یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏2 ص.‏ 9-‏12
  • خدا کی خدمت میں متحد بڑے خاندان

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کی خدمت میں متحد بڑے خاندان
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آجکل بڑے خاندان
  • والدین کو روحانی اشخاص ہونا چاہئے
  • ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا
  • اچھا رابطہ، مشترکہ نشانے
  • یہوواہ پر بھروسہ کرنا
  • کبھی ہمت نہ ہاریں!‏
  • خاندان کو روحانی طور پر مضبوط بنانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • ‏”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • اپنے بچوں کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • والدین!‏ اپنے خاندان کی خبرگیری کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏2 ص.‏ 9-‏12

خدا کی خدمت میں متحد بڑے خاندان

‏”‏اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے،“‏ زبورنویس نے لکھا۔ ”‏پیٹ کا پھل اُسی کی طرف سے اجر ہے۔ جوانی کے فرزند ایسے ہیں جیسے زبردست کے ہاتھ میں تیر۔ خوش‌نصیب ہے وہ آدمی جسکا ترکش اُن سے بھرا ہے۔“‏—‏زبور ۱۲۷:‏۳-‏۵‏۔‏

جی‌ہاں، بچے یہوواہ کی طرف سے برکت ہو سکتے ہیں۔ نیز جس طرح ایک تیرانداز یہ جاننے سے مطمئن ہوتا ہے کہ وہ اپنے ترکش میں تیروں کو کیسے ترتیب دے سکتا ہے اسی طرح والدین بھی اپنے بچوں کی ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جانے والی راہ کی جانب راہنمائی کرنے سے خوشی حاصل کرتے ہیں۔—‏متی ۷:‏۱۴‏۔‏

بہت پہلے، بہت سے بچوں سے بھرے ہوئے ترکش والے والدین خدا کے لوگوں کے درمیان عام تھے۔ مثال کے طور پر، مصر میں اُنکی اسیری کے سالوں کی بابت سوچیں:‏ ”‏اؔسرائیل کی اولاد برومند اور کثیرالتعداد اور فراوان اور نہایت زورآور ہو گئی اور وہ ملک اُن سے بھر گیا۔“‏ (‏خروج ۱:‏۷)‏ مصر میں آنے اور وہاں سے جانے والے اسرائیلیوں کی تعداد کا موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ خاندان اوسطاً دس بچوں پر مشتمل تھے!‏

بعدازاں، یسوع کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جو آج شاید بعض کو بہت بڑا معلوم ہو۔ یسوع، یوسف اور مریم کا پہلوٹھا بیٹا تھا مگر اُن کے چار بیٹے اور کچھ بیٹیاں بھی تھیں۔ (‏متی ۱۳:‏۵۴-‏۵۶‏)‏ اُن کے بچوں کی کثیر تعداد اس چیز کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ یروشلیم سے واپسی کا سفر شروع کرتے وقت مریم اور یوسف کو یہ اندازہ کیوں نہیں ہوا تھا کہ یسوع اُن کے گروہ میں موجود نہیں ہے۔—‏لوقا ۲:‏۴۲-‏۴۶‏۔‏

آجکل بڑے خاندان

آجکل بہت سے مسیحی روحانی، معاشی، معاشرتی اور دیگر وجوہ کی بِنا پر اپنے خاندان چھوٹے رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم بہت سے معاشروں میں بڑے خاندان ابھی بھی معمول کی بات ہیں۔ دی سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۷ کے مطابق، افریقہ کے صحرائے‌اعظم کے اردگرد کے علاقوں میں شرحِ‌پیدائش سب سے زیادہ ہے۔ وہاں ایک خاتون اوسطاً چھ بچوں کو جنم دیتی ہیں۔‏

