سانپ کی نسل—کیسے بےنقاب کی جاتی ہے؟
”مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔“—پیدایش ۳:۱۵۔
۱. (ا) یہوؔواہ خدائے مبارک کیوں ہے؟ (ب) اُس نے ہمیں اپنی خوشی میں شریک ہونے کے قابل بنانے کیلئے کیا کِیا ہے؟
یہوؔواہ معقول طور پر خدائے مبارک ہے۔ وہ مفید چیزوں کا اوّلین اور عظیمترین مُعطی ہے، اور کوئی بھی ایسی چیز موجود نہیں جو اس کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ (یسعیاہ ۵۵:۱۰، ۱۱؛ ۱-تیمتھیس ۱:۱۱؛ یعقوب ۱:۱۷) وہ چاہتا ہے کہ اُس کے خادم اُس کی خوشی میں شریک ہوں، اور وہ اُن کے ایسا کرنے کی خاطر معقول وجہ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا، انسانی تاریخ کے تاریکترین لمحات میں سے ایک—عدؔن میں بغاوت—کے موقع پر اُس نے ہمارے لئے پُراُمید طور پر مستقبل کے منتظر ہونے کیلئے بنیاد فراہم کی۔—رومیوں ۸:۱۹-۲۱۔
۲. عدؔن میں باغیوں کے خلاف سزا کا اعلان کرتے وقت، یہوؔواہ نے آؔدم اور حوؔا کی اولاد کیلئے اُمید کی بنیاد کیسے فراہم کی؟
۲ یہوؔواہ کے روحانی بیٹوں میں سے ایک نے، مزاحمت کرنے اور خدا پر تہمت لگانے سے، خود کو شیطان اِبلیس بنا لیا تھا۔ پہلے انسان، حوؔا اور پھر آؔدم، اُس کے زیرِاثر آ گئے اور یہوؔواہ کے واضح طور پر بیانکردہ فرمان کی خلافورزی کی۔ اُنہیں جائز طور پر موت کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ (پیدایش ۳:۱-۲۴) تاہم، ان باغیوں کو سزا سناتے وقت، یہوؔواہ نے آؔدم اور حوؔا کی اولاد کے لئے اُمید کی بنیاد فراہم کی۔ کس طریقے سے؟ جیسےکہ پیدایش ۳:۱۵ میں درج ہے، یہوؔواہ نے فرمایا: ”مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹیگا۔“ یہ پیشینگوئی پوری بائبل نیز دُنیا اور خدا کے خادموں دونوں سے متعلق ماضی اور حال کے واقعات کو سمجھنے کی کُنجی ہے۔
پیشینگوئی جو مطلب رکھتی ہے
۳. جیسےکہ پیدایش ۳:۱۵ میں بیان کِیا گیا ہے(ا) سانپ، (ب) ”عورت،“ (پ) سانپ کی ”نسل،“ (ت) عورت کی ”نسل“ کی شناخت کرائیں۔
۳ اس کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے، پیشینگوئی کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں۔ پیدایش ۳:۱۵ میں ایک جسے مخاطب کِیا گیا ہے وہ سانپ ہے—نہ صرف ادنیٰ سانپ بلکہ وہ جس نے اسے استعمال کِیا۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) ”عورت“ حوؔانہیں ہے بلکہ زمین پر اُس کے روح سے مسحشُدہ خادموں کی ماں، یہوؔواہ کی آسمانی تنظیم ہے۔ (گلتیوں ۴:۲۶) سانپ کی ”نسل،“ شیطان کی نسل ہے، اسکی اولاد—شیاطین اور انسان اور اسکے علاوہ انسانی تنظیمیں جو شیطان کے خصائل ظاہر کرتی ہیں اور جو عورت کی ”نسل“ کیلئے عداوت ظاہر کرتی ہیں۔ (یوحنا ۱۵:۱۹؛ ۱۷:۱۵) عورت کی ”نسل“ بنیادی طور پر یسوؔع مسیح ہے، جسے ۲۹ س.ع. میں روحاُلقدس سے مسح کِیا گیا تھا۔ ۱۴۴،۰۰۰، جو ”نئے سرے سے . . . پانی اور روح سے پیدا“ ہوئے ہیں اور جو مسیح کیساتھ آسمانی بادشاہت کے وارث ہیں، اس وعدہشُدہ نسل کا ذیلی حصہ ہیں۔ ۳۳ س.ع. پنتِکُست سے لیکر اُنکا عورت کی نسل میں شامل کِیا جانا شروع ہوا۔—یوحنا ۳:۳، ۵؛ گلتیوں ۳:۱۶، ۲۹۔
۴. پیدایش ۳:۱۵ زمین کے گناہ اور موت سے آزاد انسانوں سے معمور، فردوس بن جانے سے کیسے تعلق رکھتی ہے؟
۴ عدؔن میں حقیقی سانپ کو اُس ہستی نے بطور آلۂکار کے استعمال کِیا تھا جسکا فریب نوعِانسان کے فردوس سے محروم ہونے کا سبب بنا۔ پیدایش ۳:۱۵ نے آگے اُس وقت کی نشاندہی کی جب وہ جس نے اُس سانپ کو سبکدستی سے استعمال کِیا کچلا جائیگا۔ اُس وقت ایک بار پھر خدا کے انسانی خادموں کیلئے، گناہ اور موت سے آزاد، فردوس کو آباد کرنے کی راہ کھل جائیگی۔ وہ کسقدر شادمانی کا وقت ہوگا!—مکاشفہ ۲۰:۱-۳؛ ۲۱:۱-۵۔
۵. کونسے خصائل اِبلیس کی روحانی اولاد کی کردارکشی کرتے ہیں؟
۵ عدؔن میں بغاوت کے بعد، ایسے لوگ اور تنظیمیں منظرِعام پر آنا شروع ہو گئیں جنہوں نے شیطان اِبلیس کی طرح کے—بغاوت، جھوٹ، تہمت، اور قتل، بشمول یہوؔواہ کی مرضی اور جو یہوؔواہ کی پرستش کرتے ہیں اُنکی مخالفت کرنے والے خصائل کو آشکارا کِیا۔ اُن خصائل نے اِبلیس کی اولاد، یعنی روحانی فرزندوں کی شناخت کرائی۔ ان کے درمیان قائنؔ بھی تھا، جس نے ہابلؔ کو قتل کر دیا جب یہوؔواہ نے قائنؔ کی بجائے ہابلؔ کی پرستش کو قبول کِیا۔ (۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲) نمرؔود ایک ایسا شخص تھا جس کے نام ہی نے اُسکی شناخت بطور ایک باغی کے کرائی اور جو یہوؔواہ کی مخالفت میں ایک زبردست سورما اور حکمران بنا۔ (پیدایش ۱۰:۹) مزیدبرآں، بابلؔ سمیت قدیم بادشاہتوں کا ایک سلسلہ تھا، جنکے حکومتی مذہب جھوٹ پر قائم تھے، اور یہ یہوؔواہ کے پرستاروں پر ظالمانہ حکومت کرتے تھے۔—یرمیاہ ۵۰:۲۹۔
”تیرے اور عورت کے درمیان عداوت“
۶. شیطان نے کن طریقوں سے یہوؔواہ کی عورت کیلئے عداوت ظاہر کی ہے؟
۶ اس سارے وقت کے دوران، سانپ اور یہوؔواہ کی عورت کے درمیان، شیطان اِبلیس اور وفادار روحانی مخلوقات کی یہوؔواہ کی آسمانی تنظیم کے درمیان عداوت رہی تھی۔ شیطان کی دُشمنی اُس وقت ظاہر ہوئی جب اُس نے یہوؔواہ پر طعنہزنی کی اور فرشتگان کو اپنے خاص مقام کو چھوڑ دینے کیلئے ورغلاتے ہوئے، یہوؔواہ کی آسمانی تنظیم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ (امثال ۲۷:۱۱؛ یہوداہ ۶) یہ اُس وقت ظاہر ہو گیا تھا جب شیطان نے یہوؔواہ کی طرف سے بھیجے گئے ملکوتی پیامبروں کو روکنے کی کوشش میں اپنے شیاطین کو روانہ کِیا۔ (دانیایل ۱۰:۱۳، ۱۴، ۲۰، ۲۱) اس بیسویں صدی میں یہ اُس وقت نمایاں طور پر ظاہر ہوا جب شیطان نے مسیحائی بادشاہت کو اسکی پیدائش کے وقت ہی ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔—مکاشفہ ۱۲:۱-۴۔
۷. یہوؔواہ کے وفادار فرشتگان نے علامتی سانپ کیلئے کیوں عداوت محسوس کی، تاہم اُنہوں نے کس پابندی کو ظاہر کِیا ہے؟
۷ یہوؔواہ کی عورت، وفادار فرشتگان کی طرف سے بھی علامتی سانپ کیلئے عداوت دکھائی گئی تھی۔ شیطان نے خدا کی نیکنامی پر تہمت لگائی تھی؛ اُس نے تمام فرشتگان سمیت، خدا کی ذیشعور مخلوقات میں سے ہر ایک کی راستی پر بھی سوال اُٹھایا تھا، اور وہ بڑی مستعدی کیساتھ خدا کیلئے اُنکی وفاداری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ (مکاشفہ ۱۲:۴الف) وفادار فرشتگان، کروبی، اور سرافیم نے اس ہستی کے خلاف جس نے خود کو اِبلیس اور شیطان بنا لیا تھا یقینی طور پر سخت نفرت محسوس کی ہوگی۔ تاہم، اُنہوں نے یہوؔواہ پر بھروسہ کِیا ہے کہ اپنے طریقے سے اور اپنے وقت کے مطابق معاملات کو نپٹائے۔—مقابلہ کریں یہوداہ ۹۔
خدا کی عورت کی نسل کیلئے دُشمنی
۸. شیطان کن کی تلاش میں تھا؟
۸ اس اثنا میں، شیطان پیشتر سے بیانکردہ عورت کی نسل کی تلاش میں تھا، وہ جسکی بابت یہوؔواہ نے کہا تھا کہ وہ سانپ کے سر کو کچلے گا۔ جب آسمان سے فرشتے نے اعلان کِیا کہ یسوؔع جو بیتؔلحم میں پیدا ہوا ہے، ”منجّی، یعنی مسیح خداوند“ تھا، یہ اس بات کی مسلمہ تصدیق تھی کہ یہی عورت کی پہلے سے بیانکردہ نسل ثابت ہوگا۔—لوقا ۲:۱۰، ۱۱۔
۹. یسوؔع کی پیدایش کے بعد، شیطان نے بدطینت عداوت کا کیسے اظہار کِیا؟
۹ شیطان کی کینہپرور عداوت جلد ہی ظاہر ہو گئی جب اُس نے بُتپرست نجومیوں کو ایک ایسے سفر کیلئے اُکسایا جو اُنہیں پہلے یرؔوشلیم میں ہیرؔودیس بادشاہ کے پاس اور بعدازاں بیتؔلحم میں اُس گھر میں لے گیا جہاں اُنہوں نے چھوٹے بچے یسوؔع اور اُسکی ماں مرؔیم کو موجود پایا۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ہیرؔودیس بادشاہ نے بیتؔلحم اور اس کے گردونواح میں دو سال اور اس سے کم عمر بچوں کو قتل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس طرح، ہیرؔودیس نے نسل کے لئے شیطانی نفرت کا اظہار کِیا۔ بدیہی طور پر ہیرؔودیس خوب جانتا تھا کہ وہ اُس شخص کی جان لینے کے درپے تھا جسے مسیحا ہونا تھا۔ (متی ۲:۱-۶، ۱۶) تاریخ شہادت فراہم کرتی ہے کہ ہیرؔودیس بادشاہ بددیانت، عیار اور قاتل تھا—واقعی سانپ کی نسل میں سے ایک۔
۱۰. (ا) یسوؔع کے بپتسمہ کے بعد، شیطان نے ذاتی طور پر کیسے موعودہ نسل سے متعلق یہوؔواہ کے مقصد کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی؟ (ب) اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے شیطان نے کیسے یہودی مذہبی پیشواؤں کو استعمال کِیا؟
۱۰ یسوؔع کے ۲۹ س.ع. میں روحاُلقدس سے مسح کئے جانے اور یہوؔواہ کے آسمان سے یسوؔع کو اپنا بیٹا تسلیم کرنے کے بعد، اپنے بیٹے کے سلسلے میں یہوؔواہ کے مقصد کو ناکام بنانے کی جستجو میں، شیطان نے بارہا یسوؔع کو آزمائش میں ڈالنے کی کوشش کی۔ (متی ۴:۱-۱۰) اس میں ناکام ہونے کے بعد، اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے وہ انسانی ایجنٹوں کو مزید استعمال کرنے کی طرف راغب ہوا۔ یسوؔع کو بدنام کرنے کی کوشش میں استعمال کئے جانے والوں میں ریاکار مذہبی پیشوا بھی شامل تھے۔ اُنہوں نے جھوٹ اور تہمت کا استعمال کِیا، اُسی قسم کے ہتھکنڈے جنہیں خود شیطان نے بھی استعمال کِیا تھا۔ جب یسوؔع نے ایک مفلوج شخص سے کہا، ”خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے،“ تو فقیہوں نے، اس چیز کا انتظار کئے بغیر کہ آیا وہ شخص تندرست ہو گیا ہے یا نہیں، یسوؔع پر کفر بکنے والے کا الزام لگایا۔ (متی ۹:۲-۷) جب یسوؔع نے سبت کے دن لوگوں کو شفا دی تو فریسیوں نے اُسے سبت کے حکم کی نافرمانی کرنے والے کے طور پر مجرم ٹھہرایا اور اُسے قتل کرنے کا منصوبہ بنانے لگے۔ (متی ۱۲:۹-۱۴؛ یوحنا ۵:۱-۱۸) جب یسوؔع نے بدروحوں کو نکالا، تو فریسیوں نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ ”بدروحوں کے سردار بعلزؔبُول“ کا ساتھی ہے۔ (متی ۱۲:۲۲-۲۴) لعزؔر کے مُردوں میں سے زندہ کئے جانے کے بعد، بہت سے لوگ یسوؔع پر ایمان لے آئے، لیکن سردار کاہنوں اور فریسیوں نے ایک بار پھر اُسے قتل کرنے کیلئے صلاح مشورہ کِیا۔—یوحنا ۱۱:۴۷-۵۳۔
۱۱. یسوؔع نے اپنی موت سے تین دن پہلے، کس کی شناخت سانپ کی نسل کے طور پر کرائی، اور کیوں؟
۱۱ نیسان ۱۱، ۳۳ س.ع. پر، یسوؔع اس بات سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود کہ وہ کیا منصوبہ بنا رہے تھے، بِلاخوف یرؔوشلیم میں ہیکل کے علاقے میں گیا اور وہاں اعلانیہ طور پر اُن کے خلاف سزا سنائی۔ ایک گروہ کے طور پر، فقیہوں اور فریسیوں نے باربار یہ ظاہر کِیا تھا کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں؛ لہٰذا یسوؔع نے کہا: ”اَے ریاکار فقیہو اور فریسیو تُم پر افسوس! کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو کیونکہ نہ آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔“ یسوؔع نے یہ کہتے ہوئے: ”اَے سانپو! اَے افعی کے بچو! تُم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے؟“ خاص طور پر اعلان کِیا کہ وہ سانپ کی نسل کا حصہ ہیں۔ (متی ۲۳:۱۳، ۳۳) اُسکی زبان پیدایش ۳:۱۵ کی پیشینگوئی میں استعمالکردہ الفاظ کو منعکس کرتی ہے۔
۱۲، ۱۳. (ا) سردار کاہنوں اور فقیہوں نے اس چیز کا مزید کیسے ثبوت دیا کہ اُنکا روحانی باپ کون تھا؟ (ب) کون اُنکے ساتھ شامل ہو گئے؟ (پ) پیدایش ۳:۱۵ کی تکمیل میں، عورت کی نسل کی ایڑی پر کیسے کاٹا گیا؟
۱۲ یسوؔع کے الفاظ سُن کر، کیا وہ اپنے دل میں پشیمان ہوئے، اسطرح کہ اُنہوں نے خدا سے رحم کی التجا کی؟ کیا اُنہوں نے اپنی شرارت سے توبہ کی؟ نہیں! مرقس ۱۴:۱ بیان کرتی ہے کہ اگلے ہی دن، سردار کاہن کے صحن میں اجتماع کے دوران، ”سردار کاہن اور فقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اُسے [یسوؔع] کیونکر فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔“ اُنہوں نے مسلسل شیطان کی قاتلانہ روح کو آشکارا کِیا، جسے یسوؔع پہلے ہی خونی کے طور پر بیان کر چکا تھا۔ (یوحنا ۸:۴۴) جلد ہی یہوؔداہ اسکریوتی اُن کیساتھ شامل ہو گیا، جسے شیطان نے برگشتہ ہونے کیلئے ورغلایا تھا۔ یہوؔداہ نے خدا کی عورت کی بےگناہ نسل کو چھوڑ دیا اور سانپ کی نسل میں شامل ہو گیا۔
۱۳ نیسان ۱۴ کو علیالصبح، یہودی مذہبی صدرِعدالت کے اراکین یسوؔع کو بطور ایک قیدی رومی گورنر کے پاس لے گئے۔ یہاں وہی سردار کاہن موجود تھے جو اُس کے سولی دیئے جانے کی بابت واویلا کرنے میں پیش پیش تھے۔ جب پیلاؔطُس نے پوچھا، ”کیا مَیں تمہارے بادشاہ کو مصلوب کروں؟“ تو یہ سردار کاہن ہی تھے جنہوں نے جواب دیا، ”قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔“ (یوحنا ۱۹:۶، ۱۵) واقعی، اُنہوں نے ہر طریقے سے ثابت کر دیا کہ وہ سانپ کی نسل کا حصہ تھے۔ لیکن یقیناً صرف وہی نہیں تھے۔ متی ۲۷:۲۴، ۲۵ کا الہامی ریکارڈ یہ بیان کرتا ہے: ”پیلاؔطُس نے . . . پانی لیکر لوگوں کے رُوبُرو اپنے ہاتھ دھوئے۔“ تب سب لوگوں نے کہا: ”اِسکا خون ہماری اور ہماری اَولاد کی گردن پر۔“یوں اُس نسل کے بہت سے یہودیوں نے خود اپنی شناخت سانپ کی نسل کے طور پر کرائی۔ اُس دن کے ختم ہونے سے پہلے، یسوؔع مر چکا تھا۔ اپنی دیدنی نسل کو استعمال کرتے ہوئے، شیطان نے خدا کی عورت کی نسل کی ایڑی پر کاٹاتھا۔
۱۴. عورت کی نسل کی ایڑی پر کاٹے جانے کا مطلب شیطان کیلئے فتح کیوں نہ تھا؟
