یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏12 ص.‏ 3-‏6
  • مظلوموں کیلئے تسلی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مظلوموں کیلئے تسلی
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ظلم‌وستم کا ایک قدیم مشاہد
  • ظلم‌وستم جلد ختم ہونے والا ہے
  • کوئی واقعی پرواہ کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • غمگینوں کو تسلی دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • حقیقی تسلی کہاں مِل سکتی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • محتاجوں کو کون چھڑائے گا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏12 ص.‏ 3-‏6

مظلوموں کیلئے تسلی

کیا آپ نے کبھی غور کِیا ہے کہ آپ کی پوری زندگی میں چند الفاظ شہ‌سُرخیوں میں بار بار دہرائے جاتے ہیں؟ کیا آپ جنگ، جُرم، تباہی، بھوک اور دُکھ جیسے الفاظ پڑھتے پڑھتے اُکتا گئے ہیں؟ تاہم، ایک لفظ نمایاں طور پر خبروں میں دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ، یہ لفظ ایک ایسی چیز کی نمائندگی کرتا ہے جسکی نوعِ‌انسان کو بڑی ضرورت ہے۔ وہ لفظ ہے ”‏تسلی۔“‏

‏”‏تسلی دینے“‏ کا مطلب ”‏حوصلہ یا اُمید دینا“‏ اور کسی کے ”‏غم یا مصیبت کی شدت کو کم کرنا ہے۔“‏ تمام‌تر مصیبت کی وجہ سے جس کا دُنیا نے اس ۲۰ویں صدی میں تجربہ کِیا ہے، اُمید اور غم کو کم کرنے کی اشد ضرورت رہی ہے۔ سچ ہے کہ ہم میں سے بعض ایسی دُنیوی آسائشوں سے زیادہ لطف‌اندوز ہوتے ہیں جو ہمارے آباؤاجداد کے وہم‌وگمان میں بھی نہیں تھیں۔ یہ زیادہ‌تر سائنسی ترقی کی بدولت ہے۔ لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی نے نوعِ‌انسان میں سے دُکھ کے تمام اسباب کو ختم کرنے کے سلسلے میں ہمیں تسلی نہیں دی ہے۔ وہ اسباب کیا ہیں؟‏

صدیوں پہلے دانشمند آدمی سلیمان نے دُکھ کے ایک بنیادی سبب کا ذکر کِیا جب اُس نے کہا:‏ ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔“‏ (‏واعظ ۸:‏۹‏)‏ سائنس اور ٹیکنالوجی ساتھی انسانوں پر حکومت کرنے کی خواہش کے لئے انسان کے رُجحان کو بدلنے کے قابل نہیں ہوئی ہے۔ ۲۰ویں صدی میں، یہ ملکوں کے اندر ظالمانہ آمریتوں اور ملکوں کے مابین خوفناک جنگوں پر منتج ہوا ہے۔‏

۱۹۱۴ سے لیکر جنگ کے نتیجے میں ایک سو ملین سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ذرا اُس انسانی رنج‌والم کا تصور کریں جو اس عدد سے ظاہر ہوتا ہے—‏تسلی کے حاجتمند لاکھوں خاندان نوحہ‌کناں ہیں۔ اور متشدّد موت کے علاوہ جنگیں دیگر اقسام کے دُکھ کا بھی باعث بنتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر، یورپ میں ۱۲ ملین سے زیادہ پناہ‌گزین تھے۔ حالیہ برسوں میں، ڈیڑھ ملین سے زیادہ لوگ جنوب‌مشرقی ایشیا میں جنگی علاقوں سے بھاگ گئے ہیں۔ بلقانی ریاستوں میں جنگ‌وجدل نے دو ملین سے زائد لوگوں کو—‏بیشتر معاملات میں ”‏نسلی صفائی“‏ سے بچنے کے لئے—‏اپنے گھروں سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔‏

پناہ‌گزینوں کو واقعی تسلی کی ضرورت ہے، بالخصوص اُنہیں جو صرف اپنے گھروں سے ایسی چیزیں لے کر نکل جاتے ہیں جنہیں وہ ہاتھوں میں اُٹھا سکتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ کہاں جائیں یا مستقبل میں اُن کے اور اُن کے خاندانوں کے لئے کیا رکھا ہے۔ ایسے لوگوں کا شمار نہایت قابلِ‌رحم لوگوں میں ہوتا جو ظلم‌وستم کا نشانہ بنتے ہیں؛ اُنہیں تسلی کی ضرورت ہے۔‏

زمین کے زیادہ پُرامن حصوں میں، لاکھوں دُنیا کے معاشی نظام کی عملاً غلامی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ سچ ہے کہ بعض کے پاس مادی اشیا کی افراط ہے۔ تاہم، اکثریت کو روزی کمانے کے لئے روزانہ سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ بہتیرے موزوں رہائش کی تلاش میں ہیں۔ بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک افریقی اخبار پیش‌بینی کرتا ہے کہ ”‏دُنیا ایک بینظیر بیروزگاری کے بحران کی جانب بڑھ رہی ہے، جب کہ سن ۲۰۲۰ کے آنے تک ۳.‏۱ بلین سے زائد لوگ ملازمتوں کے متلاشی ہوگے۔“‏ یقیناً معاشی لحاظ سے ظلم کے شکار لوگوں کو ”‏حوصلے اور اُمید“‏—‏تسلی کی ضرورت ہے۔‏

مایوس‌کُن حالات کے باعث، بعض مجرمانہ زندگی کا رُخ کرتے ہیں۔ بِلاشُبہ، یہ اُن کے ہاتھوں مصیبت اُٹھانے والوں کے لئے صرف مشکل ہی پیدا کرتی ہے اور جُرم کی بلند شرح ظلم کے احساس میں اضافہ کرتی ہے۔ جوہانزبرگ، جنوبی افریقہ، کے ایک اخبار دی سٹار میں ایک حالیہ شہ‌سُرخی نے بیان کِیا:‏ ”‏دُنیا کے نہایت خونین مُلک کے دَور کا ایک دن۔“‏ مضمون نے جوہانزبرگ میں اور اس کے گِردونواح میں ایک مثالی دن کی بابت بتایا۔ اُس دن، چار افراد کو قتل کر دیا گیا اور آٹھ کی گاڑیاں چرا لی گئیں۔ ایک اوسط طبقے کی نواحی آبادی میں سترہ چوریوں کی رپورٹ موصول ہوئی۔ کئی ایک مسلح ڈاکے اس کے علاوہ تھے۔ اُس اخبار کے مطابق، پولیس نے اُسے ”‏نسبتاً پُرسکون“‏ دن کا نام دیا۔ قابلِ‌فہم بات ہے کہ قتل ہونے والوں کے رشتہ‌دار اور نقب‌زنیوں اور کاروں کی چوری کا نشانہ بننے والے خود کو بڑا مظلوم محسوس کرتے ہیں۔ اُنہیں یقین‌دہانی اور اُمید—‏تسلی کی ضرورت ہے۔‏

بعض ممالک میں، والدین اپنے بچوں کو عصمت‌فروشی کے لئے بیچ دیتے ہیں۔ ایک ایشیائی مُلک میں دو ملین کسبیوں کی رپورٹ دی گئی ہے جہاں سیاح ”‏جنسی مقاصد“‏ کے لئے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر کو خریدایا بچپن میں ہی اغوا کِیا گیا ہے۔ کیا کوئی ان مصیبت‌زدہ لوگوں سے زیادہ مظلوم ہے؟ اس گھناؤنے کاروبار پر بات‌چیت کرتے ہوئے، ٹائم میگزین نے جنوب‌مشرقی ایشیائی خواتین کی تنظیموں کی ۱۹۹۱ کانفرنس پر رپورٹ پیش کی۔ وہاں پر، یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ”‏۱۹۷۰ کے دہوں کے وسط سے لیکر پوری دُنیا میں ۳۰ ملین عورتیں فروخت کی گئی تھیں۔“‏

