برکات یا لعنتیں—آجکل ہمارے لئے مثالیں
”یہ باتیں اُن پر عبرت کیلئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کے واسطے لکھی گئیں۔“—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱۔
۱. جیسےکہ ایک شخص سازوسامان کی جانچپڑتال کرتا ہے، ہمیں کس چیز کی جانچپڑتال کرنی چاہئے؟
رنگ کی تہہ کے نیچے، نظر نہ آنے والا زنگ لوہے سے بنے ہوئے سازوسامان کو کھانا شروع کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے سطح کے اُوپر زنگ کے نظر آنے میں کچھ وقت لگے۔ اسی طرح، ایک شخص کے رجحانات اور خواہشات ممکن ہے کہ کافی عرصہ پہلے ہی خراب ہونا شروع کر دیں اس سے پیشتر کہ یہ سنگین نتائج پر منتج ہوں یا یہانتک کہ دوسروں کو نظر آنے لگیں۔ جیسےکہ ہم دانشمندی کیساتھ سامان کا جائزہ لینگے، یہ دیکھنے کیلئے کہ آیا یہ زنگآلود تو نہیں ہو رہا، اسی طرح اپنے دلوں کا جائزہ اور بروقت دیکھبھال ہماری مسیحی سالمیت کو محفوظ رکھے گی۔ باالفاظِدیگر، ہم خدا کی برکات حاصل کر سکتے اور الہٰی لعنتوں سے بچ سکتے ہیں۔ بعض شاید خیال کریں کہ قدیم اسرائیل کے سامنے بیانکردہ برکات اور لعنتیں اُن لوگوں کیلئے بہت اہمیت رکھتی ہیں جو اس دستورالعمل کے خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ (یشوع ۸:۳۴، ۳۵؛ متی ۱۳:۴۹، ۵۰؛ ۲۴:۳) تاہم، ایسا نہیں ہے۔ ہم اسرائیل سے متعلق آگاہی کی مثالوں سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں، جیسےکہ ۱-کرنتھیوں ۱۰ باب میں بیان کِیا گیا ہے۔
۲. بیابان میں اسرائیلیوں کے تجربات کی بابت ۱-کرنتھیوں ۱۰:۵، ۶ کیا بیان کرتی ہیں؟
۲ پولسؔ رسول موسیٰؔ کے تحت اسرائیلیوں کا مسیح کے تحت مسیحیوں سے موازنہ کرتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱-۴) اگرچہ اسرائیل کے لوگ ملکِموعود میں داخل ہو سکتے تھے، ”مگر اُن میں سے اکثروں سے خدا راضی نہ ہوا۔ چنانچہ وہ بیابان میں ڈھیر ہو گئے۔“ اسلئے پولسؔ نے ساتھی مسیحیوں کو بتایا: ”یہ باتیں ہمارے واسطے عبرت ٹھہریں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جیسے اُنہوں نے کی۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۵، ۶) خواہشات دل میں پروان چڑھتی ہیں، اس لئے ہمیں آگاہی کی اُن مثالوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے جنکا پولسؔ ذکر کرتا ہے۔
بُتپرستی کے خلاف آگاہی
۳. سونے کے بچھڑے کے سلسلے میں اسرائیلیوں نے کیسے گناہ کِیا؟
۳ پولسؔ کی پہلی آگاہی ہے: ”تُم بُتپرست نہ بنو جس طرح بعض اُن میں سے بن گئے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ لوگ کھانے پینے کو بیٹھے۔ پھر ناچنے کودنے کو اُٹھے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۷) یہ اُن اسرائیلیوں کی انتباہی مثال ہے جو مصرؔ کے طورطریقوں کی طرف واپس پھرے اور بُتپرستی کیلئے سونے کا ایک بچھڑا بنا لیا۔ (خروج، باب ۳۲) شاگرد استفنسؔ نے بنیادی مسئلے کی نشاندہی کی: ”مگر ہمارے باپدادا نے اُس کے [خدا کے نمائندے موسیٰؔ کے] فرمانبردار ہونا نہ چاہا بلکہ اُسکو ہٹا دیا اور اُنکے دِل مصرؔ کی طرف مائل ہوئے۔ اور اُنہوں نے ہارؔون سے کہا کہ ہمارے لئے ایسے معبود بنا جو ہمارے آگے آگے چلیں کیونکہ یہ موسیٰؔ جو ہمیں ملکِمصرؔ سے نکال لایا ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہوا۔ اور اُن دِنوں میں اُنہوں نے ایک بچھڑا بنایا اور اُس بُت کو قربانی چڑھائی اور اپنے ہاتھوں کے کاموں کی خوشی منائی۔“ (اعمال ۷:۳۹-۴۱) غور کریں کہ سرکش اسرائیلیوں نے ”اپنے دلوں میں“ غلط خواہشات پیدا کیں جو بُتپرستی کا باعث بنیں۔ ”اُنہوں نے ایک بچھڑا بنایا اور اُس بُت کو قربانی چڑھائی۔“ مزیدبرآں، اُنہوں نے ”اپنے ہاتھوں کے کاموں کی خوشی منائی۔“ وہاں موسیقی، گانا، رقص، کھانا اور پینا تھا۔ واضح طور پر، بُتپرستی دل کو لبھانے والی اور خوش کرنے والی تھی۔
۴، ۵. ہمیں کن بُتپرستانہ کاموں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے؟
۴ علامتی مصرؔ—شیطان کی دُنیا—درحقیقت تفریحطبع کی پرستش کرتی ہے۔ (۱-یوحنا ۵:۱۹؛ مکاشفہ ۱۱:۸) یہ اداکاروں، گلوکاروں، اور کھیل کے ستاروں، نیز اُنکے رقص، اُنکی موسیقی، تفریح کی بابت اُن کے نظریات اور پُرلطف لمحات کو معبود بنا لیتی ہے۔ بہتیرے یہوؔواہ کی پرستش کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود خود کو تفریح میں پوری طرح مستغرق کر لینے کی آزمائش میں پڑ گئے ہیں۔ جب کسی مسیحی کو اُسکی غلطکاری کی وجہ سے سرزنش کرنا لازم ہوتا ہے تو اُسکی کمزور روحانی حالت کا سبب اکثر ماضی میں الکحلی مشروبات پینے، رقص کرنے اور کسی نہ کسی طریقے سے ایسے کھیلتماشے میں اُلجھ جانے کی نشاندہی کرتا ہے جو بُتپرستی کے دہانے پر لیجا سکتا ہے۔ (خروج ۳۲:۵، ۶، ۱۷، ۱۸) کچھ تفریح خوشگوار اور مسرتبخش ہوتی ہے۔ تاہم، آجکل زیادہتر دُنیاوی موسیقی، رقص، فلمیں اور ویڈیوز نفسانی خواہشات کو آلودہ کرنے کا سامان فراہم کرتی ہیں۔
۵ سچے مسیحی بُتوں کی پرستش کا شکار نہیں ہوتے۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۶؛ ۱-یوحنا ۵:۲۱) دُعا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اسی طرح محتاط رہے تاکہ بُتپرستانہ تفریح کا عادی نہ بن جائے اور دُنیاوی طرز کے تفریحی لمحات میں محو ہو جانے کے تباہکُن اثرات کے خطرے میں نہ پڑ جائے۔ اگر ہم خود کو دُنیاوی اثرات کے تابع کرتے ہیں تو نقصاندہ خواہشات اور رجحانات تقریباً غیرمحسوس طور پر ہمارے ذہن اور دل میں بسیرا کر سکتے ہیں۔ جب اصلاح نہیں کی جاتی تو یہ انجامکار شیطان کے نظام کے ’بیابان میں ڈھیر‘ ہو جانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
۶. تفریحطبع کی بابت ہمیں کونسی مثبت کارروائی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟
۶ سونے کے بچھڑے والے واقعے کے وقت موسیٰؔ کی طرح، درحقیقت ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کہہ رہا ہے: ”جو یہوؔواہ کی طرف ہے وہ میرے پاس آ جائے!“ یہ ظاہر کرنے کیلئے مثبت قدم اُٹھانا کہ ہم سچی پرستش کے لئے مضبوط مؤقف رکھتے ہیں زندگیبخش ہو سکتا ہے۔ موسیٰؔ کے قبیلے لاوی نے نفرتانگیز اثرات کو ختم کرنے کے لئے فوری طور پر کارروائی کی۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷؛ خروج ۳۲:۲۶-۲۸)لہٰذا، ایسی صورت میں، اپنی تفریح، موسیقی، فلموں اور اسی طرح کی دیگر چیزوں کے انتخاب کا بغور جائزہ لیں۔ اگر یہ کسی بھی طرح سے خراب ہیں تو یہوؔواہ کی حمایت میں اپنا مؤقف اختیار کریں۔ خدا پر دُعائیہ بھروسے کے ساتھ، تفریحوطبع اور موسیقی کے اپنے انتخاب میں تبدیلیاں لائیں، اور روحانی طور پر نقصاندہ مواد کو ضائع کر دیں، بالکل اُسی طرح جیسے موسیٰؔ نے سونے کے بچھڑے کو نیست کر دیا تھا۔—خروج ۳۲:۲۰؛ استثنا ۹:۲۱۔
۷. ہم علامتی دل کی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
۷ ہم دل کی شکستوریخت کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ مستعدی سے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے، اسکی سچائیوں کو اپنے ذہنوں اور دلوں پر گہرا اثر کرنے کی اجازت دینے سے۔ (رومیوں ۱۲:۱، ۲) بِلاشُبہ، ہمیں مسیحی اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہونا چاہئے۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) انفعالی طور پر اجلاسوں پر حاضر ہونے کو زنگ والی جگہ پر پینٹ کرنے سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے۔ شاید یہ کچھ وقت کیلئے ہمیں چمکا دے، لیکن یہ زیرِسطح مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ اسکی بجائے، پیشگی تیاری، غوروخوض اور اجلاسوں میں فعال شرکت کرنے سے، ہم جارحانہ طور پر اُن زنگآلود عناصر کو ختم کر سکتے ہیں جو ہمارے علامتی دل کے نہاںخانوں میں گھر کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں خدا کے کلام پر دھیان دینے میں مدد دیگا اور ہمیں ایمان کی آزمائشوں کو برداشت کرنے اور ”پورے اور کامل“ ہو جانے کیلئے تقویت بخشے گا۔—یعقوب ۱:۳، ۴؛ امثال ۱۵:۲۸۔
حرامکاری کے خلاف آگاہی
۸-۱۰. (ا) ۱-کرنتھیوں ۱۰:۸ میں کونسی انتباہی مثال کا حوالہ دیا گیا ہے؟ (ب) متی ۵:۲۷، ۲۸ میں پائے جانے والے یسوؔع کے الفاظ کا مؤثر طور پر کیسے اطلاق کِیا جا سکتا ہے؟
۸ پولسؔ کی اگلی مثال میں، ہمیں نصیحت کی گئی ہے: ”اور ہم حرامکاری نہ کریں جس طرح اُن میں سے بعض نے کی اور ایک ہی دن میں تیئیس ہزار مارے گئے۔“a (۱-کرنتھیوں ۱۰:۸) رسول اُس وقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا جب اسرائیلیوں نے جھوٹے معبودوں کو سجدہ کِیا اور ”موآبی عورتوں کیساتھ حرامکاری“ کی تھی۔ (گنتی ۲۵:۱-۹) جنسی بداخلاقی جانلیوا ہے! بداخلاق خیالات اور خواہشات کو بےقابو چھوڑ دینا ایسے ہی ہے جیسے دل کو ”زنگ لگنے“ کی اجازت دینا۔ یسوؔع نے بیان کِیا: ”تُم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زنا نہ کرنا۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہوں کہ جس کسی نے بُری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اُس کے ساتھ زنا کر چکا۔“—متی ۵:۲۷، ۲۸۔
