آخر تک اپنے بھروسے کو مضبوط رکھیں
۱، ۲. خراب موسمی حالات میں پرواز کرتے وقت ایک پائلٹ کے پاس بھروسے کی کونسی وجوہات ہوتی ہیں؟
خراب موسمی حالات کے تحت اُڑنے والے ایک چھوٹے ہوائی جہاز کا تصور کریں۔ پائلٹ مزید نشانوں کی شناخت نہیں کر سکتا۔ گہرے بادل اُسے ڈھانپ لیتے ہیں۔ وہ اپنے ہوا روک شیشے کے پار نہیں دیکھ سکتا، پھربھی اُسے یقین ہے کہ وہ اپنا سفر باحفاظت مکمل کر سکتا ہے۔ اُس کے اعتماد کی کیا وجہ ہے؟
۲ اُس کے پاس صحیح آلات موجود ہیں جو اُسے بادلوں میں اُڑنے اور تاریکی میں اُترنے کے قابل بناتے ہیں۔ اُس کے راستے میں، خاص طور پر ائیرپورٹ کے قریب، روشنی کے مینار برقیاتی طور پر اُس کی راہنمائی کرتے ہیں، اور وہ زمین پر ائیرپورٹ کے عملے سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ بھی رکھے ہوئے ہے۔
۳، ۴. (ا) ہم کیوں مستقبل کا سامنا بھروسے کیساتھ کر سکتے ہیں؟ (ب) خدا کے کلام کو کس چیز سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے؟
۳ اسی طرح سے، ہم بھی اعتماد کیساتھ مستقبل کا مقابلہ کر سکتے ہیں، اگرچہ دُنیا کے حالات دنبدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بدکار نظام میں ہمارا سفر ہو سکتا ہے بعض کی توقعات کے برعکس زیادہ وقت لے رہا ہو، لیکن ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ ہم صحیح راستے اور صحیح وقت پر ہیں۔ ہم کیوں اسقدر پُراعتماد ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ ہمیں ایسی راہنمائی حاصل ہے جو ہمیں اُس چیز کو پہچاننے کے قابل بناتی ہے جسے انسانی نظر نہیں دیکھ سکتی۔
۴ خدا کا کلام ’ہماری راہ کے لئے روشنی‘ ہے، اور یہ ”برحق ہے، نادان کو دانش بخشتا ہے۔“ (زبور ۱۹:۷؛ ۱۱۹:۱۰۵) روشنی کے اُن میناروں کی مانند جو پائلٹ کو اُڑنے کا راستہ دکھاتے ہیں، بائبل دُرست طور پر مستقبل کے واقعات کی خاکہکشی کرتی اور ہمیں اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ ہم بحفاظت اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں واضح ہدایات فراہم کرتی ہے۔ تاہم، الہٰی راہنمائی سے مستفید ہونے کے لئے، لازم ہے کہ ہم اس پر بھروسہ کریں۔
۵. عبرانیوں کے نام اپنے خط میں پولسؔ نے کیا حوصلہافزائی کی تھی اور کونسے سوالات پیدا ہوتے ہیں؟
۵ عبرانیوں کے نام اپنے خط میں، پولسؔ نے یہودی مسیحیوں کو ’اپنے ابتدائی بھروسے پر آخر تک مضبوطی سے قائم رہنے‘ کی تاکید کی۔ (عبرانیوں ۳:۱۴) اگر اس پر ہماری گرفت ’مضبوط‘ نہیں ہے تو ہمارا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ پس سوال پیدا ہوتا ہے، ہم کیسے آخر تک یہوؔواہ پر اپنے بھروسے کو مضبوط رکھ سکتے ہیں؟
اپنے ایمان کی مشق کریں
۶. ایک مسیحی کو اپنے ایمان کی مشق کرنے کی کیوں ضرورت ہے اور یہ کیسے کی جا سکتی ہے؟
