”سب قوموں کیلئے دُعا کا گھر“
”کیا یہ نہیں لکھا ہے کہ میرا گھر سب قوموں کے لئے دُعا کا گھر کہلائیگا؟“—مرقس ۱۱:۱۷۔
۱. شروع میں آؔدم اور حوؔا نے خدا کیساتھ کس قسم کے رشتے سے لطف اُٹھایا؟
جب آؔدم اور حوؔا کو خلق کِیا گیا تو اُنہوں نے اپنے آسمانی باپ کیساتھ ایک قریبی رشتے سے لطف اُٹھایا۔ یہوؔواہ خدا اُن سے ہمکلام ہوا اور نسلِانسانی کے لئے اپنے شاندار مقصد کو بیان کِیا۔ یقیناً، اُنہوں نے اکثر اُس کے پُرشکوہ کارہائےتخلیق کے لئے یہوؔواہ کی حمدوستائش میں پکارنے کی تحریک پائی تھی۔ انسانی خاندان کے مستقبل کے باپ اور ماں کے طور پر اپنے کردار پر سوچبچار کرتے وقت اگر آؔدم اور حوؔا کو راہنمائی کی ضرورت پڑتی تو وہ اپنے فردوسی گھر میں کسی بھی جگہ سے خدا تک رسائی کر سکتے تھے۔ اُنہیں ہیکل میں کسی کاہن کی خدمات کی ضرورت نہیں تھی۔—پیدایش ۱:۲۸۔
۲. جب آؔدم اور حوؔا نے گناہ کِیا تو کونسی تبدیلی واقع ہوئی؟
۲ صورتحال اُس وقت بدل گئی جب ایک باغی فرشتے نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ ”خدا کی مانند“ بن جائیگی، حوؔا کو یہ سوچنے پر اُکسایا کہ اگر وہ یہوؔواہ کی حاکمیت کو رد کر دے تو زندگی میں اُسکی حالت بہتر ہو جائیگی۔ بدیں وجہ، حوؔا نے اُس درخت کا پھل کھا لیا جس پر خدا نے پابندی عائد کی تھی۔ اسکے بعد شیطان نے حوؔا کو اپنے شوہر کو بہکانے کیلئے استعمال کِیا۔ افسوس کی بات ہے کہ آؔدم نے یہ ظاہر کرتے ہوئے اپنی گنہگار بیوی کی بات سنی کہ وہ اُسکے ساتھ اپنے رشتے کو خدا کیساتھ اپنے رشتے کی نسبت زیادہ اہم خیال کرتا ہے۔ (پیدایش ۳:۴-۷) دراصل، آؔدم اور حوؔا نے شیطان کو اپنے معبود کے طور پر منتخب کر لیا۔—مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۴:۴۔
۳. آؔدم اور حوؔا کی بغاوت کے بُرے نتائج کیا تھے؟
۳ ایسا کرنے سے، پہلے انسانی جوڑے نے نہ صرف خدا کیساتھ اپنے بیشقیمت رشتے کو بلکہ ایک زمینی فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہنے کے امکان کو بھی کھو دیا۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷) اُنکے گنہگارانہ بدن بالآخر اُنکی موت تک تنزلی کا شکار رہے۔ اُن کی اولاد نے اس گنہگارانہ حالت کو ورثے میں پایا۔ ”یوں،“ بائبل وضاحت کرتی ہے ”موت سب آدمیوں میں پھیل گئی۔“—رومیوں ۵:۱۲۔
۴. خدا نے گنہگار نوعِانسان کیلئے کونسی اُمید پیش کی؟
۴ گنہگار نوعِانسان کا اُنکے پاک خالق کیساتھ ملاپ کرانے کیلئے کسی چیز کی ضرورت تھی۔ آؔدم اور حوؔا کو سزا سناتے وقت، خدا نے ایک ”نسل“ کا وعدہ فرمانے سے اُنکی آئندہ اولاد کیلئے اُمید فراہم کی جو نوعِانسان کو شیطان کی بغاوت کے اثرات سے بچائیگی۔ (پیدایش ۳:۱۵) بعدازاں، خدا نے آشکارا کِیا کہ برکت دینے والی نسل اؔبرہام کے ذریعے آئیگی۔ (پیدایش ۲۲:۱۸) اس پُرمحبت مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، خدا نے اؔبرہام کی اولاد، اسرائیلیوں، کو اپنی برگزیدہ قوم بننے کیلئے منتخب کِیا۔
۵. ہمیں اسرائیل کے ساتھ خدا کے شریعتی عہد کی تفصیلات میں کیوں دلچسپی لینی چاہئے؟
۵ ۱۵۱۳ ق.س.ع. میں، اسرائیلی خدا کیساتھ ایک عہد کے رشتے میں داخل ہو گئے اور اُسکے قوانین کی فرمانبرداری کرنے کا اقرار کِیا۔ اس شریعتی عہد کو اُن تمام لوگوں کیلئے بڑی دلچسپی کا حامل ہونا چاہئے جو آجکل خدا کی پرستش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس نے موعودہ نسل کی نشاندہی کی۔ پولسؔ نے کہا کہ اس میں ”آیندہ کی اچھی چیزوں کا عکس“ شامل تھا۔ (عبرانیوں ۱۰:۱) جب پولسؔ نے یہ بیان دیا تو وہ ایک سفری خیمۂاجتماع، یا خیمۂپرستش میں اسرائیلی کاہنوں کی خدمت پر گفتگو کر رہا تھا۔ یہ ”خداوند کی ہیکل“ یا ”خداوند کا گھر“ کہلاتا تھا۔ (۱-سموئیل ۱:۹، ۲۴) یہوؔواہ کے زمینی گھر میں انجام دی جانے والی پاک خدمت کا جائزہ لینے سے، ہم اس رحمانہ بندوبست کی اَور زیادہ بھرپور طریقے سے قدر کر سکتے ہیں جس سے گنہگار انسان آجکل خدا کے ساتھ میلملاپ رکھ سکتے ہیں۔
پاکترین مقام
۶. پاکترین مقام میں کیا رکھا گیا تھا، اور وہاں خدا کی موجودگی کی نمائندگی کیسے کی جاتی تھی؟
۶ بائبل بیان کرتی ہے، ”باری تعالےٰ ہاتھ کے بنائے ہوئے گھروں میں نہیں رہتا۔“ (اعمال ۷:۴۸) تاہم، اُسکے زمینی گھر میں خدا کی موجودگی کی نمائندگی اندرونی حصے میں جو پاکترین مقام کہلاتا تھا اَبر سے ہوتی تھی۔ (احبار ۱۶:۲) بظاہر، پاکترین مقام میں روشنی فراہم کرتے ہوئے، یہ اَبر بڑی آبوتاب سے چمکتا تھا۔ یہ پاک صندوق کے اُوپر ہوتا تھا جو ”عہدنامہ کا صندوق“ کہلاتا تھا، جسکے اندر پتھر کی تختیاں تھیں جن پر بعض احکام کندہ تھے جو خدا نے اسرائیل کو دیئے تھے۔ عہد کے صندوق کے سرپوش پر پھیلے ہوئے پروں والے دو سنہری کروبی تھے، جو خدا کی آسمانی تنظیم میں اعلیٰ مرتبے والی روحانی خلائق کی تصویرکشی کرتے تھے۔ معجزاتی جلالی اَبر سرپوش کے اُوپر اور کروبیوں کے درمیان رہتا تھا۔ (خروج ۲۵:۲۲) اس نے جاندار کروبیوں کے اُٹھائے ہوئے آسمانی رتھ پر قادرِمطلق خدا کے مسندنشین ہونے کی تصویرکشی کی تھی۔ (۱-تواریخ ۲۸:۱۸) یہ وضاحت کرتا ہے کہ حزقیاؔہ بادشاہ نے کیوں دُعا کی: ”اَے ربُالافواج اسرائیل کے خدا۔ کروبیوں کے اُوپر بیٹھنے والے!“—یسعیاہ ۳۷:۱۶۔
پاک مقام
۷. پاک مقام میں کونسا سازوسامان تھا؟
۷ خیمۂاجتماع کا دوسرا حصہ پاک مقام کہلاتا تھا۔ اس حصے کے اندر، مدخل کی بائیں طرف ایک خوبصورت ہفتشاخہ شمعدان ہوتا تھا، اور دائیں طرف نذر کی روٹی کی میز ہوتی تھی۔ بالکل سامنے ایک قربانگاہ سے جلتے ہوئے بخور کی خوشبو اُٹھتی تھی۔ یہ ایک پردے کے سامنے واقع تھی جو پاک کو پاکترین سے علیٰحدہ کرتاتھا۔
۸. کاہن باقاعدگی سے پاک مقام میں کونسے فرائض سرانجام دیتے تھے؟
۸ ہر صبحوشام، ایک کاہن خیمۂاجتماع میں جا کر بخور کی قربانگاہ پر بخور جلاتا تھا۔ (خروج ۳۰:۷، ۸) صبح کے وقت، جب بخور جلایا جاتا تو سونے کے شمعدان پر رکھے ہوئے سات چراغوں میں تیل بھرا جاتا تھا۔ شام کے وقت چراغوں کو پاک مقام کیلئے روشنی فراہم کرنے کیلئے جلایا جاتا تھا۔ ہر سبت کو ایک کاہن نذر کی روٹی کی میز پر ۱۲ تازہ روٹیاں رکھتا تھا۔—احبار ۲۴:۴-۸۔
صحن
۹. پانی کے حوض کا کیا مقصد تھا، اور ہم اس سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۹ خیمۂاجتماع میں چاروں طرف سے قناتوں سے گِھرا ہوا ایک صحن بھی تھا۔ اس صحن میں ایک بہت بڑا حوض تھا جہاں کاہن پاک مقام میں داخل ہونے سے پہلے اپنے ہاتھ اور پاؤں دھوتے تھے۔ اُنہیں صحن میں واقع قربانگاہ پر قربانیاں چڑھانے سے پہلے بھی دھونا پڑتا تھا۔ (خروج ۳۰:۱۸-۲۱) طہارت کا یہ تقاضا آجکل خدا کے خادموں کیلئے ایک زبردست یاددہانی ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اُنکی پرستش خدا کے نزدیک قابلِقبول ہو تو اُنہیں جسمانی، اخلاقی، ذہنی، اور روحانی پاکیزگی کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱) قربانگاہ پر آگ جلانے کیلئے لکڑی اور حوض کیلئے پانی ہیکل کے غیراسرائیلی غلاموں کے ذریعے وقت پر مہیا کِیا جاتا تھا۔—یشوع ۹:۲۷۔
۱۰. قربانی کے مذبح پر پیش کئے جانے والے چند ایک نذرانے کیا تھے؟
۱۰ ہر صبح اور ہر شام، اناج اور مے کے ہدیوں کے ساتھ قربانگاہ پر ایک چھوٹے برّے کی سوختنی قربانی بھی چڑھائی جاتی تھی۔ (خروج ۲۹:۳۸-۴۱) دیگر قربانیاں خاص دنوں پر پیش کی جاتی تھیں۔ بعضاوقات کسی خاص ذاتی گناہ کیلئے قربانی دینا پڑتی تھی۔ (احبار ۵:۵، ۶) دیگر اوقات پر ایک اسرائیلی رضاکارانہ طور پر سلامتی کی قربانی چڑھا سکتا تھا جس میں سے کاہن اور قربانی گذراننے والا شخص حصے لیکر کھا سکتے تھے۔ علامتی مفہوم میں، اس نے ظاہر کِیا کہ اُسکے ساتھ ایک کھانے میں شریک ہونے سے، گنہگار انسان خدا کیساتھ صلح کر سکتے تھے۔ حتیٰکہ ایک پردیسی باشندہ بھی یہوؔواہ کا پرستار بن سکتا اور اُسکے گھر میں رضا کی قربانیاں پیش کرنے کا شرف حاصل کر سکتا تھا۔ لیکن یہوؔواہ کیلئے واجب تعظیم ظاہر کرنے کی غرض سے، کاہن صرف عمدہ معیار کے نذارنے قبول کر سکتے تھے۔ گیہوں کے نذرانوں کے آٹے کو خوب باریک ہونا چاہئے تھا، اور قربانیوں کیلئے جانوروں کو ہر طرح کے نقص سے پاک ہونا چاہئے تھا۔—احبار ۲:۱؛ ۲۲:۱۸-۲۰؛ ملاکی ۱:۶-۸۔
۱۱. (ا) جانوروں کی قربانیوں کے خون سے کیا کِیا جاتا تھا، اور اس نے کس چیز کی نشاندہی کی؟ (ب) خدا کا انسان اور حیوان دونوں کے خون کی بابت کیا نظریہ ہے؟
۱۱ ان قربانیوں کے خون کو قربانگاہ پر لایا جاتا تھا۔ اس نے قوم کیلئے روزانہ کی یاددہانی کا کام دیا کہ وہ گنہگار تھے جنہیں ایسے نجاتدہندہ کی ضرورت تھی جسکا بہایا ہوا خون اُنکے گناہوں کیلئے مستقل طور پر کفارہ دے سکے اور اُنہیں موت سے بچا سکے۔ (رومیوں ۷:۲۴، ۲۵؛ گلتیوں ۳:۲۴؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۰:۳۔) خون کے اس متبرک استعمال نے اسرائیلیوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ خون زندگی کی علامت ہے اور یہ کہ زندگی خدا کی ملکیت ہے۔ انسان کی طرف سے خون کے کسی بھی دیگر استعمال کو خدا نے ہمیشہ ممنوع قرار دیا ہے۔—پیدایش ۹:۴؛ احبار ۱۷:۱۰-۱۲؛ اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹۔
یومِکفارہ
۱۲، ۱۳. (ا) یومِکفارہ کیا تھا؟ (ب) اس سے پہلے کہ سردار کاہن پاکترین مقام میں خون لاتا، اُسے کیا کرنا پڑتا تھا؟
۱۲ سال میں ایک مرتبہ اُس دن پر جسے یومِکفارہ کہا جاتا تھا، اسرائیل کی پوری قوم کو، یہوؔواہ کی پرستش کرنے والے پردیسی باشندوں سمیت، تمام کام بند کرنا اور روزہ رکھنا ہوتا تھا۔ (احبار ۱۶:۲۹، ۳۰) اس اہم دن پر، قوم کو علامتی مفہوم میں گناہوں سے پاکصاف کِیا جاتا تھا تاکہ ایک اَور سال کیلئے خدا کیساتھ پُرامن تعلقات سے لطفاندوز ہوں۔ آئیے منظر کا جائزہ لیں اور چند ایک اہم نکات پر غور کریں۔
۱۳ سردار کاہن خیمۂاجتماع کے صحن میں ہے۔ پانی کے حوض پر خود کو غسل دینے کے بعد، وہ قربانی کیلئے ایک بیل کو ذبح کرتا ہے۔ بیل کا خون ایک پیالے میں اُنڈیلا جاتا ہے؛ اسے لاوی کے کہانتی قبیلے کے گناہوں کا کفارہ دینے کیلئے ایک خاص طریقے سے استعمال کِیا جائیگا۔ (احبار ۱۶:۴، ۶، ۱۱) لیکن قربانی لیکر مزید آگے بڑھنے سے پہلے، سردار کاہن کیلئے ایک اَور کام کرنا لازم ہے۔ وہ سونے کے بخوردان میں خوشبودار بخور اور قربانگاہ سے آتشدان میں دھکتے ہوئے کوئلے لیتا ہے۔ اب وہ پاک مقام میں داخل ہوتا ہے اور پاکترین مقام کے پردے کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ آہستہ سے پردے میں سے گزرتا ہے اور عہد کے صندوق کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ پھر، کسی بھی دوسرے انسان کی نگاہ سے اوجھل، وہ بخور کو جلتے ہوئے کوئلوں پر چھڑکتا ہے اور پاکترین مقام پر بھینی بھینی خوشبو کا اَبر چھا جاتا ہے۔—احبار ۱۶:۱۲، ۱۳۔
۱۴. سردار کاہن کو پاکترین مقام میں دو مختلف جانوروں کے خون کیساتھ کیوں داخل ہونا پڑتا تھا؟
۱۴ اب خدا رحم دکھانے کیلئے اور ایک علامتی مفہوم میں صلح کرنے کیلئے آمادہ ہے۔ اسی وجہ سے عہد کے صندوق کے سرپوش کو ”رحم گاہ“ یا ”کفارہ گاہ“ کہا جاتا تھا۔ (عبرانیوں ۹:۵) سردار کاہن پاکترین مقام سے باہر جاتا ہے، بیل کا خون لیتا ہے، اور ایک بار پھر پاکترین مقام میں داخل ہوتا ہے۔ جیسے شریعت میں حکم دیا گیا تھا، وہ خون میں اپنی اُنگلی ڈبوتا ہے اور اسے عہد کے صندوق کے سرپوش کے اُوپر سات بار چھڑکتا ہے۔ (احبار ۱۶:۱۴) اسکے بعد وہ صحن میں واپس جاتا ہے اور ایک بکرا ذبح کرتا ہے، جو ”جماعت کی طرف سے“ خطا کی قربانی ہے۔ وہ بکرے کے خون میں سے کچھ پاکترین مقام میں لاتا ہے اور اسکے ساتھ بھی ویسے ہی کرتا ہے جیسے اُس نے بیل کے خون کے ساتھ کِیا تھا۔ (احبار ۱۶:۱۵) یومِکفارہ پر دیگر اہم خدمات بھی انجام دی جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر، سردار کاہن کو دوسرے بکرے کے سر پر ہاتھوں کو رکھنا اور اس پر ”بنیاسرائیل کی . . . خطاؤں“ کا اقرار کرنا ہوتا تھا۔ پھر علامتی مفہوم میں قوم کے گناہوں کو دُور لیجانے کیلئے اس زندہ بکرے کو بیابان میں لے جایا جاتا تھا۔ اس طرح ہر سال ”کاہنوں اور جماعت کے سب لوگوں کیلئے“ کفارہ دیا جاتا تھا۔—احبار ۱۶:۱۶، ۲۱، ۲۲، ۳۳۔
۱۵. (ا) سلیماؔن کی ہیکل خیمۂاجتماع کے مشابہ کیسے تھی؟ (ب) عبرانیوں کی کتاب خیمۂاجتماع اور ہیکل دونوں میں انجام دی جانے والی پاک خدمت کی بابت کیا بیان کرتی ہے؟
۱۵ خدا کے عہد کی اُمت کے طور پر اسرائیل کی تاریخ کے پہلے ۴۸۶ سالوں کیلئے، سفری خیمۂاجتماع نے اُنکے کیلئے اپنے خدا، یہوؔواہ کی پرستش کرنے کی جگہ کے طور پر کام کِیا۔ اسکے بعد، اسرائیل کے سلیماؔن کو ایک مستقل عمارت تعمیر کرنے کا شرف بخشا گیا تھا۔ اگرچہ اس ہیکل کو بہت بڑی ہونا اور زیادہ محنتوکوشش سے بننا تھا، الہٰی طور پر فراہمکردہ نقشے نے اُسی نمونے کی نقل کی جو خیمۂاجتماع کا تھا۔ خیمۂاجتماع کی طرح، یہ پرستش کیلئے عظیمتر، نہایت مؤثر انتظام کی تمثیل تھی جسے یہوؔواہ ”کھڑا“ کریگا”نہ کہ انسان۔“—عبرانیوں ۸:۲، ۵؛ ۹:۹، ۱۱۔
پہلی اور دوسری ہیکل
۱۶. (ا) ہیکل کو مخصوص کرتے وقت سلیماؔن نے کونسی پُرمحبت التجا پیش کی؟ (ب) یہوؔواہ نے سلیماؔن کی دُعا کے سلسلے میں اپنی قبولیت کا اظہار کیسے کِیا؟
۱۶ اُس جلالی ہیکل کو مخصوص کرتے وقت، سلیماؔن نے اس الہامی التجا کو شامل کِیا: ”وہ پردیسی بھی جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہے جب وہ تیرے نام . . . کے سبب سے دُور ملک سے آئے اور آکر اس گھر کی طرف رُخ کرکے دُعا کرے۔ تو تُو آسمان پر سے جو تیری سکونتگاہ ہے سن لینا اور جس جس بات کے لئے وہ پردیسی تجھ سے فریاد کرے اُسکے مطابق کرنا تاکہ زمین کی سب قومیں تیرے نام کو پہچانیں اور تیری قوم اسرائیل کی طرح تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جسے مَیں نے بنایا ہے تیرے نام کا کہلاتا ہے۔“ (۲-تواریخ ۶:۳۲، ۳۳) واضح طور پر، خدا نے سلیماؔن کی مخصوصیت کی دُعا کیلئے اپنی قبولیت کا اظہار کِیا۔ آسمان سے آگ کی ایک شعاع آئی اور قربانگاہ پر جانوروں کی قربانیوں کو بھسم کر دیا، اور ہیکل یہوؔواہ کے جلال سے معمور ہو گئی۔—۲-تواریخ ۷:۱-۳۔
۱۷. سلیماؔن کی تعمیرکردہ ہیکل کیساتھ بالآخر کیا واقع ہوا، اور کیوں؟
۱۷ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسرائیلیوں نے یہوؔواہ کی بابت اپنے خوشگوار ڈر کو چھوڑ دیا۔ ایک وقت آیا کہ اُنہوں نے قتلوغارت، بُتپرستی، زناکاری، محرمات کے ساتھ مباشرت کے کاموں سے اور یتیموں، بیواؤں اور پردیسیوں سے بدسلوکی کرنے کے ذریعے اُسکے عظیم نام کو بےحُرمت کِیا۔ (حزقیایل ۲۲:۲، ۳، ۷، ۱۱، ۱۲، ۲۶، ۲۹) لہٰذا، ۶۰۷ ق.س.ع. کے سال میں، ہیکل کو تباہ کرنے کیلئے بابلی فوجوں کو چڑھا لانے سے خدا سزا کو عمل میں لایا۔ بچنے والے اسرائیلیوں کو اسیر کر کے بابلؔ کو لے گئے۔
۱۸. دوسری ہیکل میں، بعض غیراسرائیلی اشخاص کیلئے جنہوں نے پورے دل سے یہوؔواہ کی پرستش کی حمایت کی تھی کونسے استحقاقات کی راہ کُھل گئی؟
۱۸ ۷۰ سال کے بعد یہودیوں کا ایک تائب بقیہ یرؔوشلیم کو لوٹا اور اُنہیں یہوؔواہ کی ہیکل کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا شرف بخشا گیا۔ دلچسپی کی بات ہے کہ اس دوسری ہیکل میں خدمت سرانجام دینے کیلئے کاہنوں اور لاویوں کی کمی تھی۔ نتیجتاً، نتنیم کو، جو ہیکل کے غیراسرائیلی غلاموں کی نسل سے تھے، خدا کے گھر کے خادموں کی حیثیت سے اَور بڑے استحقاقات عنایت کئے گئے۔ تاہم، وہ کبھی بھی کاہنوں اور لاویوں کے برابر نہیں ہوئے تھے۔—عزرا ۷:۲۴؛ ۸:۱۷، ۲۰۔
۱۹. دوسری ہیکل کے سلسلے میں خدا نے کیا وعدہ فرمایا، اور یہ الفاظ کیسے سچ ثابت ہوئے تھے؟
۱۹ پہلے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دوسری ہیکل پہلی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگی۔ (حجی ۲:۳) لیکن یہوؔواہ نے وعدہ فرمایا: ”مَیں سب قوموں کو ہلا دونگا اور اُنکی مرغوب چیزیں آئینگی اور مَیں اس گھر کو جلال سے معمور کرونگا . . . اس پچھلے گھر کی رونق پہلے گھر کی رونق سے زیادہ ہوگی۔“ (حجی ۲:۷، ۹) ان الفاظ کی صداقت میں، دوسری ہیکل نے واقعی بڑا جلال حاصل کِیا۔ یہ ۱۶۴ برس زیادہ قائم رہی، اور متعدد ممالک سے کہیں زیادہ پرستار اسکے صحنوں میں جمع ہوتے تھے۔ (مقابلہ کریں اعمال ۲:۵-۱۱۔) ہیرؔودیس بادشاہ کے ایّام میں دوسری ہیکل کی مرمت شروع ہوئی، اور اُسکے صحنوں کو وسیع کِیا گیا۔ پتھر کے ایک بہت بڑے پلیٹفارم پر بنی ہوئی اور چاروں طرف سے خوبصورت ستونوں سے گِھری ہوئی، یہ شانوشوکت میں سلیماؔن کی تعمیرکردہ اصلی ہیکل کی ثانی تھی۔ اس میں غیرقوموں کے لوگوں کیلئے جو یہوؔواہ کی پرستش کرنا چاہتے تھے ایک وسیع، بیرونی صحن تھا۔ پتھر کی دیوار غیرقوموں کے اس احاطے کو اندرونی صحنوں سے علیٰحدہ کرتی تھی جو صرف اسرائیلیوں کیلئے مخصوص تھے۔
۲۰. (ا) کس غیرمعمولی اعزاز نے ازسرِنو تعمیرکردہ ہیکل کو ممتاز بنا دیا؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہودیوں نے ہیکل کو غلط نظریے سے دیکھا تھا، اور اسکے جواب میں یسوؔع نے کیا کِیا؟
۲۰ اس دوسری ہیکل کو اپنے صحنوں کے اندر خدا کے بیٹے، یسوؔع مسیح، کے تعلیم دینے کا اعزاز حاصل تھا۔ لیکن جیساکہ پہلی ہیکل کیساتھ تھا، یہودی عام طور پر خدا کے گھر کے دربان ہونے کے اپنے شرف کی بابت موزوں نظریہ نہیں رکھتے تھے۔ اُنہوں نے تو تاجروں کو غیرقوموں کے صحن میں کاروبار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ مزیدبرآں، یرؔوشلیم میں اِدھراُدھر اشیاء پہنچانے کیلئے لوگوں کو ہیکل کو چھوٹے راستے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت تھی۔ اپنی موت سے چار دن قبل، یسوؔع نے ہیکل کو ایسے دُنیوی کاموں سے پاکصاف کِیا، ساتھ ہی یہ کہتا رہا: ”کیا یہ نہیں لکھا ہے کہ میرا گھر سب قوموں کے لئے دُعا کا گھر کہلائیگا؟ مگر تم نے اُسے ڈاکوؤں کی کھو بنا دیا ہے۔“—مرقس ۱۱:۱۵-۱۷۔
خدا ہمیشہ کیلئے اپنے زمینی گھر کو چھوڑ دیتا ہے
۲۱. یرؔوشلیم کی ہیکل کے سلسلے میں یسوؔع نے کیا ظاہر کِیا؟
۲۱ خدا کی خالص پرستش کی سربلندی کیلئے یسوؔع کے جرأتمندانہ کاموں کی وجہ سے، یہودی مذہبی راہنما اُسے قتل کرنے کے درپے تھے۔ (مرقس ۱۱:۱۸) یہ جانتے ہوئے کہ اُسے جلد قتل کر دیا جائیگا، یسوؔع نے یہودی مذہبی پیشواؤں سے کہا: ”تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“ (متی ۲۳:۳۷، ۳۸) یوں اُس نے اشارہ دیا کہ جلد ہی خدا یرؔوشلیم میں حقیقی ہیکل کی طرزِپرستش کو پھر قبول نہیں کریگا۔ پھر کبھی یہ ”سب قوموں کے لئے دُعا کا گھر“ نہیں رہیگا۔ جب اُسکے شاگردوں نے یسوؔع کو ہیکل کی شاندار عمارتیں دکھائیں تو اُس نے فرمایا کِیا: ”تُو اِن بڑی بڑی عمارتوں کو دیکھتا ہے؟ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہیگا جو گِرایا نہ جائے۔“—مرقس ۱۳:۱، ۲۔
۲۲. (ا) ہیکل کی بابت یسوؔع کے الفاظ کیسے پورے ہوئے؟ (ب) ایک زمینی شہر پر اپنی اُمیدیں مُرتکز کرنے کی بجائے، ابتدائی مسیحی کس چیز کے خواہاں تھے؟
۲۲ یسوؔع کی پیشینگوئی ۳۷ سال بعد ۷۰ س.ع. میں پوری ہوئی، جب رومی فوجوں نے یرؔوشلیم اور اسکی ہیکل کو تباہوبرباد کر دیا۔ اس نے ڈرامائی ثبوت فراہم کر دیا کہ خدا نے اپنے حقیقی گھر کو واقعی چھوڑ دیا تھا۔ یسوؔع نے کبھی بھی یرؔوشلیم میں کسی دوسری ہیکل کے دوبارہ تعمیر کئے جانے کی پیشینگوئی نہیں کی تھی۔ اُس زمینی شہر کے سلسلے میں، پولسؔ رسول نے عبرانی مسیحیوں کو لکھا: ”یہاں ہمارا کوئی قائم رہنے والا شہر نہیں بلکہ ہم آنے والے شہر کی تلاش میں ہیں۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۴) ابتدائی مسیحی ”آسمانی یرؔوشلیم“—شہرنما بادشاہت—کا حصہ بننے کے منتظر تھے۔ (عبرانیوں ۱۲:۲۲) لہٰذا، یہوؔواہ کی سچی پرستش اب زمین پر جسمانی ہیکل میں مُرتکز نہیں ہے۔ ہمارے اگلے مضمون میں، ہم اُس افضل انتظام پر غور کرینگے جو خدا نے اُن تمام لوگوں کیلئے قائم کِیا ہے جو ”روح اور سچائی سے“ اُسکی پرستش کرنا چاہتے ہیں۔—یوحنا ۴:۲۱، ۲۴۔ (۸ ۰۷/۰۱ w۹۶)
اعادے کے سوالات
▫ آؔدم اور حوؔا نے خدا کیساتھ کس رشتے کو کھو دیا؟
▫ خیمۂاجتماع کی خصوصیات ہمارے لئے دلچسپی کی حامل کیوں ہیں؟
▫ خیمۂاجتماع کے صحن کی کارگزاریوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
▫ خدا نے اپنی ہیکل کے تباہ کر دیئے جانے کی اجازت کیوں دے دی؟
[تصویریں]
ہیرؔودیس کے ذریعے ازسرِنو تعمیرکردہ ہیکل
۱۔ پاکترین مقام
۲۔ پاک مقام
۳۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ
۴۔ پیتل کا حوض
۵۔ کاہنوں کا احاطہ
۶۔ اسرائیل کا احاطہ
۷۔ خواتین کا احاطہ