اگرچہ بڑے خاندان رکھنے والے مسیحی والدین کیلئے اپنے بچوں کی ایسی پرورش کرنا کہ وہ یہوواہ سے محبت رکھیں آسان نہیں تو بھی بہتیرے کامیابی کیساتھ ایسا کر رہے ہیں۔ کامیابی کا انحصار سچی پرستش میں خاندان کے متحد ہونے پر ہے۔ کرنتھس کی کلیسیا کے نام پولس رسول کے الفاظ کا اطلاق آجکل مسیحی خاندانوں پر بھی اسی طرح سے ہوتا ہے۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏اب اَے بھائیو!‏ .‏ .‏ .‏ سب ایک ہی بات کہو اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یک‌دل اور یک‌رای ہو کر کامل بنے رہو۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰‏)‏ ایسا اتحاد کیسے حاصل کِیا جا سکتا ہے؟‏

والدین کو روحانی اشخاص ہونا چاہئے

بنیادی عنصر یہ ہے کہ والدین کو خدا کیلئے مکمل عقیدت رکھنی چاہئے۔ غور کریں موسیٰ نے اسرائیلیوں سے کیا کہا:‏ ”‏سن اَے اؔسرائیل!‏ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہمارا خدا ایک ہی خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔ تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اپنے خدا سے محبت رکھ۔ اور یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تُو انکو اپنی اولاد کے ذہن‌نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت انکا ذکر کِیا کرنا۔“‏—‏استثنا ۶:‏۴-‏۷۔‏

غور کریں کہ موسیٰ نے اس چیز کی نشاندہی کی کہ خدا کے حکم والدین کے ’‏دلوں پر‘‏ نقش ہونے چاہئیں۔ تب ہی والدین بچوں کو باقاعدگی سے روحانی ہدایات دینے کی طرف راغب ہونگے۔ درحقیقت، جب والدین روحانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں تو وہ روحانی معاملات کی بابت اپنے بچوں کو ہدایات دینے کے مشتاق ہوتے ہیں۔‏

روحانی شخص بننے اور اپنے پورے دل سے یہوواہ سے محبت رکھنے کے لئے، باقاعدگی کیساتھ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنا، اُس پر غور کرنا اور اُس کا اطلاق کرنا نہایت اہم ہے۔ زبورنویس نے لکھا کہ جس شخص کی خوشنودی یہوواہ کی شریعت میں ہے اور جو ”‏دن رات“‏ اُسی پر دھیان رکھتا ہے ”‏وہ اُس درخت کی مانند ہوگا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جسکا پتا بھی نہیں مرجھاتا۔ سو جوکچھ وہ کرے بارور ہوگا۔“‏—‏زبور ۱:‏۲، ۳‏۔‏

جس طرح ایک درخت کو اگر باقاعدگی سے پانی دیا جاتا ہے تو وہ اچھا پھل دیتا ہے اُسی طرح روحانی طور پر آسودہ خاندان یہوواہ کے جلال کیلئے خدائی پھل پیدا کرتے ہیں۔ مغربی افریقہ میں رہنے والا یووامے‌گو کا خاندان اسکی ایک مثال ہے۔ یووامے‌گو اور اُسکی بیوی کے اگرچہ آٹھ بچے ہیں تو بھی وہ دونوں ریگولر پائنیر یعنی یہوواہ کے گواہوں کے کل‌وقتی خادموں کے طور پر خدمت کر رہے ہیں۔ وہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏گزشتہ ۲۰ سال سے ہمارے خاندان نے باقاعدہ خاندانی بائبل مطالعے کے معمول کو قائم رکھا ہوا ہے۔ ہم نے بچوں کو بچپن ہی سے نہ صرف اپنے خاندانی مطالعے کے دوران بلکہ خدمتگزاری اور دیگر اوقات میں بھی خدا کا کلام سکھایا ہے۔ ہمارے تمام بچے بادشاہتی خوشخبری کے مناد ہیں اور صرف سب سے چھوٹا بیٹا بپتسمہ‌یافتہ نہیں جو کہ چھ برس کا ہے۔“‏

ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا

‏”‏حکمت سے گھر تعمیر کِیا جاتا ہے،“‏ بائبل بیان کرتی ہے۔ (‏امثال ۲۴:‏۳‏)‏ خاندان میں ایسی حکمت ٹیم‌ورک کو تقویت دیتی ہے۔ خاندانی ٹیم کا ‏”‏کپتان“‏ والد ہوتا ہے جسے خدا کی طرف سے گھرانے کا سربراہ مقرر کِیا گیا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏)‏ مُلہَم پولس رسول نے سرداری کی ذمہ‌داری کی اہمیت پر زور دیا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے [‏مادی اور روحانی ضروریات کو پورا نہ کرے ]‏ تو ایمان کا منکر اور بے‌ایمان سے بدتر ہے۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏۔‏