۶ اس سے پیشتر کہ ایک پائلٹ، کُلی طور پر اپنے آلات اور زمین کے کنٹرول پر انحصار کرتے ہوئے بغیر دیکھے پرواز کر سکے، اُسے مناسب تربیت اور طویل گھنٹوں کی پرواز کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ایک مسیحی کو یہوؔواہ کی راہنمائی پر اپنا بھروسہ قائم رکھنے کیلئے، بالخصوص اُس وقت جب مشکل حالات پیدا ہو جاتے ہیں، لگاتار اپنے ایمان کی مشق کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ پولسؔ رسول نے لکھا: ”چونکہ ہم میں وہی ایمان کی رُوح ہے جسکی بابت لکھا ہے کہ مَیں ایمان لایا اور اسی لئے بولا۔ پس ہم بھی ایمان لائے اور اسی لئے بولتے ہیں۔“ (۲-کرنتھیوں ۴:۱۳) لہٰذا، جب ہم خدا کی خوشخبری کی بابت کلام کرتے ہیں تو ہم اپنے ایمان کی مشق کر رہے اور اُسے مضبوط بنا رہے ہوتے ہیں۔
۷. کونسا تجربہ منادی کے کام کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے؟
۷ میگؔدلینا، جس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران چار سال مرکزِاسیران میں گزارے، منادی کی کارگزاری کی اہمیت کی وضاحت کرتی ہے: ”میری والدہ نے مجھے سکھایا کہ مضبوط ایمان قائم رکھنے کیلئے یہ اشد ضروری ہے کہ دوسروں کی روحانی فلاحوبہبود میں دلچسپی لی جائے۔ مجھے ایک واقعہ یاد ہے جو اس چیز کا نمونہ پیش کرتا ہے کہ ہم نے کیسا محسوس کِیا تھا۔ راؔونزبرک کے مرکزِاسیران سے آزاد ہونے کے بعد، مَیں اور میری والدہ جمعہ کے دن اپنے گھر پہنچے۔ دو دن بعد، اتوار کے روز، ہم گھرباگھر کی منادی میں اپنے بھائیوں کیساتھ شریک تھے۔ مَیں پُختہ یقین رکھتی ہوں کہ اگر ہم دوسروں کو یہوؔواہ کے وعدوں پر اعتماد رکھنے کیلئے مدد دینے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں تو وہی وعدے ہمارے لئے اَور زیادہ حقیقی بن جائینگے۔“—مقابلہ کریں اعمال ۵:۴۲۔
۸. (ا) ذاتی مطالعہ ہمارے ایمان کو کیسے تقویت بخش سکتا ہے؟ (ب) ”سُست“ پڑ جانے کے خطرے کی بابت پولسؔ کی آگاہی کیونکر موزوں ہے؟
۸ آخر تک اپنے بھروسے کو مضبوط رکھنا دیگر حلقوں میں بھی روحانی سرگرمی کا تقاضا کرتا ہے۔ ذاتی مطالعہ ایمان کو مضبوط کرنے والی ایک اَور شاندار مشق ہے۔ اگر ہم بیرؔیہ کے لوگوں کی نقل کرتے اور پوری کوشش کے ساتھ صحائف کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ہمیں ”پوری اُمید کے واسطے آخر تک اسی طرح کوشش ظاہر کرتے رہنے“ میں مدد دے گا۔ (عبرانیوں ۶:۱۱؛ اعمال ۱۷:۱۱) سچ ہے کہ ذاتی مطالعہ وقت اور عزمِمُصمم کا تقاضا کرتا ہے۔ ممکن ہے اسی لئے پولسؔ نے عبرانیوں کو ایسے معاملات میں ”سُست“ یا کاہل ہونے کے خطرے کی بابت آگاہ کِیا۔—عبرانیوں ۶:۱۲۔
۹. اگر ہم ایمان کو قائم رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو کیا واقع ہو سکتا ہے؟
۹ کاہلی کا میلان زندگی کے بہت سے حلقوں میں ہولناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ سلیماؔن نے مشاہدہ کِیا کہ ”ہاتھوں کے ڈھیلے ہونے سے چھت ٹپکتی ہے۔“ (واعظ ۱۰:۱۸) جلد یا بدیر بارش اُس چھت میں سے ٹپکنے لگتی ہے جس کی دیکھبھال نہیں کی گئی ہے۔ اگر ہم روحانی طور پر اپنے ہاتھ ڈھیلے ہونے دیتے ہیں اور اپنے ایمان کو قائم رکھنے میں ناکام رہتے ہیں تو شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسکے برعکس، خدا کے کلام پر باقاعدہ غوروخوض اور مطالعہ ہمارے ایمان کو تقویت اور تحفظ بخشے گا۔—زبور ۱:۲، ۳۔
تجربے کے ذریعے اعتماد کو بڑھانا
۱۰. یہوؔواہ پر ہمارا بھروسہ کیسے بڑھے گا اور یشوؔع کا تجربہ کیسے یہ ثابت کرتا ہے؟
۱۰ یقیناً، ایک پائلٹ تجربے اور اسکے ساتھ ساتھ مطالعے کے ذریعے سیکھتا ہے کہ اس کے آلات قابلِبھروسہ ہیں۔ اسی طرح، یہوؔواہ پر ہمارا بھروسہ اُس وقت بڑھتا ہے جب ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں اُسکی پُرمحبت فکر کا ثبوت دیکھتے ہیں۔ یشوؔع نے اس کا تجربہ کِیا، اور اُس نے اپنے ساتھی اسرائیلیوں کو یاد دِلایا: ”تُم خوب جانتے ہو کہ اُن سب اچھی باتوں میں سے جو خداوند تمہارے خدا نے تمہارے حق میں کہیں ایک بات بھی نہ چھوٹی۔ سب تمہارے حق میں پوری ہوئیں اور ایک بھی اُن میں سے رہ نہ گئی۔“—یشوع ۲۳:۱۴۔
۱۱، ۱۲. تجربے کے ذریعے یہوؔواہ پر ایک بہن کا بھروسہ کیسے بڑھا؟
۱۱ فلپاؔئن سے ایک شادیشُدہ بہن، جوؔزفینا نے، یہی سبق سیکھا۔ وہ بیان کرتی ہے کہ سچائی جاننے سے پہلے میری زندگی کیسی تھی: ”میرا شوہر بہت زیادہ پیتا تھا، اور جب وہ نشے میں چُور ہوتا تو وہ غصے میں آ جاتا اور مجھے مارتا پیٹتا۔ ہماری ناخوشگوار شادی ہمارے بیٹے کو بھی متاثر کر رہی تھی۔ مَیں اور میرا شوہر دونوں ملازمت کر رہے تھے، اچھا خاصا پیسہ کما رہے تھے، لیکن ہم اپنی آمدنی کا زیادہتر حصہ جوئے میں لگا دیتے تھے۔ میرے شوہر کے بہت سے دوست تھے، تاہم زیادہتر اُسکی دوستی کا اسلئے دَم بھرتے تھے تاکہ وہ شراب کے بِل ادا کرے، اور بعض تو محض اُسکا تمسخر اُڑانے کی کوشش میں اُسے بہت پلاتے تھے۔
۱۲ ”جب ہم یہوؔواہ کو جاننے لگے اور اُسکی مشورت پر دل لگایا تو حالت بدل گئی۔ اب میرا شوہر شرابنوشی نہیں کرتا، ہم نے جوأ کھیلنا چھوڑ دیا ہے، اور ہمارے حقیقی دوست ہیں جو ہم سے محبت کرتے اور ہماری مدد کرتے ہیں۔ ہماری شادی مسرتآفرین ہے اور ہمارا بیٹا ایک اچھے نوجوان شخص کے طور پر پرورش پا رہا ہے۔ ہم چند گھنٹے کام کرتے ہیں، لیکن ہمارے پاس زیادہ پیسہ ہے۔ تجربے نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ یہوؔواہ ایک شفیق باپ کی مانند ہے، جو ہمیشہ صحیح راستے پر ہماری راہنمائی کرتا ہے۔“
۱۳. پائلٹوں کو بعضاوقات کونسا کام کرنا پڑتا ہے اور اسکا ہم پر کیسے اطلاق ہوتا ہے؟
۱۳ ریڈیو پر ہدایات یا آلات کی جانچپڑتال کے نتیجے میں، بعضاوقات پائلٹ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں اپنا راستہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی یہوؔواہ کی ہدایت کے مطابق اپنی راہ بدلنے کی ضرورت ہو۔ ”جب تُو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان تیرے پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اس پر چل۔“ (یسعیاہ ۳۰:۲۱) اُس کے کلام کے ذریعے اور اُس کی تنظیم کے ذریعے، ہم روحانی خطرات سے خبردار کرنے والی مشورت حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق صحبتوں سے ہے۔
صحبتیں ہمیں راہ سے بھٹکا سکتی ہیں
۱۴، ۱۵. (ا) آجکل مسیحیوں کو کن بیرونی اثرات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے؟ (ب) نوجوانوں کے لئے کونسے خطرات موجود ہیں اور ایک جوان بہن کیسے ان سے بچی؟
۱۴ اگر ضروری تصحیحات نہیں کی جاتیں تو ایک چھوٹا جہاز بآسانی اپنی راہ سے بھٹک سکتا ہے۔ اسی طرح، بیرونی اثرات آجکل لگاتار مسیحیوں کو تھپیڑے مارتے ہیں۔ ہم ایک جسمانی ذہنیت والی دُنیا میں رہتے ہیں جہاں بہت سے لوگ روپےپیسے اور عیشوعشرت کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے، روحانی اقدار کا تمسخر اُڑاتے ہیں۔ پولسؔ نے تیمتھیسؔ کو آگاہ کِیا کہ آخری ایّام ”کے ساتھ نپٹنا مشکل“ ہوگا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ اینڈبلیو) نوجوان جو مقبولیت اور پسندیدگی کے متمنی ہوتے ہیں، بالخصوص بُری صحبتوں کا نشانہ بنتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۲:۲۲۔
۱۵ آؔمنڈا، جس کی عمر ۱۷ برس ہے، بیان کرتی ہے: ”کچھ عرصہ کیلئے میرے ہمجماعتوں کی وجہ سے میرا ایمان کسی حد تک کمزور ہو گیا تھا۔ وہ یہ کہتے رہتے تھے کہ میرا مذہب بہت پابندی والا اور غیرمعقول ہے، اور اس چیز نے مجھے بےحوصلہ کرنا شروع کر دیا۔ تاہم، میرے والدین نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ مسیحی راہنمائیاں پابند کرنے کی بجائے محفوظ رکھتی ہیں۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ اُصول مجھے اپنے گزشتہ سکول کے ساتھیوں کی نسبت زیادہ اطمینانبخش زندگی گزارنے میں مدد دے رہے ہیں۔ مَیں نے اُن لوگوں پر بھروسہ کرنا سیکھ لیا ہے جو میری پرواہ کرتے ہیں—میرے والدین اور یہوؔواہ—اور مَیں پائنیر خدمت سے لطفاندوز ہو رہی ہوں۔“
۱۶. (ا) ہمارے ایمان کو حقیر جاننے والے لوگوں کو خدا کیسا خیال کرتا ہے؟ (ب) کرنتھسؔ میں کونسی حالت پائی جاتی تھی جس نے پولسؔ کو بُری صحبتوں کی بابت آگاہ کرنے کی تحریک دی؟
۱۶ خواہ ہم کسی بھی عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے ہوں، ہمارا ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا جو ہمارے اعتقادات کی بابت تحقیرآمیز باتیں کرتے ہیں۔ وہ فہیم دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن خدا کے نزدیک وہ جسمانی، غیرروحانی ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۴) پولسؔ کے دنوں کے کرنتھسؔ میں اعتقادات پر شک کرنے والے دُنیاوی حکمت کے مالک بااثر لوگوں کا ایک گروہ موجود تھا۔ ان فلاسفروں کی تعلیمات غالباً بعض کرنتھی مسیحیوں کے قیامت کی اُمید پر ایمان کھو دینے کا باعث بنیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۱۲) ”فریب نہ کھاؤ،“ پولسؔ رسول نے آگاہ کِیا۔ ”بُری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳۔
۱۷. اچھی صحبتوں کا کیا اثر ہوتا ہے اور ایک بھائی نے ان کیلئے اپنی قدرافزائی کا کیسے اظہار کِیا؟
