یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏4 ص.‏ 28-‏31
  • بعل کی پرستش اسرائیلیوں کی باطنی کشمکش

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بعل کی پرستش اسرائیلیوں کی باطنی کشمکش
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بعل کون تھا؟‏
  • اسقدر پُرکشش کیوں؟‏
  • وہ آنکھوں دیکھے پر چلے، نہ کہ ایمان پر
  • فاتح کون تھا؟‏
  • بعل کی پرستش سے آگاہیاں
  • اپنی راستی پر قائم رہنا
  • کیا خدا ہر قسم کی پرستش قبول کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ایلیاہ نے سچی پرستش کی حمایت کی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • کوہِ‌کرمِل پر ایک مقابلہ
    پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • خدا کی عبادت کرنے میں تاخیر نہ کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏4 ص.‏ 28-‏31

بعل کی پرستش اسرائیلیوں کی باطنی کشمکش

تقریباً ایک ہزار سال تک اسرائیلی قوم کے دلوں میں ایک کشمکش جاری رہی۔ توہم‌پرستانہ خوف اور جنسی رسوم، ایمان اور وفاداری کے خلاف برسرِپیکار تھیں۔ زندگی اور موت جیسی صورتحال نے بعل کی پرستش کو یہوواہ کی پرستش کے مقابل لا کھڑا کِیا۔‏

کیا اسرائیلی قوم وفاداری سے اُس سچے خدا کیساتھ وابستہ رہے گی جو اُنہیں مصر سے نکال لایا تھا؟ (‏خروج ۲۰:‏۲، ۳)‏ یا کیا وہ کنعانیوں کے پسندیدہ دیوتا بعل کی طرف ہو جائیں گے جس نے زمین کو زرخیز بنانے کا وعدہ کِیا تھا؟‏

ہزاروں سال قبل ہونے والی یہ روحانی جنگ آج ہمارے لئے اہم ہے۔ کیوں؟ پولس رسول نے لکھا، ”‏یہ باتیں اُن پر عبرت کے لئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کے واسطے لکھی گئیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱‏)‏ اگر ہم جان لیں کہ بعل کون تھا اور بعل کی پرستش میں کیا کچھ شامل تھا تو اس تاریخی کشمکش میں پنہاں آگاہی اور بھی معنی‌خیز بن جائے گی۔‏

بعل کون تھا؟‏

جب ۱۴۷۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں اسرائیلی کنعان پہنچے تو اُنہیں بعل کی بابت پتہ چلا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ کنعانی بہت سارے دیوتاؤں کی پرستش کرتے ہیں جو اپنے مختلف ناموں اور بعض مختلف اوصاف کے باوجود مصر کے دیوتاؤں سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ تاہم بائبل بعل کو کنعانیوں کے نہایت اہم دیوتا کے طور پر بیان کرتی ہے اور آثارِقدیمہ کی دریافتیں بھی اس کی نمایاں حیثیت کی تصدیق کرتی ہیں۔ (‏قضاۃ ۲:‏۱۱)‏ اگرچہ بعل اُن کے دیوتاؤں میں سب سے بڑا نہیں تھا تو بھی کنعانیوں کیلئے بہت اہم تھا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ وہ بارش، ہوا اور بادلوں پر اختیار رکھتا ہے اور صرف وہی لوگوں کو—‏اُنکے جانوروں اور فصلوں کو—‏بانجھ‌پن اور موت سے بچا سکتا ہے۔ بعل کے تحفظ کے بغیر ایک کینہ‌پرور کنعانی دیوتا، موٹ اُن پر یقیناً مصائب اور تکالیف نازل کریگا۔‏

جنسی رسومات بعل کی پرستش کی جان تھیں۔ بعل سے وابستہ پاک ستون اور یسیرتوں جیسی مذہبی چیزوں پر بھی جنسی علامات تھیں۔ ظاہری طور پر پاک ستون—‏آلۂ‌تناسل کی شکل کے تراشیدہ پتھر یا چٹانیں—‏جنسی ملاپ میں نر یعنی بعل کی نمائندگی کرتے تھے۔ اس کے برعکس یسیرتیں جو لکڑی یا درخت تھے عستارات کی عکاسی کرتے تھے جو بعل کی ساتھی اور مادہ خاصیت رکھتی تھی۔—‏۱-‏سلاطین ۱۸:‏۱۹‏۔‏