خدا کے کلام کی اس مشورت کی مطابقت میں، مسیحی شوہروں کو اپنی بیویوں کی روحانیت کی دیکھ‌بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بیویاں گھر کے کاموں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں تو اُنکی روحانیت کمزور پڑ جائیگی۔ ایک افریقی ملک میں، ایک نئے بپتسمہ‌یافتہ مسیحی نے اپنی کلیسیا کے بزرگوں سے شکایت کی کہ اُس کی بیوی روحانی معاملات کے سلسلے میں کچھ لاپرواہ دکھائی دیتی ہے۔ بزرگوں نے تجویز کِیا کہ اُسکی بیوی کو عملی مدد کی ضرورت تھی۔ پس شوہر نے گھر کے کاموں میں بیوی کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اُس نے اپنی بیوی کی پڑھائی کو بہتر بنانے اور بائبل علم کو بڑھانے میں مدد دینے کیلئے بھی وقت صرف کرنا شروع کر دیا۔ بیوی نے بہت اچھا جوابی‌عمل دکھایا اور اب پورا خاندان خدا کی خدمت میں متحد ہے۔‏

والدوں کو اپنے بچوں کی روحانیت کی بھی فکر کرنی چاہئے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏اے اولاد والو!‏ تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ جب والدین اپنے بچوں کو دق نہیں کرتے اور اُنکی تربیت کرنے کی نصیحت پر دھیان دیتے ہیں تو بچے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ خاندانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ نتیجتاً بچے بھی روحانی نشانے حاصل کرنے میں ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ‌افزائی کرنے پر مائل ہوتے ہیں۔‏

ٹیم‌ورک میں یہ بھی شامل ہے کہ جب بچے اس کیلئے تیار ہوں تو اُنہیں روحانی ذمہ‌داریاں سونپی جائیں۔ ایک باپ جو مسیحی بزرگ بھی ہے اور جس کے ۱۱ بچے ہیں صبح‌سویرے اُٹھتا ہے اور کام پر جانے سے پہلے اُن میں سے کئی ایک کیساتھ بائبل مطالعہ کرتا ہے۔ بڑے بچے اپنے بپتسمے کے بعد چھوٹے بہن‌بھائیوں کی مدد کرتے ہیں جس میں اُنہیں بائبل سکھانے میں مدد دینا بھی شامل ہے۔ باپ نگہبانی کرتا اور اُنکی کوششوں کو سراہتا ہے۔ چھ بچے بپتسمہ‌یافتہ ہیں جبکہ دیگر اس نشانے تک پہنچنے کیلئے ہمہ‌تن مصروف ہیں۔‏

اچھا رابطہ، مشترکہ نشانے

متحد خاندانوں کیلئے پُرمحبت رابطہ اور مشترکہ روحانی نشانے اہم ہیں۔ نائیجیریا میں رہنے والا ایک مسیحی بزرگ گورڈن سات بچوں کا باپ ہے جن کی عمریں ۱۱ سے ۲۷ سال کے درمیان ہیں۔ اُن میں سے چھ اپنے والدین کی طرح پائنیر ہیں۔ سب سے چھوٹا جسکا حال ہی میں بپتسمہ ہوا باقاعدگی سے باقی کے خاندان کیساتھ شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لیتا ہے۔ دو بڑے بیٹے کلیسیا میں خدمتگزار خادم ہیں۔‏

گورڈن نے اپنے ہر بچے کیساتھ خود بائبل مطالعہ کِیا۔ اس کے علاوہ، خاندان بائبل تعلیم کے ایک جامع پروگرام پر عمل‌پیرا ہے۔ ہر صبح وہ روزانہ کی آیت پر غور کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں اور پھر کلیسیائی اجلاس کی تیاری کرتے ہیں۔‏

خاندان کے ہر فرد کے لئے ایک نشانہ واچ‌ٹاور اور اویک!‏ کے تمام مضامین پڑھنا ہے۔ حال ہی میں، اُنہوں نے روزانہ کی بائبل پڑھائی کو اپنے معمول میں شامل کر لیا ہے۔ جوکچھ وہ پڑھتے ہیں اُسکی بابت بات‌چیت کرنے سے، خاندان کے افراد اس عادت کو قائم رکھنے کیلئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں۔‏

ہفتہ‌وار خاندانی بائبل مطالعے کا معمول اسقدر پُختہ ہے کہ کسی کو یاددہانی کی ضرورت نہیں—‏ہر ایک اس کا انتظار کرتا ہے۔ سالوں کے دوران، خاندانی مطالعہ کے مشمولات، ساخت اور دورانیہ بچوں کی عمر اور ضروریات کیساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ خاندان خدا کے دیگر وفادار خادموں کے قریب آ گیا ہے اور اس کے بچوں پر مفید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‏

خاندان کے طور پر، وہ ملکر کام کرتے ہیں اور تفریح کے لئے بھی کچھ وقت بچاتے ہیں۔ ہفتے میں ایک مرتبہ وہ بطور خاندان کے ”‏ایک شام“‏ صرف کر کے محظوظ ہوتے ہیں جس میں مختلف کوئز، موزوں لطیفے، پیانو بجانا، کہانی سنانا اور دیگر عام تفریح کی چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ کبھی‌کبھار وہ ساحلِ‌سمندر یا تفریحی مقامات کی سیر کیلئے بھی جاتے ہیں۔‏

یہوواہ پر بھروسہ کرنا

متذکرہ‌بالا لوگوں میں سے کوئی بھی بڑے خاندانوں کی پرورش میں شامل مشکلات کو آسان خیال نہیں کرتا۔ ”‏آٹھ بچوں کے لئے ایک اچھا باپ ثابت ہونا واقعی ایک چیلنج ہے،“‏ ایک مسیحی باپ بیان کرتا ہے۔ ”‏ان کی پرورش کے لئے وافر مادی اور روحانی غذا درکار ہے؛ اُن کی کفالت کے لئے کافی پیسہ کمانے کے لئے مجھے سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ بڑے بچے نوعمری کے سالوں میں ہیں اور آٹھوں بچے سکول جاتے ہیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ روحانی تربیت اہم ہے تاہم میرے چند بچے ضدی اور نافرمان ہیں۔ وہ مجھے آزردہ کرتے ہیں لیکن مَیں جانتا ہوں کہ بعض‌اوقات مَیں بھی یہوواہ کے دل کو آزردہ کرنے والے کام کرتا ہوں اور وہ مجھے معاف کر دیتا ہے۔ پس مجھے بھی تحمل کے ساتھ اُس وقت تک اپنے بچوں کی اصلاح کرتے رہنا چاہئے جبتک‌کہ اُنہیں اس کا احساس نہیں ہو جاتا۔‏

‏”‏اس سلسلے میں مَیں یہوواہ کے نمونے کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ تحمل سے پیش آتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ سب کی نوبت توبہ تک پہنچے۔ مَیں اپنے خاندان کیساتھ مطالعہ کرتا ہوں اور میرے کچھ بچے بپتسمہ کے نشانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مَیں نتائج کیلئے اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں کرتا؛ میری طاقت بڑی محدود ہے۔ مَیں دُعا میں ہمیشہ یہوواہ کی قربت میں جانے اور امثال کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتا ہوں جوکہ بیان کرتی ہے:‏ ’‏سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کریگا۔‘‏ اپنے بچوں کی کامیابی کیساتھ تعلیم‌وتربیت کرنے میں یہوواہ میری مدد کرے گا۔“‏—‏امثال ۳:‏۵، ۶‏۔‏

کبھی ہمت نہ ہاریں!‏

بعض‌اوقات بچوں کی تربیت کرنا شاید ایسا کام دکھائی دے جس کی کوئی قدر نہیں تو بھی کبھی ہمت نہ ہاریں!‏ ثابت‌قدم رہیں!‏ اگر آپکے بچے اس وقت آپ کی کوششوں کیلئے مثبت جوابی‌عمل یا قدردانی ظاہر نہیں کرتے تو شاید وہ بعد میں ایسا کریں۔ ایک بچے کو ایسا مسیحی شخص بننے میں وقت لگتا ہے جو روح کے پھلوں سے لدا ہوا ہے۔—‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

مونیکا کینیا میں رہتی ہے اور دس بچوں میں سے ایک ہے۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏میرے والدین نے بچپن سے ہی ہمیں بائبل سچائی سکھائی۔ میرے والد ہر ہفتے ہمارے ساتھ مسیحی مطبوعات کا مطالعہ کرتے تھے۔ اُن کے کام کی وجہ سے مطالعہ ہمیشہ ایک ہی دن پر نہیں ہوتا تھا۔ بعض‌اوقات جب وہ کام سے گھر آ رہے ہوتے تھے تو ہمیں باہر کھیلتے ہوئے دیکھ کر کہتے کہ پانچ منٹ میں بائبل مطالعہ کے لئے سب اندر آ جائیں۔ بائبل مطالعے کے بعد ہماری حوصلہ‌افزائی کی جاتی کہ ہم کوئی سوال پوچھیں یا کسی مسئلہ پر بات‌چیت کریں۔‏

‏”‏وہ اس بات کا یقین کر لیتے تھے کہ ہم خداپرست بچوں کے ساتھ رفاقت رکھیں۔ والد باقاعدگی سے ہمارے سکول جاتے تاکہ ہمارے اساتذہ سے ہمارے چال‌چلن کی بابت معلوم کر سکیں۔ ایک ملاقات پر اُنہیں معلوم ہوا کے میرے تین بڑے بھائیوں نے دیگر لڑکوں کیساتھ لڑائی کی تھی اور یہ کہ وہ بعض‌اوقات گستاخ ہو جاتے تھے۔ والد نے اُنہیں بدتمیزی کے لئے سزا دی لیکن اُس نے صحائف سے یہ وضاحت کرنے کے لئے بھی وقت نکالا کہ اُنہیں خداپرستانہ روش اپنانے کی ضرورت کیوں ہے۔‏

‏”‏ہمارے والدین نے ہمارے ساتھ اجلاس کی تیاری کرنے سے ہمیں اجلاسوں پر حاضر ہونے کے فوائد سے آگاہ کِیا۔ گھر پر تربیتی مشقوں کے ذریعے ہمیں خادم بننے کی تربیت دی گئی۔ ہم بچپن ہی سے اپنے والدین کیساتھ میدانی خدمت میں جاتے تھے۔‏

‏”‏آج میرے دو بڑے بھائی سپیشل پائنیر ہیں، ایک بہن ریگولر پائنیر ہے اور ایک دوسری بہن جو شادی‌شُدہ اور بچوں والی ہے، ایک سرگرم گواہ ہے۔ میری دو چھوٹی بہنیں جو ۱۸ اور ۱۶ سال کی ہیں، غیربپتسمہ‌یافتہ پبلشر ہیں۔ دو چھوٹے بھائیوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ مَیں تین سال سے کینیا میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ آفس میں خدمت کر رہی ہوں۔ مَیں اپنے والدین سے پیار کرتی ہوں اور اُنکی قدر کرتی ہوں اسلئے کہ وہ روحانی لوگ ہیں؛ اور اُنہوں نے ہمارے لئے عمدہ نمونہ قائم کِیا ہے۔“‏

اس بات سے قطع‌نظر کہ آپ کے کتنے بچے ہیں، ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے میں اُنکی مدد کرنے کے لئے کبھی ہمت نہ ہاریں۔ جب یہوواہ آپ کی کوششوں کو برکت دے گا تو آپ یوحنا رسول کے ان الفاظ کو دہرائیں گے جو اُس نے اپنے روحانی بچوں کی بابت کہے:‏ ”‏میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں کہ مَیں اپنے فرزندوں کو حق پر چلتے ہوئے سنوں۔“‏—‏۳-‏یوحنا ۴‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں