مستقبل میں اچھی خبر!
جب کبھی ہمیں ذاتی نوعیت کی بُری خبر ملتی ہے تو ہم سب غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسکے برعکس، جب ہمیں یا ہمارے عزیزوں کو خوشی کی خبر—اچھی خبر ملتی ہے تو ہم خوش ہوتے ہیں۔ لیکن جب بُری خبر ہم پر نہیں بلکہ دوسروں پر اثرانداز ہوتی ہے، تو اکثر اشتیاق کا عنصر موجود ہوتا ہے؛ بعض تو دوسروں کی بدقسمتی کی بابت سُن کر خوش ہوتے ہیں۔ کسی حد تک یہ اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بُری خبروں کی اتنی مانگ کیوں ہے!
دوسری عالمی جنگ کے اوائل میں اُس غیرصحتمندانہ دلچسپی کی واضح مثال ملتی تھی جو بعض لوگ مصیبت میں رکھتے ہیں۔ ۱۹۳۹ میں، ۱۰،۰۰۰ ٹن کا چھوٹا مسلح جنگی جہاز، جراف سپی، جرمن بیڑے کا فخر تھا۔ کئی ہفتوں تک یہ مسلح جنگی جہاز جنوب اٹلانٹک اور ہندوستان کے سمندروں کے اندر اتحادی تاجروں کے جہازوں کے مابین بربادی کا سبب بنا رہا۔ بالآخر، تین برطانوی تیزرفتار جنگی جہاز تعاقب میں نکل پڑے اور جانی نقصان کا سبب بنتے ہوئے اور جہاز کو یوؔروگوئے کی بندرگاہ مونٹیویڈو پر مرمت کیلئے ناکارہ بناتے ہوئے، جراف سپی پر حملہآور ہوئے۔ یوؔروگوئے کی حکومت نے حکم دیا کہ مسلح جنگی جہاز کو فوراً واپس سمندر میں لے جائیں، ورنہ اسے حراست میں لے لیا جائیگا۔ پس ایک شدید بلکہ یکطرفہ لڑائی سر پر منڈلاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
یہ سنتے ہی، ریاستہائے متحدہ میں دولتمند تاجروں کے ایک گروہ نے اس خونین لڑائی کے عینی شاہد بننے کیلئے ہوائی جہاز سے یوؔروگوئے جانے کی غرض سے تقریباً ۲،۵۰۰ ڈالر فیکس کے حساب سے ایک جہاز کرائے پر لیا۔ اُن کی توقع کے برعکس لڑائی نہ ہوئی۔ اؔڈلف ہٹلر نے جراف سپی کو ڈبونے کے احکام جاری کر دیئے۔ ہزاروں تماشائی جو ایک شدید سمندری لڑائی کے نظارے کو دیکھنے کی توقع میں بندرگاہ پر جمع تھے، اُنہوں نے اسکی بجائے ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکا دیکھا اور سنا جس نے جراف سپی کو، خود اپنے عملے کے ذریعے نیچے تہہ میں ڈبو دیا۔ کپتان نے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی۔
بعض لوگوں میں کسی حد تک خوفناک لہر دوڑ جانے کے باوجود، اکثریت اس سے اتفاق کرے گی کہ وہ خوشی کی خبر کو بُری خبر پر ترجیح دیتے ہیں۔ کیا آپ ایسا محسوس نہیں کرتے؟ توپھر، تاریخ اسقدر بُری خبریں اور بہت کم اچھی خبریں کیوں قلمبند کرتی ہے؟ کیا حالت کبھی تبدیل کی جا سکتی ہے؟
تمام بُری خبروں کے اسباب
بائبل اُس وقت کی بابت بتاتی ہے جب صرف خوشخبری کا دَوردَورا تھا۔ بُری خبریں ایک ایسی چیز تھیں جنکی بابت نہ تو معلوم تھا، نہ ہی سنا تھا۔ جب یہوؔواہ خدا نے اپنے تخلیقی کام مکمل کر لئے تو کرۂارض انسان اور حیوان کے لطفاندوز ہونے کیلئے بالکل تیار تھا۔ پیدایش کا بیان ہمیں بتاتا ہے: ”خدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔“—پیدایش ۱:۳۱۔
انسان کی تخلیق کے بعد بُری خبر کی غیرموجودگی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی۔ اس سے پہلے کہ آؔدم اور حوؔا کے کوئی اولاد ہوتی، خدا اور اچھائی کے اُس کے منظم کائناتی انتظام کے خلاف بغاوت کی بُری خبروں کا چرچا ہوا۔ ایک اعلیٰ مرتبت روحانی بیٹے نے نگرانی کے اپنے قابلِاعتبار مرتبے سے غداری کر دی اور پہلے انسانی جوڑے کو اپنی باغیانہ، غدارانہ روِش میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔—پیدایش ۳:۱-۶۔
بُری خبروں کی بہتات جنہیں نوعِانسان نے دیکھا ہے انکی ابتدا اُسی وقت ہوئی تھی۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ بُری خبریں جنہوں نے اُس وقت سے لیکر دُنیا کو بھر دیا ہے اُن میں سازش، دھوکا، دروغگوئی، جھوٹ، اور نیمسچائیاں نہایت نمایاں رہے ہیں۔ اپنے زمانے کے مذہبی پیشواؤں کو یہ کہتے ہوئے: ”تُم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اس میں سچائی ہے نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے،“ یسوؔع مسیح نے بُری خبروں کے بانی کے طور پر صریحاً شیطان ابلیس کو اسکا ذمہدار ٹھہرایا۔—یوحنا ۸:۴۴
جب انسانی آبادی میں اضافہ ہوا تو اُس کیساتھ بُری خبروں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ بِلاشُبہ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی بھی شادمانی اور خوشی کے ایّام نہیں تھے، کیونکہ زندگی میں بیشمار ایسی چیزیں تھیں جو شادمانی کا باعث تھیں۔ اسکے باوجود مصیبت اور غم کے بادل اب تک نوعِانسانی کی ہر نسل کے اُوپر چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس افسوسناک حالت کا ایک اَور بنیادی سبب بھی ہے۔ یہ خطاکاری اور تباہی کی طرف ہماری موروثی رغبت ہے۔ یہوؔواہ خود یہ کہتے ہوئے بُری خبر کیلئے اس ناگزیر وجہ کی نشاندہی کرتا ہے: ”انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے بُرا ہے۔“—پیدایش ۸:۲۱۔
بُری خبروں میں اضافہ کیوں؟
تاہم، اس کی وجہ ہے کہ اس ۲۰ویں صدی میں بُری خبروں میں اضافہ کیوں ہوا ہے۔ یہ وجہ واضح طور پر بائبل میں بیان کی گئی ہے، جس نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ ۲۰ویں صدی کے انسان ایک منفرد دَور میں داخل ہو جائیں گے جسے ”آخری ایّام“ یا ”آخری زمانہ“ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱؛ دانیایل ۱۲:۴) بائبل پیشینگوئی اور بائبل تاریخنگاری اس ”آخری وقت“ کی شناخت کراتی ہے جس کا آغاز ۱۹۱۴ میں ہوا۔ اس کے مفصل صحیفائی ثبوت کے لئے، براہِمہربانی واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے باب ۱۱ کو دیکھیں۔
آخری ایّام نے ایک ایسے واقعہ کے ساتھ شروع ہونا تھا جو خودبخود زمین پر بُری خبروں کے بڑھنے کا سبب بنیگا۔ وہ کیا تھا؟ یہ شیطان اِبلیس اور اُسکے شیاطینی لشکروں کا آسمان سے گرایا جانا تھا۔ بُری خبروں کے اس ناگزیر اضافے کی بابت بیان کو آپ مکاشفہ ۱۲:۹، ۱۲ میں پڑھ سکتے ہیں: ”وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو اِبلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہاں کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گِرا دیا گیا اور اُسکے فرشتے بھی اُسکے ساتھ گِرا دئے گئے۔ . . . اَے خوشی اور تری تُم پر افسوس! کیونکہ اِبلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“
پس آخری ایّام کے اپنے اختتام کو پہنچنے میں خواہ جتنا بھی وقت باقی ہے، ہم بُری خبروں کے جاری رہنے اور اسکی تعداد اور شدت کے بڑھنے کی توقع کر سکتے ہیں۔
ہمیشہ ایسا نہ رہیگا
خوشی کی بات ہے کہ زمین کے باشندوں کیلئے، آج کی بُری خبروں کی وبا کو جنم دینے والی پریشانکُن حالت ہمیشہ قائم نہیں رہیگی۔ درحقیقت، ہم پُراعتماد طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مسلسل بُری خبروں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ معاملہ خواہ کیسا ہی کیوں نہ دکھائی دے، حالت مایوسکُن نہیں ہے۔ تمام بُری خبروں کا خاتمہ بالکل قریب ہے اور یہ یقیناً خدا کے مقررہ وقت پر آئیگا۔
ہم اس کا یقین رکھ سکتے ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے آخری ایّام کی بربادی اور بُری خبروں کے تمام اسباب کے خاتمے کے ساتھ نقطۂعروج یا اختتام کو پہنچنے کی پیشینگوئی کی گئی ہے۔ وہ جھگڑے کو بھڑکانے والے اُن بدکار انسانوں کو ختم کرے گا جو اپنی غلط روِش کو بدلنے اور اُسے ترک کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ قادرِمطلق خدا کی روزِعظیم کی لڑائی میں نقطۂعروج کو پہنچتا ہے، جو عموماً ہرمجِدّؔون کی لڑائی کے طور پر مشہور ہے۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۶) اس کے فوراً بعد، شیطان اِبلیس اور اُس کے شیاطینی لشکروں کو ناکارہ بنا دیا جائے گا۔ مکاشفہ ۲۰:۱-۳ تمام بُری خبروں کے بانی، شیطان کے باندھے جانے کو بیان کرتی ہیں: ”مَیں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا جس کے ہاتھ میں اتھاہگڑھے کی کُنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔ اُس نے اُس اژدہا یعنی پُرانے سانپ کو جو اِبلیس اور شیطان کہلاتا ہے پکڑ کر ہزار برس کے لئے باندھا۔ اور اُسے اتھاہگڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اُس پر مہر کر دی تاکہ . . . قوموں کو پھر گمراہ نہ کرے۔“
ان ڈرامائی واقعات کے بعد، زمین اور اُس کے باشندوں کیلئے بینظیر خوشخبری کا وقت آئیگا۔ ان باشندوں میں وہ لاکھوں لوگ بھی شامل ہونگے جو ہرمجِدّؔون کی لڑائی سے بچ جائینگے اور کروڑوں ایسے لوگ جو قبروں میں موت کی نیند سے زندہ کئے جائینگے۔ اس بہترین خوشخبری کا ذکر بائبل کی آخری کتاب میں کِیا گیا ہے: ”خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُنکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا اور اُنکا خدا ہوگا۔ اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
کیا آپ اُس خوشگوار وقت کا تصور کر سکتے ہیں؟ بِلاشُبہ ایک شاندار مستقبل جہاں پھر کبھی بُری خبریں نہ ہونگی۔ جیہاں، تمام بُری خبریں ختم ہو چکی ہونگی اور پھر کبھی اُن کا ذکر تک نہ ہوگا۔ اُس وقت خوشخبری اعلیٰترین فتح حاصل کریگی اور یہ ابد تک قائم رہیگی۔ (۵ ۰۴/۱۵ w۹۶)