مندر میں عصمت‌فروشی اور بچوں کی قربانی بعل کی پرستش کی دیگر نمایاں خصوصیات تھیں۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۴:‏۲۳، ۲۴؛‏ ۲-‏تواریخ ۲۸:‏۲، ۳‏)‏ کتاب دی بائبل اینڈ آرکیالوجی بیان کرتی ہے:‏ ”‏کنعانیوں کے مندروں میں کسبیاں اور لوطی (‏’‏پاک‘‏ مرد اور عورتیں)‏ ہوا کرتے تھے اور وہاں ہر طرح کی جنسی کجروی جائز تھی۔ [‏کنعانی]‏ یقین رکھتے تھے کہ یہ رسومات کسی طریقے سے فصلوں اور گلّوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔“‏ یہ اس کے لئے مذہبی جواز تھا اگرچہ ایسی بداخلاقی یقیناً پرستاروں کی نفسانی خواہشات کے لئے باعثِ‌تسکین تھی۔ تاہم بعل نے اسرائیلیوں کے دلوں کو کس طرح گمراہ کر لیا؟‏

اسقدر پُرکشش کیوں؟‏

بہتیرے اسرائیلی شاید ایک ایسے مذہب کی پیروی کو ترجیح دیتے تھے جو اُن سے بہت کم تقاضا کرے۔ بعل کی پرستش نے اُنہیں شریعت کی پابندی سے آزاد کر دیا جو سبت اور دیگر بہت سی اخلاقی پابندیوں پر مشتمل تھی۔ (‏احبار ۱۸:‏۲-‏۳۰؛ استثنا ۵:‏۱-‏۳)‏ ممکن ہے کہ کنعانیوں کی مادی خوشحالی نے دوسروں کو بعل کو خوش کرنے کی طرف مائل کِیا ہو۔‏

کنعانیوں کی عبادت‌گاہیں اونچے مقاموں کے طور پر مشہور تھیں اور پہاڑوں کی اضافی شاخوں میں موجود درختوں کے جھنڈ میں واقع تھیں جس کے باعث یہ وہاں ادا کی جانے والی زرخیزی کی رسومات کیلئے پُرکشش پس‌منظر ثابت ہوتی تھی۔ جلد ہی، اسرائیلی کنعانیوں کے مُقدس مقامات سے مطمئن نہ رہے؛ اُنہوں نے خود ایسے مقامات تعمیر کر لئے۔ ”‏اُنہوں نے اپنے لئے ہر ایک اُونچے ٹیلے پر اور ہر ایک درخت کے نیچے اُونچے مقام اور ستون اور یسیرتیں بنائیں۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۱۴:‏۲۳؛‏ ہوسیع ۴:‏۱۳۔‏

تاہم سب سے پہلے تو بعل کی پرستش جسم کیلئے پُرکشش تھی۔ (‏گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ شہوت‌انگیز کام اچھی فصل اور گلّے کی خواہش سے تجاوز کر گئے۔ جنس کو اہم درجہ دیا جانے لگا۔ یہ بات زمین سے کھود کر نکالی جانے والی اُن تصویروں سے واضح ہوتی ہے جس میں جنسی اشتہا کو بڑھانے کے لئے جنسی اعضاء کو بہت نمایاں کِیا گیا ہے۔ کھانا پینا، ناچنا اور موسیقی، اوباشی کا سماں پیدا کر دیتے تھے۔‏

ہم خزاں کے اوائل میں ایک عام منظر کا تصور کر سکتے ہیں۔ دلکش فطری ماحول میں، ضیافت اور مے سے متوالے پرستار رقص کرتے ہیں۔ زرخیزی کا یہ رقص بعل کو موسمِ‌گرما کے آرام سے جگانے کے لئے ہے تاکہ زمین کو بارش کی صورت میں برکت ملے۔ وہ آلۂ‌تناسل جیسے ستونوں اور یسیرتوں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ بالخصوص مندر کی کسبیوں کی حرکات نفسانی اور شہوت‌انگیز ہیں۔ موسیقی اور سامعین اُنہیں تحریک دیتے ہیں۔ چنانچہ رقص کے اختتام پر رقاصوں کے بداخلاقی کیلئے بعل کے گھر میں بنے کمروں میں چلے جانے کا امکان ہے۔—‏گنتی ۲۵:‏۱، ۲؛ مقابلہ کریں خروج ۳۲:‏۶، ۱۷-‏۱۹؛ عاموس ۲:‏۸۔‏

