اپنے شادی کے عہدوپیمان پر قائم رہنا!
شادی کا دن ایک مسرتآفرین دن ہے۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ موقع بھی ہوتا ہے۔ دُلہن اور دُلہا ایک سنجیدہ وعدہ کرتے ہیں جو اُنکی بعد کی تمام زندگی پر اثرانداز ہوگا۔ وہ جو شادی پر مہمانوں کے طور پر موجود ہیں اس سنجیدہ وعدے کے گواہ ہیں، لیکن اصل گواہ یہوؔواہ خدا ہے۔
بائبل کسی خاص طریقِکار یا کسی خاص قسم کی شادی کی تقریب کا تقاضا نہیں کرتی۔ تاہم، اس کے الہٰی آغاز کے پیشِنظر، شادی کو رسمی طور پر ایک مذہبی تقریب کے دوران شادی کے عہدوپیمان کے ذریعے باضابطہ طور پر قائم کِیا جاتا ہے۔ کئی سالوں سے یہوؔواہ کے گواہ شادی کے مندرجہذیل عہدوپیمان کو استعمال کر رہے ہیں: ”مَیں——آپ——کو اپنی بیاہتا (بیوی/شوہر) قبول کرتا/کرتی ہوں، اور جب تک ہم دونوں خدا کے ازدواجی انتظام کے تحت زمین پر اکٹھے زندہ رہیں گے مَیں مسیحی (بیویوں/شوہروں) کے لئے پاک صحائف میں درج الہٰی شرح کی مطابقت میں پیار کروں گا/کروں گی اور عزیز رکھوں گا/رکھوں گی (دُلہن: اور گہرااحترام کروں گی)۔“a
ایک سوچبچار کرنے والی چیز
اگر آپ شادی کی بابت سوچ رہے ہیں تو شادی کے دن سے پیشتر اس عہد کی گہرائی اور مفہوم پر غور کرنا نہایت بیشقیمت ہوگا۔ سلیماؔن نے بیان کِیا: ”بولنے میں جلدبازی نہ کر اور تیرا دل جلدبازی سے خدا کے حضور کچھ نہ کہے۔“ (واعظ ۵:۲) اگر آپ پہلے سے شادیشُدہ ہیں توپھر کیا ہو؟ اس صورت میں آپ اس سنجیدہ عہدوپیمان کی اہمیت پر غوروخوض کرنے سے استفادہ کرینگے جو آپ نے یہوؔواہ کے سامنے کِیا تھا۔ کیا آپ اس پر پورا اُتر رہے ہیں؟ مسیحی اپنے وعدوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ سلیماؔن بیان کو جاری رکھتا ہے: ”تُو اپنی منت کو پورا کر۔ تیرا منت نہ ماننا اس سے بہتر ہے کہ تُو منت مانے اور ادا نہ کرے۔ تیرا مُنہ تیرے جسم کو گنہگار نہ بنائے اور فرشتہ کے حضور مت کہہ کہ بھولچوک تھی۔“—واعظ ۵:۴-۶۔
شادی کے عہدوپیمان پر جملہ با جملہ غوروخوض بِلاشُبہ اس سنجیدہ عہدوپیمان کی بابت آپکی سمجھ کو بہتر بنائیگا۔
”مَیں——آپ کو قبول کرتا ہوں“: یہ عہدوپیمان کے تعارفی الفاظ ہیں۔ یہ اُجاگر کرتے ہیں کہ آپ شادی کرنے کے اپنے فیصلے کی ذاتی ذمہداری کو قبول کرتے ہیں۔
مسیحی بندوبست کے تحت، شادی کرنا صحیفائی فریضہ نہیں ہے۔ خود یسوؔع مسیح غیرشادیشُدہ رہا اور اُن کے لئے ”جو قبول کر سکتے ہیں“ کنوارپن کی سفارش کی۔ (متی ۱۹:۱۰-۱۲) اسکی دوسری طرف، یسوؔع کے زیادہتر رسول شادیشُدہ مرد تھے۔ (لوقا ۴:۳۸؛ ۱-کرنتھیوں ۹:۵) یہ بات واضح ہے کہ شادی کرنے کا فیصلہ ایک ذاتی فیصلہ ہے۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو شادی کیلئے مجبور کرنے کا صحیفائی اختیار نہیں رکھتا۔
