یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏8 ص.‏ 8-‏12
  • برکات یا لعنتیں—‏انتخاب موجود ہے!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • برکات یا لعنتیں—‏انتخاب موجود ہے!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • برکات ممکن بنائی گئیں
  • لعنتوں کی بابت کیا ہے؟‏
  • برکات اور لعنتوں کا اعلان
  • قریبی جائزہ لینا
  • اسرائیل کے انتخاب سے فرق پڑا تھا
  • برکات یا لعنتیں—‏آجکل ہمارے لئے مثالیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ‏’‏جیتے رہنے کیلئے زندگی کو اختیار کریں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • کیا یہوواہ کی برکت آپ پر نازل ہوگی؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • بائبل درحقیقت جو کچھ ہے اُسے ویسے ہی قبول کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏8 ص.‏ 8-‏12

برکات یا لعنتیں—‏انتخاب موجود ہے!‏

‏”‏مَیں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ تُو .‏ .‏ .‏ جیتا رہے۔“‏—‏استثنا ۳۰:‏۱۹۔‏

۱.‏ انسانوں کو کس صلاحیت سے نوازا گیا تھا؟‏

یہوؔواہ خدا نے ہمیں—‏اپنی ذی‌شعور انسانی خلائق—‏کو آزاد مرضی کے مالک ہونے کیلئے بنایا تھا۔ ہمیں محض خودکار مشینوں، یا روبوٹس کی طرح خلق نہیں کِیا گیا تھا بلکہ انتخابات کرنے کی ذمہ‌داری اور استحقاق بخشا گیا تھا۔ (‏زبور ۱۰۰:‏۳‏)‏ پہلے انسان—‏آؔدم اور حوؔا—‏اپنے طرزِعمل کا انتخاب کرنے کیلئے آزاد تھے، اور وہ اپنے انتخاب کیلئے خدا کے حضور جوابدہ تھے۔‏

۲.‏ آؔدم نے کیا انتخاب کِیا، اور کس نتیجے کیساتھ؟‏

۲ خالق نے زمینی فردوس پر ابدی برکت والی انسانی زندگی کیلئے باافراط فراہمیاں کی تھیں۔ تاہم ابھی تک وہ مقصد پورا کیوں نہیں ہوا ہے؟ کیونکہ آؔدم نے غلط انتخاب کِیا۔ یہوؔواہ انسان کو یہ حکم دے چکا تھا:‏ ”‏تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بے‌روک‌ٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیک‌وبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔“‏ (‏پیدایش ۲:‏۱۶، ۱۷‏)‏ اگر آؔدم نے فرمانبرداری کرنے کا انتخاب کِیا ہوتا تو ہمارے پہلے والدین نے برکت حاصل کی ہوتی۔ نافرمانی موت کا باعث بنی۔ (‏پیدایش ۳:‏۶،‏ ۱۸، ۱۹‏)‏ یوں گناہ اور موت آؔدم کی تمام نسل میں منتقل ہو گئے ہیں۔—‏رومیوں ۵:‏۱۲‏۔‏

برکات ممکن بنائی گئیں

۳.‏ خدا نے کیسے اس بات کی یقین‌دہانی کرائی کہ نوعِ‌انسان کیلئے اُسکا مقصد پورا ہوگا؟‏

۳ یہوؔواہ خدا نے ایک وسیلہ پیدا کِیا جسکے ذریعے نوعِ‌انسان کو برکت دینے کا اُسکا مقصد بالآخر پورا ہوگا۔ عدؔن میں پیشینگوئی کرتے ہوئے، اُس نے بذاتِ‌خود ایک نسل کی بابت قبل‌ازوقت بتا دیا:‏ ”‏مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ بعدازاں خدا نے وعدہ کِیا کہ فرمانبردار نوعِ‌انسان کو اِس نسل، اؔبرہام کی اَولاد کے وسیلہ سے برکات حاصل ہونگی۔—‏پیدایش ۲۲:‏۱۵-‏۱۸‏۔‏

۴.‏ نوعِ‌انسان کو برکت دینے کیلئے یہوؔواہ نے کیا بندوبست کِیا ہے؟‏

۴ برکت دینے والی وہ موعودہ نسل یسوؔع مسیح ثابت ہوا۔ نوعِ‌انسان کو برکت دینے کیلئے یہوؔواہ کے انتظام میں یسوؔع کے کردار کی بابت، مسیحی رسول پولسؔ نے لکھا:‏ ”‏خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مُؤا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۸‏)‏ گنہگار نوعِ‌انسان میں سے وہ لوگ برکات سے لطف‌اندوز ہونگے جو خدا کی فرمانبرداری کرتے اور یسوؔع مسیح کے فدیے کی قربانی کی بخشش سے مستفید ہوتے ہیں۔ (‏اعمال ۴:‏۱۲‏)‏ کیا آپ فرمانبرداری اور برکات کا انتخاب کرینگے؟ نافرمانی کا نتیجہ بڑا مختلف ہوگا۔‏

لعنتوں کی بابت کیا ہے؟‏

۵.‏ لفظ ”‏لعنت“‏ کا کیا مطلب ہے؟‏

۵ برکت کا اُلٹ لعنت ہے۔ لفظ ”‏لعنت“‏ کا مطلب کسی کو بُرابھلا کہنا یا اس کے خلاف خراب فیصلہ دینا ہے۔ عبرانی لفظ کیلالا اصل فعل کلال سے مشتق ہے جس کا لفظی مطلب ”‏ہلکا ہونا“‏ ہے۔ تاہم، جب علامتی مفہوم میں استعمال کِیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ’‏لعنت کرنا‘‏ یا ’‏حقارت‌آمیز سلوک کرنا‘‏ ہے۔—‏احبار ۲۰:‏۹؛‏۲-‏سموئیل ۱۹:‏۴۳‏۔‏

۶.‏ قدیم بیتؔ‌ایل کے قریب الیشعؔ سے متعلق کونسا واقع رونما ہوا؟‏

۶ ایک لعنت‌آمیز فوری کارروائی کی ڈرامائی مثال پر غور کریں۔ یہ اُس وقت واقع ہوئی جب خدا کا نبی الیشعؔ یریحوؔ سے بیتؔ‌ایل کو جا رہا تھا۔ واقعہ یوں بیان کِیا جاتا ہے:‏ ”‏جب وہ راہ میں جا رہا تھا تو اُس شہر کے چھوٹے لڑکے نکلے اور اُسے چڑا کر کہنے لگے چڑھا چلا جا اَے گنجے سر والے!‏ چڑھا چلا جا اَے گنجے سر والے!‏ اور اُس نے اپنے پیچھے نظر کی اور اُنکو دیکھا اور خداوند کا نام لیکر اُن پر لعنت کی۔ سو بن میں سے دو ریچھنیاں نکلیں اور اُنہوں نے اُن میں سے بیالیس بچے پھاڑ ڈالے۔“‏ (‏۲-‏سلاطین ۲:‏۲۳، ۲۴‏)‏ یہ تو ظاہر نہیں کِیا گیا کہ درحقیقت اُن تمسخر اُڑانے والے بچوں پر مصیبت لاتے ہوئے الیشعؔ نے کیا لعنت کی۔ تاہم، وہ زبانی سزا مؤثر ثابت ہوئی کیونکہ یہ الہٰی مرضی کی مطابقت میں عمل کرنے والے ایک خدا کے نبی کے ذریعے یہوؔواہ کے نام سے لائی گئی تھی۔‏

۷.‏ اُن بچوں کیساتھ کیا واقع ہوا جنہوں نے الیشعؔ کا تمسخر اُڑایا، اور کیوں؟‏

۷ تمسخر اُڑانے کی بنیادی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ الیشعؔ حسبِ‌دستور ایلیاؔہ کی جانی‌پہچانی چادر اُوڑھے ہوئے تھا اور بچے نہیں چاہتے تھے کہ اُس نبی کا کوئی جانشین وہاں ہو۔ (‏۲-‏سلاطین ۲:‏۱۳‏)‏ اپنے ایلیاؔہ کے جانشین ہونے کے چیلنج کا جواب دینے کیلئے اور ان جوان لوگوں اور اُن کے والدین کو یہوؔواہ کے نبی کیلئے مناسب احترام سکھانے کیلئے اُس نے تمسخر اُڑانے والے ہجوم پر ایلیاؔہ کے خدا کے نام سے لعنت کی۔ جنگل میں سے دو ریچھنیاں بھیجنے اور اُن تمسخر اُڑانے والوں میں سے ۴۲ کو پھاڑ کھانے کا موجب بننے سے، یہوؔواہ نے اپنے نبی کے طور پر الیشعؔ کیلئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کِیا۔ رابطے کے اُس ذریعے کیلئے اپنے احترام کی کمی کے باعث جسے وہ اُسوقت زمین پر استعمال کر رہا تھا یہوؔواہ نے فیصلہ‌کُن طور پر کارروائی کی۔‏

۸.‏ اسرائیلی لوگ کیا کرنے پر متفق ہوئے، اور کن امکانات کیساتھ؟‏

۸ برسوں پہلے، اسرائیلیوں نے خدا کے انتظامات کیلئے احترام کی ایسی ہی کمی ظاہر کی تھی۔ یہ کچھ اسطرح سے ظاہر ہوئی:‏ ۱۵۱۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں، اُنہیں گویا ”‏عقاب کے پروں پر“‏ مصریوں کی غلامی سے آزاد کراتے ہوئے یہوؔواہ نے اُمتِ‌اسرائیل کیلئے کرم‌فرمائی کا اظہار کِیا۔ اسکے تھوڑی ہی دیر بعد، اُنہوں نے خدا کی فرمانبرداری کرنے کا عہد کِیا۔ غور کریں کہ کیسے فرمانبرداری غیرمُنفک طور پر خدا کی مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ وابستہ تھی۔ یہوؔواہ نے موسیٰؔ کی معرفت فرمایا:‏ ”‏اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تُم ہی میری خاص ملکیت ٹھہرو گے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔“‏ اسکے بعد، لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اقرار کِیا:‏ ”‏جوکچھ خداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کرینگے۔“‏ (‏خروج ۱۹:‏۴، ۵، ۸؛ ۲۴:‏۳)‏ اسرائیلی خدا سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، اُس کیلئے مخصوص تھے اور اُس کے سخن کی اطاعت کرنے کا وعدہ کر چکے تھے۔ ایسا کرنا بہت سی برکات پر منتج ہوگا۔‏

۹، ۱۰.‏ جب موسیٰؔ کوہِ‌سینا پر تھا تو اسرائیلیوں نے کیا کِیا، اور کن نتائج کیساتھ؟‏

۹ تاہم، اس سے پیشتر کہ اُس معاہدے کے بنیادی اُصول ’‏خدا کے ہاتھ‘‏ سے پتھر پر لکھے جاتے، الہٰی لعنتیں ضروری بن گئیں۔ (‏خروج ۳۱:‏۱۸)‏ ایسے المناک نتائج کیوں موزوں تھے؟ کیا جوکچھ یہوؔواہ نے فرمایا تھا اسرائیلیوں نے وہ سب کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کِیا تھا؟ جی‌ہاں، باتوں سے تو وہ برکات کے خواہاں تھے لیکن اپنے افعال سے اُنہوں نے ایسی روش کا انتخاب کِیا جو لعنتوں کی مستحق تھی۔‏

۱۰ جب موسیٰؔ ۴۰ دنوں کے عرصہ کے دوران، کوہِ‌سینا پر دس احکام حاصل کر رہا تھا، تو اسرائیلیوں نے یہوؔواہ کیساتھ اپنی وفاداری کے ابتدائی وعدے کو توڑ دیا۔ ”‏اس اثنا میں،“‏ سرگزشت بیان کرتی ہے، ”‏جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰؔ نے پہاڑ سے اُترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارؔون کے پاس جمع ہو کر اُس سے کہنے لگے کہ اُٹھ ہمارے لئے دیوتا بنا دے جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰؔ کو جو ہم کو ملکِ‌مصرؔ سے نکالکر لایا کیا ہوگیا۔“‏ (‏خروج ۳۲:‏۱)‏ انسانی وسیلے کیلئے ظاہرکردہ گستاخانہ رویے کی یہ ایک اَور مثال ہے جسے یہوؔواہ اُس وقت اپنے لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے استعمال کر رہا تھا۔ اسرائیلی مصری بُت‌پرستی کی نقل کرنے میں اُلجھ گئے اور ہولناک نتائج کی فصل کاٹی جب اُن میں سے کوئی ۳،۰۰۰ ایک ہی دن میں تلوار کا لقمہ ہو گئے۔—‏خروج ۳۲:‏۲-‏۶، ۲۵-‏۲۹۔‏

برکات اور لعنتوں کا اعلان

۱۱.‏ برکات اور لعنتوں کے سلسلے میں یشوؔع نے کن ہدایات کی تعمیل کی تھی؟‏

۱۱ بیابان میں اسرائیل کی ۴۰ برس کی مسافت کے اختتام کے قریب، موسیٰؔ نے خدا کی فرمانبرداری کی روش کا انتخاب کرنے سے حاصل ہونے والی برکات کو ایک ایک کر کے قلمبند کِیا۔ اُس نے اُن لعنتوں کو بھی ایک ایک کر کے بیان کِیا جو اس صورت میں اسرائیلیوں کے تجربے میں آئینگی اگر وہ یہوؔواہ کی نافرمانی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ (‏استثنا ۲۷:‏۱۱–‏۲۸:‏۱۰)‏ اسرائیل کے ملکِ‌موعود میں داخل ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد، یشوؔع نے برکات اور لعنتوں سے متعلق موسیٰؔ کی ہدایات کی تعمیل کی۔ اسرائیل کے چھ قبیلے کوہِ‌عیباؔل کے دامن میں کھڑے ہوئے تھے، اور باقی کے چھ کوہِ‌گرؔزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ لاوی درمیانی وادی میں کھڑے تھے۔ بدیہی طور پر، کوہِ‌عیباؔل کے دامن میں کھڑے ہوئے قبیلوں نے اپنے سامنے سنائی جانے والی لعنتوں یا بددعاؤں کیلئے ”‏آمین“‏ کہا۔ دیگر نے اُن برکات کیلئے جواب دیا جو لاویوں نے کوہِ‌گرؔزیم کے دامن میں اُنکے سامنے پڑھ کر سنائیں۔—‏یشوع ۸:‏۳۰-‏۳۵۔‏

۱۲.‏ لاویوں کے ذریعے اعلان‌کردہ چند ایک لعنتیں کیا تھیں؟‏

۱۲ تصور کریں کہ آپ لاویوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں:‏ ”‏لعنت اُس آدمی پر جو کاریگری کی صنعت کی طرح کھودی ہوئی یا ڈھالی ہوئی مورت بنا کر جو خداوند کے نزدیک مکروہ ہے اُسکو کسی پوشیدہ جگہ میں نصب کرے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اپنے باپ یا ماں کو حقیر جانے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اپنے پڑوسی کی حد کے نشان کو ہٹائے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اندھے کو راستہ سے گمراہ کرے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو پردیسی اور یتیم اور بیوہ کے مقدمہ کو بگا‌ڑے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اپنے باپ کی بیوی سے مباشرت کرے کیونکہ وہ اپنے باپ کے دامن کو بے‌پردہ کرتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو کسی چوپائے کے ساتھ جماع کرے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جواپنی بہن سے مباشرت کرے خواہ وہ اُسکے باپ کی بیٹی ہو خواہ ماں کی .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جواپنی ساس سے مباشرت کرے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اپنے ہمسایہ کو پوشیدگی میں مارے۔ .‏ .‏ .‏لعنت اُس پر جو بے‌گناہ کو قتل کرنے کیلئے انعام لے۔ .‏ .‏ .‏ لعنت اُس پر جو اس شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کیلئے اُن پر قائم نہ رہے۔“‏ ہر لعنت کے بعد، کوہِ‌عیباؔل کے سامنے کھڑے ہوئے قبائل ”‏آمین“‏ کہتے ہیں!‏—‏استثنا ۲۷:‏۱۵-‏۲۶۔‏