بِلاشُبہ، بچوں کو ظلم‌وستم کا نشانہ بنانے کے لئے اُنہیں عصمت‌فروشی کے لئے بیچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک بڑی تعداد کے ساتھ اپنے ہی گھروں میں والدین اور رشتہ‌داروں کے ذریعے جسمانی بدسلوکی یا زنابالجبر بھی کِیا جاتا ہے۔ ایسے بچے شاید ایک طویل عرصے تک اپنے دامن پر جذباتی داغ لئے پھریں۔ یقیناً، ظلم کا نشانہ بننے والوں کے طور پر، انہیں تسلی کی ضرورت ہے۔‏

ظلم‌وستم کا ایک قدیم مشاہد

بادشاہ سلیمان انسانی ظلم‌وستم کی وسعت پر حیران تھا۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏مَیں نے پھر کر اُس تمام ظلم پر جو دُنیا میں ہوتا ہے نظر کی اور مظلوموں کے آنسوؤں کو دیکھا اور اُنکو تسلی دینے والا کوئی نہ تھا اور اُن پر ظلم کرنے والے زبردست تھے پر اُنکو تسلی دینے والا کوئی نہ تھا۔“‏—‏واعظ ۴:‏۱‏۔‏

اگر دانشمند بادشاہ نے ۳۰۰۰ سال پہلے اس بات کو محسوس کِیا کہ مظلوموں کو ایک تسلی دینے والے کی اشد ضرورت ہے تو اُس نے آجکل کی بابت کیا کہا ہوتا؟ تاہم، سلیمان جانتا تھا کہ کوئی ناکامل انسان بشمول اُس کے وہ تسلی فراہم نہیں کر سکتا جس کی نوعِ‌انسان کو ضرورت ہے۔ ظالموں کی طاقت کو زائل کرنے کے لئے کسی زورآور کی ضرورت تھی۔ کیا کوئی ایسا شخص ہے؟‏

بائبل میں، زبور ۷۲ تمام لوگوں کے لئے ایک عظیم تسلی دینے والے کا ذکر کرتا ہے۔ اس زبور کو سلیمان کے باپ، بادشاہ داؤد نے لکھا تھا۔ اس کی تمہیدی عبارت یوں پڑھی جاتی ہے:‏ ”‏سلیمان کے متعلق،“‏ این‌ڈبلیو بدیہی طور پر اسے عمررسیدہ بادشاہ داؤد نے ایسے شخص کی بابت تحریر کِیا جو اُس کے تخت کا وارث ہوگا۔ زبور کے مطابق، یہ شخص ظلم‌وستم سے دائمی آرام بخشے گا۔ ”‏اُس کے ایّام میں صادق برومند ہونگے اور جب تک چاند قائم ہے خوب امن رہیگا۔ اُس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک .‏ .‏ .‏ زمین کی انتہا تک ہوگی۔“‏—‏زبور ۷۲:‏۷، ۸‏۔‏

غالباً، جب داؤد نے یہ الفاظ تحریر کئے تو وہ اپنے بیٹے سلیمان کی بابت سوچ رہا تھا۔ لیکن سلیمان نے اس بات کو تسلیم کِیا کہ زبور میں بیان‌کردہ نوعِ‌انسان کی خدمت کرنا اُس کے بس سے باہر تھا۔ وہ صرف چھوٹے پیمانے پر اسرائیل کی قوم کی خاطر زبور کے الفاظ کو پورا کر سکتا تھا، ساری زمین کے فائدے کے لئے نہیں۔ بدیہی طور پر، اس الہامی نبوّتی زبور نے سلیمان سے کہیں زورآور کسی شخص کی طرف اشارہ کِیا تھا۔ وہ کون تھا؟ یہ یسوع مسیح ہی ہو سکتا تھا؟‏

جب ایک فرشتے نے یسوع کی پیدائش کا اعلان کِیا تو اُس نے کہا:‏ ”‏خداوند خدا اُس کے باپ داؔؤد کا تخت اُسے دے گا۔“‏ (‏لوقا ۱:‏۳۲‏)‏ مزیدبرآں، یسوع نے اپنی بابت ”‏سلیماؔن سے بھی بڑا“‏ کے طور پر اشارہ کِیا۔ (‏لوقا ۱۱:‏۳۱‏)‏ خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھنے کے لئے یسوع کی قیامت کے وقت سے لیکر، وہ آسمان میں ہے، اُس مقام میں جہاں سے وہ زبور ۷۲ کے الفاظ کو پورا کر سکتا ہے۔ علاوہ‌ازیں، وہ انسانی ظالموں کے جوئے کو توڑنے کے لئے خدا سے قدرت اور اختیار حاصل کر چکا ہے۔ (‏زبور ۲:‏۷-‏۹؛‏ دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏)‏ پس یسوع ہی زبور ۷۲ کے الفاظ کو پورا کرنے والا شخص ہے۔‏

ظلم‌وستم جلد ختم ہونے والا ہے

اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ جلد ہی ہر طرح کے انسانی ظلم‌وستم سے آزادی ایک حقیقت بن جائیگی۔ یسوع مسیح نے ۲۰ویں صدی کے دوران دیکھے جانے والے بینظیر دُکھ اور ظلم‌وستم کی پیشینگوئی ایک ایسے نشان کے حصے کے طور پر کی تھی جو ”‏دُنیا کے آخر“‏ کی نشاندہی کریگا۔ (‏متی ۲۴:‏۳‏)‏ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ، اُس نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۷‏)‏ پیشینگوئی کے اس پہلو نے تقریباً اُس وقت اپنی تکمیل کا آغاز کِیا جب ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی۔ ”‏بے‌دینی [‏”‏لاقانونیت،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے بڑھ جانے سے،“‏ یسوع نے مزید کہا، ”‏بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائیگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۱۲‏)‏ لاقانونیت اور محبت کے فقدان نے بدکار اور ظالم نسل کو جنم دیا ہے۔ لہٰذا، زمین کے نئے بادشاہ کے طور پر مداخلت کرنے کے لئے یسوع مسیح کا وقت ضرور قریب ہونا چاہئے۔ (‏متی ۲۴:‏۳۲-‏۳۴‏)‏ اُن مظلوم لوگوں کے لئے اس کا کیا مطلب ہوگا جو یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور جو نوعِ‌انسان کو الہٰی طور پر مُعیّنہ تسلی دینے والے کی حیثیت سے اُس پر آس لگائے بیٹھے ہیں؟‏

اس سوال کے جواب کیلئے، آئیے زبور ۷۲ کے چند اَور الفاظ پڑھیں جو مسیح یسوع پر پورے ہوئے ہیں:‏ ”‏وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جسکا کوئی مددگار نہیں چھڑائیگا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائیگا۔ وہ فدیہ دیکر اُن کی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا اور اُن کا خون اُس کی نظر میں بیش‌قیمت ہوگا۔“‏ (‏زبور ۷۲:‏۱۲-‏۱۴‏)‏ یوں خدا کا مُتعیّنہ بادشاہ، یسوع مسیح، اس بات کو یقینی بنائیگا کہ کوئی بھی ظلم‌وستم کے باعث مصیبت میں مبتلا نہ ہو۔ اس کے پاس ہر طرح کی ناانصافی کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔‏

‏’‏یہ واقعی شاندار معلوم ہوتا ہے،‘‏ کوئی کہہ سکتا ہے، ’‏لیکن موجودہ وقت کی بابت کیا ہے؟ جو لوگ اب دُکھ اُٹھا رہے ہیں اُن کے لئے کونسی تسلی ہے؟‘‏ دراصل، مظلوموں کے لئے واقعی تسلی موجود ہے۔ اس رسالے میں اگلے دو مضمون اس بات کو اُجاگر کرینگے کہ کیسے لاکھوں لوگ پہلے ہی سے سچے خدا، یہوواہ، اور اُس کے پیارے بیٹے، یسوع مسیح کے ساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنے سے تسلی حاصل کر رہے ہیں۔ ایسا رشتہ ظلم‌وستم سے پُر ان ایّام کے دوران ہمیں تسلی دے سکتا ہے اور ایک شخص کو ظلم سے پاک ابدی زندگی کی طرف لیجا سکتا ہے۔ یسوع نے خدا سے دُعا میں کہا تھا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏—‏یوحنا ۱۷:‏۳‏۔ (‏۳ ۱۱/۰۱ w۹۶)‏

‏[‏تصویر]‏

خدا کی نئی دُنیا میں کوئی بھی انسان کسی دوسرے پر ظلم نہیں کریگا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں