آپ کس قسم کی سلامتی کے متمنی ہیں؟
سلامتی کے متعلق مختلف لوگ مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ بعض اسے مخالف عسکری قوتوں کے درمیان استحکام کے طورپر خیال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جو قوتیں اپنے یورپی اتحادیوں کیساتھ ملکر دنیا کے افق پر چھائی ہوئی ہیں اس خطرے کو کم کرنے کیلئے بڑی احتیاطی تدابیر کرنے کیلئے متفق ہو گئی ہیں کہ چھوٹے چھوٹے واقعات عالمگیر ایٹمی لڑائی کو ہوا دینگے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ ائیربک ۱۹۹۰ ”دنیا کے دوسرے حصوں کی“ قوموں کی طرف سے ان تدابیر میں دلچسپی کی کمی پر حیرت کا اظہار کرتی ہے۔
تاہم، غریب ممالک میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کیلئے ”سلامتی“ کا مطلب خوراک اور صحت کی نگہداشت ہے۔ سیاسی سائنسدان یاش ٹینڈن وضاحت کرتا ہے کہ ”جب ”امن اور سلامتی“ کی بابت سوچنے کی بات آتی ہے تو بااثر مغربی ثقافت کے مسلمہ نظریات حاوی ہو جاتے ہیں۔،. . . ”سلامتی“ کو دنیا کی دو تہائی بےگھر اور بھوکی آبادی کیلئے سلامتی سے تعلق رکھنے والی باتوں سے یکسر علیحدہ، اسلحہ اور تخفیفاسلحہ کے معاملے کیطور پر دیکھا جاتا ہے۔“
جہاں تک بائبل کا تعلق ہے تو یہ وعدہ کرتی ہیں کہ خدا کی بادشاہت کے تحت کوئی جنگ نہ ہوگی۔ ”وہ زمین کی انتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“ (زبور ۴۶:۹، یسعیاہ ۲:۴) جسمانی بیماری گئی گزری بات ہوگی۔ ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں اور ان کے گناہ بخشے جائیں گے۔“ یسعیاہ ۳۳:۲۴۔
اس بادشاہت کے تحت، معاشی اندیشہ کسی کیلئے کوئی خطرہپیدا نہیں کریگا۔ ”وہ گھر بنائینگے اور ان میں بسینگے۔ وہ تاکستان لگائینگے اور انکے میوے کھائینگے۔ نہکہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائے۔“ یسعیاہ ۶۵:۲۱، ۲۲۔
گویا، سب سے بڑھکر، بادشاہت امن اور سلامتی کی کمی کے بنیادی سبب کو ختم کر دے گی۔ ناکام اور ظالمانہ حکومتوں کی طویل انسانی تاریخ کے پیچھے کون رہا ہے؟ اگرچہ خدا نے ایک اچھی وجہ کے لئے انہیں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن جسے ذمہداری قبول کرنی چاہیے وہ شیطان ہے، چونکہ بائبل کہتی ہے کہ ”ساری دنیا اس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
اس وقت کیا ہی اطمینان حاصل ہوگا جب خدا کی بادشاہت کے تحت رومیوں سے کہے گئے پولس کے الفاظ بالآخر پورے ہو جاتے ہیں: ”اور خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے شیطان کو تمہارے پاؤں سے جلد کچلوا دیگا۔“! (رومیوں ۱۶:۲۰) صرف خدا کی بادشاہت ہی، بادشاہ یسوع مسیح کے تحت، ایسا کام انجام دے سکتی ہے۔ لہذا، صرف اس بادشاہت کے تحت ہی زمین ایک فردوس میں بدل جائیگی۔ پیدایش ۱:۲۸، لوقا ۲۳:۴۳۔
جیہاں، جس سلامتی کا بائبل میں وعدہ کیا گیا ہے وہ انسان کی طرف سے ترتیب دی گئی کسی بھی چیز سے کہیں برتر اور دوررس ہے۔ ہم پڑھتے ہیں کہ ”نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد“! (مکاشفہ ۲۱:۴) کیا ہم ایسے وعدوں پر توکل کر سکتے ہیں؟ جیہاں، اسلئے کہ یہ قادرمطلق خالق، یہوواہ خدا کی طرف سے ہیں جو یہ بھی اعلان کرتا ہے: ”میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ... وہ بےانجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اسے پورا کریگا اور اس کام میں جسکے لئے میں نے اسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“ (یسعیاہ ۵۵:۱۱) کچھ کامیابی ان اقدام کی نشاندہی کرتی ہے جو یہوواہ خدا اب بھی اپنی ابدی حاکمیت کی سربلندی کی خاطر نوعانسانی کیلئے پائدار اور خوشکن امن، سلامتی اور ترقی لانے کیلئے کر رہا ہے۔ (۸ ۳/۱ w۹۲)