حقیقی تحفظ—ایک ناقابلِحصول منزل
آؔرنلڈ ایک ایسا بچہ تھا جسے اپنے کپڑے اور روئی سے بنے ہوئے شیر کے کھلونے سے بہت پیار تھا۔ وہ جہاں کہیں بھی جاتا—کھیلنے، کھانے کی میز پر، اپنے بستر پر—اُسے اپنے ساتھ لئے پھرتا۔ اُس کیلئے شیر آرام، تحفظ فراہم کرتا تھا۔ ایک دن، ایک مشکل آن پڑی۔ شیر گم ہو گیا!
جب آؔرنلڈ رویا دھویا تو اُسکے ماں، باپ اور تینوں بڑے بھائیوں نے شیر کو تلاش کرنے میں اپنا وسیع گھر چھان مارا۔ بالآخر اُن میں سے ایک نے اُسے دراز میں سے ڈھونڈ نکالا۔ ظاہری طور پر، آؔرنلڈ اُسے وہاں رکھ کر فوراً بھول گیا تھا کہ وہ کہاں پر ہے۔ شیر واپس مِل گیا تھا، اور آؔرنلڈ نے اپنے آنسو پونچھ لئے۔ وہ پھر سے خوش اور محفوظ محسوس کرنے لگا۔
اگر تمام مشکلات اتنی آسانی سے حل ہو سکتیں تو کتنا اچھا ہوتا—اتنی آسانی سے جیسےکہ دراز میں شیر کے کھلونے کو پا لینا! تاہم، زیادہتر لوگوں کیلئے تحفظ کے مسائل اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور پیچیدہ ہیں۔ ہر سُو لوگ یہی سوچتے ہیں، ’کیا مَیں جُرم اور تشدد کا شکار ہو جاؤنگا؟ کیا مَیں اپنی ملازمت کے چھوٹ جانے کے خطرے میں ہوں؟ کیا میرے خاندان کو واقعی کافی خوراک میسر ہوگی؟ کیا دوسرے میرے مذہب یا میرے نسلی پسمنظر کے باعث مجھ سے کنارہکشی کرینگے؟‘
تحفظ سے محروم لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اقوامِمتحدہ کے مطابق، تقریباً تین بلین لوگ نہ صرف عام بیماریوں کے علاجمعالجے بلکہ ضروری ادویات کے حصول سے بھی محروم ہیں۔ ایک بلین سے زائد لوگ انتہائی غربت کے ہاتھوں پژمُردہ ہیں۔ تقریباً ایک بلین کو کام کرنے کے لائق ہونے کے باوجود موزوں طور پر ملازمت نہیں دی گئی۔ پناہگزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ۱۹۹۴ کے آخر تک، زمین پر تقریباً ہر ۱۱۵ افراد میں سے ۱ کو اپنے گھر سے بھاگنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ بےشمار جُرم اور تشدد کو بھڑکانے والی منشیات کے ۵۰۰ بلین ڈالر سالانہ کے کاروبار کے نتیجے میں لاکھوں زندگیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔ جنگ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو برباد کرتی ہے۔ صرف ۱۹۹۳ ہی میں، ۴۲ ممالک بڑے بڑے فسادات میں اُلجھے ہوئے تھے، جبکہ دیگر ۳۷ نے سیاسی تشدد کا تجربہ کِیا۔
جنگ، غربت، جُرم اور انسانی تحفظ کو لاحق دیگر خطرات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اور وہ تعداد میں بڑھ رہے ہیں۔ ایسے مسائل کے کوئی آسان حل موجود نہیں ہیں۔ دراصل، انسان انہیں ہرگز حل نہیں کر پائینگے۔
”نہ اُمرا پر بھروسا کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا،“ خدا کا کلام، بائبل خبردار کرتی ہے۔ توپھر، ہم کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ یہی صحیفہ آگے بیان کرتا ہے: ”خوش نصیب ہے وہ جسکا مددگار یعقوؔب کا خدا ہے اور جسکی اُمید خداوند اُسکے خدا سے ہے جس نے آسمان اور زمین اور سمندر کو اور جوکچھ اُن میں ہے بنایا۔“—زبور ۱۴۶:۳-۶۔
اس زمین پر تحفظ لانے کیلئے ہم کیوں یہوؔواہ پر توکل کر سکتے ہیں؟ کیا اب محفوظ، خوشباش زندگی سے محظوظ ہونا ممکن ہے؟ خدا انسانی تحفظ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کیسے دُور کریگا؟ (۳ ۰۵/۱۵ w۹۶)