وہ آنکھوں دیکھے پر چلے، نہ کہ ایمان پر

اگرچہ ایسی جنس‌پسندانہ پرستش نے بہتیروں کو راغب کِیا تاہم اسرائیلی خوف کی وجہ سے بھی بعل کی پرستش کی طرف راغب ہوئے۔ جب اسرائیلی یہوواہ پر ایمان کھو بیٹھے تو مُردوں کا خوف، مستقبل کا خوف اور غیب‌بینی کیلئے رغبت اُنکے ارواح‌پرستی میں پڑ جانے کا باعث بنی، جس میں نہایت بداخلاق رسومات شامل تھیں۔ دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ کنعانی آباؤاجداد کی پرستش میں انتقال کر جانے والی روح کی کیسے تعظیم کِیا کرتے تھے:‏ ”‏خاندانی جنازہ‌گاہ یا جائے‌تدفین پر .‏ .‏ .‏ ضیافتوں کا اہتمام کِیا جاتا تھا جن میں روایتی شراب‌خوری اور جنسی کام (‏غالباً محرمات سے مباشرت)‏ شامل تھے اور خیال کِیا جاتا تھا کہ متوفین بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔“‏ ایسی مکروہ ارواح‌پرستانہ رسومات میں حصہ لینے کی وجہ سے اسرائیلی اپنے خدا یہوواہ سے دور ہوتے چلے گئے۔—‏استثنا ۱۸:‏۹-‏۱۲۔‏

جن اسرائیلیوں نے ایمان کی بجائے آنکھوں دیکھے پر چلنا پسند کِیا وہ بتوں اور اُن سے متعلقہ دیگر رسومات کی طرف بھی راغب ہوئے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۷‏)‏ یہوواہ کے نادیدہ ہاتھ سے حیرت‌انگیز معجزات دیکھنے کے بعد بھی مصر سے آنے والے بہتیرے اسرائیلیوں کو اُسکی دیدنی یاددہانی کی ضرورت تھی۔ (‏خروج ۳۲:‏۱-‏۴)‏ اُنکی اولاد میں سے بعض نے بعل کے بُتوں جیسی کسی دیدنی چیز کی پرستش کرنے کی خواہش کی۔—‏۱-‏سلاطین ۱۲:‏۲۵-‏۳۰‏۔‏

فاتح کون تھا؟‏

اسرائیلیوں میں یہ باطنی کشمکش، موعودہ ملک میں داخل ہونے سے تھوڑا پہلے موآب کی سرزمین پر قدم رکھنے کے وقت سے لیکر بابل میں اسیری کے وقت تک صدیوں تک جاری رہی۔ برتری تسلیم کرنے کے رُجحان میں تبدیلی واقع ہوتی رہی۔ بعض‌اوقات تو اسرائیلیوں کی اکثریت یہوواہ کی وفادار رہتی لیکن اکثر وہ بعل کی طرف راغب ہو جاتے۔ اس کی بنیادی وجہ اردگرد کے بت‌پرست لوگوں کیساتھ اُنکی رفاقت تھی۔‏

عسکری شکست کے بعد، کنعانیوں نے لڑائی کے عیارانہ ذرائع اختیار کئے۔ وہ اسرائیلیوں کیساتھ رہتے تھے اور اپنے فاتحین کی حوصلہ‌افزائی کرتے کہ وہ اُس ملک کے دیوتاؤں کو اپنا بنا لیں۔ قاضی جدعون اور سموئیل جیسے جرأتمند قاضیوں نے اس رجحان کی مزاحمت کی۔ سموئیل نے اپنے لوگوں کو نصیحت کی:‏ ”‏اجنبی دیوتاؤں .‏ .‏ .‏ کو اپنے بیچ سے دور کرو اور خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے لئے اپنے دلوں کو مستعد کر کے فقط اُسی کی عبادت کرو۔“‏ کچھ وقت تک اسرائیلیوں نے سموئیل کی نصیحت پر کان لگایا اور ”‏بعلیمؔ اور عستاؔرات کو دُور کِیا اور فقط خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی عبادت کرنے لگے۔“‏—‏۱-‏سموئیل ۷:‏۳، ۴؛‏ قضاۃ ۶:‏۲۵-‏۲۷۔‏

