وفادار پر توجہ کریں!
”اَے خداوند! کون تجھ سے نہ ڈریگا؟ اور کون تیرے نام کی تمجید نہ کریگا؟ کیونکہ صرف تُوہی قُدوس [”وفادار،“ اینڈبلیو] ہے۔“—مکاشفہ ۱۵:۴۔
۱. جے. ایف. رتھرؔفورڈ نے اپنے پیشرو سی. ٹی. رسلؔ کی وفاداری کے سلسلے میں کونسی شہادت پیش کی؟
جوزف ایف. رتھرؔفورڈ نے، جس نے ۱۹۱۷ میں واچٹاور سوسائٹی کے صدر کے طور پر سی. ٹی. رسلؔ کی جگہ لی، رسلؔ کی رسمِتدفین کے موقع پر ان الفاظ میں اپنے بیان کا آغاز کِیا: ”چارلس ٹیز رسلؔ خدا کا وفادار، مسیح یسوؔع کا وفادار، مسیحائی بادشاہت کے مقصد کا وفادار تھا۔ وہ حد درجہ وفادار تھا—جیہاں، موت تک وفادار۔“ واقعی، یہوؔواہ خدا کے وفادار خادم کی شان میں یہ ایک عمدہ خراجِتحسین تھا۔ ہم کسی شخص کی شان میں یہ کہنے سے بڑھکر اَور کوئی خراجِتحسین پیش نہیں کر سکتے کہ وہ وفاداری کے امتحان میں کامیاب رہا، یہ کہ وہ وفادار تھا—حد درجہ وفادار۔
۲، ۳. (ا) وفاداری ایک چیلنج کیوں پیش کرتی ہے؟ (ب) سچے مسیحیوں کی وفادار رہنے کی کاوشوں کیخلاف اَور کون صفآرا ہیں؟
۲ وفاداری ایک چیلنج پیش کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وفاداری مفادپرستی سے ٹکراتی ہے۔ خدا سے بےوفائی کرنے والوں میں مسیحی دُنیا کا پادری طبقہ نمایاں ہے۔ پھر، اس کے علاوہ، اتنی عام بےوفائی کبھی واقع نہیں ہوئی جتنی کہ آجکل ازدواجی بندھن میں ہے۔ زناکاری بہت عام بات ہے۔ کاروباری دُنیا میں بھی بےوفائی قابو سے باہر ہے۔ اس کے متعلق، ہمیں بتایا گیا: ”بہتیرے منتظمین اور پیشہور . . . یہ یقین رکھتے ہیں کہ آجکل صرف احمق اور سادہلوح انسان ہی اپنی کمپنیوں کے وفادار ہوتے ہیں۔“ ”نہایت وفادار“ لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ”آپکی اوّلین اور واحد وفاداری آپکی اپنی ذات سے ہونی چاہئے“ ایک تحقیقاتی فرم کی مشاورتی اور عاملہ انتظامیہ کے صدر نے اسطرح بیان کِیا۔ اپنی ذات کے لئے وفاداری کی بات کرنا اس لفظ کے معنی کو بگاڑنا ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے جو میکاہ ۷:۲ میں بیان کی گئی ہے: ”دیندار [”وفادار،“ اینڈبلیو] آدمی دُنیا سے جاتے رہے۔“
۳ کافی حد تک، شیطان اور اُس کے شیاطین ہمیں خدا کا بےوفا بنانے کا عزم کئے ہوئے، ہمارے خلاف صفآرا ہیں۔ اسی لئے افسیوں ۶:۱۲ میں مسیحیوں کو بتایا گیا ہے: ”ہمیں خون اور گوشت سے کشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور اختیار والوں اور اس دُنیا کی تاریکی کے حاکموں اور شرارت کی اُن روحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔“ جیہاں، ہمیں اس آگاہی پر دھیان دینے کی ضرورت ہے: ”تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“—۱-پطرس ۵:۸۔
۴. کونسے رجحانات وفادار ہونے کو اسقدر مشکل بنا دیتے ہیں؟
۴ وہ خودغرضانہ رجحانات بھی وفاداری کو مشکل بناتے ہیں جو ہم نے اپنے والدین سے ورثے میں پائے ہیں، جیساکہ پیدایش ۸:۲۱ میں ذکر کِیا گیا ہے: ”انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے بُرا“—اور خودغرضانہ—”ہے۔“ ہم سب کو وہی مسئلہ درپیش ہے جسکا پولسؔ رسول نے اعتراف کِیا جو اُسے درپیش تھا: ”جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہوں۔“—رومیوں ۷:۱۹۔
وفاداری خاص چیز ہے
۵، ۶. وفاداری جوکچھ ہے اس کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے، اور اس کی تعریف کیسے کی گئی ہے؟
۵ ”وفاداری“ ایک منفرد لفظ ہے۔ لہٰذا انسائٹ آن دی سکرپچرز بیان کرتی ہے: ”انگریزی کے کوئی بھی ایسے الفاظ نظر نہیں آتے جو عبرانی اور یونانی الفاظ کے مکمل مفہوم کو ظاہر کرتے ہوں، لیکن ’وفاداری،‘ بشمول عقیدت اور ایمانداری، جسکا خیال اس میں پایا جاتا ہے، جب خدا اور اُس کی خدمت کے سلسلے میں استعمال کِیا جاتا ہے تو تقریباً وہی معنی دیتا ہے۔“a ”وفاداری“ کے سلسلے میں مینارِنگہبانی نے ایک مرتبہ بیان کِیا: ”ایمانداری، فرض، محبت، ذمہداری، اطاعت۔ ان الفاظ میں کونسی چیز مشترک ہے؟ یہ وفاداری کے مختلف پہلو ہیں۔“ جیہاں، اتنی زیادہ خوبیاں وفاداری کے مختلف پہلو ہی ہیں۔ یہ بات واقعی قابلِغور ہے کہ صحائف میں بارہا وفاداری اور راستبازی کو مربوط کِیا گیا ہے۔
۶ مندرجہذیل تعریفیں بھی مددگار ہیں: ’وفاداری ایک مسلسل، بااعتماد ایمانداری اور اطاعت، تردد یا آزمائش کے خلاف تحفظ کی نشاندہی کر سکتی ہے۔‘ ’وفاداری کسی شخص کے اپنا وعدہ نبھانے یا کسی رواج یا ایسے اصولوں کی مسلسل اطاعت کی دلالت کرتی ہے جسکے لئے وہ خود کو اخلاقی طور پر پابند محسوس کرتا ہے؛ اصطلاح نہ صرف پابندی کرنے بلکہ اُس پابندی کو ترک کر دینے اور ہٹ جانے کی مزاحمت کرنے کی بھی دلالت کرتی ہے۔‘ لہٰذا، جو لوگ آزمائشوں، مخالفت، اور اذیت کے باوجود ایماندار رہتے ہیں وہ ”وفادار“ کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔
۷. وفاداری اور ایمانداری کے مابین کونسا فرق کِیا جا سکتا ہے؟
۷ تاہم، اس سلسلے میں، اُس فرق کو واضح کرنا اچھا ہوگا جو وفاداری اور ایمانداری کے مابین کِیا جا سکتا ہے۔ مغربی ریاستہائےمتحدہ میں، ایک گرم پانی کا چشمہ ہے جو تقریباً ہر گھنٹے پھوٹتا ہے۔ یہ اسقدر باقاعدہ ہے کہ اُسے پُرانا وفادار کہا گیا ہے۔ بائبل چاند جیسی بےجان چیزوں کے وفادار ہونے کا ذکر کرتی ہے، اس لئے کہ یہ قابلِاعتماد ہے۔ زبور ۸۹:۳۷ چاند کا ”آسمان کے سچے [”وفادار،“ اینڈبلیو] گواہ“ کے طور پر ذکر کرتی ہے۔ خدا کے کلام کو وفادار کہا گیا ہے۔ مکاشفہ ۲۱:۵ کہتی ہے: ”جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اُس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ [”وفادار،“ اینڈبلیو] اور برحق ہیں۔“ یہ سب وفادار، قابلِاعتماد ہیں، لیکن وہ کسی خاص لگاؤ یا اخلاقی خوبیوں، جیسےکہ وفاداری، کے قابل نہیں ہیں۔
یہوؔواہ، نمایاں طور پر وفادار
۸. کونسی صحیفائی شہادت وفاداری کی عمدہترین مثال کی شناخت کراتی ہے؟
۸ بِلاشکوشُبہ، یہوؔواہ خدا وفاداری کا عمدہترین نمونہ ہے۔ یہوؔواہ اس حد تک نسلِانسانی کے ساتھ وفادار رہا ہے کہ اُس نے اپنا بیٹا بخشدیا تاکہ انسان ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔ (یوحنا ۳:۱۶) یرمیاہ ۳:۱۲ میں، ہم پڑھتے ہیں: ”اَے برگشتہ اسرائیل! واپس آ۔ مَیں تجھ پر قہر کی نظر نہیںکرونگا کیونکہ خداوند فرماتا ہے مَیں رحیم [”وفادار،“ اینڈبلیو] ہوں۔“ یہوؔواہ کی وفاداری کی تصدیق کرنے والے مزید الفاظ مکاشفہ ۱۶:۵ میں درج ہیں: ”اَے قدوس [”وفادار،“ اینڈبلیو]! جو ہے اور جو تھا تُو عادل ہے۔“ پھر، زبور ۱۴۵:۱۷ میں، ہمیں بتایا گیا ہے: ”خداونداپنی سب راہوں میں صادق اور اپنے سب کاموں میں رحیم [”وفادار،“ اینڈبلیو] ہے۔“ دراصل، یہوؔواہ اپنی وفاداری میں اسقدر نمایاں ہے کہ مکاشفہ ۱۵:۴ کہتی ہے: ”اَے خداوند! کون تجھ سے نہ ڈریگا؟ اور کون تیرے نام کی تمجید نہ کریگا؟ کیونکہ صرف تُوہی قدوس [”وفادار،“ اینڈبلیو] ہے۔“ یہوؔواہ خدا نہایت وفادار ہے۔
۹، ۱۰. بنیاسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات میں یہوؔواہ نے وفاداری کا کونسا ریکارڈ قائم کِیا؟
۹ بالخصوص بنیاسرائیل کی تاریخ میں اپنے لوگوں کے لئے یہوؔواہ کی وفاداری کی کثیر شہادت پائی جاتی ہے۔ قاضیوں کے زمانے میں، اسرائیل وقتاًفوقتاً سچی پرستش سے برگشتہ ہوتا رہا، لیکن یہوؔواہ کو بار بار غم ہوتا اور وہ اُنہیں بچاتا رہا۔ (قضاۃ ۲:۱۵-۲۲) جب پانچ صدیوں کے دوران اسرائیل کے بادشاہ ہوا کرتے تھے، یہوؔواہ نے اُس اُمت کے لئے وفاداری دکھائی۔
۱۰ یہوؔواہ کی وفاداری نے اُسے اپنے لوگوں کے ساتھ متحمل رہنے کی تحریک دی، جیسےکہ ۲-تواریخ ۳۶:۱۵، ۱۶ میں درج ہے: ”خداوند اُن کے باپدادا کے خدا نے اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بروقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔ لیکن اُنہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا اور اُس کی باتوں کو ناچیز جانا اور اُس کے نبیوں کی ہنسی اُڑائی یہاں تک کہ خداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔“
۱۱. یہوؔواہ کی وفاداری ہمیں کونسی یقیندہانی یا تسلی دیتی ہے؟
۱۱ چونکہ یہوؔواہ بیحد وفادار ہے، اس لئے پولسؔ رسول لکھ سکتا تھا، جیسےکہ رومیوں ۸:۳۸، ۳۹ میں درج ہے: ”مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اَور مخلوق۔“ جیہاں، یہوؔواہ ہمیں یقین دلاتا ہے: ”مَیں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہونگا اور کبھی تجھے نہ چھوڑونگا۔“ (عبرانیوں ۱۳:۵) واقعی، یہ جاننا تسلیبخش ہے کہ یہوؔواہ خدا ہمیشہ وفادار ہے!
یسوؔع مسیح، وفادار بیٹا
۱۲، ۱۳. خدا کے بیٹے کی وفاداری کے سلسلے میں ہمارے پاس کونسی شہادت موجود ہے؟
۱۲ وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے میں یہوؔواہ کی مکمل طور پر نقل کرنے والا یسوؔع مسیح تھا اور ہے۔ موزوں طور پر پطرؔس رسول زبور ۱۶:۱۰ کا حوالہ دے سکتا اور اعمال ۲:۲۷ میں اس کا یسوؔع مسیح پر اطلاق کر سکتا تھا: ”تُو میری جان کو عالمِارواح میں نہ چھوڑیگا اور نہ اپنے مُقدس [”وفادار،“ اینڈبلیو] کے سڑنے کی نوبت پہنچنے دیگا۔“ یسوؔع ”مُقدس [”وفادار،“ اینڈبلیو]“ کا لقب پانے کا مستحق ہے۔ ہر طرح سے، وہ اپنے باپ اور خدا کی موعودہ بادشاہت کا وفادار ہے۔ شیطان نے پہلے آزمائشوں، ذاتیمفاد کی ترغیبات کو استعمال کرتے ہوئے یسوؔع کی راستی کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس میں ناکام ہوکر، بالآخر سزا کی سولی پر یسوؔع کی موت کا موجب بنتے ہوئے، ابلیس نے اذیت کی طرف رجوع کِیا۔ اپنے آسمانی باپ، یہوؔواہ خدا کے لئے اپنی وفاداری سے یسوؔع کبھی بھی نہ ہٹا۔—متی ۴:۱-۱۱۔
