کیونکہ جو اپنے بھائی سے جِسے اُس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جِسے اُس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔“—۱-یوحنا ۴:۲۰؛ مقابلہ کریں ۱-یوحنا ۳:۱۷، ۱۸۔
۱۳. شاگردوں کے یسوع کے نئے حکم کی تعمیل کرنے کا کیا اثر ہوا تھا؟
۱۳ جب یسوع نے اپنے شاگردوں کو ایک دوسرے سے بالکل ویسے ہی محبت رکھنے کا نیا حکم دیا جیسے اُس نے خود اُن سے محبت رکھی تھی تو اُس نے بیان کِیا کہ اسکا اثر ہوگا۔ اُس نے کہا، ”اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ (یوحنا ۱۳:۳۵) یسوع کی موت کے سو سال بعد منظرِعام پر آنے والے ٹرٹولین نے بیان کِیا کہ ابتدائی مسیحیوں کی برادرانہ محبت واقعی ایسا اثر رکھتی تھی۔ ٹرٹولین کے مطابق غیرمسیحی لوگوں کی مسیح کے پیروکاروں کی بابت یہ رائے تھی: ’یہ لوگ آپس میں اتنی محبت رکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کیلئے مرنے کو بھی تیار ہیں۔‘ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں، ’کیا مَیں ساتھی مسیحیوں کیلئے ایسی محبت رکھتا ہوں جس سے ثابت ہو کہ مَیں یسوع کا شاگرد ہوں؟‘
ہم اپنی محبت کا ثبوت کیسے دیتے ہیں
۱۴، ۱۵. کیا چیز مسیح کی شریعت کی تعمیل کو مشکل بنا سکتی ہے لیکن کونسی چیز اسے پورا کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟
۱۴ یہوواہ کے خادموں پر مسیح جیسی محبت کو ظاہر کرنا لازم ہے۔ تاہم کیا آپ خودغرضانہ خصائل کا مظاہرہ کرنے والے ساتھی مسیحیوں سے محبت رکھنا مشکل پاتے ہیں؟ اس ضمن میں، ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ رسول بھی اپنے مفادات کو فروغ دینے کے لئے کوشاں تھے اور اس کے لئے جھگڑتے تھے۔ (متی ۲۰:۲۰-۲۴) گلتیہ کے مسیحی بھی آپس میں بڑی بحثوتکرار کرتے تھے۔ یہ ظاہر کرنے کے بعد کہ پڑوسی سے محبت رکھنے سے ساری شریعت کی تکمیل ہو جاتی ہے، پولس نے اُنہیں آگاہ کِیا: ”اگر تم ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑے کھاتے ہو تو خبردار رہنا کہ ایک دوسرے کا ستیاناس نہ کر دو۔“ جسم کے کاموں کا خدا کی روح کے پھلوں کیساتھ موازنہ کرنے کے بعد، پولس نے یہ تلقین کی: ”ہم بیجا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“ اس کے بعد رسول تاکید کرتا ہے: ”تم ایک دوسرے کا بار اُٹھاو اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔“—گلتیوں ۵:۱۴–۶:۲۔
۱۵ کیا مسیح کی شریعت پر عمل کرنے کا تقاضا کرنے سے یہوواہ ہم سے بہت زیادہ کا تقاضا کر رہا ہے؟ یہ بات درست ہے کہ ہمارے ساتھ تلخکلامی کرنے اور ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوں کیساتھ مہربانی سے پیش آنا مشکل ہوتا ہے مگر پھربھی ہم پر اس نصیحت پر عمل کرنا فرض ہے کہ ”عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔ اور محبت سے چلو۔“ (افسیوں ۵:۱، ۲) ہمیں ہر وقت خدا کے نمونے کو نگاہ میں رکھنا چاہئے جو ”اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔“ (رومیوں ۵:۸) ہمارے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں سمیت دوسروں کی مدد کرنے میں پہل کرکے ہم اس علم سے اطمینان حاصل کر سکتے ہیں کہ ہم خدا کی نقل اور مسیح کی شریعت کی پابندی کر رہے ہیں۔