۱۴ کیا شیطان جیت گیا؟ ہرگز نہیں! یسوؔع مسیح دُنیا پر غالب آیا تھا اور اس کے سردار پر فتح حاصل کر چکا تھا۔ (یوحنا ۱۴:۳۰، ۳۱؛ ۱۶:۳۳) اُس نے موت تک یہوؔواہ کیلئے اپنی وفاداری برقرار رکھی۔ کامل انسان کے طور پر اُسکی موت نے آؔدم کے ذریعے کھو دیئے جانے والے زندگی کے حق کو واپس خریدنے کیلئے درکار فدیے کی قیمت ادا کی تھی۔ یوں اُس نے اُن کیلئے ہمیشہ کی زندگی کی راہ کھول دی جو اس بندوبست پر ایمان رکھیں گے اور خدا کے حکموں کی فرمانبرداری کرینگے۔ (متی ۲۰:۲۸؛ یوحنا ۳:۱۶) یہوؔواہ نے یسوؔع کو آسمان میں غیرفانی زندگی کیلئے مُردوں میں سے زندہ کِیا۔ یہوؔواہ کے مُعیّنہ وقت پر، یسوؔع شیطان کو ہمیشہ کیلئے نابود کر دیگا۔ پیدایش ۲۲:۱۶-۱۸ میں، یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہوؔواہ زمین کے سب گھرانوں پر کرمفرمائی کریگا جو خود کو اُس موعودہ نسل کے ذریعے بابرکت بنانے کیلئے ضروری کارروائی کرتے ہیں۔
۱۵. (ا) یسوؔع کی موت کے بعد، اُس کے رسول کیسے سانپ کی نسل کو بےنقاب کرتے رہے؟ (ب) ہمارے زمانے تک سانپ کی نسل کی مزید کس دُشمنی کو آشکارا کِیا گیا ہے؟
۱۵ یسوؔع کی موت کے بعد، روح سے مسحشُدہ مسیحی سانپ کی نسل کو بےنقاب کرتے رہے، جیسے اُنکے خداوند نے کِیا تھا۔ روحاُلقدس سے تحریک پاکر، پولسؔ رسول نے ”برگشتگی کے فرزند“ کے خلاف خبردار کِیا جسکی موجودگی ”شیطان کی تاثیر کے موافق“ ہوگی۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۳-۱۰) یہ اجتماعی ”آدمی“ دُنیائے مسیحیت کا پادری طبقہ ثابت ہوا ہے۔ یوں، سانپ کی نسل نے یسوؔع مسیح کے پیروکاروں کو سخت اذیت دی۔ مکاشفہ ۱۲:۱۷ میں درج پیشینگوئی میں، یوؔحنا رسول نے پہلے ہی سے بتا دیا کہ شیطان ہمارے زمانے تک خدا کی عورت کی نسل کے بقیے کے خلاف لڑائی کرتا رہیگا۔ بالکل ایسا ہی واقع ہوا ہے۔ بہتیرے ممالک میں، خدا کی بادشاہت اور اُسکے راست اصولوں کی وجہ سے، یہوؔواہ کے گواہوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، حملے کئے گئے ہیں، قید میں ڈالا گیا ہے یا مراکزِاسیران میں رکھا گیا ہے۔
جدید زمانے میں سانپ کی نسل کا بےنقاب کِیا جانا
۱۶. جدید وقتوں میں، کسے سانپ کی نسل کے حصے کے طور پر بےنقاب کِیا گیا ہے، اور کیسے؟
۱۶ یسوؔع مسیح کی نقل میں، سچے مسیحیوں نے سانپ اور اُسکی نسل کو بِلاخوف بےنقاب کرنے میں ہمت نہیں ہاری۔ ۱۹۱۷ میں بائبل طالبعلموں نے، جیسےکہ اُس وقت یہوؔواہ کے گواہ جانے جاتے تھے، کتاب دی فینِشڈ مسٹری شائع کی، جس میں اُنہوں نے دُنیائے مسیحیت کے پادری طبقے کی ریاکاری کو بےنقاب کِیا۔ اس کے بعد، ۱۹۲۴ میں ایک تحریری قرارداد بعنوان ایکلیزیایسٹکس انڈِکٹِڈ پیش کی گئی۔ بینالاقوامی سطح پر پچاس ملین کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ ۱۹۳۷ میں، اُس وقت واچ ٹاور سوسائٹی کے صدر، جے.ایف. رتھرؔفورڈ نے تقاریر بعنوان ”بےنقاب کئے گئے“ اور ”مذہب اور مسیحیت“ میں شیطان کی نسل کو پُرزور طور پر بےنقاب کِیا۔ اگلے سال، جبکہ مختلف ممالک میں ۵۰ کنونشنوں کے حاضرین نے سنا، اُس نے لندؔن انگلینڈؔ سے ریڈیوٹیلیفون کے ذریعے تقریر ”حقائق کا سامنا کریں“ پیش کی۔ ایک ماہ بعد، ریاستہائے متحدہ میں ایک وسیع ریڈیو نٹورک پر تقریر ”فسطائیت یا آزادی“ پیش کی۔ ان کی حمایت اینیمیز اور ریلیجن جیسی کتابوں اور اسکے ساتھ ساتھ کتابچے اَنکورڈ کے پُرزور انکشافات سے کی گئی۔ جوکچھ ۱۹۲۰ کے دہے سے لیکر شائع ہو چکا تھا اُس کی مطابقت میں کتاب ریولیشن—اَٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!،a جو اب ۶۵ زبانوں میں شائع ہو چکی ہے، بدعنوان سیاسی حکمرانوں اور حریص، بےاُصول ناجائز تجارتی خریدوفروخت کرنے والوں کو سانپ کی دیدنی نسل کے صفِاوّل کے اراکین کے طور پر شناخت کراتی ہے۔ جب سیاسی راہنما اپنے شہریوں کو دھوکا دینے کیلئے جھوٹ کی عادت بنا لیتے ہیں، خون کیلئے کوئی تقدیس نہیں دکھاتے اور یہوؔواہ کے خادموں کو ظلم کا نشانہ بناتے ہیں (یوں خدا کی عورت کی نسل کیلئے نفرت دکھاتے ہوئے)، وہ یقینی طور پر اپنی شناخت سانپ کی نسل کے حصے کے طور پر کراتے ہیں۔ ناجائز تجارتی کاروبار کرنے والوں کی بابت بھی یہی سچ ہے، جو ضمیر کی خلِش کے بغیر، مالی نفع کیلئے جھوٹ بولتے ہیں اور جو ایسی مصنوعات تیار کرتے یا فروخت ہیں جن کی بابت یہ معلوم ہے کہ وہ بیماری پیدا کرتی ہیں۔
۱۷. مخصوص اشخاص کیلئے جو اس دُنیا کے نظام سے نکل سکتے ہیں ابھی تک کونسا موقع دستیاب ہے؟
۱۷ دُنیاوی مذہب، سیاست، یا تجارت سے داغدار ہر شخص، سانپ کی نسل کے حصے کے طور پر شمار نہیں ہوگا۔ ان میں سے بعض مرد اور عورتیں یہوؔواہ کے گواہوں کو پسند کرنے لگے ہیں۔ وہ اُنکی مدد کرنے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں اور وقت آنے پر سچی پرستش کو قبول کر لیتے ہیں۔ (مقابلہ کریں اعمال ۱۳:۷، ۱۲؛ ۱۷:۳۲-۳۴۔) ایسے تمام لوگوں سے یہ درخواست کی جاتی ہے: ”اب اَے بادشاہو! دانشمند بنو۔ اَے زمین کے عدالت کرنے والو تربیت پاؤ۔ ڈرتے ہوئے خداوند کی عبادت کرو۔ کانپتے ہوئے خوشی مناؤ۔ بیٹے کو چومو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ قہر میں آئے اور تُم راستہ میں ہلاک ہو جاؤ کیونکہ اُسکا غضب جلد بھڑکنے کو ہے۔ مبارک ہیں وہ سب جنکاتوکل اُس پر ہے۔“ (زبور ۲:۱۰-۱۲) واقعی، یہ اُن سب کیلئے نہایت ضروری ہے جو اب یہوؔواہ کی پسندیدگی کے خواہاں ہیں، پیشتر اس سے کہ آسمانی منصف موقع کے دروازے کو بند کر دے!
۱۸. تاہم عورت کی نسل کا حصہ نہ ہونے کے باوجود، کون یہوؔواہ کے پرستار ہیں؟
۱۸ صرف آسمانی بادشاہت کو تشکیل دینے والے ہی عورت کی نسل کا حصہ ہیں۔ یہ تعداد میں بہت کم ہیں۔ (مکاشفہ ۷:۴، ۹) تاہم، دوسرے لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ ہے، جیہاں، اُنکی تعداد لاکھوں میں ہے، جو یہوؔواہ کے پرستاروں کے طور پر فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھتے ہیں۔ گفتار اور کردار دونوں سے، وہ یہوؔواہ کے ممسوح لوگوں سے کہتے ہیں: ”ہم تمہارے ساتھ جائینگے کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔“—زکریاہ ۸:۲۳۔
۱۹. (ا) تمام لوگوں کو کونسا انتخاب کرنا چاہئے؟ (ب) جبتک موقع دستیاب ہے بالخصوص کن سے دانشمندی کیساتھ کام کرنے کی سنجیدہ درخواست کی جاتی ہے؟
۱۹ اب وقت ہے جب تمام نوعِانسان کو انتخاب کرنا چاہئے۔ کیا وہ یہوؔواہ کی پرستش کرنا اور اسکی حاکمیت کو سربلند کرنا چاہتے ہیں، یا کیا وہ شیطان کو خوش کرنے والے کام کرنے سے اُسے اپنا حاکم بننے کی اجازت دینگے؟ تمام قوموں میں سے کوئی پانچ ملین لوگوں نے عورت کی باقیماندہ نسل، بادشاہتی وارثوں کے ساتھ ملکر اپنا مؤقف یہوؔواہ کی حمایت میں اختیار کِیا ہے۔ دیگر آٹھ ملین نے اُن کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے یا اُن کے اجلاسوں پر حاضر ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہوؔواہ کے گواہ ان سب سے کہتے ہیں: موقع کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے۔ واضح طور پر اپنا مؤقف یہوؔواہ کی حمایت میں اختیار کریں۔ مسیح یسوؔع کو موعودہ نسل تسلیم کریں۔ خوشی کیساتھ یہوؔواہ کی دیدنی تنظیم کے ساتھ رفاقت رکھیں۔ دُعا ہے کہ آپ اُن برکات میں شریک ہوں جو وہ بادشاہ، یسوؔع مسیح کی حکمرانی کے ذریعے فراہم کریگا۔ (۹ ۰۶/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی مطبوعہ۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ پیدایش ۳:۱۵ میں متذکرہ سانپ کون ہے؟ اور عورت کون ہے؟
▫ کونسے خصائل سانپ کی نسل کی کردارکشی کرتے ہیں؟
▫ یسوؔع نے سانپ کی نسل کو کیسے بےنقاب کِیا؟
▫ جدید وقتوں میں کسے سانپ کی نسل کے حصے کے طور پر بےنقاب کِیا گیا ہے؟
▫ سانپ کی نسل کیساتھ شناخت کئے جانے سے بچنے کیلئے کونسی فوری کارروائی کا تقاضا کِیا جاتا ہے؟
[تصویر]
یسوؔع نے ریاکار مذہبی پیشواؤں کو سانپ کی نسل کے حصے کے طور پر بےنقاب کِیا