تسلی کیلئے یہوواہ پر آس لگائیں
”خدا صبر اور تسلی کا چشمہ تم کو یہ توفیق دے کہ مسیح یسوؔع کے مطابق آپس میں یکدل رہو۔“—رومیوں ۱۵:۵۔
۱. ہر دن تسلی کیلئے بڑی ضرورت کا سبب کیوں بنتا ہے؟
ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تسلی کی حاجت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جیسےکہ ایک بائبل مصنف نے ۱۹۰۰ سال پہلے بیان کِیا، ”ساری مخلوقات مِل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔“ (رومیوں ۸:۲۲) ہمارے زمانے میں ”کراہنا“ اور ”درد“ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ پہلی عالمی جنگ سے لیکر، نوعِانسان جنگوں، جُرم اور قدرتی آفات کی صورت میں یکےبعددیگرے بحرانوں کا شکار ہیں جنہیں اکثر زمین کے سلسلے میں انسان کی بدانتظامی سے منسوب کِیا جاتا ہے۔—مکاشفہ ۱۱:۱۸۔
۲. (ا) نوعِانسان کی موجودہ غمناک حالتوں کیلئے زیادہتر کس کو الزام دیا جائے؟ (ب) کونسی حقیقت ہمیں تسلی کیلئے بنیاد مہیا کرتی ہے؟
۲ ہمارے زمانے میں اسقدر دُکھ کیوں رہا ہے؟ ۱۹۱۴ میں بادشاہت کی پیدائش کے بعد آسمان سے شیطان کے نکال دئیے جانے کو بیان کرتے ہوئے، بائبل جواب دیتی ہے: ”اَے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اسلئےکہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۱۲) اس پیشینگوئی کی تکمیل کی واضح شہادت کا مطلب ہے کہ ہم شیطان کی بدکار حکمرانی کے خاتمے کے تقریباً قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ جاننا کتنا تسلیبخش ہے کہ جلد ہی زمین پر زندگی دوبارہ اُسی پُرامن حالت میں آ جائیگی جو شیطان کے ہمارے پہلے والدین کیلئے بغاوت کا باعث بننے سے قبل موجود تھی!
۳. انسانوں کو کب تسلی کی ضرورت نہیں تھی؟
۳ ابتدا میں، انسان کے خالق نے پہلے انسانی جوڑے کو گھر کے طور پر ایک خوبصورت باغ عطا کِیا۔ یہ عدن کے علاقے میں واقع تھا جس کا مطلب ہے ”خوشی“ یا ”مسرت۔“ (پیدایش ۲:۸) علاوہازیں، کبھی نہ مرنے کے امکان کیساتھ، آدم اور حوا کامل صحت سے محظوظ ہوئے۔ اُن کئی ایک حلقوں کی بابت سوچیں جن میں وہ اپنی صلاحتیوں—باغبانی، ہنرمندی، فنِتعمیر، موسیقی—کو فروغ دے سکتے تھے۔ اُن تمام تخلیقی کاموں کی بابت بھی سوچیں جنکا وہ زمین کو معمورومحکوم کرنے اور اسے فردوس بنانے کے سلسلے میں اپنی تفویض کو پورا کرتے وقت مطالعہ کر سکتے تھے۔ (پیدایش ۱:۲۸) یقیناً، آدم اور حوا کی زندگیاں، کراہنے اور درد سے نہیں، بلکہ مسرت اور خوشی سے معمور ہوتیں۔ واضح طور پر، وہ تسلی کے حاجتمند نہ ہوتے۔
۴، ۵. (ا) آدم اور حوا فرمانبرداری کے امتحان میں ناکام کیوں ہو گئے تھے؟ (ب) آدم اور حوا کو کیسے تسلی کی ضرورت پڑ گئی؟
۴ تاہم، آدم اور حوا کو اپنے شفیق آسمانی باپ کے لئے گہری محبت اور قدرافزائی کو فروغ دینے کی واقعی ضرورت تھی۔ ایسی محبت نے انہیں ہر طرح کے حالات کے تحت خدا کی فرمانبرداری کرنے کی تحریک دی ہوتی۔ (مقابلہ کریں یوحنا ۱۴:۳۱۔) افسوس کی بات ہے کہ ہمارے دونوں پہلے والدین اپنے راست حاکمِاعلیٰ، یہوواہ کی فرمانبرداری کرنے میں ناکام ہو گئے۔ اسکی بجائے، اُنہوں نے خود کو ایک بگڑے ہوئے فرشتے، شیطان ابلیس کے بُرے تسلط کے تحت آ جانے کی اجازت دے دی۔ یہ شیطان ہی تھا جس نے حوا کو گناہ کرنے اور ممنوعہ پھل کھانے کی آزمائش میں ڈالا تھا۔ اسکے بعد آدم نے گناہ کِیا جب اُس نے بھی اُس درخت کا پھل کھایا جسکی بابت خدا نے صاف طور پر متنبہ کِیا تھا: ”جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔“—پیدایش ۲:۱۷۔
۵ اس طرح سے، گنہگار جوڑا مرنے لگا۔ موت کی سزا سناتے وقت، خدا نے آدم سے یہ بھی کہا: ”زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔ مشقت کے ساتھ تُو اپنی عمربھر اُسکی پیداوار کھائیگا۔ اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اُونٹکٹارے اُگائیگی اور تُو کھیت کی سبزی کھائیگا۔“ (پیدایش ۳:۱۷، ۱۸) یوں آدم اور حوا نے غیرمزروعہ زمین کو فردوس بنانے کا امکان کھو دیا۔ عدن سے نکال دئیے جانے کے بعد، اُنہیں اپنی توانائیوں کو ایسی زمین سے محنت کیساتھ خوراک حاصل کرنے پر صرف کرنا تھا جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اُنکی اولاد، اس گنہگار، موت کے تابع حالت کو ورثے میں پانے کے باعث، تسلی کی اشد ضرورت میں مبتلا ہو گئی۔—رومیوں ۵:۱۲۔
ایک تسلیبخش وعدہ پورا ہوا
۶. (ا) نوعِانسان کے گناہ میں پڑ جانے کے بعد خدا نے کونسا تسلیبخش وعدہ فرمایا؟ (ب) تسلی کے سلسلے میں لمک نے کیا پیشینگوئی کی؟
۶ انسانی بغاوت کی تحریک دینے والے کو سزا سناتے وقت، یہوواہ ’تسلی فراہم کرنے والا خدا‘ ثابت ہوا۔ (رومیوں ۱۵:۵) اُس نے ایک ”نسل“ کا وعدہ فرمانے سے ایسا کِیا جو بالآخر آدم کی اولاد کو آدم کی بغاوت کے تباہکُن اثرات سے چھڑائیگا۔ (پیدایش ۳:۱۵) وقت آنے پر، خدا نے اس چھٹکارے کے پیشگی نظارے بھی دکھائے۔ مثال کے طور پر، اُس نے، اُسکے بیٹے سیت سے آدم کی دُور کی نسل، لمک کو یہ پیشینگوئی کرنے کا الہام بخشا کہ لمک کا بیٹا کیا کریگا: ”یہ ہمارے ہاتھوں کی محنت اور مشقت سے جو زمین کے سبب سے ہے جس پر خدا نے لعنت کی ہے ہمیں آرام دیگا۔“ (پیدایش ۵:۲۹) اسکے وعدے کی مطابقت میں، لڑکے کا نام نوح رکھا گیا، جسکا مطلب ”آرام“ یا ”تسلی“ ہے۔
۷، ۸. (ا) کونسی صورتحال یہوواہ کیلئے انسان کو خلق کرنے پر ملول ہونے کا باعث بنی اور اسکے جواب میں اُس نے کیا کرنے کا قصد کِیا؟ (ب) نوح اپنے نام کے معنی پر کیسے پورا اُترا؟
۷ اسی اثنا میں، شیطان آسمانی فرشتوں میں سے بعض کو اپنا حمایتی بنانے میں کامیابی حاصل کر رہا تھا۔ اِنہوں نے انسانی جسم اختیار کئے اور آدم کی پُرکشش انوثی اولاد کو بیویاں بنا لیا۔ ایسے غیرفطرتی بندھنوں نے انسانی معاشرے کو مزید بگاڑ دیا اور جباروں، ”مار گِرانے والوں“ کی بیدین نسل کو پیدا کِیا جنہوں نے زمین کو ظلم سے بھر دیا۔ (پیدایش ۶:۱، ۲، ۴، ۱۱؛ یہوداہ ۶) ”اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی . . . تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کِیا۔“—پیدایش ۶:۵، ۶۔
۸ یہوواہ نے ایک عالمگیر سیلاب کے ذریعے اُس بدکار دُنیا کو تباہوبرباد کرنے کا قصد کِیا لیکن زندگی کو محفوظ رکھنے کیلئے پہلے نوح سے کشی بنوائی۔ یوں، انسانی نسل اور جانوروں کی انواع کو بچا لیا گیا تھا۔ طوفان کے بعد جب وہ ایک صافکردہ زمین پر کشتی سے باہر آئے ہونگے تو نوح اور اُسکے خاندان نے کسقدر تسکین محسوس کی ہوگی! یہ جاننا کتنا تسلیبخش تھا کہ زرعی کام کو نہایت سہل بناتے ہوئے زمین پر سے لعنت کو اُٹھا لیا گیا تھا! بیشک، لمک کی پیشینگوئی سچ ثابت ہوئی اور نوح اپنے نام کے معنی پر پورا اُترا۔ (پیدایش ۸:۲۱) خدا کے وفادار خادم کے طور پر، نوح نسلِانسانی کیلئے کسی حد تک ”تسلی“ دینے میں آلۂکار ثابت ہوا تھا۔ تاہم، شیطان اور اُسکے شیاطینی فرشتوں کا بُرا اثر سیلاب کیساتھ ختم نہ ہوا اور نوعِانسان گناہ، بیماری اور موت کے بوجھ تلے مسلسل کراہتے ہیں۔
کوئی نوح سے بھی بڑھکر
۹. یسوع مسیح تائب انسانوں کیلئے کیسے مددگار اور تسلی دینے والا ثابت ہوا؟
۹ آخرکار، انسانی تاریخ کے تقریباً ۴۰۰۰ برسوں کے اختتام پر، موعودہ نسل آ موجود ہوئی۔ نوعِانسان کیلئے عظیم محبت سے تحریک پاکر، خدا نے گنہگار نسلِانسانی کیلئے فدیے کی موت مرنے کیلئے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجا۔ (یوحنا ۳:۱۶) یسوع مسیح اُن تائب گنہگاروں کو بڑا آرام پہنچاتا ہے جو اُس کی قربانی کی موت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو یہوواہ کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کرتے اور اُس کے بیٹے کے بپتسمہیافتہ شاگرد بنتے ہیں وہ سب دائمی تازگی اور تسلی کا تجربہ کرتے ہیں۔ (متی ۱۱:۲۸-۳۰؛ ۱۶:۲۴) اپنی ناکاملیت کے باوجود، وہ صاف ضمیر کیساتھ خدا کی خدمت کرنے میں بڑی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اُن کیلئے اس بات سے واقف ہونا کتنا تسلیبخش ہے کہ اگر وہ یسوع پر ایمان ظاہر کرتے رہتے ہیں تو اُنہیں ہمیشہ کی زندگی کا اجر عطا کِیا جائیگا! (یوحنا ۳:۳۶؛ عبرانیوں ۵:۹) اگر کمزوری کی وجہ سے وہ کوئی سنگین گناہ کر بیٹھتے ہیں تو اُن کے پاس قیامتیافتہ خداوند یسوع مسیح کی صورت میں ایک مددگار یا تسلی دینے والا موجود ہے۔ (۱-یوحنا ۲:۱، ۲) ایسے گناہ کا اعتراف کرنے اور گناہ کا مُرتکب ہونے سے بچنے کیلئے صحیفائی اقدام کرنے سے، وہ سکون حاصل کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ’خدا اُن کے گناہ معاف کرنے میں سچا اور عادل ہے۔‘—۱-یوحنا ۱:۹؛ ۳:۶؛ امثال ۲۸:۱۳۔
۱۰. جب یسوع زمین پر تھا تو اُس نے جو معجزے کئے ہم اُن سے کیا سیکھتے ہیں؟
۱۰ جب یسوع زمین پر تھا تو اُس نے بدروحگرفتہ اشخاص کو آزاد کرانے، ہر قسم کی بیماری سے شفا دینے، اور مُتوَفّی عزیزوں کو دوبارہ زندہ کرنے سے بھی تازگی بخشی۔ سچ ہے کہ ایسے معجزات صرف عارضی فائدہ پہنچانے والے تھے، چونکہ جنہوں نے اس طرح فائدہ اٹھایا بعدازاں بوڑھے ہو کر مر گئے۔ تاہم، اس سے یسوع نے اُن آنے والی مستقل برکات کی نشاندہی کی جنہیں وہ تمام نوعِانسان پر نازل کرے گا۔ اب ایک زورآور آسمانی بادشاہ کی حیثیت سے، وہ محض بدروحوں کو نکالنے سے کہیں زیادہ کام کرے گا۔ وہ اُنہیں اُن کے سردار، شیطان سمیت بےعملی کی حالت میں قید کر دے گا۔ اس کے بعد مسیح کا پُرجلال ہزارسالہ عہد شروع ہو جائے گا۔—لوقا ۸:۳۰، ۳۱؛ مکاشفہ ۲۰:۱، ۲، ۶۔
۱۱. یسوع نے خود کو ”سبت کا مالک“ کیوں کہا؟
۱۱ یسوع نے کہا کہ وہ ”سبت کا مالک“ تھا، اور اُسکی بہت سی شفائیں سبت کے دن پر ہی انجام دی گئی تھیں۔ (متی ۱۲:۸-۱۳؛ لوقا ۱۳:۱۴-۱۷؛ یوحنا ۵:۱۵، ۱۶؛ ۹:۱۴) ایسا کیوں تھا؟ سبت اسرائیل کیلئے خدا کی شریعت کا حصہ تھا اور یوں ”آیندہ کی اچھی چیزوں [کے] عکس“ کا کام دیا۔ (عبرانیوں ۱۰:۱) کام کرنے کیلئے ہفتے کے چھ دن ہمیں شیطان کے ظالمانہ تسلط کیلئے انسانی غلامی کے گزشتہ ۶۰۰۰ سالوں کی یاد دلاتے ہیں۔ ہفتے کے آخر پر سبت کا دن بڑے نوح، یسوع مسیح کے ہزارسالہ عہد کے دوران نوعِانسان کے تجربے میں آنے والے تسلیبخش آرام کی یاد تازہ کرتا ہے۔—مقابلہ کریں ۲-پطرس ۳:۸۔
۱۲. ہم کن تسلیبخش تجربات کے منتظر ہو سکتے ہیں؟
۱۲ مسیح کی حکومت کی زمینی رعایا کو اُس وقت کیا ہی تسکین محسوس ہوگی جب وہ بالآخر خود کو مکمل طور پر شیطان کے بُرے اثر سے آزاد پائینگے! جب وہ اپنی جسمانی، جذباتی اور ذہنی بیماریوں سے شفا کا تجربہ کرینگے تو اُنہیں مزید تسلی حاصل ہوگی۔ (یسعیاہ ۶۵:۱۷) لہٰذا، ذرا اُنکی خوشی کی کیفیت کا تو تصور کریں جب وہ مُردوں میں سے واپس آنے والے عزیزوں کا خیرمقدم کرنے لگیں گے! ان طریقوں سے خدا ”اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔“ (مکاشفہ ۲۱:۴) جب یسوع کی فدیے کی قربانی کے فوائد کا بتدریج اطلاق کِیا جاتا ہے تو آدم کے گناہ کے بُرے اثرات سے پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے، خدا کی بادشاہت کی فرمانبردار رعایا تدریجاً کاملیت تک پہنچے گی۔ (مکاشفہ ۲۲:۱-۵) اُس وقت شیطان کو ”تھوڑے عرصہ کیلئے“ کھولا جائیگا۔ (مکاشفہ ۲۰:۳، ۷) تمام انسان جو وفاداری سے یہوواہ کی راست حکمرانی کو سربلند کرتے ہیں ہمیشہ کی زندگی کا اجر پائینگے۔ مکمل طور پر ”فنا کے قبضہ سے چھوٹنے“ کی ناقابلِبیان خوشی اور اطمینان کا تصور کریں! یوں فرمانبردار نوعِانسان ”خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی“ سے لطفاندوز ہونگے۔—رومیوں ۸:۲۱۔
۱۳. تمام سچے مسیحیوں کو اُس تسلی کی حاجت کیوں ہے جو خدا فراہم کرتا ہے؟
