کیا خدا ہر قسم کی پرستش قبول کرتا ہے؟
خدا نے انسان کو ایک روحانی ضرورت—پرستش کرنے کی ضرورت—کیساتھ خلق کِیا۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسکی ارتقا ہوئی ہو۔ یہ شروع ہی سے انسان کا حصہ تھی۔
تاہم، افسوس کی بات ہے کہ نوعِانسان نے پرستش کے بہت سے مختلف طریقوں کو فروغ دیا ہے، اور عموماً، انہوں نے خوشحال، متحد انسانی خاندان تشکیل نہیں دئیے ہیں۔ اسکی بجائے، مذہب کے نام پر ابھی تک خونین جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ اس سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ کوئی شخص خدا کی پرستش کیسے کرتا ہے؟
قدیم وقتوں میں قابلِاعتراض پرستش
قدیم اقوام جو مشرقِوسطیٰ میں آباد تھیں ایک تاریخی مثال فراہم کرتی ہیں جو اس سوال کا جواب دینے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے۔ بہتیرے ایک دیوتا کی پرستش کرتے تھے جو بعلؔ کہلاتا تھا۔ وہ بعلؔ کی مادہ ساتھیوں کی بھی پرستش کرتے تھے، جیسےکہ اشیرؔہ۔ اشیرؔہ کی پرستش میں یسیرت کا استعمال شامل تھا جسکے بارے میں خیال کِیا جاتا تھا کہ یہ ایک جنسی علامت ہے۔ اس علاقے میں کام کرنے والے آثارِقدیمہ کے ماہرین نے کھودائی کرکے بیشمار برہنہ عورتوں کی مورتیاں نکالی ہیں۔ یہ مورتیاں، دی انسائیکلوپیڈیا آف ریلیئجن بیان کرتا ہے، ”جاذبِتوجہ آلاتِتناسل والی، ایک دیوی کو ظاہر کرتی ہیں جو اپنی چھاتیوں کو پکڑے ہوئے ہے،“ اور ”غالباً . . . اشیرؔہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔“ ایک بات یقینی ہے، بعلؔ کی پرستش اکثر نہایت غیراخلاقی ہوتی تھی۔
اسلئے، یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ بعلؔ کی پرستش میں جنسی رنگرلیاں شامل ہوتی تھیں۔ (گنتی ۲۵:۱-۳) ایک کنعانی، سکمؔ نے ایک نوجوان کنواری دؔینہ کو بےآبرو کیا۔ اسکے باوجود وہ اپنے خاندان میں نہایت معزز شخص خیال کِیا جاتا تھا۔ (پیدایش ۳۴:۱، ۲، ۱۹) محرمات سے جنسی تعلقات، ہمجنسپسندی، اور جانوروں کیساتھ جنسی بدفعلی عام تھی۔ (احبار ۱۸:۶، ۲۲-۲۴، ۲۷) لفظ ”سدومیت،“ ہمجنسپسندوں کا ایک فعل، ایک شہر کے نام سے مشتق ہے جو کبھی دُنیا کے اُسی خطے میں واقع تھا۔ (پیدایش ۱۹:۴، ۵، ۲۸) بعلؔ کی پرستش میں کُشتوخون بھی شامل تھا۔ حیرانی کی بات ہے کہ بعلؔ کے پرستار اپنے دیوتاؤں کے لئے قربانی کے طور پر اپنے بچوں کو زندہ ہی بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا کرتے تھے! (یرمیاہ ۱۹:۵) ان سب کاموں کا تعلق مذہبی تعلیمات سے تھا۔ کیسے؟
ڈاکٹر میرِؔل انجر اپنی کتاب آرکیولوجی اینڈ دی اولڈ ٹسٹامنٹ میں وضاحت کرتا ہے کہ ”کنعانی اساطیر کا وحشیپن، شہوتپرستی اور اوباشی اُس وقت مشرقِقریب میں کسی بھی جگہ کی نسبت کہیں زیادہ بدتر تھی۔ اور کنعانی معبودوں کی اس حیرانکُن خصلت نے کہ وہ کسی اخلاقی کردار کے مالک نہیں تھے، اُنکے پرستاروں میں بدترین خصائل پیدا کئے ہونگے اور اُس وقت کے نہایت بداخلاق کاموں میں سے زیادہتر، جیسےکہ مندر میں عصمتفروشی، [اور] بچوں کی قربانی، پر منتج ہوئی ہوگی۔“
