بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
”تیرے سب فرمان برحق ہیں“
اپنی موت سے کچھ پہلے، موسیٰؔ نے اسرائیلی اُمت کو نصیحت کی کہ یہوؔواہ کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کریں۔ اُس نے کہا: ”جو باتیں مَیں نے تم سے آج کے دن بیان کی ہیں اُن سب سے تُم دل لگانا اور اپنے لڑکوں کو حکم دینا کہ وہ احتیاط رکھ کر اس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں۔ کیونکہ یہ تمہارے لئے کوئی بےسود بات نہیں بلکہ یہ تمہاری زندگانی ہے۔“—استثنا ۳۲:۴۶، ۴۷۔
سینکڑوں سال بعد، زبورنویس نے خدا کی تمام تعلیمات کی اہمیت کو نمایاں کِیا جب اُس نے کہا: ”اَے خداوند! تُو نزدیک ہے اور تیرے سب فرمان برحق ہیں۔“ (زبور ۱۱۹:۱۵۱) پہلی صدی میں، خود یسوؔع نے بھی ”ہر بات جو [یہوؔواہ] کے مُنہ سے نکلتی ہے“ کی اہمیت کی طرف اشارہ کِیا۔ (متی ۴:۴) اور خدا کی زیرِہدایت پولسؔ رسول نے لکھا کہ ”ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے . . . اور فائدہمند ہے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۶۔
واضح طور پر، یہوؔواہ خدا اپنے پرستاروں سے توقع کرتا ہے کہ ہمارے لئے اُس کے کلام میں پیشکردہ سارے پیغام پر سنجیدگی سے غوروفکر کریں۔ بائبل میں کوئی بھی ایسی عبارت نہیں ہے جو کم اہمیت کی حامل ہے۔ یہوؔواہ کے گواہ خدا کے کلام کی بابت ویسے ہی محسوس کرتے ہیں، جیسےکہ ماریشسؔ سے مندرجہذیل تجربے سے ظاہر کِیا گیا ہے۔
مسٹر ڈی—ایک دُوراُفتادہ گاؤں میں رہتا تھا، جہاں وہ رات کو پہریدار کا کام کرتا تھا۔ طویل مدت سے وہ خلوصدلی سے خدا کی پرستش کرنے کے صحیح طریقے کی تلاش میں تھا۔ رات کو اپنے پہرے کے دوران، اُس نے بائبل پڑھنا شروع کر دی۔ آخرکار اُس نے اسے شروع سے لیکر آخر تک پڑھ لیا۔ اُس نے سیکھ لیا کہ خدا کا نام یہوؔواہ ہے—نام جو اُسکی ہندی بائبل میں کافی مرتبہ نظر آتا ہے۔ اُس نے محسوس کِیا کہ مکاشفہ کی کتاب خاص طور پر شوقآفرین تھی۔
تب اُس نے خود سے پوچھا کہ آیا کوئی ایسا مذہب موجود ہے جو تمامتر بائبل پر عمل کرتا ہے۔ اُس نے دیکھا کہ جن مذاہب سے وہ واقف تھا، وہ محض بائبل کے چند حصوں کی پیروی کر رہے تھے۔ بعض مذاہب عبرانی صحائف کو مانتے تھے اور مسیحی یونانی صحائف کو رد کرتے تھے۔ دوسرے مذاہب صرف مسیحی یونانی صحائف کو عملی اہمیت کا باعث خیال کرتے ہوئے، عبرانی صحائف کو نظرانداز کر رہے تھے۔
ایک دن مسٹر ڈی—نے ایک جوڑے کو دیکھا جو بارش میں بھیگ رہا تھا اور اُنہیں اپنے گھر میں پناہ حاصل کرنے کی دعوت دی۔ وہ یہوؔواہ کے گواہ تھے۔ بیوی کے ہاتھ میں کتاب ریولیشن—اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ! تھی۔a فوری طور پر مسٹر ڈی—نے اُن سے کتاب مانگی۔ گواہوں نے سوچا کہ مکاشفہ کی پیشینگوئی پر مبنی مواد اُس کے لئے بہت مشکل تھا، اسلئے اُنہوں نے اُسے اس کی بجائے دوسری اشاعت پیش کی۔ لیکن مسٹر ڈی—نے ریولیشن کتاب حاصل کرنے کیلئے اصرار کِیا۔
جب اُس نے اپنی کاپی حاصل کر لی تو اُس نے جلد ہی کتاب کو پڑھ لیا۔ اسکے بعد اُس نے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ قبول کر لیا۔ جلد ہی وہ اس حقیقت سے بہت متاثر ہوا کہ گواہ پوری بائبل کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ اُس نے باقاعدگی سے یہوؔواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر حاضر ہونا شروع کر دیا، جہاں دونوں عبرانی صحائف اور مسیحی یونانی صحائف کا بغور مطالعہ کِیا جاتا ہے۔ اب وہ ایک بادشاہتی مُناد اور مسیحی کلیسیا کا بپتسمہیافتہ رُکن ہے۔ (۸ ۰۶/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی مطبوعہ۔