شاگرد بنانے سے خوشی کیسے حاصل کریں
۱، ۲. (ا) آجکل کس عظیمترین خوشی کا تجربہ کِیا جا سکتا ہے اور اس میں کیا کچھ شامل ہے؟ (ب) لاطینی امریکہ میں کس خوشی کا تجربہ کِیا گیا ہے اور یہ ہمیں کیسے مدد دے سکتی ہے؟
عظیمترین خوشیوں میں ایک جسکا تجربہ کوئی شخص کر سکتا ہے وہ خدا کیساتھ کام کرنے والا ہونا ہے۔ آجکل، خدا کے کام میں راستبازی کی طرف مائل لوگوں کو مسیحی کلیسیا میں جمع کرنا اور اُنہیں اب بطور مسیحیوں کے زندگی بسر کرنے اور نئی دُنیا میں داخل ہونے کیلئے تربیت دینا شامل ہے۔—میکاہ ۴:۱-۴؛ متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ ۲-پطرس ۳:۱۳۔
۲ لاطینی امریکہ میں، ۱۹۸۰ سے لیکر ایک ملین لوگوں کو یسوؔع مسیح کے شاگرد بنتے ہوئے دیکھنا یہوؔواہ کے گواہوں کیلئے بڑی خوشی کا باعث ہوا ہے۔ اس پھلدار علاقے میں، جہاں بہتیرے لوگ بائبل کا احترام کرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں، بعض کُلوقتی خادم سینکڑوں لوگوں کو اپنی زندگیاں یہوؔواہ کیلئے مخصوص کرنے میں مدد دینے کے قابل ہوئے ہیں۔ اتنے زیادہ تجربے کیساتھ، شاید وہ ہمیں شاگرد بنانے کی خوشی کی بابت کچھ بتا سکتے ہیں۔ اُن کے بعض مشورے ہو سکتا ہے کہ جہاں آپ رہتے ہیں وہاں شاگرد بنانے سے خوشی حاصل کرنے میں آپکی مدد کریں۔
امکانی ”بھیڑوں“ کو پہچاننا
۳. بعض خادم کیا کہتے ہیں کہ کیا چیز اُنہیں اُن لوگوں کی شناخت کرنے میں مدد دیتی ہے جنکی روحانی طور پر مدد کی جا سکتی ہے؟
۳ جب یسوؔع نے اپنے رسولوں کو منادی کرنے کیلئے بھیجا تو اُس نے فرمایا کہ ”جس شہر یا گاؤں میں تُم داخل ہو دریافت کرنا کہ اُس میں کون لائق ہے۔“ (متی ۱۰:۱۱) جب آپ لوگوں سے ملتے ہیں تو آپ اُن لوگوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں جنکی روحانی طور پر مدد کی جا سکتی ہے؟ ایڈؔورڈ جو تقریباً ۵۰ سال سے زیادہ عرصہ سے کُلوقتی خادم ہے وہ کہتا ہے: ”وہ اپنے سنجیدہ سوالات اور صحیفائی جوابات حاصل کرنے پر اپنے اطمینان سے اس کا اظہار کرتے ہیں۔“ کیرؔل اضافہ کرتی ہے: ”اگر کوئی شخص ذاتی مشکل یا پریشانی کے سلسلے میں مجھے ہمراز بناتا ہے تو یہ درحقیقت مدد کیلئے پکار ہوتی ہے۔ مَیں واچ ٹاور سوسائٹی کی مطبوعات میں سے مفید معلومات تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایسی ذاتی دلچسپی اکثر بائبل مطالعہ شروع ہونے کا باعث بنتی ہے۔“ تاہم، خلوصدل لوگ ہمیشہ آسانی سے نہیں پہچانے جاتے۔ لوئیسؔ کہتا ہے: ”بعض جو بڑی دلچسپی لینے والے دکھائی دیتے تھے بعد میں بالکل دلچسپی نہ لینے والے ثابت ہوئے، مگر دیگر جو پہلے مخالف نظر آتے تھے بعدازاں جب اُنہوں نے سنا کہ بائبل درحقیقت کیا کہتی ہے تو بدل گئے۔“ وہ مزید کہتا ہے، چونکہ بہتیرے لاطینی امریکی بائبل کا احترام کرتے ہیں، ”جس وقت مَیں اُنہیں یہ دکھاتا ہوں تو جب وہ فوری طور پر جوکچھ بائبل سکھاتی ہے اُسے قبول کرتے ہیں تو مَیں اُنہیں پہچان لیتا ہوں جنکی روحانی طور پر مدد کی جا سکتی ہے۔“ ایسے ”لائق“ اشخاص کی روحانی طور پر ترقی کرنے کیلئے مدد کرنا حقیقی خوشی اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
بائبل مطالعے شروع کرنا
۴. لوگوں کو بائبل سیکھنے میں مدد دینے کا بہترین طریقہ کیا ہے لیکن ہمیں کیا چیز یاد رکھنی چاہئے؟
۴ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے تیارکردہ بائبل مطالعہ کیلئے امدادی مطبوعات کو استعمال کرنا عموماً لوگوں کو بائبل سچائی سمجھنے میں مدد دینے کا بہترین طریقہ ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) بائبل مطالعہ کی ایسی امدادی کُتب کی قدروقیمت کیلئے آپ قدردانی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ اؔیڈورڈ کہتا ہے: ”چونکہ لوگوں کے حالات، شخصیات، اور نظریات اسقدر مختلف ہوتے ہیں، اسلئے مَیں بائبل مطالعے شروع کرنے میں لچکدار بننے کی کوشش کرتا ہوں۔“ آپ ہر ایک کیساتھ ایک ہی طریقہ استعمال نہیں کر سکتے۔
۵. اس بات کی بابت بعض مشنری کیا تجاویز پیش کرتے ہیں کہ بائبل مطالعے کیسے شروع کئے جائیں؟
۵ بعض افراد کے سلسلے میں، ممکن ہے کہ بائبل مطالعہ کیلئے درسی کتاب متعارف کروانے سے پہلے صحائف کے متعدد غیررسمی مباحثے درکار ہوں۔ تاہم، ایک مشنری جوڑا کہتا ہے: ”ہم عموماً پہلی ہی ملاقات پر مطالعے کی پیشکش کر دیتے ہیں۔“ اسی طرح سے، ایک گواہ جو ۵۵ لوگوں کی مخصوصیت کی حد تک مدد کر چکی ہے، کہتی ہے: ”بائبل مطالعے شروع کرانے کا میرا بنیادی طریقہ براہِراست یو کین لِو فار ایور اِن پیراڈائز آن ارتھ کتاب کو شروع کرنا رہا ہے۔“ اگرچہ بعض کسی بھی چیز کا مطالعہ کرنے کے خیال کو پسند نہیں کرتے، دیگر کسی بھی چیز کا جسکی کی بابت وہ یقین رکھتے ہیں کہ زندگی میں اُن کیلئے مددگار ثابت ہوگی مطالعہ کرنے کے مشتاق ہوتے ہیں۔ گھر پر مُفت بائبل تعلیم کی پیشکش اکثر اُن کیلئے دلکش دکھائی دیتی ہے۔ بعض مشنری ایسی پیشکش کی وضاحت کرتے ہیں اور اسکے بعد کہتے ہیں: ”مَیں آپکو دکھانا چاہونگا کہ ہم یہ کیسے کرتے ہیں۔ اگر آپکو پسند آئے تو آپ اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ پسند نہ کریں تو یہ آپکی اپنی مرضی ہے۔“ جب اسے اسطرح سے پیش کِیا جاتا ہے تو لوگ اسے قبول کرنے میں خوف محسوس نہیں کرتے۔
۶. لٹریچر استعمال کرتے وقت کس چیز پر زور دیا جانا چاہئے اور کیسے؟
۶ ایک اَور گواہ جس نے کم آمدنی اور کم تعلیم والے بہتیرے لوگوں کی مدد کی ہے، کہتا ہے: ”مَیں نے بائبل مطالعے شروع کرنے میں خاص طور پر اشتہارات کو مفید پایا ہے۔“ وہ جو بھی اشاعت استعمال کریں، کُلوقتی اُستاد بائبل کو خاص اہمیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیرؔولا کہتی ہے: ”پہلے مطالعے پر، مَیں صرف تصاویر اور تقریباً پانچ صحائف استعمال کرتی ہوں، تاکہ خاص نکات اُجاگر ہو جائیں اور بائبل زیادہ مشکل دکھائی نہ دے۔“
دلچسپی برقرار رکھنا
۷. (ا) ترقیپسندانہ مطالعہ کروانے کی کُنجی کیا ہے؟ (ب) اہم نکات پر توجہ مرکوز رکھنا کیوں ضروری ہے اور اس کی مثال کیسے پیش کی جا سکتی ہے؟
۷ لوگ ترقی کے احساس سے خوش ہوتے ہیں، اسلئے جؔینیفر سفارش کرتی ہے: ”مطالعہ کو دلچسپ بنائیں۔ ترقی کرتے جائیں۔“ باقاعدگی سے بِلاناغہ مطالعہ کروانا بھی اُن کیلئے یہ محسوس کرنے کا باعث بنتا ہے کہ وہ ترقی کر رہے ہیں۔ ایک سپیشل پائنیر جس نے دیہی علاقے میں پرورش پائی تھی وضاحتوں کو سادہ رکھنے اور خاص نکات پر توجہ مرکوز رکھنے کی اہمیت کی وضاحت کرتا ہے، تاکہ کم تعلیمیافتہ بھی ترقی کر سکیں۔ وہ کہتا ہے: ”میرے گاؤں میں، ہمیں بیج بونے کے بعد کھیت میں پانی کا چھڑکاؤ کرنا پڑتا تھا۔ اگر ہم کھیتوں میں بہت زیادہ پانی دے دیتے تو بالائی مٹی کی تہہ اتنی سخت بن جاتی تھی کہ اُگنے والے بیج باہر نہیں نکل سکتے تھے اور وہ مر جاتے تھے۔ اسی طرح، اگر آپ نئے دلچسپی لینے والے اشخاص کو بہت زیادہ نکات بتا دیتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ بہت مشکل دکھائی دے اور وہ بےدل ہو جائیں۔“ اگر اُنہوں نے فہم کو بڑھانا ہے تو تحقیقاتی ذہن رکھنے والے اشخاص کو بھی ایک وقت پر ایک ہی مضمون پر توجہ مرکوز رکھنا سیکھنا چاہئے۔ یسوؔع نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”مجھے تُم سے اَور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تُم اُنکی برداشت نہیں کر سکتے۔“—یوحنا ۱۶:۱۲۔
۸. ہماری ملاقات کے بعد بھی کیسے دلچسپی کو بحال رکھا جا سکتا ہے؟
۸ دلچسپی برقرار رکھنے کا ایک اَور طریقہ یہ ہے کہ جن سے آپ ملتے ہیں اُن کی حوصلہافزائی کریں کہ آپکے جانے کے بعد بھی خدا کے کلام کی بابت سوچبچار کرتے رہیں۔ یوؔلانڈا سفارش کرتی ہے: ”ایک نامکمل سوال چھوڑ دیں۔ اُنہیں کچھ ہومورک کرنے کیلئے دیں، جیسےکہ بائبل کے ایک حصے کی پڑھائی یا کسی ایسے مضمون پر تحقیق جو اُن کی دلچسپی کا حامل ہے۔“
یہوؔواہ کیلئے محبت کو فروغ دینا
۹. (ا) ہماری خوشی میں اضافہ کیسے ہوگا؟ (ب) یہوؔواہ کیلئے محبت کو فروغ دینے کیلئے ہم لوگوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۹ آپکی خوشی میں اُس وقت اضافہ ہوگا جب آپ اپنے طالبعلموں کو ”کلام پر عمل کرنے والے . . . نہ محض سننے والے“ بننے میں مدد دیتے ہیں۔ (یعقوب ۱:۲۲) آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟ سچے مسیحی یہوؔواہ کیلئے محبت سے تحریک پاتے ہیں۔ پیڈرؔو، جس کا تعلق میکسیکوؔ سے ہے، وضاحت کرتا ہے: ”لوگ ناواقف شخص سے محبت نہیں رکھ سکتے، اسلئے مطالعے کے شروع ہی سے، مَیں اُنہیں بائبل میں سے خدا کا نام سکھاتا ہوں اور مَیں یہوؔواہ کی خوبیوں پر زور دینے کیلئے مواقع کی تلاش میں رہتا ہوں۔“ گفتگو کے دوران یہوؔواہ کی بابت اپنے احساسات کا اظہار کرنے سے آپ اُس کیلئے قدردانی پیدا کر سکتے ہیں۔ الزؔبتھ کہتی ہے: ”مَیں ہمیشہ یہوؔواہ کی نیکی کو بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اپنے مطالعوں پر، اگر مَیں ایک خوبصورت پھول، ایک دلکش پرندہ یا کوئی کھیلتا ہوا بلوٹا دیکھتی ہوں، تو مَیں ہمیشہ ذکر کرتی ہوں کہ یہ یہوؔواہ کا کام ہے۔“ جؔینیفر تجویز کرتی ہے، ”خدا کی موعودہ نئی دُنیا کا ایک ایسی حقیقی چیز کے طور پر ذکر کریں جسکی بابت آپ جانتے ہیں۔ اُن سے پوچھیں کہ وہ نئی دُنیا میں کیا کرنا پسند کرینگے۔“
۱۰. ہر مطالعے کے بعد مختصر نظرثانی کیوں اہم ہے اور اسے کیسے کِیا جا سکتا ہے؟
۱۰ جب ایک شخص یہوؔواہ کی بابت جوکچھ سیکھتا ہے اُس پر قدرافزائی کیساتھ غوروخوض کرتا ہے تو یہ اُسکے دل تک پہنچ جاتا ہے اور اُسے کچھ کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ لیکن جبتک وہ یاد نہیں رکھتا وہ غوروخوض نہیں کر سکتا۔ ہر مطالعے کے بعد تین یا چار خاص نکات پر مختصر نظرثانی یاد رکھنے میں معاون ہے۔ بہتیرے بائبل سکھانے والے اُستاد نئے اشخاص سے اُنکی بائبل کے پچھلے حصے پر مختصر نوٹ کیساتھ کلیدی صحائف لکھواتے ہیں۔ انگلینڈؔ سے ایک مشنری اعادوں کے ایک فائدے کی بابت بیان کرتا ہے: ”مَیں اُن سے پوچھتا ہوں کہ معلومات نے اُنہیں کیسے فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ اُنہیں قدرافزائی کیساتھ یہوؔواہ کی راہوں اور قوانین پر غوروخوض کرنے کی تحریک دیتا ہے۔“
۱۱، ۱۲. لوگوں کی خدا کے قریب آنے میں مدد کرنے کیلئے کونسی مزید تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں؟
۱۱ ایک وفادار گواہ جس نے گلئیڈ کی تیسری کلاس سے گریجوایشن کی کہتی ہے: ”ہمیں پُرجوش ہونا چاہئے۔ ہمارے طالبعلموں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہم جوکچھ سکھاتے ہیں اُس پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔“ ایمان جس نے آپکو خوشی سے ”عمل کرنے والا“ بنایا ہے اگر آپ اسکا اظہار کرتے ہیں تو یہ دوسرے کو تحریک دے سکتا ہے۔—یعقوب ۱:۲۵۔
۱۲ ”مَیں محسوس کرتی ہوں کہ اگر مَیں اُنہیں اُنکی دُعاؤں کے جوابات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہوں تو لوگ خدا کے قریب محسوس کرتے ہیں،“ ایک گواہ کہتی ہے جس نے بہتیروں کی یہوؔواہ کی پرستش کرنے میں مدد کی ہے۔ ”مَیں اپنے ذاتی تجربے سے اُنہیں مثالیں دیتی ہوں، جیسےکہ یہ: جب مَیں اور میری ساتھی بطور پائنیر ایک نئی تفویض پر پہنچے تو ہمارے پاس صرف چند سبزیاں، مارجرین کا ایک پیکٹ تھا، اور پیسے بالکل نہیں تھے۔ ہم نے رات کے کھانے پر سب کچھ ختم کر لیا اور کہا، ’اب ہمارے پاس کل کے لئے کچھ نہیں ہے۔‘ ہم نے اسکی بابت دُعا کی اور جلد ہی سونے کیلئے چلی گئیں۔ اگلی صبح سویرے ہی ایک مقامی گواہ آئی اور یہ کہتے ہوئے اپنا تعارف کرایا، ’مَیں نے دُعا کی تھی کہ یہوؔواہ پائنیر بھیجے۔ اب مَیں دن کا بیشتر حصہ آپ کے ساتھ گزار سکتی ہوں، لیکن کیونکہ مَیں دیہات میں رہتی ہوں، اسلئے مجھے دوپہر کا کھانا آپکے ساتھ کھانا پڑیگا، لہٰذا مَیں اپنے ساتھ ہم سب کیلئے یہ کھانا لائی ہوں۔‘ یہ گائے کے گوشت اور سبزیوں کی کافی بڑی مقدار تھی۔ مَیں ہمیشہ اپنے طالبعلموں کو بتاتی ہوں کہ اگر ہم اُسکی بادشاہی کو پہلا درجہ دیتے ہیں تو یہوؔواہ ہمیں کبھی ترک نہیں کرتا۔“—متی ۶:۳۳۔
عملی مدد پیش کریں
۱۳، ۱۴. (ا) بائبل مطالعہ کروانے کے علاوہ، شاگرد بنانے میں اَور کیا کچھ شامل ہے؟ (ب) تجربہکار گواہوں نے اَور کونسی عملی تجاویز پیش کی ہیں؟
۱۳ مسیح کے شاگرد بنانے میں محض بائبل مطالعہ کرانے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ ایک مشنری جس نے کافی سالوں تک بطور سفری نگہبان خدمت کی، کہتا ہے: ”اُنہیں وقت دیں۔ مطالعہ کے فوراً بعد بھاگنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر مناسب ہو تو کچھ وقت کیلئے ٹھہریں اور باتچیت کریں۔“ الزؔبتھ کہتی ہے: ”مَیں اُن میں دلچسپی لیتی ہوں کیونکہ زندگی اُلجھی ہوئی ہے۔ اکثراوقات مَیں اُن کی بابت فکرمند ہوتی ہوں جیسےکہ وہ میرے بچے ہوں۔“ دیگر گواہوں نے یہ تجاویز پیش کیں: ”جب وہ بیمار ہوں تو اُنکی عیادت کیلئے جائیں۔“ ”اگر آپ اُن کے گھر کے قریب ہیں، مثال کے طور پر میدانی خدمتگزاری میں تو دوسرے گواہوں سے متعارف کرانے کیلئے مختصر سی ملاقات کریں۔“ اؔیوا کہتی ہے: ”زندگی میں کسی شخص کے پسمنظر اور حالت کو سمجھنے کیلئے غور سے سنیں۔ لوگ سچائی کیلئے جسطرح کا ردِعمل دکھائینگے یہ اُس پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اُنکی ترقی کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں۔ اُنکے دوست بنیں تاکہ اُنہیں اپنے مسائل کی بابت گفتگو کرنے کا اعتماد حاصل ہو۔“ کیرؔول اضافہ کرتی ہے: ”ایک شخص میں حقیقی دلچسپی لینا ضروری ہے کیونکہ سچائی اُسکی زندگی میں جو تبدیلیاں لائیگی بعضاوقات اسکا مطلب خاندان اور دوستاحباب سے بچھڑنا ہوگا۔ عموماً، یہ اچھا ہے اگر طالبعلم جانتا ہے کہ ہم کہاں رہتے ہیں اور یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ہمارے پاس آ سکتا ہے۔“ کلیسیا کو اپنے نئے خاندان کے طور پر خیال کرنے میں اُسکی مدد کریں۔—متی ۱۰:۳۵؛ مرقس ۱۰:۲۹، ۳۰۔
۱۴ ”عملی مدد پیش کرنے کیلئے چوکس رہیں۔ اجلاسوں پر اُن کیساتھ بیٹھیں اور اُن کے بچوں کے سلسلے میں اُنکی مدد کریں،“ یوؔلانڈا کہتی ہے۔ نئے اشخاص کو یہ دکھانا کہ بچوں کی تربیت کیسے کریں، صفائی ستھرائی کے اپنے معیاروں کو کیسے بہتر بنائیں، اجلاسوں کیلئے کیسے تبصرے تیار کریں، اور تھیوکریٹک منسٹری سکول میں کیسے تقاریر دیں یہ سب شاگرد بنانے کے کام کا حصہ ہے۔ ایک اَور بہن اضافہ کرتی ہے: ”نئے اشخاص کو خدمتگزاری کیلئے تربیت دینا ضروری ہے۔ جب تربیت کے اس پہلو کو نظرانداز کِیا جاتا ہے تو بعض منادی کے کام کی بابت خوفزدہ رہتے ہیں، یہوؔواہ کی خدمت کرنے میں اپنی خوشی کو کھو دیتے اور برداشت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔“ لہٰذا گھرباگھر، واپسی ملاقاتیں کرنے، اور بائبل مطالعے شروع کرنے کے کام میں احتیاط کیساتھ تربیت فراہم کریں۔ جب آپ اپنے طالبعلم کو اپنی مدد اور راہنمائی کی بدولت ترقی کرتے دیکھتے ہیں تو آپکو بےپناہ خوشی حاصل ہوگی۔
اُنہیں برداشت کرنے کیلئے مضبوط بنائیں
۱۵. طالبعلم کے بپتسمہ پانے کے بعد کس بات کو یاد رکھنا چاہئے؟
۱۵ ایک تجربہکار شاگرد بنانے والی آگاہ کرتی ہے، ”طالبعلم کے بپتسمہ پانے کے بعد عموماً مطالعہ کرنے کو نظرانداز کرنے کا میلان پایا جاتا ہے“۔ اُستاد اور طالبعلم دونوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایک نیا بپتسمہیافتہ مسیحی روحانی طور پر پُختہ ہونے سے بہت دُور ہے۔ اُسے اپنے ایمان میں، خدا کے فرمان کیلئے اپنی قدردانی، اور یہوؔواہ کیلئے اپنی محبت میں بہت زیادہ ترقی کرنی ہے۔ ذاتی مطالعے کی اچھی عادات پیدا کرنے کیلئے اُس کی حوصلہافزائی کرنا اشد ضروری ہے تاکہ وہ ہمیشہ ترقی کرتا رہے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۵۔
۱۶. (ا) کن طریقوں سے ایک نئے شخص کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ (ب) ایک طالبعلم نے کیا درخواست کی تھی اور اسکا کیا نتیجہ نکلا؟
۱۶ نئے شخص کو ترقی کرنے اور بھائیوں کی برادری کا مہماننواز رُکن بننے کیلئے مدد درکار ہو سکتی ہے۔ جُوںجُوں وہ قریب آتا ہے اُسے بھائیوں کی ناکاملیتوں کیساتھ سمجھوتا کرنے کیلئے راہنمائی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ (متی ۱۸:۱۵-۳۵) ماہر اُستاد بننے کیلئے، اپنے طور پر خود تحقیق کرنے کے قابل ہونے میں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ایک مشنری کہتی ہے: ”بپتسمے کے بعد ایک طالبعلم بطور اُستاد اپنی لیاقت کو بہتر بنانا چاہتی تھی، اسلئے اُس نے مجھ سے کہا، ’اگلے ہفتے مجھے ایک نیا مطالعہ کرانا ہے، لیکن مجھے اُن شروع کے ابواب کی بابت اپنی یادداشت کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے جو مَیں نے مطالعہ کئے تھے۔ براہِمہربانی کیا آپ ان ابواب کو دوبارہ میرے ساتھ کر سکتی ہیں، تاکہ مَیں صحائف اور تمثیلوں کی وضاحتوں کو نوٹ کر سکوں، اور پھر جب مَیں اپنے مطالعے پر جاؤں تو اُنہیں استعمال کر سکوں؟‘ وہ ایک عمدہ اُستاد بن گئی ہے جسکے چار طالبعلموں نے ایک اسمبلی پر بپتسمہ لیا تھا۔“
کیوں شاگرد بنانا اس کوشش کا مستحق ہے
۱۷، ۱۸. شاگرد بنانے کے کام کی بابت بعض نے قدردانی کے کونسے اظہارات کئے ہیں؟
۱۷ ”شاگرد بنانے کا مطلب ہے یہوؔواہ کے اَور زیادہ مداحین۔ جو سچائی قبول کرتے ہیں اُن کیلئے اسکا مطلب زندگی ہے،“ پاؔمیلا کہتی ہے۔ ”دوسروں کو سچائی سکھانا مجھے بیحد پسند ہے—یہ بہت دلکش ہے! ایک شخص طالبعلموں کو بتدریج ترقی کرتے، اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لاتے اور ایسی مشکلات پر قابو پاتے دیکھتا ہے جو یہوؔواہ کی روح کے بغیر پہاڑ دکھائی دیتی تھیں۔ بہتیرے جو یہوؔواہ سے محبت کرنے لگے ہیں اب میرے نہایت عزیز دوست بن گئے ہیں۔“
۱۸ ”جب مَیں اُن کی بابت سوچتی ہوں جنہیں مَیں نے شاگرد بننے میں مدد دی ہے،“ جرمنی سے ایک مشنری بیان کرتی ہے، ”تو مَیں بعض کمزور لوگوں کو دیکھتی ہوں جنہوں نے خدا کے خادموں کے طور پر اسقدر ترقی کی ہے کہ مَیں بمشکل اس کا یقین کر سکتی ہوں۔ مجھے ایسے لوگ نظر آتے ہیں جنہوں نے واضح طور پر، یہوؔواہ کی مدد سے خوفزدہ کرنے والی مشکلات پر قابو پایا ہے۔ مَیں ایسے خاندانوں کو دیکھتی ہوں جو کبھی شکستہ تھے مگر اب متحد ہیں—ذمہدار والدین اور خوشحال بچے۔ مَیں لوگوں کو یہوؔواہ کی مدحسرائی کرتے ہوئے بامقصد زندگیوں سے لطفاندوز ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ یہ ہے شاگرد بنانے کی خوشی۔“
۱۹. ہمیں کونسی بیمثال خوشی حاصل ہے اور اسے کیسے مکمل کِیا جا سکتا ہے؟
۱۹ جیہاں، شاگرد بنانے کے کام میں یہوؔواہ خدا کیساتھ کام کرنے والے ہونا بیمثال خوشی کا باعث ہے۔ مشنریوں اور پائنیروں کے تجربات نے اسے ثابت کِیا ہے۔ اگر آپ تجاویز کا اطلاق کرتے اور دلوجان سے اس پر کام کرتے ہیں تو آپ بھی اسی طرح کی خوشی اور اطمینان حاصل کر سکتے ہیں۔ یہوؔواہ کی برکت کے ساتھ، آپ کی خوشی مکمل ہوگی۔—امثال ۱۰:۲۲؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸۔ (۱۹ ۰۲/۱۵ w۹۶)