۱۶. ہم خدا اور مسیح کیلئے اپنی محبت کا ثبوت کیسے دیتے ہیں؟
۱۶ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم قول سے نہیں بلکہ فعل سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ خود یسوع کے لئے خدا کی مرضی کے ایک پہلو پر پورا اُترنا مشکل تھا۔ یسوع نے دُعا کی کہ ”اَے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔“ تاہم اسکے فوراً ہی بعد یہ کہا: ”تَو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔“ (لوقا ۲۲:۴۲) تمام تکلیف اُٹھانے کے باوجود یسوع نے خدا کی مرضی پوری کی۔ (عبرانیوں ۵:۷، ۸) فرمانبرداری ہماری محبت کا ثبوت ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ ہماری نظر میں یہوواہ کی راہ ہی بہترین ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں۔“ (۱-یوحنا ۵:۳) پس، یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا: ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“—یوحنا ۱۴:۱۵۔
۱۷. یسوع نے اپنے پیروکاروں کو کونسا خاص حکم دیا تھا اور ہم کیسے جانتے ہیں کہ آجکل اسکا ہم پر اطلاق ہوتا ہے؟
۱۷ اپنے شاگردوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم دینے کے علاوہ مسیح نے اُنہیں اَور کونسا خاص حکم دیا؟ اُس نے اُنہیں منادی کرنے کا حکم دیا جس کی اُس نے اُنہیں تربیت دی تھی۔ پطرس نے کہا: ”اُس نے ہمیں حکم دیا کہ اُمت میں منادی کرو اور گواہی دو۔“ (اعمال ۱۰:۴۲) یسوع نے بھی بالخصوص یہ حکم دیا تھا: ”پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور انکو باپ اور بیٹے اور روحالقدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور انکو یہ تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تمکو دیا۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ اعمال ۱:۸) یسوع نے یہ بھی ظاہر کِیا کہ ان ہدایات کا اطلاق اب اس ”آخری زمانہ“ میں اُسکے پیروکاروں پر بھی ہوگا کیونکہ اُس نے کہا: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“ (دانیایل ۱۲:۴؛ متی ۲۴:۱۴) بِلاشُبہ، خدا کی یہ مرضی ہے کہ ہم منادی کریں۔ تاہم، بعض شاید سوچیں کہ اس کام کا خدائی تقاضا بہت بڑا ہے۔ تاہم کیا واقعی ایسا ہے؟
یہ مشکل کیوں دکھائی دے سکتا ہے
۱۸. جب ہم یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے باعث دُکھ اُٹھاتے ہیں تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟
۱۸ جیسےکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ پوری تاریخ میں یہوواہ نے لوگوں سے مختلف تقاضے کئے ہیں۔ اُن سے کئے گئے تقاضوں کے فرق ہونے کے پیشِنظر اُنکے تجربے میں آنے والی آزمائشیں بھی فرق نوعیت کی تھیں۔ خدا کا بیٹا نہایت کٹھن آزمائشوں سے گزرا اور بالآخر خدا کے تقاضے کو پورا کرنے کے باعث اُسے بڑی سفاکی کیساتھ ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم، جب ہم یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے دُکھ اُٹھاتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ہماری آزمائشوں کا ذمہدار نہیں ہے۔ (یوحنا ۱۵:۱۸-۲۰؛ یعقوب ۱:۱۳-۱۵) شیطان کی بغاوت گناہ، دُکھدرد اور موت لے آئی اور اُسی نے ایسے حالات پیدا کر دئے جو اکثر یہوواہ کے خادموں کیلئے اُسکے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔—ایوب ۱:۶-۱۹؛ ۲:۱-۸۔