۱۳.‏ آپ اُن چند ایک برکات کو، اپنے الفاظ میں کیسے بیان کرینگے جنکا لاویوں نے اعلان کِیا تھا؟‏

۱۳ اب تصور کریں کہ آپ لوگوں کو کوہِ‌گرؔزیم کے سامنے کھڑے برکت کیلئے بلندآواز سے جواب دیتے ہوئے سنتے ہیں جبکہ لاوی یہ کہتے ہیں :‏ ”‏شہر میں بھی تُو مبارک ہوگا اور کھیت میں بھی مبارک ہوگا۔ تیری اَولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے چوپایوں کے بچے یعنی گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑبکریوں کے بچے مبارک ہونگے۔ تیرا ٹوکرا اور تیری کٹھوتی دونوں مبارک ہونگے۔ اور تُو اندر آتے وقت مبارک ہوگا اور باہر جاتے وقت بھی مبارک ہوگا۔“‏—‏استثنا ۲۸:‏۳-‏۶۔‏

۱۴.‏ اسرائیلی کس بنیاد پر برکات حاصل کرینگے؟‏

۱۴ ان برکات کو حاصل کرنے کی بنیاد کیا تھی؟ بیان کہتا ہے:‏ ”‏اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات کو جانفشانی سے مان کر اُسکے اِن سب حکموں پر جو آج کے دن مَیں تجھ کو دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دُنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کریگا۔ اور اگر تُو خداوند اپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہونگی اور تجھ کو ملیں گی۔“‏ (‏استثنا ۲۸:‏۱، ۲)‏ جی‌ہاں، الہٰی برکات سے استفادہ کرنے کی کُنجی خدا کی فرمانبرداری تھی۔ لیکن آجکل ہماری بابت کیا ہے؟ کیا ہم ”‏[‏یہوؔواہ]‏ کی بات سننے“‏ سے انفرادی طور پر برکات اور زندگی کا انتخاب کرینگے؟—‏استثنا ۳۰:‏۱۹، ۲۰۔‏

قریبی جائزہ لینا

۱۵.‏ استثنا ۲۸:‏۳ میں درج برکت میں کونسا خاص نکتہ بیان کِیا گیا تھا، اور ہم اس سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟‏

۱۵ آیئے اُن چند ایک برکات پر غور کریں جن سے ایک اسرائیلی یہوؔواہ کی فرمانبرداری کرنے سے استفادہ کر سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، استثنا ۲۸:‏۳ بیان کرتی ہے:‏ ”‏شہر میں بھی تُو مبارک ہوگا اور کھیت میں بھی تُو مبارک ہوگا۔“‏ خدا کی طرف سے برکت حاصل کرنا مقام یا کام پر موقوف نہیں ہے۔ بعض اپنے حالات کے پھندے میں پھنسا ہوا محسوس کر سکتے ہیں، شاید اسلئے کہ وہ مادی طور پر تباہ‌حال علاقے یا جنگ سے اُجڑے ہوئے مُلک میں رہتے ہیں۔ دیگر شاید کسی مختلف جگہ پر خدمت کرنے کے مشتاق ہوں۔ بعض مسیحی مرد اسلئے بے‌حوصلہ ہو سکتے ہیں کہ اُنہیں کلیسیا میں خدمتگزار خادم یا بزرگ کے طور پر مقرر نہیں کِیا گیا ہے۔ بعض‌اوقات، مسیحی خواتین بے‌حوصلہ محسوس کرتی ہیں کیونکہ وہ پائنیروں یا مشنریوں کے طور پر کُل‌وقتی خدمتگزاری میں شامل ہونے کی حالت میں نہیں ہوتیں۔ تاہم، ’‏یہوؔواہ کی بات سننے والا اور جوکچھ وہ تقاضا کرتا ہے اُس سب کو احتیاط سے پورا کرنے والا‘‏ ہر شخص اب اور تمام ابدیت تک مبارک ہوگا۔‏

۱۶.‏ آجکل یہوؔواہ کی تنظیم نے استثنا ۲۸:‏۴ کے اُصول کا کیسے تجربہ کِیا ہے؟‏

۱۶ استثنا ۲۸:‏۴ بیان کرتی ہے:‏ ”‏تیری اَولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے چوپایوں کے بچے یعنی گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑبکریوں کے بچے مبارک ہونگے۔“‏ یہاں پیش‌کردہ واحد اسمِ‌ضمیر ”‏تیرے“‏ کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک فرمانبردار اسرائیلی کا ذاتی تجربہ ہوگا۔ آجکل یہوؔواہ کے فرمانبردار خادموں کی بابت کیا ہے؟ یہوؔواہ کے گواہوں کی تنظیم میں ہونے والا عالمگیر اضافہ اور توسیع، بادشاہت کی خوشخبری کے ۵،۰۰۰،۰۰۰ سے زیادہ مُنادوں کی انتھک کوششوں پر خدا کی برکات کا نتیجہ ہیں۔ (‏مرقس ۱۳:‏۱۰‏)‏ اور نمایاں اضافے کا امکان صاف نظر آتا ہے کیونکہ ۱۳،۰۰۰،۰۰۰ لوگ ۱۹۹۵ میں عشائے خداوندی کی تقریب پر حاضر ہوئے تھے۔ کیا آپ بادشاہتی برکات سے استفادہ کر رہے ہیں؟‏

اسرائیل کے انتخاب سے فرق پڑا تھا

۱۷.‏ برکات یا لعنتوں کے ’‏نازل‘‏ ہونے کا انحصار کس چیز پر تھا؟‏

۱۷ درحقیقت، برکات فرمانبردار اسرائیلی کو ہی حاصل ہونگی۔ یہ وعدہ کِیا گیا تھا:‏ ”‏یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہونگی اور تجھ کو ملیں گی۔“‏ (‏استثنا ۲۸:‏۲)‏ اسی طرح، لعنتوں کی بابت بھی کہا گیا تھا:‏ ”‏یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہونگی اور تجھ کو لگیں گی۔“‏ (‏استثنا ۲۸:‏۱۵)‏ اگر آپ قدیم زمانے کے اسرائیلی ہوتے تو کیا آپ پر برکات ’‏نازل‘‏ ہوتی یا لعنتیں؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا کہ آیا آپ خدا کی فرمانبرداری کرتے ہیں یا آپ اُسکی نافرمانی کرتے ہیں۔‏

۱۸.‏ اسرائیلی لعنتوں سے کیسے بچ سکتے تھے؟‏

۱۸ استثنا ۲۸:‏۱۵-‏۶۸ میں، نافرمانی کے تکلیف‌دہ نتائج کو لعنتوں کے طور پر بیان کِیا گیا ہے۔ کچھ استثنا ۲۸:‏۳-‏۱۴ میں فہرست‌کردہ فرمانبرداری کیلئے برکات کے بالکل متضاد ہیں۔ اکثر، بنی‌اسرائیل نے لعنتوں کے تکلیف‌دہ نتائج کی فصل کاٹی کیونکہ اُنہوں نے جھوٹی پرستش اختیار کرنے کا انتخاب کِیا۔ (‏عزرا ۹:‏۷؛‏ یرمیاہ ۶:‏۶-‏۸؛‏ ۴۴:‏۲-‏۶‏)‏ کسقدر المناک!‏ یہوؔواہ کے خوشگوار احکام اور اُصولوں کی فرمانبرداری کرنے کا صحیح انتخاب کرنے سے جو واضح طور پر اچھے اور بُرے میں فرق بیان کرتے ہیں، ایسے نتائج سے بچا جا سکتا تھا۔ آجکل بہتیرے دُکھ اور تکلیف اُٹھاتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے جھوٹے مذہب پر چلنے، جنسی بداخلاقی میں پڑنے، ناجائز منشیات استعمال کرنے، حد سے زیادہ الکحلی مشروبات پینے، اور اسی طرح کے دیگر کام کرنے سے بائبل اُصولوں کے برعکس عمل کرنے کا انتخاب کِیا ہے۔ جیسے‌کہ قدیم اسرائیل اور یہوؔداہ میں ہوا ایسے غلط انتخابات کرنا الہٰی ناپسندیدگی اور غیرضروری دردِدل پر منتج ہوا ہے۔—‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۲-‏۱۴‏۔‏

۱۹.‏ اُن حالتوں کو بیان کریں جن سے یہوؔداہ اور اسرائیل نے استفادہ کِیا جب اُنہوں نے یہوؔواہ کے فرمانبردار رہنے کا انتخاب کِیا۔‏

۱۹ برکات کی کثرت اور اَمن‌وآشتی کا دَور دَورا صرف اُسی وقت تک رہا جبتک اسرائیل نے یہوؔواہ کی فرمانبرداری کی۔ مثال کے طور پر، سلیماؔن بادشاہ کے ایّام کی بابت، ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏یہوؔداہ اور اسرائیل کے لوگ کثرت میں سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خوش رہتے تھے۔ .‏ .‏ .‏ اور سلیماؔن کی عمربھر یہوؔداہ اور اسرائیل کا ایک ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے داؔن سے بیرسبعؔ تک امن سے رہتا تھا۔“‏ (‏۱-‏سلاطین ۴:‏۲۰-‏۲۵‏)‏ داؔؤد بادشاہ کے زمانے میں بھی، جس میں خدا کے دُشمنوں کی طرف سے بہت زیادہ مخالفت دیکھنے میں آئی، قوم نے یہوؔواہ کی حمایت اور برکت کو محسوس کِیا جب اُنہوں نے خدائے‌برحق کی فرمانبرداری کرنے کا انتخاب کِیا۔—‏۲-‏سموئیل ۷:‏۲۸، ۲۹؛‏ ۸:‏۱-‏۱۵‏۔‏

۲۰.‏ خدا انسانوں کے سلسلے میں کس بات کیلئے پُراعتماد ہے؟‏

۲۰ کیا آپ خدا کی فرمانبرداری کریں گے، یا اُس کی نافرمانی کریں گے؟ اسرائیلیوں کے پاس انتخاب موجود تھا۔ اگرچہ ہم سب نے آؔدم سے ورثے میں گنہگارانہ رغبت پائی ہے، ہم نے آزادانہ انتخاب کی بخشش بھی حاصل کی ہے۔ شیطان، اس بدکار دُنیا، اور اپنی ناکاملیتوں کے باوجود، ہم دُرست انتخاب کر سکتے ہیں۔ مزیدبرآں، ہمارے خالق کو یقین ہے کہ ہر مشکل اور آزمائش کے مقابلے میں ایسے لوگ ہونگے جو صحیح انتخاب کرتے ہیں، نہ صرف کلام ہی سے بلکہ افعال سے بھی۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸-‏۱۰‏)‏ کیا آپ اُن کے درمیان ہونگے؟‏

۲۱.‏ اگلے مضمون میں کس چیز کا جائزہ لیا جائیگا؟‏

۲۱ اگلے مضمون میں، ہم ماضی کے نمونوں کی روشنی میں اپنے رجحانات اور افعال کا موازنہ کرنے کے قابل ہونگے۔ دُعا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک موسیٰؔ کی معرفت خدا کے کلام کا شکرگزاری کیساتھ جواب دے سکے:‏ ”‏مَیں آج کے دن آسمان اور زمین کو تمہارے برخلاف گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تُو زندگی کو اختیار کر کہ تُو جیتا رہے۔“‏—‏استثنا ۳۰:‏۱۹۔ (‏۱۲ ۱۵/۰۱ w۹۶)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ یہوؔواہ نے گنہگار انسانوں کیلئے کیسے برکات ممکن بنائی ہیں؟‏

▫ لعنتیں کیا ہیں؟‏

▫ اسرائیلی لعنتوں کی بجائے برکات کیسے حاصل کر سکتے تھے؟‏

▫ خدا کی فرمانبرداری کر نے کی بدولت اسرائیل, نے کن برکات سے استفادہ کِیا تھا؟‏

‏[‏تصویر]‏

اسرائیلی کوہِ‌گرؔزیم اور کوہِ‌عیباؔل کے سامنے جمع ہوئے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏.Pictorial Archive )‎Near Eastern History‎( Est

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں