حقیقی تحفظ—اب اور ہمیشہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہوؔواہ خدا اپنے لوگوں کے لئے تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ وہ ”قادرِمطلق“ ہے۔ (زبور ۶۸:۱۴) اُس کے لاثانی نام کا مطلب ہے ”وہ وجود میں آنے کا سبب بنتا ہے۔“ یہ اُس کی شناخت کائنات کی ایک ایسی ہستی کے طور پر کراتا ہے جو اپنے وعدوں کی تکمیل اور اپنی مرضی کو پورا کرنے کی راہ میں حائل کسی بھی رکاوٹ پر قابو پانے کے لائق ہے۔ خدا خود فرماتا ہے: ”اُسی طرح میرا کلام جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ بےانجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جوکچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جسکے لئے مَیں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“—یسعیاہ ۵۵:۱۱۔
خدا اپنے توکل کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اُس کا کلام اس کی ضمانت دیتا ہے۔ ”خداوند کا نام محکم بُرج ہے،“ الہٰی الہام کے تحت دانشمند بادشاہ سلیماؔن نے بیان کِیا۔ ”صادق اُس میں بھاگ جاتا ہے اور امن میں رہتا ہے۔“ اُس نے مزید کہا: ”جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔“—امثال ۱۸:۱۰؛ ۲۹:۲۵۔
خدا کے خادموں کے لئے تحفظ
یہوؔواہ نے ہمیشہ اُنہیں تحفظ فراہم کِیا ہے جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یرؔمیاہ نبی نے خدا کے تحفظ سے استفادہ کِیا تھا۔ جب بابلؔ کی فوجوں نے برگشتہ یرؔوشلیم کا محاصرہ کر لیا تو لوگوں کو ”روٹی تول کر فکرمندی سے“ کھانی پڑی۔ (حزقیایل ۴:۱۶) حالت اس قدر نازک ہو گئی کہ بعض عورتوں نے اپنے ہی بچوں کو پکایا اور کھایا۔ (نوحہ ۲:۲۰؛ ۴:۱۰) اگرچہ اُس وقت یرؔمیاہ کو اُس کی بےخوف منادی کی وجہ سے حراست میں رکھا ہوا تھا، یہوؔواہ نے اس بات کا یقین کِیا کہ ”ہر روز اُسے نانبائیوں کے محلّہ سے ایک روٹی [ملتی] رہے جب تک کہ شہر میں روٹی مِل سکتی تھی۔“—یرمیاہ ۳۷:۲۱۔
جب یرؔوشلیم بابلیوں کے قبضہ میں چلا گیا تو یرؔمیاہ کو نہ تو ہلاک کِیا گیا نہ ہی قیدی بنا کر بابلؔ لے جایا گیا۔ اس کی بجائے، ”جلوداروں کے [بابلی] سردار نے اُسے خوراک اور انعام دیکر رخصت کِیا۔“—یرمیاہ ۴۰:۵۔
صدیوں بعد یسوؔع مسیح نے خدا کے خادموں کو یقیندہانی کرائی: ”اس لئے فکرمند ہوکر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائینگے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنینگے؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیرقومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مِل جائینگی۔“—متی ۶:۳۱-۳۳۔
کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہوؔواہ کے خادم موجودہ زمانے کی تمام مصیبت میں الہٰی تحفظ سے استفادہ کرینگے؟ جینہیں، ایسا نہیں ہے۔ وفادار اشخاص نقصان سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ سچے مسیحی بیمار ہوتے، اذیت کا تجربہ کرتے، جُرم کا نشانہ بنتے، حادثات میں ہلاک ہوتے، اور دیگر طریقوں سے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔
اگرچہ یہوؔواہ ابھی نقصان سے مکمل تحفظ مہیا نہیں کرتا، رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنے خادموں کی ضروریات پوری کرنے اور اُن کی حفاظت کرنے کے لئے اپنی طاقت ضرور استعمال کرتا ہے۔ مسیحی بہت سی مشکلات سے بھی بچا لئے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگیوں میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں۔ (امثال ۲۲:۳) مزیدبرآں، وہ پُرمحبت روحانی بھائیوں اور بہنوں کی عالمگیر برادری کے تحفظ سے بھی لطفاندوز ہوتے ہیں جو بوقتِضرورت ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ (یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵؛ رومیوں ۸:۲۸) مثال کے طور پر، جنگ سے تباہحال رواؔنڈا میں اُن کے بھائیوں کی مایوسکُن خستہحالی کے جواب میں، یورپ میں یہوؔواہ کے گواہوں نے فوراً عطیات جمع کئے اور اُنہیں ۶۵ ٹن کپڑے اور ۱،۶۰۰،۰۰۰ ڈالر مالیت کی ادویات، خوراک، اور دیگر اشیاء بھیجیں۔—مقابلہ کریں اعمال ۱۱:۲۸، ۲۹۔
اگرچہ یہوؔواہ سچے مسیحیوں پر آزمائشیں واقع ہونے دیتا ہے، اُنہیں یہ یقین حاصل ہے کہ وہ اُنہیں قوتِبرداشت، مدد اور حکمت عطا کریگا۔ ساتھی ایمانداروں کو لکھتے ہوئے، پولسؔ رسول نے کہا: ”تم کسی ایسی آزمایش میں نہیں پڑے جو انسان کی برداشت سے باہر ہو اور خدا سچا ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دیگا بلکہ آزمایش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دیگا تاکہ تم برداشت کر سکو۔“—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳۔
خدا اپنے لوگوں کیلئے جو کچھ کرتا ہے
آجکل، لاکھوں لوگ خدا کی مرضی پوری کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ اُنہیں خدا کی خدمت کرنے پر مجبور نہیں کِیا جاتا؛ وہ اس لئے ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ اُسے جانتے اور محبت کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، چونکہ یہوؔواہ اپنے وفادار خادموں کو عزیز رکھتا ہے، وہ زمین کو فردوس میں بدل دینے کا قصد کئے ہوئے ہے جہاں فرمانبردار نوعِانسان ہمیشہ تک امن، صحت، اور تحفظ سے لطف اُٹھائیں گے۔—لوقا ۲۳:۴۳۔
اپنے مقرر کردہ بادشاہ، یسوؔع مسیح کو اس کا حکمران ٹھہراتے ہوئے، خدا ایک آسمانی حکومت کے ذریعے ایسا کرے گا۔ (دانیایل ۷:۱۳، ۱۴) بائبل اس حکومت کا حوالہ ”خدا کی بادشاہی“ کے طور پر اور ”آسمان کی بادشاہی“ کے طور پر دیتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۰؛ متی ۱۳:۴۴) خدا کی بادشاہت تمام انسانی حکومتوں کی جگہ سنبھال لے گی۔ زمین پر بہت زیادہ حکومتیں ہونے کی بجائے، صرف ایک ہی حکومت ہوگی۔ یہ ساری زمین پر صداقت سے حکمرانی کریگی۔—زبور ۷۲:۷، ۸؛ دانیایل ۲:۴۴۔
یہوؔواہ تمام لوگوں کو بادشاہت کے تحت زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک طریقہ جس سے وہ یہ کرتا ہے بائبل کی وسیع تقسیم ہے، کتاب جو واضح کرتی ہے کہ بادشاہت نوعِانسان کے لئے کیا کچھ کرے گی۔ بائبل دُنیا کی سب سے زیادہ تقسیم ہونے والی کتاب ہے، اور یہ اب، مکمل یا جزوی طور پر، ۲،۰۰۰ سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے۔
بادشاہت کی بابت بائبل جو کچھ بیان کرتی ہے اُسے سمجھنے کے لئے یہوؔواہ خدا پُرمحبت طریقے سے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ وہ تعلیم دینے اور دوسروں کے سامنے صحائف کی وضاحت کرنے کے لئے لوگ بھیجنے سے ایسا کرتا ہے۔ پانچ ملین سے زیادہ یہوؔواہ کے گواہ اب ۲۳۰ سے زائد ممالک میں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کر رہے ہیں۔
سب کے لئے حقیقی تحفظ؟
کیا ہر شخص اُس کے راست معیاروں کے مطابق عمل کرتے ہوئے خدا کی بادشاہت کی رعایا بننے کی دعوت قبول کریگا؟ نہیں، کیونکہ بہتیرے لوگ خدا کی مرضی بجا لانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ اپنی زندگیوں میں بہتری کی خاطر تبدیلی لانے کے لئے مدد کرنے کی کوششوں کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ یقیناً، وہ خود کو اُن لوگوں کی مانند ظاہر کرتے ہیں جنکی بابت یسوؔع نے کہا: ”کیونکہ اس اُمت کے دل پر چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اُونچا سنتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں تااَیسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں اور کانوں سے سنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لائیں اور مَیں اُنکو شفا بخشوں۔“—متی ۱۳:۱۵۔
جو لوگ خدا کی راست راہوں کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انکار کرتے ہیں اُن کے مابین زمین پر حقیقی تحفظ کیسے ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا۔ بیدین لوگ اُن کے تحفظ کے لئے خطرہ پیدا کرتے ہیں جو یہوؔواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
خدا لوگوں کو بدلنے کے لئے مجبور نہیں کرتا، لیکن وہ قطعی طور پر بدکاری کو بھی برداشت نہیں کریگا۔ اگرچہ یہوؔواہ بڑے صبر سے لوگوں کو اپنی راہوں اور مقاصد کی تعلیم دینے کے لئے اپنے گواہوں کو بھیجتا رہتا ہے، وہ زیادہ دیر تک ایسا نہیں کرتا رہیگا۔ یسوؔع مسیح نے پیشینگوئی کی: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“—متی ۲۴:۱۴۔
خدا کے معیاروں کو رد کرنے والوں کیلئے ”خاتمہ“ کا کیا مطلب ہوگا؟ اس کا مطلب اُن کی سخت عدالت اور تباہی ہوگا۔ بائبل ”جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے یسوؔع کی خوشخبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ“ لینے کا ذکر کرتی ہے ”یہ ابدی ہلاکت کی سزا پائینگے۔“—۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۹۔
بالآخر—ہمیشہ کے لئے حقیقی تحفظ!
یہوؔواہ کے امن کے راستوں کو مسترد کرنے والوں کی تباہی کے بعد، خدا کی بادشاہت زمین پر راستباز لوگوں کے فائدے کے لئے تحفظ کے ایک شاندار دَور کا آغاز کریگی۔ (زبور ۳۷:۱۰، ۱۱) وہ نئی دنیا اس سے کتنی مختلف ہوگی جس میں ہم آج رہ رہے ہیں!—۲-پطرس ۳:۱۳۔
قحط اور بھوک باقی نہیں رہیں گے۔ ہر ایک کے پاس کھانے کی افراط ہوگی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ’تمام لوگ فربہ چیزوں کی ضیافت سے لطفاندوز ہونگے۔‘ (یسعیاہ ۲۵:۶) خوراک کی قلّت نہیں ہوگی، کیونکہ ”زمین پر اناج کی کثرت ہوگی؛ پہاڑوں کی چوٹیوں پر فراوانی ہوگی۔“—زبور ۷۲:۱۶، اینڈبلیو۔
پھر لوگ جھونپڑیوں اور گندی بستیوں میں نہیں رہیں گے۔ خدا کی بادشاہت کے تحت، سب کے پاس خوبصورت گھر ہونگے، اور وہ اپنی ہی زمین سے پیداشُدہ خوراک کھائینگے۔ بائبل وعدہ کرتی ہے: ”وہ گھر بنائینگے اور اُن میں بسینگے۔ وہ تاکستان لگائینگے اور اُن کے میوے کھائینگے۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۱۔
وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بیروزگاری کی بجائے، نتیجہخیز کام ہوگا، اور لوگ اس سے اچھے نتائج حاصل کرینگے۔ خدا کا کلام بیان کرتا ہے: ”میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مُدتوں تک فائدہ اُٹھائینگے۔ اُن کی محنت بےسود نہ ہوگی۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۲، ۲۳۔
بادشاہتی حکمرانی کے تحت، لوگ نہ تو بیماری سے دُکھ اُٹھائیں گے اور نہ ہی مریں گے۔ خدا کا کلام ہمیں یقیندہانی کراتا ہے: ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہوں۔“—یسعیاہ ۳۳:۲۴۔
عنقریب ایک حقیقت بننے والی زمینی فردوس میں، دُکھ اور درد، غم اور موت، ختم کر دیئے جائیں گے۔ جیہاں، موت بھی! لوگ ہمیشہ تک فردوس میں زندہ رہینگے! بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا ”اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہآہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۴۔
یسوؔع مسیح، ”سلامتی کے شہزادے،“ کے زیرِحکومت زمین پر زندگی بالآخر واقعی محفوظ ہوگی۔ یقیناً، واحد حکومت—خدا کی بادشاہت—کی راست، پُرمحبت حکمرانی کے تحت عالمگیر تحفظ حاصل ہوگا۔—یسعیاہ ۹:۶، ۷؛ مکاشفہ ۷:۹، ۱۷۔ (۴ ۰۵/۱۵ w۹۶)
[عبارت]
”انسانی تحفظ آنے والے دن پر ایمان کو ظاہر کرتا ہے، . . . سیاسی اور معاشی صورتحال کے استحکام [پر ایمان]۔“—ایشیا میں بودباش کرنے والی ایک خاتون
[عبارت]
”جو چیز آپکو سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہونے کا احساس دیتی ہے ہو جرموتشدد ہے۔“—جنوبی امریکہ میں بودوباش کرنے والا ایک شخص
[عبارت]
”مَیں حملے . . . کے دوران محفوظ محسوس نہیں کرتی تھی۔ اگر ایک ملک جنگ کر رہا ہو تو لوگوں سے محفوظ محسوس کرنے کی توقع کیسے کی جائے؟“—مشرقِوسطیٰ میں پرائمری سکول کی ایک طالبہ
[عبارت]
”مَیں اُسوقت محفوظ محسوس کرونگی جب مجھے معلوم ہوگا کہ مَیں زنابالجبر کا شکار ہوئے بغیر رات کو سڑکوں پر چل پھر سکتی ہوں۔“