کیا خدا نے کنعانیوں کی پرستش کو قبول کِیا تھا؟ ہرگز نہیں۔ اُس نے اسرائیلیوں کو سکھایا کہ کیسے ایک خالص طریقے سے اُسکی پرستش کریں۔ مذکورہبالا کاموں کے سلسلے میں، اُس نے آگاہ کِیا: ”تم ان کاموں میں سے کسی میں پھنس کر آلودہ نہ ہو جانا کیونکہ جن قوموں کو مَیں تمہارے آگے سے نکالتا ہوں وہ ان سب کاموں کے سبب سے آلودہ ہیں۔ اور اُنکا ملک بھی آلودہ ہو گیا ہے۔ اسلئے مَیں اُسکی بدکاری کی سزا اُسے دیتا ہوں اَیسا کہ وہ اپنے باشندوں کو اُگلے دیتا ہے۔“—احبار ۱۸:۲۴، ۲۵۔
خالص پرستش آلودہ ہو جاتی ہے
بہتیرے اسرائیلیوں نے خالص پرستش کی بابت خدا کے نظریے کو قبول نہ کِیا۔ اسکی بجائے، اُنہوں نے بعلؔ کی پرستش کو اپنے ملک میں جاری رہنے کی اجازت دی۔ جلد ہی اسرائیلی یہوؔواہ کی پرستش کو بعلؔ کی پرستش کیساتھ ملانے کی کوشش کرنے کے بہکاوے میں آ گئے۔ کیا خدا نے اس مخلوط قسم کی پرستش کو قبول کِیا تھا؟ منسیؔ بادشاہ کے دورِحکومت میں جوکچھ واقع ہوا اُس پر غور کریں۔ اُس نے بعلؔ کیلئے مذبحے بنائے، اپنے بیٹے کو قربانی کے طور پر جلایا، اور جادوگری کی۔ ”اور اُس نے یسیرت [عبرانی میں اشیرؔہ] کی کھودی ہوئی مورت کو جسے اُس نے بنایا تھا اُس گھر میں نصب کِیا جسکی بابت خداوند نے . . . کہا تھا کہ اسی گھر میں . . . مَیں اپنا نام ابد تک رکھونگا۔“—۲-سلاطین ۲۱:۳-۷۔
منسیؔ کی رعایا نے اپنے بادشاہ کے نمونے کی پیروی کی۔ دراصل، اُس نے ”اُن کو بہکایا کہ وہ اُن قوموں کی نسبت جن کو خداوند نے بنیاسرائیل کے آگے سے نابود کِیا زیادہ بدی کریں۔“ (۲-سلاطین ۲۱:۹) خدا کے انبیاء کی معرفت بارہا دی جانیوالی آگاہیوں کو سننے کی بجائے، منسیؔ نے اس حد تک کُشتوخون کِیا کہ یرؔوشلیم بےگناہوں کے خون سے بھر گیا۔ اگرچہ منسیؔ نے انجامکار تصحیح کر لی، توبھی اُس کے بیٹے اور جانشین، اموؔن بادشاہ نے بعلؔ کی پرستش کو پھر سے رائج کر دیا۔—۲-سلاطین ۲۱:۱۶، ۱۹، ۲۰۔
پھر ایسا وقت آیا کہ لوطیوں نے ہیکل میں ڈیرا جمانا شروع کر دیا۔ خدا نے بعلؔ کی پرستش کے اس طریقے کو کیسا خیال کِیا؟ موسیٰؔ کی معرفت، وہ آگاہ کر چکا تھا: ”تُو کسی فاحشہ کی خرچی یا کتے [غالباً اغلامی] کی اُجرت کسی منت کے لئے خداوند اپنے خدا کے گھر میں نہ لانا کیونکہ یہ دونوں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں۔“—استثنا ۲۳:۱۷، ۱۸۔
منسیؔ کے پوتے، یوؔسیاہ بادشاہ نے، ہیکل کو بعلؔ کی غیراخلاقی پرستش سے پاک کِیا۔ (۲-سلاطین ۲۳:۶، ۷) لیکن حالتیں بہت خراب ہو چکی تھیں۔ یوؔسیاہ بادشاہ کی موت کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک بار پھر یہوؔواہ کی ہیکل میں بُتپرستی ہو رہی تھی۔ (حزقیایل ۸:۳، ۵-۱۷) لہٰذا یہوؔواہ نے بابلؔ کے بادشاہ کو یرؔوشلیم اور اُس کی ہیکل کو تباہوبرباد کرنے کی تحریک دی۔ تاریخ کا یہ المناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پرستش کی بعض اقسام خدا کے نزدیک قابلِقبول نہیں ہیں۔ ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟ (۳ ۰۷/۰۱ w۹۶)