۱۹. اپنے بیٹے کی معرفت خدا نے جو بھی تقاضا کِیا ہے اُسے پورا کرنا ہمارے لئے ایک شرف کیوں ہے؟
۱۹ اپنے بیٹے کی معرفت یہوواہ نے ہدایت کی ہے کہ اس آخری زمانہ میں اُسکے خادم عالمگیر پیمانے پر یہ اعلان کریں کہ تمامتر انسانی دُکھدرد کا واحد حل بادشاہت ہے۔ یہ خدائی حکومت زمین پر سے تمام مسائل—جنگ، جُرم، غربت، بڑھاپا، بیماری، موت—کو ختم کر دیگی۔ بادشاہت پُرشکوہ زمینی فردوس بھی لائیگی جس میں مُردے بھی زندہ ہو جائینگے۔ (متی ۶:۹، ۱۰؛ لوقا ۲۳:۴۳؛ اعمال ۲۴:۱۵؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) ایسی باتوں کی خوشخبری سنانا کتنا بڑا شرف ہے! لہٰذا ایسی صورتحال میں یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہمیں مخالفت کا سامنا ہوتا ہے جسکا ذمہدار شیطان ابلیس اور اُسکی دُنیا ہے۔
۲۰. ہم ابلیس کی طرف سے کھڑے کئے گئے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
۲۰ ہم شیطان کی طرف سے کھڑے کئے گئے کسی بھی چیلنج کا کامیابی کیساتھ مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ ان الفاظ کو ذہن میں رکھنے سے: ”اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“ (امثال ۲۷:۱۱) یسوع نے زمین پر اپنے باپ کی مرضی پوری کرنے کیلئے آسمانی زندگی کے تحفظ کو خیرباد کہہ کر یہوواہ کو شیطان کی فضیحت کا جواب فراہم کِیا۔ (یسعیاہ ۵۳:۱۲؛ عبرانیوں ۱۰:۷) انسان کے طور پر یسوع نے ہر آزمائش، حتیٰکہ سولی پر تکلیفدہ موت کو برداشت کِیا۔ اگر ہم اُسکے نمونے کی پیروی کرتے ہیں تو ہم بھی تمام تکالیف برداشت کر سکتے اور یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔—عبرانیوں ۱۲:۱-۳۔
۲۱. آپ یہوواہ اور اُس کے بیٹے کی طرف سے دکھائی گئی محبت کی بابت کیسا محسوس کرتے ہیں؟
۲۱ خدا اور اُس کے بیٹے نے ہمارے لئے کیسی محبت دکھائی ہے! یسوع کی قربانی کی بدولت فرمانبردار نوعِانسان کو فردوس میں ابد تک زندہ رہنے کا امکان حاصل ہے۔ پس، آئیے کسی بھی چیز کو اپنی اُمید چھیننے نہ دیں۔ اس کی بجائے، جس کام کو یسوع نے ممکن بنایا ہے ہمیں اُس پر دھیان دینا چاہئے جیسےکہ پولس نے بھی کِیا اور کہا: ” خدا کے بیٹے . . . نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لئے موت کے حوالہ کر دیا۔“ (گلتیوں ۲:۲۰) علاوہازیں، دُعا ہے کہ ہم اپنے شفیق خدا، یہوواہ کے لئے دلی شکرگزاری کا اظہار کریں جو کبھی بھی ہم سے زیادہ کا تقاضا نہیں کرتا۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
◻یہوواہ آجکل ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟
◻اپنے رسولوں کیساتھ آخری شام کے دوران، یسوع نے محبت کی اہمیت کو کیسے اُجاگر کِیا؟
◻ہم کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں؟
◻یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنا ایک شرف کیوں ہے؟
[صفحہ 23 پر تصویر]
یسوع نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھو کر کونسا سبق سکھایا؟
[صفحہ 25 پر تصویر]
مخالفت کے باوجود، خوشخبری سنانا ایک مسرتبخش استحقاق ہے