بُری خبروں کے بڑھتے ہوئے واقعات
کیا آپ نے کبھی غور کِیا ہے کہ اچھی خبریں دینے والی شہسُرخیوں کی نسبت بُری خبریں دینے والی شہسُرخیاں قارئین کی زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں؟ خواہ یہ قدرتی آفت کی بابت اخبار کی ایک سُرخی یا ایک مشہور رسالے کے سرِورق پر نمایاں کی جانے والی کوئی مذاح سے بھرپور افواہ ہے، ایسا لگتا ہے کہ اچھی خبروں کی نسبت بُری خبروں کی زیادہ مانگ ہے۔
آجکل بُری خبروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن ایک شخص بعضاوقات حیران ہوتا ہے کہ آیا رپورٹروں اور صحافیوں کو کوئی اچھی خبر تلاش کرنے کی بجائے—بُری خبریں تلاش کرنے اور ڈھونڈ نکالنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
پوری تاریخ کے دوران بہتات
واقعی، صدیوں کے دوران، اچھی خبروں کی نسبت بُری خبروں کی بہتات رہی ہے۔ تاریخی واقعات میں، انسانی دُکھ، نااُمیدی، اور مایوسی کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے، جوکہ نسلِانسانی کا مُقدر رہا ہے۔
آئیے چند ایک مثالوں پر غور کریں۔ زہکؔ لگران، کی مرتبکردہ کتاب کرانیکل آف دی ورلڈ، کہانیوں کا ایک مجموعہ پیش کرتی ہے، جس میں سے ہر ایک کسی خاص دن کیلئے تحریر کی گئی ہے جس دن یہ واقعہ رونما ہوا لیکن اسطرح سے کہ گویا کوئی جدید صحافی اس واقعہ کی خبر دے رہا ہے۔ ان خوب تحقیقشُدہ رپورٹوں سے ہم اُن وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بُری خبروں پر طائرانہ نظر ڈال سکتے ہیں جنکی بابت انسان نے اس کرۂارض پر اپنی تمامتر پُرآشوب زندگی کے دوران سنا ہے۔
سب سے پہلے، ۴۲۹ ق.س.ع. میں یوؔنان سے اس ابتدائی رپورٹ پر غور کریں۔ یہ اُس وقت اتھینےؔ اور سپاؔرٹا کے مابین جاری جنگ کا احاطہ کرتی ہے: ”جب بھوک سے ایسی حالت ہو گئی کہ اُسکے لوگ اپنے مُردوں کا گوشت کھا رہے تھے تو پوٹیڈؔا کی مدنی ریاست محاصرہ کرنے والے اتھینےؔ کے لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئی تھی۔“ واقعی ایک بُری خبر!
ہمارے سنِعام سے پہلے، پہلی صدی کی طرف آتے ہوئے، ہمیں جولیسؔ سیزر کی موت کی نمایاں خبر ملتی ہے، جس پر رؔوم، ۱۵ مارچ، ۴۴ ق.س. کی تاریخ درج ہے۔ ”جولیسؔ سیزر کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا ہے۔ اُسے سازشیوں کے ایک گروہ نے، جن میں اُسکے بعض قریبی دوست بھی تھے، اُس وقت چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا جب وہ آج سینٹ ہاؤس میں اپنی نشست پر براجمان ہوئے، مارچ ۱۵، ۴۴ ق.س.“
اس کے بعد کی صدیوں کے دوران، بُری خبروں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ایک چونکا دینے والی مثال ۱۴۸۷ میں میکسیکوؔ سے یہ خبر ہے: ”ازٹیکؔ کے دارالحکومت ٹؔینکٹیلن میں کبھی دیکھی جانے والی قربانی کے انتہائی سنسنیخیز مظاہرے میں، ۲۰،۰۰۰ لوگوں نے اپنے دل جنگ کے دیوتا، ہیوٹزلوؔپوکٹلو کی بھینٹ چڑھا دیئے ہیں۔“
نہ صرف انسانی ظلم نے بُری خبریں مہیا کی ہیں بلکہ اس کی غفلت بھی اس فہرست میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ لندؔن کی عظیم آگ ایک ایسی ہی آفت دکھائی دیتی ہے۔ لندؔن انگلینڈؔ سے ایک رپورٹ، بتاریخ ستمبر ۵، ۱۶۶۶ بیان کرتی ہے: ”بالآخر، چار دن رات کے بعد، ڈیوک آف یارک کی مدد سے جو شعلوں کی لپیٹ میں آنے والی عمارتوں کو اُڑا دینے کے لئے بحریہ کی بارودی ٹیمیں لے آیا تھا، لندؔن کی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ ۸۷ گرجاگھروں اور ۱۳،۰۰۰ سے زائد گھروں سمیت کوئی ۴۰۰ایکڑ رقبہ تباہوبرباد کر دیا گیا ہے۔ معجزانہ طور پر، صرف نو جانیں ضائع ہوئیں۔“
ہمیں بُری خبروں کی ان مثالوں میں اُن وباؤں کو بھی شامل کرنا چاہئے جو بہت سے برّاعظموں میں زوروں پر رہی ہیں—مثال کے طور پر، ۱۸۳۰ کے دہے میں ہیضہ کی وبا۔ اسکی رپورٹ دینے والی مطبوعہ سرخی یوں بیان کرتی ہے: ”یورپ پر ہیضہ کا خوف مسلّط۔“ اسکے بعد پیش کی جانے والی حقیقتپسندانہ رپورٹ اپنی خوفناک شکست کی بابت یہ بُری خبر پیش کرتی ہے: ”ہیضہ، جس سے یورپ ۱۸۱۷ تک ناآشنا تھا، اب ایشیا سے مغرب کا رُخ کر رہا ہے۔ ماسکوؔ اور سینٹ پیٹرؔزبرگ جیسے روسی شہروں کی آبادی کی بڑی تعداد پہلے ہی ہلاک ہو گئی ہے—متاثرین کی اکثریت غریب شہری ہیں۔“
حالیہ برسوں میں اضافہ
پس اگرچہ یہ سچ ہے کہ شروع سے لیکر اب تک تاریخنویسی میں بُری خبریں زندگی کی حقیقت ثابت ہوئی ہیں، توبھی اس ۲۰ویں صدی کے حالیہ دہے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بُری خبروں میں اضافہ ہو رہا ہے، واقعی یہ اضافہ بڑی تیزی سے ہو رہا ہے۔
بِلاشُبہ، جنگ کی خبریں بُری خبروں کی بدترین قسم ثابت ہوئی ہے جو ہماری موجودہ صدی میں سنی گئی ہیں۔ تاریخ کی دو عظیمترین جنگیں—جنہیں مناسب طور پر پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کہا گیا ہے—اُنہوں نے یقیناً دہشتناک حد تک بیانکردہ بُری خبروں کا مشاہدہ کِیا تھا۔ لیکن یہ درحقیقت اُن بُری خبروں کا بالکل ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جو اس بدقسمت صدی نے فراہم کی ہیں۔
چند شہسُرخیوں پر غور کریں:
یکم ستمبر، ۱۹۲۳: زلزلہ ٹوؔکیو کو تباہوبرباد کرتا ہے—۳۰۰،۰۰۰ ہلاک ہوئے؛ ستمبر ۲۰، ۱۹۳۱: بحران—برؔطانیہ نے پاؤنڈ کی قیمت کم کر دی؛ جون ۲۵، ۱۹۵۰: شمالی کوؔریا کا جنوب کی طرف کوچ؛ اکتوبر ۲۶، ۱۹۵۶: ہنگرؔی کے لوگوں کی سویت حکومت کے خلاف بغاوت؛ نومبر ۲۲، ۱۹۶۳: جاؔن کینڈی کو ڈالاس میں گولی مار دی گئی؛ اگست ۲۱، ۱۹۶۸: پراگؔ کی بغاوت کو کچلنے کیلئے بڑی تعداد میں روسی ٹینک پہنچ گئے؛ ستمبر ۱۲، ۱۹۷۰: اغواشُدہ طیاروں کو صحرا میں دھماکے سے اُڑا دیا گیا؛ دسمبر ۲۵، ۱۹۷۴: ٹریسیؔ کا طوفانی گردباد ڈؔارون کو لپیٹ میں لے لیتا ہے—۶۶ ہلاک؛ اپریل ۱۷، ۱۹۷۵: کمبوؔڈیا پر کیمونسٹ فوجوں کا قبضہ؛ نومبر ۱۸، ۱۹۷۸: گیآؔنا میں بڑی تعداد میں خودکشی؛اکتوبر ۳۱، ۱۹۸۴: مسز گاؔندھی کو گولی مار دی گئی؛ جنوری ۲۸، ۱۹۸۶: خلائی شٹل کی پرواز کے وقت دھماکا؛ اپریل ۲۶، ۱۹۸۶: سوؔیت تابکاردان میں آگ بھڑک اُٹھی؛ اکتوبر ۱۹، ۱۹۸۷: اسٹاک مارکیٹ کا دیوالیہ؛ مارچ ۲۵، ۱۹۸۹: تیل کے بہہ جانے سے اؔلاسکا کو شدید نقصان؛ جون ۴، ۱۹۸۹: تائیانمنؔ سکوائر میں فوجی احتجاجیوں کا قتلِعام کرتے ہیں۔
جیہاں، تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ بُری خبروں کی ہمیشہ بہتات رہی ہے، جبکہ اچھی خبریں مقابلتاً بہت کم رہی ہیں۔ جب حالیہ عشروں میں بُری خبروں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تو ہر گزرنے والے سال کیساتھ اچھی خبروں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ایسا کیوں ہونا چاہئے؟ کیا ہمیشہ ایسا ہی رہیگا؟
اگلا مضمون ان دو سوالات پر گفتگو کریگا۔ (۳ ۰۴/۱۵ w۹۶)
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
WHO/League of Red Cross