۹ طوفانِنوؔح سے پہلے کے نافرمان فرشتوں کی گھٹیا سوچ کا انجام ’کسی عورت پر بُری خواہش کیساتھ نگاہ ڈالنے کے‘ نتائج کی شہادت پیش کرتا ہے۔ (پیدایش ۶:۱، ۲) یہ بھی یاد رکھیں کہ داؔؤد بادشاہ کی زندگی کے واقعات میں سب سے زیادہ المناک واقعے کو اُس کے ایک عورت کو نامناسب طور پر دیکھتے رہنے سے تحریک ملی تھی۔ (۲-سموئیل ۱۱:۱-۴) اس کے برعکس، راستباز شادیشُدہ شخص اؔیوب نے بداخلاقی سے بچنے اور خود کو راستی برقرار رکھنے والے کے طور پر ثابت کرتے ہوئے، ’اپنی آنکھوں سے عہد کِیا کہ وہ کسی کنواری پر نظر نہیں کریگا‘۔ (ایوب ۳۱:۱-۳، ۶-۱۱) آنکھوں کو دل کی کھڑکیوں سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے۔ اور یہ بدکار دل ہی ہے جہاں سے بہت سی بیہودہ باتیں نکلتی ہیں۔—مرقس ۷:۲۰-۲۳۔
۱۰ اگر ہم یسوؔع کے الفاظ کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم فحش مواد دیکھنے یا کسی ساتھی مسیحی، ساتھی کارکن یا کسی اَور شخص کے بارے میں بُرے خیالات کو ذہن میں رکھنے سے غلط خیالات کو آزادی سے کام نہیں کرنے دینگے۔ محض گلےسڑے حصے کو صاف کر دینے سے دھات پر سے زنگ ہٹ نہیں جاتا۔ اسلئے، بُرے خیالات اور رجحانات کو کم اہم سمجھتے ہوئے اُنکی ہلکیپھلکی صفائی نہ کریں۔ بداخلاق رغبتوں سے اپنا پیچھا چھڑانے کیلئے ٹھوس اقدام کریں۔ (مقابلہ کریں متی ۵:۲۹، ۳۰۔) پولسؔ ساتھی ایمانداروں کو نصیحت کرتا ہے: ”اپنے اُن اعضا کو مُردہ کرو جو زمین پر ہیں یعنی حرامکاری اور ناپاکی اور شہوت اور بُری خواہش اور لالچ کو جو بُتپرستی کے برابر ہے۔ کہ اُن ہی کے سبب سے خدا کا غضب نافرمانی کے فرزندوں پر نازل ہوتا ہے۔“ جیہاں، جنسی بداخلاقی جیسی چیزوں کی بدولت، اُسکی طرف سے لعنت کے اظہار کے طور پر ”خدا کا غضب . . . نازل ہوتا ہے“۔ پس ہمیں ان چیزوں سے متعلق اپنے اعضا کو ”مُردہ“ کرنے کی ضرورت ہے۔—کلسیوں ۳:۵، ۶۔
باغیانہ شکایات کے خلاف آگاہی
۱۱، ۱۲. (ا) ۱-کرنتھیوں ۱۰:۹ میں، کونسی آگاہی دی گئی ہے، اور کس واقعے کی طرف اشارہ کِیا گیا تھا؟ (ب) پولسؔ کی آگاہی کو ہم پر کیسا اثر ڈالنا چاہئے؟
۱۱ اسکے بعد پولسؔ نے آگاہ کِیا: ”ہم خداوند کی آزمایش نہ کریں جیسے اُن میں سے بعض نے کی اور سانپوں نے اُنہیں ہلاک کِیا۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۹) اؔدوم کی سرحد کے قریب بیابان میں سفر کے دوران، اسرائیلی ”خدا کی اور موسیٰؔ کی شکایت کر کے کہنے لگے کہ تُم کیوں ہمکو مصرؔ سے بیابان میں مرنے کیلئے لے آئے؟ یہاں تو نہ روٹی ہے نہ پانی اور ہمارا جی اس نِکمّی خوراک“ یعنی معجزانہ طور پر فراہمکردہ من سے ”کراہیت کرتا ہے۔“ (گنتی ۲۱:۴، ۵) ذرا سوچیں! اُسکی فراہمیوں کو نِکمّی کہتے ہوئے، وہ اسرائیلی ”خدا کی شکایت کرتے رہے“!
۱۲ اپنی شکایات کے ذریعے، اسرائیلی یہوؔواہ کے صبر کا امتحان لے رہے تھے۔ سزا کو روکا نہ گیا، کیونکہ یہوؔواہ نے اُن کے درمیان زہریلے سانپ بھیجے، اور بہت سے لوگ سانپوں کے ڈسنے سے ہلاک ہوئے۔ لوگوں کے توبہ کرنے اور اُنکی خاطر موسیٰؔ کی طرف سے شفاعت کرنے کے بعد، وبا ختم ہو گئی۔ (گنتی ۲۱:۶-۹) یقینی طور پر اس واقعے کو ہمارے لئے ایک آگاہی کا کام دینا چاہئے کہ ہمیں بالخصوص خدا اور اُسکے تھیوکریٹک انتظامات کے خلاف باغیانہ، شکایتی روح کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔
بڑبڑانے کے خلاف آگاہی
۱۳. ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۰ کس چیز کے خلاف آگاہ کرتی ہے، اور پولسؔ کے ذہن میں کونسی بغاوت تھی؟
۱۳ بیابان میں اسرائیلیوں سے متعلق آخری مثال کا حوالہ دیتے ہوئے، پولسؔ لکھتا ہے: ”تُم بڑبڑاؤ نہیں جس طرح اُن میں سے بعض بڑبڑائے اور ہلاک کرنے والے سے ہلاک ہوئے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۰) بغاوت نے اُس وقت سر اُٹھایا جب قوؔرح، داتنؔ، اؔبیرام اور اُنکے ساتھیوں نے غیرتھیوکریٹک طریقے سے عمل کِیا اور موسیٰؔ اور ہارؔون کے اختیار کو چیلنج کِیا۔ (گنتی ۱۶:۱-۳) باغیوں کی ہلاکت کے بعد، اسرائیلیوں نے بڑبڑانا شروع کر دیا۔ یہ اسلئے تھا کیونکہ وہ بحث کرنے لگے کہ باغیوں کی ہلاکت غیرمنصفانہ تھی۔ گنتی ۱۶:۴۱ بیان کرتی ہے: ”دوسرے ہی دن بنیاسرائیل کی ساری جماعت نے موسیٰؔ اور ہارؔون کی شکایت کی اور کہنے لگے کہ تُم نے خداوند کے لوگوں کو مار ڈالا ہے۔“ اُس موقع پر جس طریقے سے انصاف کِیا گیا اُس پر تنقید کرنے کی وجہ سے ۱۴،۷۰۰ اسرائیلی الہٰی طور پر بھیجی گئی لعنت کے نتیجے میں فنا ہو گئے۔—گنتی ۱۶:۴۹۔
۱۴، ۱۵. (ا) کلیسیا میں چپکے سے شامل ہونے والے ”بیدین آدمیوں“ کے گناہوں میں سے ایک کیا تھا؟ (ب) قوؔرح سے متعلق واقعہ سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
۱۴ پہلی صدی س.ع. میں، ”بیدین شخص“ جو مسیحی کلیسیا میں داخل ہو گئے جھوٹے اُستاد اور بڑبڑانے والے ثابت ہوئے۔ یہ شخص کلیسیا کی روحانی خبرگیری کا کام سونپے جانے والے اُس وقت کے ممسوح لوگوں کی ”حکومت کو ناچیز جانتے اور عزتداروں پر لعنطعن کرتے“ تھے۔ بیدین برگشتہ لوگوں کی بابت شاگرد یہوؔداہ نے بھی بیان کِیا: ”یہ بڑبڑانے والے اور شکایت کرنے والے ہیں اور اپنی خواہشوں کے موافق چلتے ہیں۔“ (یہوداہ ۳، ۴، ۸، ۱۶) آجکل، بعض اشخاص اسلئے بڑبڑانے والے بن جاتے ہیں کیونکہ وہ روحانی طور پر زنگآلود میلان کو اپنے دل میں بڑھنے دیتے ہیں۔ اکثر وہ اُن کی ناکاملیتوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں جو کلیسیا میں نگہبانی کے مرتبوں پر فائز ہیں اور اُن کے خلاف بڑبڑاتے ہیں۔ اُنکا بڑبڑانا اور شکایت کرنا ’دیانتدار نوکر‘ کی مطبوعات پر تنقید کرنے کی حد تک بھی جا سکتا ہے۔
۱۵ کسی صحیفائی موضوع کی بابت سنجیدہ سوالات پوچھنا واجب ہے۔ لیکن اُس صورت میں کیا ہو اگر ہم نے منفی رجحان کو فروغ دیا ہے جو خود کو قریبی دوستواحباب کے درمیان تنقیدی گفتگو سے ظاہر کرتا ہے؟ یہ اچھا ہوگا کہ ہم خود سے پوچھیں، ’ممکنہ طور پر اس کا کیا نتیجہ ہوگا؟ کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا کہ بڑبڑانا ترک کر کے فروتنی سے حکمت کیلئے دُعا کریں؟‘ (یعقوب ۱:۵-۸؛ یہوداہ ۱۷-۲۱) قوؔرح اور اُسکے حمایتی، جنہوں نے موسیٰؔ اور ہارؔون کے اختیار کے خلاف بغاوت کی، ممکن ہے کہ اس بات کا اسقدر یقین رکھتے ہوں کہ اُن کا نقطۂنظر باکل صحیح تھا کیونکہ اُنہوں نے اپنے محرکات کی جانچپڑتال ہی نہیں کی تھی۔ تاہم، وہ یکسر غلط تھے۔ اسی طرح وہ اسرائیلی تھے جو قوؔرح اور دیگر باغیوں کی ہلاکت کی بابت بڑبڑائے۔ یہ کتنی دانشمندی کی بات ہوگی کہ ایسی مثالوں سے تحریک پاکر خود اپنے محرکات کا جائزہ لیں، بڑبڑانا یا شکایت کرنا چھوڑ دیں اور یہوؔواہ کو اجازت دیں کہ ہمیں اور زیادہ خالص بنا دے!—زبور ۱۷:۱-۳۔
سیکھیں، اور برکات سے لطفاندوز ہوں
۱۶. ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱، ۱۲ میں پائی جانے والی نصیحت کا خلاصہ کیا ہے؟
۱۶ الہٰی الہام کے تحت، پولسؔ انتباہی پیغامات کی فہرست کا اس فہمائش کیساتھ اختتام کرتا ہے: ”یہ باتیں اُن پر عبرت کے لئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کے واسطے لکھی گئیں۔ پس جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱، ۱۲) دُعا ہے کہ ہم مسیحی کلیسیا میں اپنی حیثیت کو معمولی خیال نہ کریں۔
۱۷. اگر ہم اپنے دل میں ایک نامناسب محرک محسوس کرتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۷ جیسے لوہا زنگ لگنے کا میلان رکھتا ہے، اسی طرح ہم آؔدم کی گنہگار اولاد نے بُرائی کی طرف رغبت کا ورثہ پایا ہے۔ (پیدایش ۸:۲۱؛ رومیوں ۵:۱۲) لہٰذا، اگر ہمیں اپنے دل میں نامناسب محرک کا احساس ہوتا ہے تو ہمیں بےحوصلہ نہیں ہونا چاہئے۔ اسکی بجائے، آئیے ہم فیصلہکُن کارروائی کریں۔ جب لوہے کو نمی والی ہوا یا گلا دینے والے ماحول میں رکھا جاتا ہے تو اسکا زنگ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں شیطان کی دُنیا کی ”ہوا“، بمع اسکی خراب تفریحطبع، پھیلی ہوئی بداخلاقی، اور ذہن کی منفی رغبت سے بچنا چاہئے۔—افسیوں ۲:۱، ۲۔
۱۸. نسلِانسانی کے غلط رجحانات کے سلسلے میں یہوؔواہ نے کیا کِیا ہے؟
۱۸ یہوؔواہ نے نسلِانسانی کو ایسے غلط رجحانات کا مقابلہ کرنے کیلئے جو ہم نے ورثے میں پائے ہیں ایک ذریعہ فراہم کِیا ہے۔ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو اُس پر ایمان لاتے ہیں ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔ (یوحنا ۳:۱۶) اگر ہم پوری طرح یسوؔع کے نقشِقدم پر چلتے اور مسیح جیسی شخصیت ظاہر کرتے ہیں تو ہم دوسروں کیلئے برکت کا باعث ہونگے۔ (۱-پطرس ۲:۲۱) نیز ہم لعنتیں نہیں بلکہ الہٰی برکات حاصل کرینگے۔
۱۹. صحیفائی مثالوں پر غور کرنے سے ہم کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟
۱۹ اگرچہ آجکل ہم غلطی کرنے کا اُتنا ہی میلان رکھتے ہیں جتنا کہ قدیم زمانے کے اسرائیل رکھتے تھے، ہمارے پاس راہنمائی کے لئے خدا کا مکمل تحریری کلام موجود ہے۔ اس کے صفحات سے ہم نوعِانسان کے ساتھ یہوؔواہ کے برتاؤ اور یسوؔع ’خدا کے جلال کے پرتَو اور اُس کی ذات کے نقش‘ میں ظاہرکردہ اُس کی خوبیوں کی بابت سیکھتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱:۱-۳؛ یوحنا ۱۴:۹، ۱۰) دُعا اور صحائف کے مستعد مطالعہ سے، ہم ”مسیح کی عقل“ حاصل کر سکتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۶) جب آزمائشوں اور اپنے ایمان کے دیگر امتحانوں کا سامنا ہوتا ہے تو ہم قدیم صحیفائی مثالوں اور بالخصوص یسوؔع مسیح کے اعلیٰترین نمونے پر غور کرنے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں الہٰی لعنتوں کی تکمیل کا تجربہ نہیں ہوگا۔ اس کی بجائے، ہم آج یہوؔواہ کی کرمفرمائی سے اور ابد تک اُس کی برکات سے لطفاندوز ہونگے۔ (۱۷ ۰۵/۱۵ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a دیکھیں جولائی ۱۵، ۱۹۹۲ کا مینارِنگہبانی (انگریزی) صفحہ ۴۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ ہم بُتپرست نہ بننے کیلئے پولسؔ کی مشورت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟
▫ حرامکاری کے خلاف رسول کی آگاہی پر دھیان دینے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟
▫ ہمیں بڑبڑانے اور شکایت کر نے سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟
▫ ہم لعنتوں کی بجائے الہٰی برکات کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
[تصویر]
اگر ہم الہٰی برکات کے خواہاں ہیں تو ہمیں بُتپرستی سے بچنا چاہئے