لہٰذا، شادی کرنے کے انتخاب کیلئے آپ خود ذمہدار ہیں۔ غالباً، آپ نے اُس شخص کا انتخاب کِیا جس سے آپ شادی کر رہے ہیں۔ جب آپ یہ کہتے ہوئے، ’مَیں——آپ کو قبول کرتا ہوں،‘ شادی کا عہدوپیمان کرتے ہیں، تو آپ اُس شخص کو اُس کی خوبیوں—بلکہ اُسکی خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔
جلد ہی آپ اپنے ساتھی کی شخصیت کے غیرمتوقع پہلوؤں سے واقف ہو جائینگے۔ کبھیکبھار مایوسی بھی ہوگی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”سب نے گناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“ (رومیوں ۳:۲۳) لہٰذا اپنے ساتھی کیساتھ گزربسر کرنے کیلئے آپکو ردوبدل کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ مشکل ہو سکتا اور کبھیکبھار ممکن ہے کہ آپ محسوس کریں کہ چھوڑ دینا چاہئے۔ لیکن یاد رکھیں، شادی کا عہدوپیمان یہوؔواہ کی موجودگی میں کِیا جاتا ہے۔ وہ آپکو کامیاب ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔
”اپنی بیاہتا (بیوی/شوہر) قبول کرتا/کرتی ہوں“: سب سے پہلی شادی پر، جب حوؔا کو آؔدم سے بیاہ دیا گیا تو یہوؔواہ خدا نے فرمایا کہ ”وہ ایک تن ہونگے۔“ (پیدایش ۲:۲۴؛ متی ۱۹:۴-۶) یوں ازدواجی ملاپ ایک انتہائی قریبی رشتہ ہے جو دو انسانوں کے مابین پایا جا سکتا ہے۔ شادی آپکو ایک نئے رشتے میں منسلک کرتی ہے۔ آپ کسی کو اپنی ”بیاہتا بیوی“ یا ”بیاہتا شوہر“ قبول کرتے ہیں۔ کوئی بھی دوسرا رشتہ اسکی مانند نہیں ہے۔ افعال جو دیگر رشتوں میں کم تکلیف کا باعث بنتے ہیں ازدواجی انتظام کے اندر بہت زیادہ دُکھ کا باعث بن سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، افسیوں ۴:۲۶ میں پائی جانے والی صحیفائی مشورت کو لے لیں۔ وہاں بائبل بیان کرتی ہے: ”غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“ شاید آپ نے رشتہداروں اور دوستوں کیساتھ اپنے معاملات کو ہمیشہ اتنی جلدی طے نہیں کِیا جتنی جلدی آپکو کرنا چاہئے۔ لیکن آپکا ازدواجی ساتھی کسی دوسرے رشتہدار یا دوست سے زیادہ قریب ہے۔ اپنے ساتھی کیساتھ معاملات کو جلد رفعدفع کرنے میں ناکامی آپکے درمیان خصوصی رشتے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
کیا آپ اپنے اور اپنے ساتھی کے درمیان نااتفاقی کو طویلتر جھنجھلاہٹ یا ہنگامہخیز مسئلے کی حد تک بڑھنے دیتے ہیں؟ کیا غلطفہمیاں اور پریشانکُن حالات کئی دنوں تک طول پکڑ جاتے ہیں؟ اپنے عہدوپیمان کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے، جب مشکلات پیدا ہو جائیں تو اپنے ساتھی کیساتھ صلح کئے بغیر ایک دن بھی نہ گزرنے دیں۔ اسکا مطلب معاف کرنا اور بھول جانا ہے اور اسکے علاوہ خود اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو تسلیم کرنا ہے۔—زبور ۵۱:۵؛ لوقا ۱۷:۳، ۴۔
”پیار کرنا“: ہونے والا شوہر اپنی دُلہن کو ”پیار کرنے اور عزیز جاننے“ کا عہدوپیمان کرتا ہے۔ اس محبت میں وہ رومانی محبت بھی شامل ہے جس نے غالباً اُنہیں ایک کر دیا تھا۔ لیکن رومانی محبت کافی نہیں ہے۔ محبت جس کا عہد ایک مسیحی اپنے ساتھی کیلئے کرتا ہے وہ زیادہ گہری اور وسیع ہے۔
افسیوں ۵:۲۵ بیان کرتی ہے: ”اَے شوہرو! اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت [رکھی]۔“ کلیسیا کیلئے یسوؔع کی محبت یقیناً اُس زمرے میں نہیں آ سکتی جیسےکہ عورت اور مرد کے مابین رومانی محبت ہوتی ہے۔ اس صحیفے میں استعمالکردہ اصطلاح ”محبت رکھو“ اور ”محبت رکھی“ لفظ اگاپے سے مشتق ہے، جو اُصولوں سے تحریک پانے والی محبت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بائبل یہاں شوہروں کو اپنی بیویوں کیلئے دائمی، مضبوط، صابر محبت دکھانے کا حکم دے رہی ہے۔
یہ محض اس قسم کا جذبہ نہیں کہ ”مَیں تُم سے اسلئے محبت کرتا ہوں کیونکہ تُم مجھ سے محبت کرتی ہو۔“ شوہر خود سے زیادہ اپنی بیوی کے مفاد کا خواہاں ہوتا ہے، اور اسی طرح بیوی اپنے شوہر سے محبت کرتی ہے۔ (فلپیوں ۲:۴) اپنے ساتھی کے لئے گہری محبت پیدا کرنا آپ کو اپنے شادی کے عہدوپیمان پر پورا اُترنے میں مدد دیگا۔
”عزیز رکھنا“: ایک ڈکشنری کے مطابق، ”عزیز رکھنے“ کا مطلب ’پیار کرنا، محبت محسوس کرنا یا دکھانا‘ ہے۔ آپکو گفتار اور کردار سے محبت ظاہر کرنی چاہئے! ایک بیوی کو بالخصوص اپنے شوہر کے پیار کے متواتر اظہار کی ضرورت ہے۔ شاید اُس کا شوہر اُسکی جسمانی ضروریات کا کافی خیال رکھتا ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ایسی بیویاں ہیں جنہیں کافی زیادہ کھانا اور آرامدہ گھر میسر ہیں لیکن جو اپنے ازدواجی ساتھی کی طرف سے غفلت برتنے یا نظرانداز کئے جانے کی وجہ سے نہایت ناخوش ہیں۔
اسکے برعکس، ایک بیوی جو جانتی ہے کہ اُس سے محبت کی جاتی ہے اُسے عزیز رکھا جاتا ہے اُس کے پاس خوش ہونے کی ہر وجہ موجود ہوتی ہے۔ بِلاشُبہ، یہی بات شوہروں کی بابت بھی کہی جا سکتی ہے۔ کافی حد تک سچی محبت کی دلکشی کو پیار کے مخلصانہ اظہارات سے بڑھایا جاتا ہے۔ غزلالغزلات میں، محبت کرنے والا چرواہا پکار اُٹھتا ہے: ”اَے میری پیاری! میری زوجہ! تیرا عشق کیا خوب ہے! تیری محبت مے سے زیادہ لذیذ ہے اور تیرے عطروں کی مہک ہر طرح کی خوشبو سے بڑھکر ہے۔“—غزلالغزلات ۴:۱۰۔
”اور گہرا احترام کرونگی“: صدیوں کے دوران، ایسے انسان موجود رہے ہیں جنہوں نے عورتوں کیساتھ بدسلوکی کی ہے اور اُنہیں ذلیل کِیا ہے۔ آجکل بھی، ورلڈ ہیلتھ میگزین کے مطابق، ”ہر مُلک اور ہر ایک معاشرتی اور معاشیاتی طبقے میں عورتوں کے خلاف تشدد واقع ہوتا ہے۔ بہت سی تہذیبوں میں بیوی کو زدوکوب کرنا ایک مرد کا حق خیال کِیا جاتا ہے۔“ مردوں کی اکثریت ہو سکتا ہے کہ ایسے طرزِعمل کی مجرم نہ ہو۔ پھربھی، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے مرد اُن معاملات میں جنکا تعلق خواتین سے ہے حقیقی دلچسپی ظاہر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ نتیجتاً، بہت سی خواتین نے مردوں کیلئے منفی رجحان کو فروغ دیا ہے۔ بعض بیویوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے، ”مَیں اپنے شوہر سے پیار کرتی ہوں، لیکن مَیں اُس کا احترام نہیں کر سکتی!“
تاہم، یہوؔواہ خدا اُن عورتوں کی قدر کرتا ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرنے کی کوشش کرتی ہیں—خواہ وہ وقتاًفوقتاً اُسکی توقعات پر پورا اُترنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ تسلیم کرتی ہے کہ اُسے خداداد تفویض، یا مرتبہ حاصل ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳؛ افسیوں ۵:۲۳) تاہم اپنے شوہر کیلئے گہرا احترام یہوؔواہ کیلئے اُسکی پرستش اور فرمانبرداری کا ایک حصہ ہے۔ خدا دیندار عورتوں کی اطاعتشعاری کو نظرانداز نہیں کرتا۔—افسیوں ۵:۳۳؛ ۱-پطرس ۳:۱-۶؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۶:۱۰۔
شادی میں احترام مشترکہ ہونا چاہئے، اور محض توقع کرنے یا تقاضا کرنے کی بجائے اسے حاصل کِیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر، دلآزار یا ناپسندیدہ گفتگو کی ازدواجی بندوبست میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اپنے شوہر یا بیوی کی بابت معیوب باتیں کرنا پُرمحبت یا قابلِاحترام بات نہیں ہوگی۔ اپنے ساتھی کی ناکامیوں کی بابت دوسروں سے باتچیت کرنے یا اُن کی بابت سب کے سامنے گفتگو کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مذاقاً بھی ایک شخص اس حلقے میں احترام کی شدید کمی کو ظاہر کر سکتا ہے۔ افسیوں ۴:۲۹، ۳۲ کے الفاظ کا اطلاق شوہر اور بیوی دونوں پر ہوتا ہے۔ وہاں بائبل بیان کرتی ہے: ”کوئی گندی بات تمہارے مُنہ سے نہ نکلے بلکہ وہی جو ضرورت کے موافق ترقی کیلئے اچھی ہو . . . ایک دوسرے پر مہربان اور نرم دل ہو۔“
”پاک صحائف میں درج الہٰی شرح کی مطابقت میں“: خدا چاہتا ہے کہ ہم انتخاب اور عمل کی آزادی سے لطفاندوز ہوں۔ وہ ہم پر ازدواجی زندگی کو باضابطہ بنانے والے اصولوں کی تھکا دینے والی فہرست کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ تاہم، ہماری خاطر ہی اُس نے چند ایک رہبراصول وضع کئے ہیں۔
آجکل، شادی کی بابت بیشمار مطبوعہ مواد موجود ہے، اور بہت سے لوگوں کا اپنا نظامِفلسفہ بھی ہے۔ لیکن خبردار رہیں! شادی کے موضوع پر، شائعکردہ بہت سی معلومات بائبل کے برعکس ہیں۔
یہ بھی سمجھ لیں کہ ہر دوسرے جوڑے کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ایک طرح سے، شادیشُدہ جوڑے برف کے گالوں کی مانند ہیں؛ ممکن ہے کہ دُور سے وہ ایک جیسے دکھائی دیں، لیکن درحقیقت ہر ایک منفرد ہے، تمام دوسروں سے بالکل مختلف۔ دُنیا میں کوئی بھی دوسرا جوڑا آپ کی شخصیت کی آپکے ساتھی کیساتھ ہمآہنگی کی نقل نہیں کر سکتا۔ پس دوسروں کے نظریات کو قبول کرنے میں جلدبازی نہ کریں۔ کوئی بھی ایسا انسانساختہ فارمولا نہیں ہے جو ہر شادی پر عائد ہوتا ہو!
اس کے برعکس، بائبل کے تمام احکام سچ اور قابلِاطلاق ہیں۔ پولسؔ رسول نے لکھا: ”ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح . . . کے لئے فائدہمند بھی ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶؛ زبور ۱۱۹:۱۵۱) اگر آپ بائبل کو پڑھتے اور اسکی تعلیمات کو اپنی روزمرّہ زندگی میں بطور راہنمائی قبول کرتے ہیں تو آپ اپنی شادی کے عہدوپیمان کے مطابق عمل کرنے کے قابل ہونگے۔—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
”اور جبتک ہم دونوں زمین پر اکھٹے زندہ رہینگے“: یہ طویل عرصے تک ایک ساتھ رہنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدا حکم دیتا ہے کہ ”مرد اپنے ماںباپ کو چھوڑیگا اور اپنی بیوی سے ملا رہیگا۔“ (پیدایش ۲:۲۴) یہوؔواہ چاہتا ہے کہ آپ اکٹھے رہیں۔ اکٹھے اُسکی خدمت کریں۔ اکٹھے اُس کے کلام کا مطالعہ کریں۔ اکٹھے سیر کرنے، اکٹھے بیٹھنے، اکٹھے کھانے کیلئے وقت نکالیں۔ اکٹھے ملکر زندگی سے لطف اُٹھائیں!
بعض جوڑے ہر روز محض ایک دوسرے سے باتچیت کرنے کیلئے وقت نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شادی کے کئی سال بعد بھی، ازدواجی خوشی کیلئے یہ وابستگی نہایت اہم ہے۔
”خدا کے ازدواجی نظام کے تحت“: شادی یہوؔواہ خدا کی طرف سے ایک بخشش ہے، جس نے ازدواجی انتظام کو قائم کِیا۔ (امثال ۱۹:۱۴) اُسکے انتظام کی پیروی کرنے میں ناکامی نہ صرف آپکی ازدواجی خوشی کیلئے بلکہ خالق کیساتھ آپکے رشتے کیلئے بھی خطرہ پیش کریگی۔ اسکے برعکس، جو شوہر اور بیوی یہوؔواہ کیساتھ اچھا رشتہ قائم کرتے ہیں، جسکا اظہار اُسکے انتظام کیلئے وفاداری سے کِیا جاتا ہے تو وہ ایک دوسرے کے علاوہ دوسرے لوگوں کیساتھ بھی پُرامن رشتہ قائم رکھ سکیں گے۔—امثال ۱۶:۷۔
کبھی نہ بھولیں کہ یہوؔواہ آپکے ازدواجی عہدوپیمان کا اصل گواہ ہے۔ اس سنجیدہ وعدے کے مطابق عمل کرتے رہیں، تو آپکی شادی یہوؔواہ خدا کیلئے حمد اور جلال کا باعث ہوگی! (۱۹ ۰۳/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a بعض جگہوں پر ممکن ہے کہ مقامی قوانین پر عمل کرنے کی غرض سے اس عہد کے تھوڑے ردوبدل والے بیان کو استعمال کرنے کی ضرورت پڑے۔ (متی ۲۲:۲۱) تاہم، زیادہتر ممالک میں مسیحی جوڑے مذکورہبالا عہد استعمال کرتے ہیں۔