ساؤل اور داؤد کے دورِحکومت کے بعد، سلیمان اپنے بڑھاپے میں غیرمعبودوں کیلئے قربانیاں چڑھانے لگا۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۱:‏۴-‏۸‏)‏ اسرائیل اور یہوداہ کے دیگر بادشاہوں نے بھی ایسا ہی کِیا اور بعل کے آگے جھک گئے۔ تاہم وفادار نبی اور بادشاہ جیسے کہ ایلیاہ، الیشع اور یوسیاہ نے بعل کی پرستش کے خلاف کارروائی میں پیشوائی کی۔ (‏۲-‏تواریخ ۳۴:‏۱-‏۵‏)‏ مزیدبرآں، اسرائیل کی تاریخ کے اس پورے دور میں ایسے افراد بھی تھے جو یہوواہ کے وفادار رہے۔ اخی‌اب اور ایزبل کے دور میں جب بعل کی پرستش عروج پر تھی تو سات ہزار نے ’‏بعل کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔‘‏—‏۱-‏سلاطین ۱۹:‏۱۸‏۔‏

آخرکار جب اسرائیلی بابل کی اسیری سے واپس آئے تو پھر بعل کی پرستش کا مزید کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اُنکی مانند جنکا عزرا ۶:‏۲۱ میں حوالہ دیا گیا ہے سب نے ’‏اسرائیل کے خدا یہوواہ کے طالب ہونے کے لئے اُس سرزمین کی اجنبی قوموں کی نجاستوں سے خود کو الگ کر لیا۔‘‏

بعل کی پرستش سے آگاہیاں

اگرچہ بعل کی پرستش عرصۂ‌دراز سے مفقود ہو گئی ہے تو بھی کنعانیوں کے مذہب اور ہمارے آج کے معاشرے میں ایک چیز مشترک ہے—‏جنس کی بڑائی۔ بداخلاقی کیلئے ترغیبات اُس فضا میں رچی ہوئی ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ (‏افسیوں ۲:‏۲‏)‏ ”‏ہمیں اس اندیکھی قوت سے لڑنا ہے جو تاریکی کی دُنیا اور برائی کے مرکز کی روحانی فوجوں پر اختیار رکھتی ہے،“‏ پولس آگاہ کرتا ہے۔—‏افسیوں ۶:‏۱۲‏، فلپس۔‏

شیطان کی یہ ”‏اندیکھی قوت“‏ لوگوں کو روحانی طور پر غلام بنانے کے لئے جنسی بداخلاقی کو فروغ دیتی ہے۔ (‏یوحنا ۸:‏۳۴‏)‏ آج کے اباحتی معاشرے میں جنسی برائی کو زرخیزی کی رسم کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی تسکین یا خوشی کیلئے اختیار کِیا جاتا ہے۔ نیز پروپیگنڈا بھی اثرانگیز ہے۔ تفریح، موسیقی اور اشتہاربازی کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں پر جنسی پیغامات کی بھرمار کی جاتی ہے۔ خدا کے خادم بھی اس حملے سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ درحقیقت مسیحی کلیسیا سے خارج ہونے والے افراد کی بڑی تعداد ایسے ہی بُرے کاموں سے مغلوب ہو جاتی ہے۔ ایسی بداخلاق ترغیبات کی مسلسل نفی کرنے سے ہی ایک مسیحی پاک رہ سکتا ہے۔—‏رومیوں ۱۲:‏۹‏۔‏

نوجوان گواہ بالخصوص خطرے میں ہیں کیونکہ بہتیری چیزیں جو اُنہیں پُرکشش معلوم ہوتی ہیں وہ جنس کو ابھارنے کیلئے ہوتی ہیں۔ علاوہ‌ازیں اُنہیں دوسرے نوجوانوں کے اثر کی بھی مزاحمت کرنا ہے جو اُنہیں ایسا کرنے کی تحریک دیتے ہوئے صورتحال کو مزید بگا‌ڑ دیتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں امثال ۱:‏۱۰-‏۱۵‏۔)‏ مثلاً بڑے اجتماعات میں بہتیرے مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ جیساکہ قدیم وقتوں میں بعل کی پرستش میں تھا موسیقی، رقص اور جنسی کشش نشہ‌بازی کو فروغ دیتی ہے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۲‏۔‏

‏”‏جوان اپنی روش کس طرح پاک رکھے؟“‏ زبورنویس نے پوچھا۔ ”‏تیرے [‏یہوواہ کے]‏ کلام کے مطابق اُس پر نگاہ رکھنے سے،“‏ اُس نے جواب دیا۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۹‏)‏ جس طرح خدا کی شریعت نے اسرائیلیوں کو کنعانیوں سے قریبی رفاقت رکھنے سے منع کِیا تھا اُسی طرح بائبل ہمیں غیردانشمندانہ رفاقت کے خطروں سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۲، ۳۳‏)‏ ایک نوجوان مسیحی اپنی پختگی کا اظہار اُس وقت کرتا ہے جب وہ ایسی چیز سے انکار کرتا ہے جو حواس کو تو پُرکشش معلوم ہوتی ہیں لیکن اخلاقی طور پر نقصاندہ ہے۔ وفادار ایلیاہ کی طرح ہم عام رجحان کو اپنے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔—‏۱-‏سلاطین ۱۸:‏۲۱‏؛ مقابلہ کریں متی ۷:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

ایک اَور آگاہی ایمان کی کمی کی بابت ہے، ایسا ”‏گناہ جو ہمیں آسانی سے الجھا لیتا ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱‏)‏ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہتیرے اسرائیلی یہوواہ پر بھی یقین رکھتے تھے تاہم وہ بعل پر ایسے خدا کے طور پر اُمید لگاتے تھے جو اُنکی فصلوں کو بچاتا اور ضروریاتِ‌زندگی مہیا کرتا تھا۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ یہوواہ کی ہیکل یروشلیم میں اتنی دور ہے اور اُسکے آئین کو ماننا غیرعملی ہے۔ بعل کی پرستش انتہائی غیرمتقاضی اور آسان تھی—‏حتیٰ‌کہ وہ اپنے گھر کی چھت سے بعل کے حضور بخور جلا سکتے تھے۔ (‏یرمیاہ ۳۲:‏۲۹‏)‏ ممکن ہے کہ وہ بعض رسومات میں حصہ لینے یا یہوواہ کے نام سے بعل کیلئے قربانیاں پیش کرنے سے بعل کی پرستش میں پڑ گئے ہوں۔‏

ہم کیسے ایمان کھو کر زندہ خدا کی پرستش سے دور جا سکتے ہیں؟ (‏عبرانیوں ۳:‏۱۲‏)‏ ہم بتدریج اُس قدردانی کو کھو سکتے ہیں جو ہم پہلے اجلاسوں یا اسمبلیوں کیلئے رکھتے تھے۔ ایسا رویہ ”‏وقت پر“‏ روحانی ”‏کھانا“‏ فراہم کرنے والے یہوواہ کے بندوبست پر اعتماد کی کمی کا مظہر ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ پس کمزور ہونے پر شاید ہم ”‏زندگی کے کلام“‏ پر گرفت ڈھیلی کر دیں یا شاید بداخلاقی یا مادی حاصلات کی طرف راغب ہوتے ہوئے دو دِلے بن جائیں۔—‏فلپیوں ۲:‏۱۶‏؛ مقابلہ کریں زبور ۱۱۹:‏۱۱۳‏۔‏

اپنی راستی پر قائم رہنا

اس میں شک نہیں کہ آج بھی باطنی کشمکش جاری ہے۔ کیا ہم یہوواہ کیلئے وفادار رہیں گے یا دُنیا کی بدچلنی سے گمراہ ہو جائیں گے؟ افسوس کی بات ہے کہ جس طرح اسرائیلی کنعانیوں کے مکروہ کاموں میں پڑ گئے ویسے ہی آج بعض مسیحی مرد اور عورتیں بھی شرمناک کاموں میں ملوث ہو گئے ہیں۔—‏مقابلہ کریں امثال ۷:‏۷،‏ ۲۱-‏۲۳‏۔‏

اگر ہم موسیٰ کی طرح ’‏اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم‘‏ رہیں تو روحانی شکست سے بچا جا سکتا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۲۷‏)‏ واقعی ہمیں ”‏اِیمان کے واسطے جانفشانی“‏ کرنی پڑتی ہے۔ (‏یہوداہ ۳‏)‏ تاہم اپنے خدا اور اُسکے اصولوں کیلئے وفادار رہنے سے، ہم ایسے وقت کی اُمید کر سکتے ہیں جب جھوٹی پرستش ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگی۔ جس طرح یہوواہ کی پرستش، بعل کی پرستش پر غالب آئی ویسے ہی ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جلد ہی ”‏جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اُسی طرح زمین خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے عرفان سے معمور ہوگی۔“‏—‏یسعیاہ ۱۱:‏۹‏۔‏

‏[‏صفحہ 31 پر تصویر]‏

جزر میں پاک ستونوں کے کھنڈرات جو بعل کی پرستش میں استعمال ہوتے تھے

‏[‏صفحہ 28 پر تصویر کا حوالہ]‏

Musée du Louvre, Paris

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں