جب تعصب نہیں رہیگا!
رپورٹ کے مطابق، سائنسدان البرؔٹ آئنسٹائن نے ایک مرتبہ کہا کہ اس غمانگیز دُنیا میں، تعصب پر غالب آنا ایک ایٹم کو توڑنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اسی طرح، ایڈؔورڈ آر. مرّو، ایک جرنلسٹ نے جس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران شہرت حاصل کی اور بعدازاں یو.ایس. انفارمیشن ایجنسی کا ڈائریکٹر بنا، بیان کِیا کہ ”کوئی بھی شخص تعصّبات کو ختم نہیں کر سکتا—صرف اُنہیں محسوس کر سکتا ہے۔“
کیا یہ بیانات معقول دکھائی دیتے ہیں؟ کیا ناروا اِمتیاز اور نسلی عصبیت کو ختم کرناناممکن ہے؟ خدا تعصب کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے؟
خدا طرفدار نہیں ہے
بائبل طرفداری کی مخالفت کرتی ہے۔ (امثال ۲۴:۲۳؛ ۲۸:۲۱) یہ بیان کرتی ہے کہ ”جو حکمت اُوپر سے آتی ہے اوّل تو وہ پاک ہوتی ہے۔ پھر ملنسار حلیم اور تربیتپذیر۔ رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی۔ بےطرفدار اور بےریا ہوتی ہے۔“ (یعقوب ۳:۱۷) قدیم اسرائیل میں قاضوں کو ایسی حکمت کے لئے تاکید کی گئی تھی۔ ”تُم فیصلہ میں ناراستی نہ کرنا،“ اُنہیں ہدایت کی گئی تھی۔ ”نہ تو تُو غریب کی رعایت کرنا اور نہ بڑے آدمی کا لحاظ۔“—احبار ۱۹:۱۵۔
طرفداری اور تعصب کے خلاف بائبل کے ٹھوس مؤقف پر یسوؔع مسیح اور اُس کے رسولوں پطرؔس اور پولسؔ نے زور دیا تھا۔ یسوؔع اُن کے لئے غیرجانبدار تھا جو اُن ”بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ تھے۔“ (متی ۹:۳۶) اُس نے سکھایا: ”ظاہر کے موافق فیصلہ نہ کرو بلکہ انصاف سے فیصلہ کرو۔“—یوحنا ۷:۲۴۔
پطرؔس اور پولسؔ ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ خود یہوؔواہ خدا طرفدار نہیں ہے۔ پطرؔس نے بیان کِیا: ”اب مجھے پورا یقین ہو گیا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔“ (اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵) پولسؔ رسول ہمیں بتاتا ہے: ”خدا کے ہاں کسی کی طرفداری نہیں۔“—رومیوں ۲:۱۱۔
بائبل کا اثر
بائبل اُن لوگوں کی شخصیات تبدیل کرنے کی قوت رکھتی ہے جو اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ عبرانیوں ۴:۱۲ بیان کرتی ہے: ”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر [ہے]۔“ یہوؔواہ کی مدد سے ایک متعصّب شخص اپنے اندازِفکر کو بدل سکتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں غیرجانبدار بن سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، ترسسؔ کے ساؔؤل کے معاملے ہی کو لے لیں۔ بائبل بیان کے مطابق، ایک وقت میں وہ مسیحی کلیسیا کی شدید مخالفت کرتا تھا کیونکہ وہ بےلوچ مذہبی روایات کی پیروی کرتا تھا۔ (اعمال ۸:۱-۳) وہ اس یہودی روایت سے پوری طرح قائل تھا کہ تمام مسیحی برگشتہ اور سچی پرستش کے دُشمن تھے۔ اُس کا تعصب اُس کے مسیحیوں کے قتلِعام کی حمایت کرنے کا سبب بنا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ وہ ”خداوند کے شاگردوں کے دھمکانے اور قتل کرنے کی دُھن میں تھا۔“ (اعمال ۹:۱) ایسا کرتے وقت اُس نے خیال کِیا کہ وہ خدا کی پاک خدمت انجام دے رہا تھا۔—مقابلہ کریں یوحنا ۱۶:۲۔
تاہم، ترسسؔ کا ساؔؤل اپنے شدید تعصب سے چھٹکارا حاصل کرنے کے قابل ہوا تھا۔ وہ بذاتِخود ایک مسیحی بن گیا! بعدازاں، یسوؔع مسیح کے رسول، پولسؔ کے طور پر، اُس نے لکھا: ”اگرچہ مَیں پہلے کفر بکنے والا اور ستانے والا اور بےعزت کرنے والا تھا تو بھی مجھ پر رحم ہوا اس واسطے کہ مَیں نے بےایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔“—۱-تیمتھیس ۱:۱۳۔
پولسؔ واحد ایسا شخص نہیں تھا جو اپنے اسلوبِفکر میں اثرآفریں تبدیلیاں لایا تھا۔ ایک ساتھی مبشر، ططسؔ کے نام اپنے خط میں، پولسؔ نے مسیحیوں کو نصیحت کی ”کسی کی بدگوئی نہ کریں۔ تکراری نہ ہوں بلکہ نرممزاج ہوں اور سب آدمیوں کے ساتھ کمال حلیمی سے پیش آئیں۔ کیونکہ ہم بھی پہلے نادان۔ نافرمان۔ فریب کھانے والے اور رنگبرنگ کی خواہشوں اور عیشوعشرت کے بندے تھے اور بدخواہی اور حسد میں زندگی گزارتے تھے۔ نفرت کے لائق تھے اور آپس میں کینہ رکھتے تھے۔“—ططس ۳:۲، ۳۔
تعصب کے بندھنوں کو توڑ ڈالنا
آجکل، سچے مسیحی اس مشورت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ظاہری تاثرات کی بنیاد پر لوگوں کی بابت قیاسآرائی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ اُنہیں دوسروں کی بابت ’بدگوئی کرنے‘ سے باز رکھتا ہے۔ وہ ایک بینالاقوامی برادری سے لطف اُٹھاتے ہیں جو اس دُنیا کی تمام قومپرستانہ، نسلیاتی اور نسلیعصبیت کی حدبندیوں سے بالاتر ہے۔
ایک سیاہ فام برازیلی، ہنرکؔ کے تجربے پر غور کریں۔ خود نسلی امتیاز کا شکار ہوتے ہوئے، اُس نے سفید فام لوگوں کیلئے شدید نفرت کو پیدا کر لیا۔ وہ وضاحت کرتا ہے: ”دو سفید فام گواہ خدا کے نام کی بابت گفتگو کرنے کیلئے میرے گھر پر آئے۔ شروع میں تو مَیں سننا نہیں چاہتا تھا کیونکہ مَیں سفید فام لوگوں پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔ لیکن جلد ہی مَیں محسوس کر سکتا تھا کہ اُنکے پیغام میں سچائی موجود تھی۔ مَیں نے ایک بائبل مطالعہ قبول کر لیا۔ پہلا سوال جو میرے پاس تھا، ’کیا آپ کے چرچ میں کافی سیاہ فام لوگ ہیں؟‘ اُنہوں نے جواب دیا، ’جیہاں۔‘ اسکے بعد اُنہوں نے مجھے کتاب مائے بُک آف بائبل سٹوریز،a کی آخری تصویر دکھائی جو مختلف نسلوں کے نوعمر لوگوں کی تصویرکشی کر رہی تھی۔ اس میں ایک سیاہفام لڑکا بھی شامل تھا اور اس چیز نے میری حوصلہافزائی کی۔ بعدازاں مَیں یہوؔواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہال میں گیا، جہاں مَیں نے مختلف نسلوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کیساتھ عزت سے پیش آتے دیکھا۔ یہ میرے لئے نہایت اہم بات تھی۔“
اب، ایک یہوؔواہ کے گواہ کے طور پر، ہنرکؔ ایک سچی مسیحی برادری کا رُکن ہونے سے خوش ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سہرا کسی انسان کے سر نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے: ”آج مَیں اُس سب کے لئے یہوؔواہ خدا اور یسوؔع مسیح کا شکرگزار ہوں جو اُنہوں نے میری خاطر کِیا ہے۔ مَیں ایک مقصد کے لئے متحد تمام نسلوں، رنگوں، پسمنظر رکھنے والے، یہوؔواہ کے لاکھوں وفادار خادموں کے ساتھ کام کرتا ہوں۔“
نشوونما پانے کے دوران، تعصب کا ایک اَور شکار ڈؔاریو تھا۔ ۱۶ برس کی عمر میں اُس نے یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کِیا۔ اُس نے بیان کِیا: ”مَیں نے دیکھ لیا ہے کہ گواہوں کے درمیان نسلی برتری کے احساسات نہیں ہیں۔“ وہ حقیقی محبت کی فضا سے متاثر ہوا تھا۔ اُس نے خاص طور پر یہ دیکھا کہ مختلف نسلوں کے اشخاص کلیسیا کے اندر ذمہدارانہ عہدوں پر خدمت انجام دے رہے تھے۔ جب کبھی وہ کلیسیا سے باہر کے لوگوں کے ہاتھوں کسی قسم کے تعصب یا ناروا سلوک کا نشانہ بنتا ہے تو ڈؔاریو یاد رکھتا ہے کہ یہوؔواہ تمام اقوام، قبائل اور زبانوں کے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔
جسطرح نپٹا جائے
ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا جائے۔ اسی لئے تعصب کا شکار ہونا ایک صبرآزما مشکل ہے۔ مسیحی کلیسیا ہمیں اس بدکار دُنیا کے تمام متعصّبانہ رجحانات کا سامنا کرنے سے نہیں بچاتی۔ جبتک شیطان اِبلیس دُنیا کے معاملات کو کنٹرول کر رہا ہے، ناانصافیاں ہوتی رہینگی۔ (۱-یوحنا ۵:۱۹) مکاشفہ ۱۲:۱۲ ہمیں آگاہ کرتی ہے: ”اَے خشکی اور تری تُم پر افسوس! کیونکہ اِبلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ اُس کا ارادہ محض اضطرابی پیدا کرنا نہیں ہے۔ اُس کا موازنہ ایک شکاری جانور سے کِیا گیا ہے۔ پطرؔس رسول ہمیں بتاتا ہے: ”تمہارا مخالف اِبلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“—۱-پطرس ۵:۸۔
بائبل ہمیں یہ بھی بتاتی ہے: ”پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تُم سے بھاگ جائیگا۔“ (یعقوب ۴:۷) تعصب سے نپٹنے کا ایک عمدہ طریقہ حفاظت کے لئے یہوؔواہ پر آس لگانا ہے، جیسے بادشاہ داؔؤد نے کِیا: ”اَے میرے خدا! مجھے شریر کے ہاتھ سے۔ ناراست اور بےدرد آدمی کے ہاتھ سے چھڑا۔“ (زبور ۷۱:۴) ہم زبورنویس کی طرح دُعا بھی کر سکتے ہیں: ”اَے خدا! مجھ پر رحم فرما کیونکہ انسان مجھے نِگلنا چاہتا ہے۔ وہ دِن بھر لڑ کر مجھے ستاتا ہے۔“—زبور ۵۶:۱۔
خدا ایسی دُعاؤں کے لئے کیسا ردِعمل دکھائیگا؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے۔ اور غریب کو جس کا کوئی مددگار نہیں چھڑائیگا۔ وہ غریب اور محتاج پر ترس کھائیگا۔ اور محتاجوں کی جان کو بچائیگا۔“ (زبور ۷۲:۱۲، ۱۳) یہ جاننا کتنا مفید ہے کہ وقت آنے پر یہوؔواہ اُن سب کو چھٹکارا دلائیگا جو ناانصافی کا شکار ہیں!
”وہ ضرر نہ پہنچائینگے“
ممکن ہے کہ اس دُنیا کی حکومتیں اپنے قوانین اور پروگراموں کے ذریعے تعصب کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مساوات اور انصاف کے وعدے بھی کرتی رہیں۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ (زبور ۱۴۶:۳) صرف خدا ہی تمام متعصّبانہ برتاؤ کو ختم کر سکتا ہے اور کریگا۔ وہ نوعِانسان کو ایک متحد خاندان میں تبدیل کر دیگا۔ ”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا“ اس شریر نظامالعمل کے خاتمے سے بچ جائیگی اور امن سے زندگی گزارنے سے لطفاندوز ہوگی۔—مکاشفہ ۷:۹، ۱۰۔
یہوؔواہ نسلی اور معاشرتی تعصب کے باعث ہونے والے تمام نقصان کے اثر کو زائل کر دیگا۔ تصور کریں کہ کسی کے ساتھ ناانصافی کا برتاؤ نہیں ہوگا! ”ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور اُنکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“ (میکاہ ۴:۴) اور یسعیاہ ۱۱:۹ بیان کرتی ہے: ”وہ ضرر نہیں پہنچائینگے۔“
اگر آپ آجکل تعصب کا شکار ہوتے ہیں تو مستقبل کے لئے یہ شاندار اُمید یہوؔواہ کے ساتھ آپ کے رشتے کو مضبوط بنائے گی ۔ یہ آپ کو اس شریر نظام کی ناانصافیوں کو برداشت کرنے کے لئے مدد دے گی۔ جب آپ تعصب کے ساتھ نپٹتے ہیں اور مستقبل پر آس لگائے رکھتے ہیں تو بائبل کی اس دانشمندانہ مشورت پر عمل کریں: ”اَے خداوند پر آس رکھنے والو! سب مضبوط ہو اور تمہارا دل قوی رہے۔“—زبور ۳۱:۲۴۔ (۴ ۰۶/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی مطبوعہ۔
[تصویر کا حوالہ]
U.S. National Archives photo