’اپنے گھرانے کی ضروریات پوری کرنا‘ ترقیپذیر ممالک میں چیلنج کا سامنا کرنا
”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“ پولس رسول نے فرمایا۔ (۱-تیمتھیس ۵:۸) جب امیر ممالک میں خاندان کی پرورش کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے تو ایک ترقیپذیر ملک میں ایسا کرنا اکثر اس سے بھی زیادہ خوفناک چیلنج پیش کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، افریقہ میں، معاشی مشکل اکثر عام بات ہے، کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ نوکریاں کمیاب ہیں، اور جب یہ دستیاب ہیں تو شاید شوہر اور بیوی دونوں کو محض خوراک فراہم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہو۔ شاید خاندان کے سرداروں کو اپنے بیاہتا ساتھیوں اور بچوں کو مہینوں—یا سالوں کے لئے تنہا چھوڑ کر، کام کی تلاش میں دوردراز علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ موزوں رہائش حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ بہتیرے افریقی خاندان بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں؛ جن گھروں میں وہ رہتے ہیں وہ بنیادی ضروریاتِزندگی سے محروم، گھٹن کا شکار ہوتے ہیں۔ غیرصحتمندانہ حالتیں اکثر غالب رہتی ہیں۔
علاوہازیں، مقامی رسمورواج، پُرانی روایات، اور مقبول نظریات خدا کے کلام، بائبل کی روح کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ شادی اور بچوں کی بابت کچھ مروّجہ رجحانات پر غور کریں۔ بعض خاندان کے سرداروں کا خیال ہے کہ وہ صرف مکان کا کرایہ اور سکول کی ضروری فیس ادا کرنے کے ذمہدار ہیں۔ خوراک اور لباس جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا کام اُن کی بیویوں—اور بعضاوقات بڑے بچوں—پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
علاوہازیں، بعض شوہر یہ خیال کرتے ہیں کہ ”میرا پیسہ میرا پیسہ ہے، لیکن تمہارا پیسہ بھی میرا ہی پیسہ ہے۔“ یہ اکثر پیسہ کمانے والی بیویوں میں آزردگی پیدا کرتا ہے۔ تنزانیہ کی ایک عورت نے شکوہ کِیا: ”پیسہ ہم پر یا بچوں پر نہیں بلکہ شرابنوشی پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔ ہم بھی کام میں حصہ لیتے ہیں، یا زیادہ کام کرتے ہیں، لیکن وہ یہ کہہ کر سارے پیسے لے جاتا ہے کہ یہ اُسکے ہیں—جیسےکہ اُس نے کمائے ہیں۔“
تاہم، مسیحی، خدا کے کلام کو مقامی ثقافت یا عام رائے پر فوقیت دیتے ہیں۔ بائبل اپنے خاندان کی دیکھبھال کرنے کے معاملے میں مفید ہدایت پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ بیان کرتی ہے کہ ”لڑکوں کو ماںباپ کے لئے جمع کرنا نہیں چاہئے بلکہ ماںباپ کو لڑکوں کے لئے۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۲:۱۴) اسلئے، خداترس آدمی جو کام کرنے کے لائق ہیں اُنہیں کاہلی کی وجہ سے اپنی بیویوں یا بڑے بچوں پر خاندان کے لئے کھانا اور لباس فراہم کرنے کی ذمہداری نہیں ڈالنی چاہئے؛ یہ ذمہداری واضح طور پر خاندان کے سردار کے کندھوں پر آتی ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۱:۳۔
سچ ہے کہ شاید ایک شوہر کی آمدنی اُس کے تمام خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہ ہو۔ لیکن اگر اُس کی بیوی گھر سے باہر جاکر پیسہ کماتی ہے تو ایک مسیحی شخص آزردہخاطر نہیں ہوگا۔ اس کی بجائے، وہ اُس سے باعزت ”رفیق“ کے طور پر پیش آئے گا۔ (ملاکی ۲:۱۴) لہٰذا، وہ محنت سے کمائے گئے اس کے پیسے کو سنگدلی سے نہیں ہتھیائے گا اور اُس کے احساسات کے لئے بےقدری کا اظہار کرتے ہوئے اسے ضائع نہیں کرے گا۔ اس کے برعکس، وہ اور اُس کی بیوی ’باہمی مشورہ‘ کریں گے اور فیصلہ کریں گے کہ اُن کے مالی وسائل کو پورے خاندان کے فائدے کے لئے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (امثال ۱۳:۱۰) جہاں ممکن ہو، شوہر کسی حد تک اپنی بیوی کو پیسہ خرچ کرنے کی ویسی ہی آزادی بھی دیتا ہے جس سے بائبل وقتوں میں ”نیکوکار بیوی“ نے استفادہ کِیا تھا۔ (امثال ۳۱:۱۰، ۱۱، ۱۶) ایسے معاملات میں بائبل مشورت پر عمل کرنا خاندان کی خوشی اور اطمینان کو فروغ دیتا ہے۔
بیروزگاری کے چیلنجوں کا سامنا کرنا
بیروزگاری کے مسئلے پر غور کریں۔ جب ملازمتیں کم اور تنخواہ تھوڑی ہو تو بہتیرے افریقی خاندانی سرداروں نے گھر سے بہت دُور—کانوں میں، فیکٹریوں میں، کھیتوں پر، اور کاشتکاری کے کاموں پر—ملازمت تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر ایک مسیحی شخص ایسی حالت میں ہو تو وہ خود کو ساتھی پرستاروں سے علیٰحدہ اور بہت بُری صحبت کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ (امثال ۱۸:۱؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) اگرچہ شاید اُسکا خاندان صورتحال سے نپٹنے کی پوری کوشش کرے، وہ غالباً روحانی طور پر پیشوائی کرنے یا جذباتی مدد فراہم کرنے کے لئے باپ کے گھر میں موجود نہ ہونے کے باعث مشکل کا سامنا کرینگے۔ ستمظریقی تو یہ ہے کہ طویل غیرحاضری اُس چیز پر بھی منتج ہو سکتی ہے جسے روکنا اسکا مقصد تھا—مالی مشکل۔
ایک ماں کہتی ہے: ”میرا شوہر سونے کی کانکنی کے لئے چلا گیا۔ اُس نے ایک ماہ یا زیادہ سے زیادہ دو ماہ بعد لوٹنے کا منصوبہ بنایا۔ اس میں ایک سال لگ گیا! مَیں چھ بچوں کی نگہداشت کرنے کے لئے تنہا رہ گئی۔ پھر کرایہ بھی ادا کرنا تھا۔ چونکہ میری صحت کچھ اچھی نہیں تھی اس لئے مجھے ہسپتال کے بِل بھی ادا کرنا تھے۔ ہمیں کپڑوں کی ضرورت تھی، اور ہمیں ہر روز کھانا بھی کھانا تھا۔ میرے پاس کوئی ملازمت نہیں تھی۔ بڑی مشکل تھی۔ مشکلترین کام بچوں کی روحانی نگہداشت—خاندانی مطالعہ، اجلاس، اور منادی کا کام—کرنا تھا۔ یہوواہ کی مدد کے ساتھ ہم کسی نہکسی طرح گزارا کرتے رہے۔“
بعض ماؤں نے بھی خود کو ملازمت کرنے کی غرض سے لگاتار کئی مہینوں تک اپنے خاندانوں کو پیچھے چھوڑ جانے پر مجبور محسوس کِیا ہے۔ بعض سفری تاجروں کے طور پر اپنی روزی کماتے ہیں اور کبھیکبھار ہی گھر پر ملتے ہیں۔ یوں بڑے بچے والدین کا کردار ادا کرنے اور کھانے پینے، گھریلو کامکاج اور حتیٰکہ چھوٹے بہن بھائیوں کی تربیت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ روحانی کارگزاریوں میں شرکت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ جیہاں، خاندان پر بہت زیادہ دباؤ ہو سکتا ہے!
بِلاشُبہ، جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ماںیاباپ کے پاس دُوراُفتادہ ملازمت تلاش کرنے کے سوا اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کا کوئی اَور طریقہ نہ ہو۔ بائبل وقتوں میں یعقوب کے بیٹوں کو مصر سے خوراک لانے کی غرض سے اپنے خاندانوں کو چھوڑنا پڑا تھا۔ (پیدایش ۴۲:۱-۵) پس آجکل جب ایسے ہی حالات پیدا ہو جاتے ہیں تو خاندان کے سرداروں کو اندازہ لگانا چاہئے کہ دُوراُفتادہ ملازمت لمبی جُدائی کے روحانی اور جذباتی نقصان کی نسبت کونسے مادی فائدے لائیگی۔ بہتیرے خاندان طویل عرصے کے لئے علیٰحدہ ہو جانے کی بجائے معاشی مشکلات برداشت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ۱-تیمتھیس ۶:۸ میں پائے جانے والے پولس کے الفاظ کو یاد رکھتے ہیں: ”اگر ہمارے پاس کھانے پہننے کو ہے تو اُسی پر قناعت کریں۔“—مقابلہ کریں امثال ۱۵:۱۷۔
اکثراوقات سفر کرنے کے متبادل ہوتے ہیں۔ نئی سوچ، اختراعپسندی ظاہر کرنے سے، بعض مفید خدمات فراہم کرتے ہوئے ملازمت پیدا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔a (مقابلہ کریں امثال ۳۱:۲۴) یا یہ ادنیٰ ملازمتوں کو قبول کرنے کا معاملہ ہو سکتا ہے جنہیں دوسرے لوگ گھٹیا خیال کرتے ہیں۔ (افسیوں ۴:۲۸) پولس رسول نے خود دوسروں پر مالی بوجھ بننے سے گریز کرنے کے لئے ’رات اور دن محنتمشقت کی۔‘ (۲-تھسلنیکیوں ۳:۸) آجکل مسیحی مرد اس نمونے کی پیروی کر سکتے ہیں۔
تعلیمی مسائل
ایک اَور مسئلہ تعلیم کا ہے۔ بعض دُوراُفتادہ علاقوں میں، بچوں کو معقول تعلیم دلوانے کی خاطر والدین کے لئے اپنے بچوں کو طویل عرصے کے لئے رشتہداروں کے پاس رہنے کے لئے بھیج دینا ایک عام بات ہے۔ اپنے والدین سے جُدا ایسے بچوں کو اکثر اجلاسوں پر حاضر ہونے یا میدانی خدمتگزاری میں شرکت کرنے کے لئے مشکل پیش آتی ہے۔ درکار تربیت سے محروم ہوکر، وہ آسانی سے بُری صحبتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً، ایک بڑی تعداد مسیحی طرزِزندگی کو ترک کر چکی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دُنیاوی تعلیم کے اپنے فائدے ہوتے ہیں۔ لیکن بائبل روحانی تعلیم کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، اور خدا نے ایسی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہداری والدین کو سونپی ہے۔ (استثنا ۱۱:۱۸، ۱۹؛ امثال ۳:۱۳، ۱۴) تاہم، بچے کو ایک طویل عرصے کے لئے دُور بھیج دینا، غالباً ”خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“ اُسکی پرورش کرنے کی ماںیاباپ کی کوششوں کی اہمیت کو کم کر دیگا۔—افسیوں ۶:۴۔b
جب مقامی سطح پر تعلیم کے لئے مواقع ناکافی دکھائی دیں تو شاید والدین کے پاس اس کے علاوہ اَور کوئی چارہ نہ ہو کہ اپنے بچوں کو بنیادی ہنر سکھانے کے لئے جوکچھ وہ خود کر سکتے ہیں وہ کریں۔ ہمارے ”[”عظیم،“ اینڈبلیو] مُعلم،“ یہوواہ کی طرف سے بھی مدد فراہم کی گئی ہے۔ (یسعیاہ ۳۰:۲۰) یہوواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیائیں کافی زیادہ تعلیمی پروگرام پیش کرتی ہیں۔ بہتیری کلیسیائیں خواندگی کی کلاسوں کا بندوبست کرتی ہیں۔ اسی طرح تھیوکریٹک منسٹری سکول ایک مفید فراہمی ہے جو پڑھنے اور فصاحت سے بولنے کے لئے بچے کی لیاقت کو تیز کر سکتا ہے۔
بچے پیدا کرنے کی بابت متوازن نظریہ
بچوں کی ضروریات کو پورا کرنا بالخصوص اُس وقت نہایت مشکل ہوتا ہے جب یہ زیادہ ہوں۔ افریقی والدین اکثر یہ کہینگے کہ وہ بچوں سے پیار کرتے ہیں؛ اسلئے، وہ جتنے زیادہ بچے پیدا کر سکتے ہیں وہ کرتے ہیں! اگرچہ بچوں کو ذریعۂمعاش خیال کِیا جا سکتا ہے، بہتیرے والدین ان میں سے بعض کی موزوں طور پر ضروریات پوری کرنے کے اہل نہیں ہوتے ہیں۔
بیشک، بائبل بیان کرتی ہے کہ ”اَولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے۔“ (زبور ۱۲۷:۳) تاہم، غور فرمائیں کہ یہ الفاظ اسرائیل کی خوشحالی کے دَور میں قلمبند کئے گئے تھے۔ بعدازاں، شدید قحط اور جنگ نے بچے پیدا کرنا تکلیفدہ بنا دیا۔ (نوحہ ۲:۱۱، ۲۰؛ ۴:۱۰) بہتیرے ترقیپذیر ممالک میں پائی جانے والی مشکل صورتحال کے پیشِنظر، ذمہدار مسیحیوں کو اس بات پر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ حقیقتپسندانہ طور پر وہ کتنے بچوں کو خوراک، لباس، رہائش، اور تربیت فراہم کر سکتے ہیں۔ لاگت کا حساب لگانے سے، بہتیرے جوڑے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ روایت کے خلاف جانا اور جتنے بچے وہ پیدا کرینگے اُن کی تعداد کو کم کر دینا بہتر ہوگا۔c—مقابلہ کریں لوقا ۱۴:۲۸۔
واقعی، یہ ”بُرے دن“ ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) جب یہ نظامالعمل تیزی کے ساتھ اپنے یقینی خاتمے کی جانب بڑھتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقیپذیر ممالک میں خاندانوں پر دباؤ بڑھیں گے۔ لیکن، خدا کے کلام کے اصولوں کی احتیاط کے ساتھ پابندی کرنے سے، خاندان کے سردار اپنے خاندانوں کی جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہوواہ اُن لوگوں کے لئے یہ وعدہ فرماتا ہے جو وفاداری سے اُسکی خدمت کرتے ہیں: ”مَیں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہونگا اور کبھی تجھے نہ چھوڑونگا۔“ (عبرانیوں ۱۳:۵) جیہاں، نادار ممالک میں بھی، مسیحی اپنے گھرانوں کی ضروریات پوری کرنے کے چیلنج کا کامیابی سے سامنا کر سکتے ہیں! (۲۹ ۱۰/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a ہمارے ساتھی جریدے، اویک! کے اکتوبر ۲۲، ۱۹۹۴ کے شمارے میں مضمون ”ترقیپذیر ممالک میں ملازمتیں پیدا کرنا“ کو دیکھیں۔
b مزید تفصیلات کے لئے، اگست ۱۵، ۱۹۸۲ کے دی واچٹاور میں ”سوالات از قارئین“ کو دیکھیں۔
c مفید معلومات ”خاندانی منصوبہبندی—ایک عالمگیر مسئلہ“ کے سلسلے میں فراہم کی گئی تھیں، جو فروری ۲۲، ۱۹۹۳ کے اویک! میں شائع ہوا تھا۔