۱۳ اسی اثنا میں، ہم کراہنے اور درد کے تابع رہتے ہیں جو شیطان کے شریر نظام میں رہنے والے تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ جسمانی بیماریوں اور جذباتی امراض میں اضافہ وفادار مسیحیوں سمیت سب لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ (فلپیوں ۲:۲۵-۲۷؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) اسکے علاوہ، مسیحیوں کے طور پر ہم اکثر ناجائز تمسخر اور اذیت کا نشانہ بنتے ہیں جو شیطان ’انسانوں کی نسبت بطور حکمران خدا کی فرمانبرداری‘ کرنے کی وجہ سے ہم پر لاتا ہے۔ (اعمال ۵:۲۹) پس، اگر ہمیں شیطان کی دُنیا کے خاتمے تک خدا کی مرضی بجا لانے میں برداشت کرنا ہے تو ہمیں تسلی، مدد، اور قوت درکار ہے جو وہ فراہم کرتا ہے۔
تسلی کہاں سے حاصل کریں
۱۴. (ا) اپنی موت سے پہلے کی رات یسوع نے کیا وعدہ فرمایا؟ (ب) اگر ہمیں خدا کی روحالقدس کی تسلی سے بھرپور فائدہ اُٹھانا ہے تو کیا ضروری ہے؟
۱۴ اپنی موت سے پہلے کی رات، یسوع نے اپنے وفادار رسولوں کو صاف طور پر بتا دیا کہ وہ جلد ہی اُن سے جُدا ہو جائے گا اور اپنے باپ کے پاس واپس چلا جائے گا۔ اس بات نے اُنہیں پریشان اور غمزدہ کر دیا۔ (یوحنا ۱۳:۳۳، ۳۶؛ ۱۴:۲۷-۳۱) مسلسل تسلی کے لئے اُن کی ضرورت کو پہچانتے ہوئے، یسوع نے وعدہ فرمایا: ”مَیں باپ سے درخواست کرونگا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ (یوحنا ۱۴:۱۶) یسوع نے یہاں خدا کی روحالقدس کی طرف اشارہ کِیا جو اُسکی قیامت کے ۵۰ دن بعد اُسکے شاگردوں پر نازل کی گئی تھی۔a دیگر باتوں کیساتھ ساتھ، خدا کی روح نے اُنکی آزمائشوں کے دوران اُنہیں تسلی دی اور خدا کی مرضی پوری کرتے رہنے کیلئے اُنہیں تقویت بخشی۔ (اعمال ۴:۳۱) تاہم، ایسی مدد کو ازخود حاصل ہونے والی چیز خیال نہیں کِیا جانا چاہئے۔ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لئے، ہر مسیحی پر لازم ہے کہ تسلیبخش مدد کے لئے دُعا کرتا رہے جو خدا اپنی روحالقدس کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔—لوقا ۱۱:۱۳۔
۱۵. ہمیں تسلی فراہم کرنے کیلئے یہوواہ کے بعض طریقے کیا ہیں؟
۱۵ ایک اَور طریقہ جس سے خدا تسلی فراہم کرتا ہے وہ اُسکے کلام، بائبل کے ذریعے سے ہے۔ پولس نے لکھا: ”جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لئے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کتابِمُقدس کی تسلی سے اُمید رکھیں۔“ (رومیوں ۱۵:۴) یہ ہم پر باقاعدگی سے مطالعہ کرنے اور بائبل اور بائبل پر مبنی مواد میں درج باتوں پر غوروخوض کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہمیں مسیحی اجلاسوں پر بھی باقاعدگی سے حاضر ہونے کی ضرورت ہے جہاں خدا کے کلام میں سے تسلیبخش خیالات پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ایسے اجتماعات کے بنیادی مقاصد میں سے ایک باہمی حوصلہافزائی ہے۔—عبرانیوں ۱۰:۲۵۔
۱۶. خدا کی تسلیبخش فراہمیوں کو ہمیں کیا کرنے کی تحریک دینی چاہئے؟
۱۶ رومیوں کے نام پولس کا خط مزید اُن اچھے نتائج کو ظاہر کرتا ہے جو ہم خدا کی تسلیبخش فراہمیوں کو استعمال کرنے سے حاصل کرتے ہیں۔ ”خدا صبر اور تسلی کا چشمہ،“ پولس نے تحریر کِیا، ”تم کو یہ توفیق دے کہ مسیح یسوؔع کے مطابق آپس میں یکدل رہو۔ تاکہ تم یکدل اور یکزبان ہوکر ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کے خدا اور باپ کی تمجید کرو۔“ (رومیوں ۱۵:۵، ۶) جیہاں، خدا کی تسلیبخش فراہمیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر، ہم مزید اپنے جرأتمند پیشوا، یسوع مسیح کی مانند بن جائینگے۔ یہ ہمیں اپنے گواہی کے کام میں، اپنے اجلاسوں پر، ساتھی ایمانداروں کیساتھ ذاتی گفتگو میں اور اپنی دُعاؤں میں خدا کی تمجید کرنے کیلئے اپنے لبوں کو استعمال کرتے رہنے کی تحریک دیگا۔
کڑی آزمائش کے اوقات میں
۱۷. یہوواہ نے کیسے اپنے بیٹے کو تسلی بخشی اور کس نتیجے کیساتھ؟
۱۷ اپنی اذیتناک موت سے پہلے کی رات یسوع بہت ”بیقرار“ اور ”غمگین“ ہوا۔ (متی ۲۶:۳۷، ۳۸) لہٰذا وہ اپنے شاگردوں سے تھوڑی دُور چلا گیا اور مدد کے لئے اپنے باپ سے دُعا کی۔ ”خداترسی کے سبب سے اُس کی سنی گئی۔“ (عبرانیوں ۵:۷) بائبل بیان کرتی ہے کہ ”آسمان سے ایک فرشتہ [یسوع کو] دکھائی دیا۔ وہ اُسے تقویت دیتا تھا۔“ (لوقا ۲۲:۴۳) جس دلیری اور شجاعت سے یسوع نے اپنے مخالفین کا سامنا کِیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کا اپنے بیٹے کو تسلی دینے کا طریقہ نہایت ہی اثرآفرین تھا۔—یوحنا ۱۸:۳-۸، ۳۳-۳۸۔
۱۸. (ا) پولس رسول کی زندگی کا کونسا دَور بالخصوص تکلیفدہ تھا؟ (ب) ہم کیسے محنتی، شفیق بزرگوں کیلئے تسلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟
۱۸ پولس رسول بھی کڑی آزمائش کے وقتوں سے گزرا۔ مثال کے طور پر، افسس میں اُسکی خدمتگزاری ”آنسوؤں اور یہودیوں کی سازشوں کے باعث [اُس] پر آنے والی آزمایشوں“ کی وجہ سے نمایاں تھی۔ (اعمال ۲۰:۱۷-۲۰، اینڈبلیو) آخرکار، جب ارتمس دیوی کے حمامیوں نے شہر میں اُسکی منادی کی کارگزاری پر ہنگامہ برپا کر دیا تو پولس افسس سے چلا گیا۔ (اعمال ۱۹:۲۳-۲۹؛ ۲۰:۱) جب پولس شمال کی جانب تروآس کے شہر کی طرف روانہ ہوا تو کوئی اَور بات اُسے بہت پریشان کر رہی تھی۔ افسس میں ہنگامے سے تھوڑی دیر پہلے، اُسے ایک پریشانکُن خبر ملی۔ کرنتھس میں نوخیز کلیسیا تفرقوں کا شکار ہو گئی تھی اور یہ حرامکاری سے رواداری سے پیش آ رہی تھی۔ اسلئے، افسس سے، پولس صورتحال کو سدھارنے کی توقعات رکھتے ہوئے سخت ملامت کا خط لکھ چکا تھا۔ ایسا کرنا اُس کیلئے آسان کام نہیں تھا۔ بعدازاں اُس نے اپنے دوسرے خط میں واضح کِیا کہ ”مَیں نے بڑی مصیبت اور دلگیری کی حالت میں بہت سے آنسو بہابہا کر تم کو لکھا تھا۔“ (۲-کرنتھیوں ۲:۴) پولس کی طرح، شفیق بزرگوں کو اصلاحی مشورت دینا اور ملامت کرنا آسان معلوم نہیں ہوتا کیونکہ کسی حد تک وہ خود اپنی کمزریوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ (گلتیوں ۶:۱) پس، دُعا ہے کہ ہم پُرمحبت، بائبل پر مبنی مشورت کیلئے بخوشی جوابیعمل دکھانے سے اپنے درمیان پیشوائی کرنے والوں کیلئے تسلی کا باعث بنیں۔—عبرانیوں ۱۳:۱۷۔
۱۹. پولس تروآس سے مکدنیہ کیوں چلا گیا اور اُس نے بالآخر کیسے آرام پایا؟
۱۹ افسس سے، پولس نے کرنتھس کے بھائیوں کو نہ صرف خط لکھا بلکہ اُس نے ططس کو اس حکم کیساتھ اُنکی مدد کیلئے بھیجا کہ واپس آکر خط کیلئے اُنکے ردِعمل کی رپورٹ دے۔ پولس نے تروآس میں ططس کو روکنے کی توقع کی۔ وہاں پولس کو شاگرد بنانے کے اچھے مواقع کی برکت حاصل ہوئی۔ لیکن یہ بھی اُسکی پریشانی کو ختم کرنے میں ناکام رہا کیونکہ ططس ابھی تک واپس نہیں لوٹا تھا۔ (۲-کرنتھیوں ۲:۱۲، ۱۳) پس وہ ططس سے ملنے کی اُمید میں مکدنیہ چلا گیا۔ پولس کی پریشانی کی حالت میں اُسکی خدمتگزاری کیلئے شدید مخالفت کے باعث اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ”جب ہم مکدنیہ میں آئے،“ وہ وضاحت کرتا ہے، ”ہمارے جسم کو چین نہ ملا بلکہ ہر طرف سے مصیبت میں گرفتار رہے۔ باہر لڑائیاں تھیں۔ اندر دہشتیں۔ توبھی عاجزوں کو تسلی بخشنے والے یعنی خدا نے ططسؔ کے آنے سے ہم کو تسلی بخشی۔“ (۲-کرنتھیوں ۷:۵، ۶) بالآخر جب ططس پولس کو اُسکے خط کیلئے کرنتھیوں کے مثبت ردِعمل کی بابت بتانے کیلئے پہنچ گیاتو کسقدر اطمینان حاصل ہوا!
۲۰. (ا) جیساکہ پولس کے معاملے میں ہوا تھا، ایک دوسرا طریقہ کیا ہے جس سے یہوواہ تسلی فراہم کرتا ہے؟ (ب) اگلے مضمون میں کس چیز پر غور کِیا جائیگا؟
۲۰ پولس کا تجربہ آجکل کے خدا کے خادموں کیلئے تسلیبخش ہے جن میں سے بہتیروں کو ایسی آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے جو اُن کیلئے ”عاجز،“ یا ”افسردہ“ ہو جانے کا باعث بنتی ہیں۔ (فلپس) جیہاں، ’خدا جو تسلی فراہم کرتا ہے‘ ہماری انفرادی ضروریات سے واقف ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے لئے تسلی کا ذریعہ بننے کے لئے استعمال کر سکتا ہے جیسےکہ پولس نے کرنتھیوں کے تائب رویے کی بابت ططس کی رپورٹ سے تسلی حاصل کی تھی۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱۱-۱۳) ہمارے اگلے مضمون میں، ہم کرنتھیوں کیلئے پولس کے پُرتپاک جوابیعمل اور اس بات پر غور کرینگے کہ کیسے یہ آجکل خدا کی تسلی کے اثرآفرین شرکاء بننے کیلئے ہماری مدد کر سکتا ہے۔ (۷ ۱۱/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a پہلی صدی کے مسیحیوں پر خدا کی روح کے خاص اثرات میں سے ایک اُنہیں خدا کے لےپالک روحانی بیٹوں اور یسوع کے بھائیوں کے طور پر مسح کرنا تھا۔ (۲-کرنتھیوں ۱:۲۱، ۲۲) یہ صرف مسیح کے ۱۴۴،۰۰۰ شاگردوں کیلئے محفوظ ہے۔ (مکاشفہ ۱۴:۱، ۳) آجکل مسیحیوں کی اکثریت کو مہربانہ طور پر فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید عطا کی گئی ہے۔ ممسوح نہ ہونے کے باوجود بھی وہ خدا کی روحالقدس کی مدد اور تسلی حاصل کرتے ہیں۔
کیا آپ جواب دے سکتے ہیں
▫ نوعِانسان کو تسلی کی ضرورت کیونکر پڑ گئی؟
▫ یسوع کیسے نوح سے بڑا ثابت ہوا ہے؟
▫ یسوع نے خود کو ”سبت کا مالک“ کیوں کہا؟
▫ آجکل خدا کیسے تسلی فراہم کرتا ہے؟
[نقشے/تصویر]
کرنتھیوں کی بابت ططس کی رپورٹ سے پولس نے بڑی تسلی کا تجربہ کِیا
مکدنیہ
یونان
فلپی
کرنتھس
تروآس
آسیہ
افسس