سفری نگہبان ایماندار مختاروں کے طور پر کیسے خدمت انجام دیتے ہیں
”جنکو جس جس قدر نعمت ملی ہے وہ اُسے خدا کی مختلف نعمتوں کے اچھے مختاروں کی طرح ایک دوسرے کی خدمت میں صرف کریں۔“—۱-پطرس ۴:۱۰۔
۱، ۲. (ا) آپ لفظ ”مختار“ کی تعریف کیسے کریں گے؟ (ب) خدا جن مختاروں کو استعمال کرتا ہے اُن میں کون شامل ہیں؟
یہوواہ تمام ایماندار مسیحیوں کو مختاروں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مختار اکثر ایک ایسا ملازم ہوتا ہے جو گھرانے کا نگران ہو۔ شاید وہ اپنے مالک کے کاروباری امور کی دیکھبھال بھی کرتا ہے۔ (لوقا ۱۶:۱-۳؛ گلتیوں ۴:۱، ۲) یسوع نے زمین پر اپنے وفادار ممسوح اشخاص کی جماعت کو ”عقلمند داروغہ“ کہا۔ اُس نے بادشاہتی منادی کی کارگزاریوں سمیت، ”اپنے سارے مال“ کو اسی مختار کے سپرد کِیا ہے۔—لوقا ۱۲:۴۲-۴۴؛ متی ۲۴:۱۴، ۴۵۔
۲ پطرس رسول نے کہا کہ تمام مسیحی مختلف طریقوں سے ظاہرکردہ خدا کے غیرمستحق فضل کے مختار ہیں۔ ہر مسیحی کا اپنا ایک مقام ہے جس پر وہ ایمانداری سے اپنی مختاری کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ (۱-پطرس ۴:۱۰) مُتعیّنہ مسیحی بزرگ مختار ہیں اور اُن کے درمیان سفری نگہبان بھی ہوتے ہیں۔ (ططس ۱:۷) ان سفری بزرگوں کو کیسا خیال کِیا جانا ہے؟ اُن کی لیاقتیں اور مقاصد کیا ہونے چاہئیں؟ اور وہ کیسے بہتر خدمت انجام دے سکتے ہیں؟
اُنکی خدمت کیلئے مشکور
۳. سفری نگہبانوں کو ”اچھے مختار“ کیوں کہا جا سکتا ہے؟
۳ ایک سفری نگہبان اور اُسکی بیوی کو لکھتے ہوئے، ایک مسیحی بیاہتا جوڑے نے کہا: ”ہم اُس تمام محبت اور وقت کیلئے اپنی شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ہمیں دیا ہے۔ بطور ایک خاندان، ہم آپکی تمام حوصلہافزائی اور مشورت سے بہت زیادہ مستفید ہوئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں روحانی طور پر ترقی کرتے رہنا ہے لیکن یہوواہ کی مدد کیساتھ اور آپ جیسے بھائی بہنوں کے تعاون سے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں۔“ اس قسم کے اظہارات بہت عام ہیں کیونکہ سفری نگہبان ساتھی ایمانداروں میں بالکل ویسے ہی ذاتی دلچسپی لیتے ہیں جیسے ایک اچھا مختار گھرانے کی ضروریات کی اچھی دیکھبھال کرتا ہے۔ بعض ممتاز مقرر ہیں۔ بعض منادی کے کام میں سبقت رکھتے ہیں جبکہ دیگر اپنی گرمجوشی اور رحم کیلئے مشہور ہیں۔ دوسروں کی خدمت کرنے میں ایسی نعمتوں کو فروغ دینے اور استعمال میں لانے سے سفری نگہبان واجب طور پر ”اچھے مختار“ کہلا سکتے ہیں۔
۴. اب کس سوال پر غور کِیا جائیگا؟
۴ ”مختار میں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ دیانتدار نکلے،“ پولس رسول نے لکھا۔ (۱-کرنتھیوں ۴:۲) ہر ہفتے مختلف کلیسیاؤں میں ساتھی مسیحیوں کی خدمت کرنا ایک منفرد اور پُرمسرت استحقاق ہے۔ تاہم، یہ ایک بھاری ذمہداری بھی ہے۔ تاہم، سفری نگہبان ایمانداری اور کامیابی سے اپنی مختاری کے فرائض کیسے انجام دے سکتے ہیں؟
کامیابی سے اپنی مختاری کے فرائض انجام دینا
۵، ۶. ایک سفری نگہبان کی زندگی میں یہوواہ پر دُعائیہ توکل اتنا اہم کیوں ہے؟
۵ اگر سفری نگہبانوں کو کامیاب مختار بننا ہے تو یہوواہ پر دُعائیہ توکل لازمی ہے۔ اپنے شیڈول اور بہت سی ذمہداریوں کی وجہ سے، بعضاوقات وہ بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۵:۴۔) لہٰذا اُنہیں زبورنویس داؤد کے گیت کی مطابقت میں عمل کرنے کی ضرورت ہے: ”اپنا بوجھ خداوند پر ڈالدے۔ وہ تجھے سنبھالیگا۔ وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دیگا۔“ (زبور ۵۵:۲۲) داؤد کے یہ الفاظ بھی تسلیبخش ہیں: ”خداوند مبارک ہو جو ہر روز ہمارا بوجھ اُٹھاتا ہے۔“—زبور ۶۸:۱۹۔
۶ پولس نے اپنی روحانی ذمہداریوں کو پورا کرنے کیلئے قوت کہاں سے حاصل کی تھی؟ ”جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں،“ اُس نے لکھا۔ (فلپیوں ۴:۱۳) جیہاں، یہوواہ خدا پولس کی طاقت کا ماخذ تھا۔ اسی طرح، پطرس نے نصیحت کی: ”اگر کوئی خدمت کرے تو اُس طاقت کے مطابق کرے جو خدا دے تاکہ سب باتوں میں یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کا جلال ظاہر ہو۔“ (۱-پطرس ۴:۱۱) ایک بھائی نے جو کئی سال سے سفری نگہبان تھا یہ کہتے ہوئے خدا پر توکل کرنے کی ضرورت پر زور دیا: ”مسائل پر قابو پانے کیلئے ہمیشہ یہوواہ پر آس رکھیں اور اُسکی تنظیم کی مدد کے خواہاں ہوں۔“
۷. سفری نگہبان کے کام میں توازن کیسے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے؟
۷ کامیاب سفری نگہبانوں کیلئے توازن ضروری ہے۔ دیگر مسیحیوں کی طرح، وہ ”زیادہ اہم باتوں کا یقین“ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (فلپیوں ۱:۱۰، اینڈبلیو)a جب کسی معاملے کی بابت مقامی بزرگوں کے ذہن میں کچھ سوال ہوں تو اُن کیلئے یہ دانشمندانہ بات ہوگی کہ دَورہ کرنے والے سرکٹ اوورسیئر کے ساتھ صلاح مشورہ کریں۔ (امثال ۱۱:۱۴؛ ۱۵:۲۲) غالباً، اُسکے کلیسیا سے رخصت ہونے کے بعد جب بزرگ اُس معاملے کو نپٹانا جاری رکھتے ہیں تو اُسکی متوازن رائےزنی اور صحیفائی مشورت بہت مددگار ثابت ہوگی۔ پولس نے تیمتھیس کو اسی طرح کی بات بتائی تھی: ”جو باتیں تُو نے بہت سے گواہوں کے سامنے مجھ سے سنی ہیں اُنکو ایسے دیانتدار آدمیوں کے سپرد کر جو اَوروں کو بھی سکھانے کے قابل ہوں۔“—۲-تیمتھیس ۲:۲۔
۸. بائبل مطالعہ، تحقیق اور غوروخوض کیوں لازمی ہیں؟
۸ پُختہ مشورت دینے کے لئے صحیفائی مطالعہ، تحقیق اور غوروخوض لازمی عناصر ہیں۔ (امثال ۱۵:۲۸) ایک ڈسٹرکٹ اوورسیئر نے کہا: ”بزرگوں سے ملاقات کے دوران ہمیں یہ تسلیم کرنے سے گھبرانا نہیں چاہئے کہ ہمیں کسی خاص سوال کا جواب معلوم نہیں۔“ کسی معاملے پر ”مسیح کی عقل“ حاصل کرنے کیلئے کوشش کرنا بائبل پر مبنی ایسی مشورت دینا ممکن بناتا ہے جو خدا کی مرضی کی مطابقت میں چلنے کیلئے دوسروں کی مدد کریگی۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۶) بعضاوقات سفری نگہبان کو ہدایت کیلئے واچ ٹاور سوسائٹی کو خط لکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بہرصورت، یہوواہ پر ایمان اور سچائی کیلئے محبت ظاہری تاثر یا گفتگو کے فن سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ ”اعلےٰ درجے کی تقریر یا حکمت کے ساتھ“ آنے کی بجائے، پولس نے ”کمزوری اور خوف اور بہت تھرتھرانے کی حالت میں“ کرنتھس میں اپنی خدمتگزاری کا آغاز کِیا۔ کیا اس سے وہ بےاثر ہو گیا تھا؟ اسکے برعکس، اس نے کرنتھس کے لوگوں کی ”انسان کی حکمت پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر“ ایمان رکھنے کیلئے مدد کی۔—۱-کرنتھیوں ۲:۱-۵۔
دیگر نہایت اہم لیاقتیں
۹. سفری بزرگوں کو ہمدردی کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
۹ ہمدردی اچھے نتائج حاصل کرنے کے لئے سفری نگہبانوں کی مدد کرتی ہے۔ پطرس نے تمام مسیحیوں کو ’ایکدوسرے کیلئے پاسولحاظ دکھانے‘ یا ”ہمدرد“ بننے کی تاکید کی۔ (۱-پطرس ۳:۸) ایک سرکٹ اوورسیئر ’کلیسیا کے ہر شخص میں دلچسپی لینے اور پوری توجہ سے سننے‘ کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے۔ اسی جذبے کیساتھ، پولس نے لکھا: ”خوشی کرنے والوں کے ساتھ خوشی کرو۔ رونے والوں کے ساتھ رؤو۔“ (رومیوں ۱۲:۱۵) ایسا رویہ سفری نگہبانوں کو ساتھی ایمانداروں کے مسائل اور حالات کو سمجھنے کیلئے مخلصانہ کوششیں کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ اسکے بعد وہ ایسی تقویتبخش صحیفائی مشورت دے سکتے ہیں جسکا اگر اطلاق کِیا جائے تو حقیقت میں اچھا کام انجام دے سکتی ہے۔ ایک سرکٹ اوورسیئر کو جو ہمدردی دکھانے میں فضیلت رکھتا ہے ٹیورن، اٹلی، کے قریب کلیسیا سے یہ خط موصول ہوا: ”اگر آپ خود دلچسپ شخصیت بننا چاہتے ہیں تو دوسروں میں دلچسپی لیں؛ اگر آپ خوشی دینے والا بننا چاہتے ہیں تو خوشطبع بنیں؛ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ سے محبت کی جائے تو محبت کے لائق بنیں؛ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی مدد کی جائے تو مدد کرنے کیلئے تیار رہیں۔ ہم نے آپ سے یہی کچھ سیکھا ہے!“
۱۰. سرکٹ اور ڈسٹرکٹ نگہبانوں نے فروتن ہونے کی بابت کیا کہا ہے اور اس سلسلے میں یسوع نے کیا نمونہ قائم کِیا ہے؟
۱۰ فروتن اور قابلِرسائی ہونا سفری نگہبانوں کی بہتر خدمت انجام دینے میں مدد کرتا ہے۔ ایک سرکٹ اوورسیئر نے رائےزنی کی: ”فروتن میلان قائم رکھنا بہت اہم ہے۔“ وہ نئے سفری نگہبانوں کو آگاہ کرتا ہے: ”جوکچھ زیادہ امیر بھائی آپ کیلئے کرتے ہیں اُس سے خود کو بیجا طور پر متاثر نہ ہونے دیں نہ ہی اپنی دوستی ان لوگوں تک محدود رکھیں بلکہ ہمیشہ غیرجانبداری کیساتھ دوسروں سے میلجول رکھنے کی کوشش کریں۔“ (۲-تواریخ ۱۹:۶، ۷) اور ایک حقیقی طور پر فروتن سفری نگہبان سوسائٹی کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذاتی اہمیت کی بابت مبالغہآمیز نظریہ نہیں رکھیگا۔ ایک ڈسٹرکٹ اوورسیئر نے موزوں طور پر تبصرہ کِیا: ”فروتن بنیں اور بھائیوں کی بات سننے کے لئے تیار رہیں۔ ہمیشہ قابلِرسائی رہیں۔“ یسوع مسیح، عظیمترین انسان جو کبھی ہو گزرا، لوگوں کو ادنیٰ ہونے کا احساس دلا سکتا تھا لیکن وہ اسقدر فروتن اور قابلِرسائی تھا کہ بچے بھی اُس کی موجودگی میں پُرسکون محسوس کرتے تھے۔ (متی ۱۸:۵؛ مرقس ۱۰:۱۳-۱۶) سفری نگہبان چاہتے ہیں کہ بچے، جوان، بوڑھے—بِلاشُبہ کلیسیا کا ہر فرد—بِلاروکٹوک اُنکے پاس آئیں۔
۱۱. جب اسکی ضرورت پیش آئے تو معذرت کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟
۱۱ بیشک، ”ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں،“ اور کوئی بھی سفری نگہبان غلطیوں سے مبرا نہیں۔ (یعقوب ۳:۲) جب وہ غلطیاں کرتے ہیں تو خلوصدلی سے معذرت کا اظہار کرنا دوسرے بزرگوں کیلئے فروتنی کی مثال قائم کرتا ہے۔ امثال ۲۲:۴ کے مطابق، ”دولت اور عزتوحیات خداوند کے [مؤدبانہ] خوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔“ اور کیا خدا کے سب خادموں کو ’اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلنے‘ کی ضرورت نہیں ہے؟ (میکاہ ۶:۸) جب ایک سرکٹ اوورسیئر سے یہ پوچھا گیا کہ وہ نئے سفری بزرگ کو کیا نصیحت کرنا چاہتا ہے تو اُس نے بیان کِیا: ”تمام بھائیوں کی بڑی عزت اور احترام کریں اور اُنہیں خود سے بہتر خیال کریں۔ آپ اپنے بھائیوں سے بہت کچھ سیکھینگے۔ فروتن رہیں۔ بےتصنع رہیں۔ متکبر نہ بنیں۔“—فلپیوں ۲:۳۔
۱۲. مسیحی خدمتگزاری کیلئے جوشوخروش اتنا اہم کیوں ہے؟
۱۲ مسیحی خدمتگزاری کے لئے جوشوجذبہ سفری نگہبان کے کلام کو پُرمطلب بناتا ہے۔ دراصل، جب وہ اور اُسکی بیوی بشارتی کام میں پُرجوش نمونے قائم کرتے ہیں تو بزرگوں، اُنکی بیویوں اور کلیسیا کے باقیماندہ افراد کی اپنی خدمتگزاری میں جوشوجذبے کا مظاہرہ کرنے کیلئے حوصلہافزائی ہوتی ہے۔ ایک سرکٹ اوورسیئر نے تاکید کی کہ ”خدمت کیلئے سرگرم ہوں۔“ اُس نے مزید بیان کِیا: ”مَیں نے عموماً یہ محسوس کِیا ہے کہ کلیسیا جتنا زیادہ خدمتگزاری میں سرگرم ہوگی اُسے اُتنے ہی کم مسائل کا سامنا ہوگا۔“ ایک اَور سرکٹ اوورسیئر نے رائےزنی کی: ”مجھے یقین ہے کہ اگر بزرگ میدان میں بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ خدمت کریں اور اُنکی خدمتگزاری سے لطفاندوز ہونے میں مدد کریں تو یہ ذہنی سکون اور یہوواہ کی خدمت میں زیادہ اطمینان پر منتج ہوگا۔“ پولس رسول نے ’بڑی جدوجہد کیساتھ تھسلنیکے کے مسیحیوں کو خدا کی خوشخبری سنانے کیلئے جرأتمندی سے کام لیا۔‘ کوئی تعجب نہیں کہ وہ اُسکے دَورے اور منادی کی کارگزاری کی بابت خوشگوار یادیں رکھتے تھے اور اُسے دوبارہ دیکھنے کے مشتاق تھے!—۱-تھسلنیکیوں ۲:۱، ۲؛ ۳:۶۔
۱۳. میدانی خدمت میں ساتھی مسیحیوں کیساتھ کام کرتے وقت سفری نگہبان کس بات کا لحاظ رکھتے ہیں؟
۱۳ میدانی خدمتگزاری میں ساتھی مسیحیوں کے ساتھ کام کرتے وقت، سفری نگہبان اُنکے حالات اور حدبندیوں کا لحاظ رکھتا ہے۔ اگرچہ اُسکی تجاویز کارآمد ہو سکتی ہیں توبھی اُسے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک تجربہکار بزرگ کیساتھ منادی کرتے ہوئے گھبرا سکتے ہیں۔ اسلئے، بعض معاملات میں، مشورت کی بجائے حوصلہافزائی زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ جب وہ پبلشروں یا پائنیروں کیساتھ بائبل مطالعے پر جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کو ترجیح دیں کہ وہ مطالعہ کرائے۔ اس سے غالباً وہ اپنے تعلیم دینے کے طریقوں کو بہتر بنانے کے بعض پہلوؤں سے آگاہ ہو جائینگے۔
۱۴. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ سرگرم سفری نگہبان دوسروں میں جوشوخروش پیدا کرتے ہیں؟
۱۴ گرمجوش سفری نگہبان دوسروں میں بھی جوشوخروش پیدا کرتے ہیں۔ یوگینڈا میں ایک سرکٹ اوورسیئر کو ایک بھائی کیساتھ ایسے بائبل مطالعے پر جانے کیلئے ایک گھنٹے تک گھنے جنگل میں سے پیدل سفر کرنا پڑا جو بہت کم ترقی کر رہا تھا۔ اُنکے سفر کے دوران اتنی تیز بارش ہوئی کہ وہ پہنچتے پہنچتے بالکل بھیگ گئے۔ جب چھ افراد پر مشتمل خاندان کو یہ معلوم ہوا کہ اُنکے گھر آنے والا مہمان سفری نگہبان تھا تو وہ بہت متاثر ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ اُنکے چرچ کے خادم تو کبھی گلّے میں اتنی دلچسپی نہیں دکھاتے۔ اگلے اتوار، وہ پہلی مرتبہ اجلاس پر حاضر ہوئے اور یہوواہ کے گواہ بننے کی خواہش کا اظہار کِیا۔
۱۵. میکسیکو میں ایک سرگرم سرکٹ اوورسیئر کس عمدہ تجربے سے لطفاندوز ہوا؟
۱۵ میکسیکو کی ریاست اوآکسکا میں، ایک سرکٹ اوورسیئر نے ایسی کوشش کی جسکی اُس سے توقع نہیں کی جاتی تھی۔ اُس نے چار رات جیل خانے میں رہنے کا بندوبست کِیا تاکہ وہاں ایک ہی کمرے میں رہنے والے سات قیدیوں کے گروہ سے مل سکے جو بادشاہتی پبلشر بن چکے تھے۔ وہ کئی دن تک ان قیدیوں کیساتھ رہا جبکہ وہ کوٹھڑیوں میں جاکر گواہی دیتے اور بائبل مطالعے کراتے تھے۔ دلچسپی دکھائے جانے کے باعث بعض مطالعے تو رات دیر تک چلتے رہتے تھے۔ ”ملاقات کے آخر پر، باہمی حوصلہافزائی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی خوشی سے وہ قیدی اور مَیں بہت ہی خوش تھے،“ یہ سرگرم سرکٹ اوورسیئر لکھتا ہے۔
۱۶. جب سفری نگہبان اور اُنکی بیویاں حوصلہافزائی فراہم کرتی ہیں تو یہ اتنا مفید کیوں ہوتا ہے؟
۱۶ سفری نگہبان حوصلہافزا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب پولس نے مکدنیہ کی کلیسیاؤں کا دَورہ کِیا تو اُس نے ’بہت سی باتوں سے اُنکی حوصلہافزائی کی۔‘ (اعمال ۲۰:۱، ۲) نوجوانوں اور عمررسیدہ دونوں کی روحانی نشانوں کی طرف راہنمائی کرنے کیلئے حوصلہافزا باتیں بہت فائدہمند ثابت ہو سکتی ہیں۔ واچ ٹاور سوسائٹی کے ایک بہت بڑے برانچ آفس میں ایک عام سروے نے انکشاف کِیا کہ سرکٹ نگہبانوں نے رضاکاروں کے تقریباً ۲۰ فیصد حصے کی کُلوقتی خدمت اختیار کرنے کیلئے حوصلہافزائی کی تھی۔ سفری نگہبان کی بیوی بھی کُلوقتی بادشاہتی مُناد کے طور پر اپنے عمدہ نمونے سے، حوصلہافزائی کا بڑا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔
۱۷. دوسروں کی مدد کرنے کے سلسلے میں ایک عمررسیدہ سرکٹ اوورسیئر اپنے شرف کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے؟
۱۷ عمررسیدہ اور افسردہ اشخاص کو خاص طور پر حوصلہافزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک عمررسیدہ سرکٹ اوورسیئر لکھتا ہے: ”خدا کے گلّے میں بےعمل اور کمزور اشخاص کی مدد کرنے کا شرف میری خدمت کا ایک ایسا پہلو ہے جو ناقابلِبیان باطنی خوشی پیدا کرتا ہے۔ رومیوں ۱:۱، ۱۲ کے الفاظ میرے لئے خاص مفہوم رکھتے ہیں جبکہ مَیں ’اُنہیں مضبوط کرنے کی غرض سے ایسے لوگوں کو کچھ روحانی نعمتیں دینے سے‘ مَیں خود بڑی حوصلہافزائی اور قوت حاصل کرتا ہوں۔“
اُنکی پُرمسرت خدمت کے اجر
۱۸. سفری نگہبان کونسے صحیفائی مقاصد رکھتے ہیں؟
۱۸ سفری نگہبان ساتھی ایمانداروں کے بہترین مفاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ کلیسیاؤں کو مضبوط کرنا اور روحانی طور پر تقویت دینا چاہتے ہیں۔ (اعمال ۱۵:۴۱) ایک سفری نگہبان ”حوصلہافزائی دینے، تازگی بخشنے اور خدمتگزاری کو پورا کرنے کی خواہش کو بڑھانے اور سچائی کے مطابق زندگی بسر کرنے“ کیلئے جانفشانی کرتا ہے۔ (۳-یوحنا ۳) ایک اَور ساتھی ایمانداروں کو ایمان میں مضبوط کرنے کا طالب رہتا ہے۔ (کلسیوں ۲:۶، ۷) یاد رکھیں کہ سفری نگہبان ”سچا ہمخدمت“ ہے، دوسروں کے ایمان کا مالک نہیں۔ (فلپیوں ۴:۳؛ ۲-کرنتھیوں ۱:۲۴) اُسکا دَورہ حوصلہافزائی اور اضافی کارگزاری کا موقع ہوتا ہے اور مجلسِبزرگان کیلئے جو ترقی ہوئی ہے اُس پر نظرثانی کرنے اور مستقبل کے نشانوں پر غور کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ اُسکی باتوں اور نمونے سے، کلیسیا کے پبلشر، پائنیر، خدمتگزار خادم اور بزرگ تقویت پانے اور آئندہ کام کیلئے تحریک پانے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ (مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۱۔) پس، پورے دلوجان سے سرکٹ اوورسیئر کے دَوروں کی حمایت کریں اور ڈسٹرکٹ اوورسیئر کی طرف سے پیش کی جانے والی خدمت سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔
۱۹، ۲۰. سفری نگہبانوں اور اُنکی بیویوں نے اپنی ایماندارانہ خدمت کا صلہ کیسے پایا ہے؟
۱۹ سفری نگہبانوں اور اُنکی بیویوں کو اُنکی ایماندارانہ خدمت کا بکثرت صلہ ملا ہے اور وہ اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ جو نیکی وہ کرتے ہیں اُس کیلئے یہوواہ اُنہیں برکت دیگا۔ (امثال ۱۹:۱۷؛ افسیوں ۶:۸) جارج اور مگدلینا ایک عمررسیدہ جوڑا ہے جس نے کئی سال تک اس سفری کام میں خدمت انجام دی ہے۔ لکسمبرگ کی ایک کنونشن میں، ایک خاتون مگدلینا سے ملنے آئی جسے اُس نے ۲۰ سال پیشتر گواہی دی تھی۔ مگدلینا نے جو بائبل لٹریچر اُسکے پاس چھوڑا تھا اُس نے اس یہودی عورت کی دلچسپی کو اُبھارا اور ایک وقت آیا کہ اُس نے بپتسمہ لے لیا۔ ایک روحانی بہن جارج سے ملی جس کو ابھی تک یاد تھا کہ وہ کوئی ۴۰ سال پہلے اُسکے گھر آیا تھا۔ خوشخبری کی بابت اُسکی پُرجوش پیشکش بالآخر اُس کے اور اُس کے شوہر دونوں کے لئے سچائی قبول کرنے کا باعث بنی۔ یہ بات یقینی ہے کہ جارج اور مگدلینا بیحد خوش تھے۔
۲۰ افسس میں پولس کی پھلدار خدمتگزاری نے اُسے خوشی عطا کی اور شاید اسی نے اُسے یسوع کے الفاظ کا حوالہ دینے کی تحریک دی: ”دینا لینے سے مبارک ہے۔“ (اعمال ۲۰:۳۵) چونکہ سفری خدمت میں ہمیشہ دینا ہی شامل ہے، اس لئے اس میں حصہ لینے والے خوشی کا تجربہ کرتے ہیں بالخصوص اُسوقت جب اُنہیں اپنی محنت کے اچھے نتائج کا علم ہوتا ہے۔ ایک سرکٹ اوورسیئر کو جس نے ایک بےحوصلہ بزرگ کی مدد کی تھی خط میں بتایا گیا: ”آپ میری روحانی زندگی میں بڑی ’تقویتبخش مدد‘ ثابت ہوئے ہیں—شاید آپ کو اس کا اندازہ بھی نہ ہو۔ . . . آپ کبھی بھی اس بات کو سمجھ نہیں پائیں گے کہ آپ نے آجکل کے اس آسف کی کتنی مدد کی ہے جس کے ’پاؤں تو بس پھسلنے ہی والے تھے۔‘“—کلسیوں ۴:۱۱؛ زبور ۷۳:۲۔
۲۱. آپ یہ کیوں کہیں گے کہ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸ کا اطلاق سفری نگہبانوں کی کارگزاریوں پر ہوتا ہے؟
۲۱ ایک عمررسیدہ مسیحی جو کئی سال تک سرکٹ کے کام میں تھا ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸ کے الفاظ پر غور کرنا پسند کرتا ہے جہاں پولس نے تاکید کی: ”ثابتقدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزایش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تمہاری محنت خداوند میں بیفائدہ نہیں ہے۔“ سفری نگہبانوں کے پاس خداوند کے کام میں افزایش کرنے کیلئے یقیناً بہت کچھ ہے۔ اور ہم کسقدر مشکور ہیں کہ وہ یہوواہ کے غیرمستحق فضل کے ایماندار مختاروں کی حیثیت سے خوشی کیساتھ خدمت کرتے ہیں!
[فٹنوٹ]
a دی واچٹاور، مئی ۱۵، ۱۹۹۱ کے شمارے میں، صفحات ۲۸-۳۱ پر مضمون ”کیا آپ زیادہ کام کرنے سے خوش ہو سکتے ہیں؟“ کو دیکھیں۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ سفری نگہبانوں کو ”اچھے مختار“ کیوں سمجھا جا سکتا ہے؟
▫ بعض عناصر کیا ہیں جو سرکٹ اور ڈسٹرکٹ نگہبانوں کی بہتر خدمت انجام دینے میں مدد کرتے ہیں؟
▫ سفری کام میں حصہ لینے والوں کیلئے فروتنی اور جوشوخروش اتنے اہم کیوں ہیں؟
▫ سفری نگہبان کونسے عمدہ مقاصد رکھتے ہیں؟
[تصویر]
سفری نگہبان ساتھی ایمانداروں کی حوصلہافزائی کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں
[تصویریں]
نوجوان اور عمررسیدہ دونوں سفری نگہبانوں اور اُنکی بیویوں کی رفاقت سے مستفید ہو سکتے ہیں
[تصویر]
سفری نگہبان کی پُرجوش خدمتگزاری دوسروں میں جوشوخروش کو بڑھاتی ہے