۱۷ اسکے برعکس، اچھی صحبتیں ہمیں روحانی طور پر تقویت بخشتی ہیں۔ مسیحی کلیسیا کے اندر، ہمارے پاس ایسے لوگوں کیساتھ میلجول رکھنے کا موقع ہوتا ہے جو باایمان زندگی گزارتے ہیں۔ ناؔرمن، ایک بھائی جس نے ۱۹۳۹ میں سچائی سیکھی، ابھی تک سب کیلئے بہت زیادہ حوصلہافزائی کا باعث ہے۔ کس چیز نے اُس کے روحانی نقطۂنظر کو تیز رکھا ہے؟ ”اجلاس اور وفادار بھائیوں کیساتھ قریبی دوستی اشد ضروری ہیں،“ وہ جواب دیتا ہے۔ ”اس قسم کی صحبت نے مجھے خدا کی تنظیم اور شیطان کی تنظیم کے درمیان فرق کو صاف طور پر دیکھنے میں مدد دی ہے۔“
دولت کی پُرفریب قوت
۱۸، ۱۹. (ا) تجربہکار پائلٹوں کیساتھ کیا واقع ہو سکتا ہے؟ (ب) کیا چیز ہمیں روحانی طور پر گمراہ کر سکتی ہے؟
۱۸ ایک تجربہکار پائلٹ، برائنؔ بیان کرتا ہے کہ ”ہو سکتا ہے کہ بعضاوقات ایک پائلٹ اپنے آلات پر یقین رکھنا مشکل پائے—محض اسلئے کہ اسکی جبلّت اختلاف رکھتی ہے۔ تجربہکار فوجی پائلٹ بالکل اُلٹا جہاز اُڑانے کیلئے مشہور تھے اسلئے زمین پر روشنیاں ستاروں کی مانند دکھائی دیتی تھیں—اگرچہ اُن کے آلات نے اُنہیں اسکے برعکس بتایا تھا۔“
۱۹ اسی طرح، ہماری خودغرضانہ جبلّتیں روحانی مفہوم میں ہمیں گمراہ کر سکتی ہیں۔ یسوؔع نے کہا کہ دولت ”فریب“ دے سکتی ہے، اور پولسؔ نے آگاہ کِیا کہ ’زر کی دوستی نے بعض کو ایمان سے گمراہ کر دیا ہے۔‘—مرقس ۴:۱۹؛ ۱-تیمتھیس ۶:۱۰۔
۲۰، ۲۱. (ا) مادی نصبالعین کیسے ہمیں گمراہ کر سکتے ہیں؟ (ب) ایک شادیشُدہ جوڑا مادی نشانوں سے کیسے متاثر ہوا تھا لیکن اُنہوں نے کونسی تبدیلیاں کیں؟
۲۰ پُرفریب چمکتی ہوئی روشنیوں کی مانند، دمکتے ہوئے مادی نصبالعین ہمیں غلط سمت کی طرف لیجا سکتے ہیں۔ ”اُمید کی ہوئی چیزوں کے اعتماد“ پر خوش ہونے کی بجائے، ہم اس دُنیا کی شیخی کی وجہ سے جو مٹتی جاتی ہے غلط راہ پر ڈالے جا سکتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۱:۱؛ ۱-یوحنا ۲:۱۶، ۱۷) اگر ہم امیرانہ طرزِزندگی اختیار کرنا ”چاہتے“ ہیں تو غالباً ہمارے پاس روحانی ترقی کیلئے بہت کم وقت بچے گا۔—۱-تیمتھیس ۶:۹؛ متی ۶؛۲۴؛ عبرانیوں ۱۳:۵۔
۲۱ ایک جوان شادیشُدہ شخص پیٹرکؔ نے تسلیم کِیا کہ اُس نے اور اُسکی بیوی نے بہتر معیارِزندگی سے لطف اُٹھانے کی خاطر روحانی نشانوں کو قربان کر دیا۔ وہ بیان کرتا ہے: ”ہم کلیسیا میں اُن لوگوں سے متاثر تھے جو لمبیلمبی کاروں اور پُرآسائش گھروں کے مالک تھے۔ اگرچہ ہم نے کبھی بھی بادشاہتی اُمید سے نظریں تو نہ ہٹائیں، ہم نے محسوس کِیا کہ شاید اسکے ساتھ ساتھ ہم پُرآسائش زندگی سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، جلد ہی، ہمیں احساس ہو گیا کہ حقیقی خوشی یہوؔواہ کی خدمت کرنے اور روحانی طور پر ترقی کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اب ایک بار پھر ہماری زندگیاں بالکل سادہ ہیں۔ ہم نے اپنے کام کرنے کے گھنٹوں میں کمی کر دی ہے، اور ہم ریگولر پائنیر بن گئے ہیں۔“
ایمان کا انحصار ایک اثرپذیر دل پر ہے
۲۲. یہوؔواہ پر بھروسے کو ترقی دینے میں اَور کیا چیز اہم کردار ادا کرتی ہے؟
۲۲ ایک اثرپذیر دل بھی یہوؔواہ پر بھروسے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سچ ہے کہ ”ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت [یا، ”تصدیقشُدہ شہادت،“ فٹنوٹ] ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱) لیکن جبتک ہم اثرپذیر دل نہیں رکھتے، یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم قائل ہوں۔ (امثال ۱۸:۱۵؛ متی ۵:۶) اسی وجہ سے پولسؔ رسول نے کہا کہ ”سب میں ایمان نہیں ہے۔“—۲-تھسلنیکیوں ۳:۲۔
۲۳-۲۵. (ا) ہم کیسے ایک اثرپزیر دل پیدا کر سکتے ہیں؟ (ب) قدیم اور جدید مثالیں کیا ظاہر کرتی ہیں کہ ہم کیسے اپنے دلوں کو اثرپزیر رکھ سکتے ہیں؟
۲۳ تب پھر، ہم کیسے اپنے دلوں کو تمام دستیاب تصدیقشُدہ شہادتوں کیلئے اثرپذیر بنا سکتے ہیں؟ خدائی خوبیاں پیدا کرنے سے، خوبیاں جو ایمان کو تقویت بخشتی اور متحرک کرتی ہیں۔ پطرؔس ہمیں تاکید کرتا ہے ’اپنے ایمان پر نیکی، معرفت، پرہیزگاری، صبر، دینداری، برادرانہ اُلفت اور محبت کو بڑھاؤ۔‘ (۲-پطرس ۱:۵-۷؛ گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) اس کی دوسری طرف، اگر ہم اپنی ذات میں مگن زندگی گزارتے ہیں یا یہوؔواہ کی برائے نام خدمت کرتے ہیں تو ہم معقول طور پر اپنے ایمان کے بڑھنے کی توقع نہیں کر سکتے۔
۲۴ عزؔرا یہوؔواہ کے کلام کو پڑھنے اور اُسے عمل میں لانے پر ”آمادہ ہو گیا“۔ (عزرا ۷:۱۰) اسی طرح میکاؔہ بھی اثرپذیر دل رکھتا تھا۔ ”لیکن مَیں خداوند کی راہ دیکھونگا اور اپنے نجات دینے والے خدا کا انتظار کرونگا میرا خدا میری سنیگا۔“—میکاہ ۷:۷۔
۲۵ میگؔدلینا، جس کا شروع میں حوالہ دیا گیا، صبر کے ساتھ یہوؔواہ کی منتظر ہے۔ (حبقوق ۲:۳) وہ بیان کرتی ہے: ”روحانی فردوس پہلے ہی سے ہمارے پاس ہے۔ دوسرا قدم، جسمانی فردوس، بہت جلد آ جائے گا۔ اس اثنا میں ہزارہا لوگ بڑی بِھیڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ اتنے زیادہ لوگوں کو خدا کی تنظیم میں جمع ہوتے دیکھ کر مجھ میں جذبات کی لہر سی دوڑ جاتی ہے۔“
اپنی نجات کے خدا پر آس لگانا
۲۶، ۲۷. (ا) آخر تک اپنے بھروسے کو مضبوط رکھنے کے لئے ہم سے کیا تقاضا کِیا جاتا ہے؟ (ب) کونسا ہیجانخیز تجربہ ہمارا منتظر ہے؟
۲۶ آخر تک اپنے بھروسے کو مضبوط رکھنا اپنے ایمان کو عمل میں لانے اور اُس راہنمائی کو احتیاط کے ساتھ سننے کا تقاضا کرتا ہے جو ہم یہوؔواہ اور اس کی تنظیم سے حاصل کرتے ہیں۔ یقینی طور پر اس کے لئے کوشش سُودمند ہے۔ ایک پائلٹ گہرا اطمینان محسوس کرتا ہے جب وہ ایک طویل، دشوار سفر کے بعد، نیچے اُترتا ہے اور انجامکار گہرے بادلوں میں سے نکلتا ہے۔ یہاں اُس کے سامنے خوشآمدید کہتی ہوئی اور سرسبز—وسیع زمین ہوتی ہے۔ نیچے ائیرپورٹ کا رنوے اُس کا خیرمقدم کرنے کا منتظر ہوتا ہے۔
۲۷ ایک ہیجانخیز تجربہ ہمارا بھی منتظر ہے۔ اس تاریک، بدکار دُنیا کی جگہ ایک نئی راستباز زمین لے لیگی۔ الہٰی خوشآمدید ہماری منتظر ہے۔ اگر ہم زبورنویس کے الفاظ پر دھیان دیتے ہیں تو ہم وہاں پہنچ سکتے ہیں: ”اَے خداوند خدا! تُو ہی میری اُمید ہے۔ لڑکپن سے میرا توکل تجھ ہی پر ہے۔ . . . مَیں سدا تیری ستائش کرتا رہونگا۔“—زبور ۷۱:۵، ۶۔ (۲۱ ۰۵/۰۱ w۹۶)