۱۳ یسوؔع مسیح متی ۲۸:۲۰ میں مرقوم وعدے کو پورا کرنے میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ وفادار رہا ہے: ”دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“ اس وعدے کی تکمیل میں، وہ ۳۳ س.ع. پنتِکُست سے لیکر موجودہ زمانے تک اپنی کلیسیا کی وفاداری سے پیشوائی کرتا رہا ہے۔
ناکامل انسان جو وفادار تھے
۱۴. اؔیوب نے وفاداری کی کونسی مثال قائم کی؟
۱۴ اب ناکامل انسانوں کی بابت کیا ہے؟ کیا وہ خدا کے وفادار ہو سکتے ہیں؟ ہمارے پاس اؔیوب کی نمایاں مثال ہے۔ شیطان نے اُس کے معاملے میں مسئلے کو واضح کر دیا تھا۔ کیا اؔیوب یہوؔواہ خدا کا وفادار تھا، یا وہ محض ذاتیمفاد کی خاطر اُس کی خدمت کر رہا تھا؟ شیطان نے شیخی بگھاری کہ وہ اؔیوب کے لئے مشکل پیدا کرنے سے اؔیوب کو یہوؔواہ سے دُور کر سکتا ہے۔ جب اؔیوب اپنی تمام املاک، اپنی ساری اولاد، اور یہانتککہ اپنی صحت کھو بیٹھا تو اُس کی بیوی نے اُسے مجبور کِیا: ”خدا کی تکفیر کر اور مر جا۔“ لیکن اؔیوب وفادار تھا، کیونکہ اُس نے اُسے کہا: ”تُو نادان عورتوں کی سی باتیں کرتی ہے۔ کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سُکھ پائیں اور دُکھ نہ پائیں؟ ان سب باتوں میں اؔیوب نے اپنے لبوں سے خطا نہ کی۔“ (ایوب ۲:۹، ۱۰) درحقیقت، اپنے نامنہاد تسلی دینے والوں سے اؔیوب نے کہا: ”گو وہ [خدا] مجھے قتل کرے، پھربھی مَیں اُس پر آس رکھوں گا۔“ (ایوب ۱۳:۱۵، نیو انٹرنیشنل ورشن) کچھ عجب نہیں کہ اؔیوب کو یہوؔواہ کی مقبولیت حاصل ہوئی! لہذا، یہوؔواہ نے الیفزؔ تیمانی کو بتایا: ”میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جیسے میرے بندہ اؔیوب نے کہی۔“—ایوب ۴۲:۷، ۱۰-۱۶؛ یعقوب ۵:۱۱۔
۱۵. یہوؔواہ خدا کے بہت سے خادموں کی وفاداری کی ہمارے پاس کونسی صحیفائی شہادت موجود ہے؟
۱۵ عبرانیوں ۱۱ باب میں بیانکردہ تمام ایماندار مردوں اور عورتوں کا وفادار اشخاص کے طور پر ذکر کِیا جا سکتا ہے۔ وہ نہ صرف ایماندار تھے بلکہ دباؤں کے باوجود وفادار بھی تھے۔ لہٰذا، ہم اُن کی بابت پڑھتے ہیں ”اُنہوں نے ایمان ہی کے سبب سے . . . شیروں کے مُنہ بند کئے۔ آگ کی تیزی کو بجھایا۔ تلوار کی دھار سے بچ نکلے۔ . . . بعض ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے اور کوڑے کھانے بلکہ زنجیروں میں باندھے جانے اور قید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔ سنگسار کئے گئے۔ آرے سے چیرے گئے آزمایش میں پڑے۔ تلوار سے مارے گئے۔ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے ہوئے محتاجی میں۔ مصیبت میں۔ بدسلوکی کی حالت میں مارے مارے پھرے۔“—عبرانیوں ۱۱:۳۳-۳۷۔
۱۶. وفاداری کی کونسی مثال پولسؔ رسول نے فراہم کی؟
۱۶ مسیحی یونانی صحائف پولسؔ رسول کی بھی جاذبِتوجہ مثال پیش کرتے ہیں۔ اپنی خدمتگزاری کے متعلق وہ تھسلنیکے کے مسیحیوں سے موزوں طور پر کہہ سکتا تھا: ”تم بھی گواہ ہو اور خدا بھی کہ تم سے جو ایمان لائے ہو ہم کیسی پاکیزگی اور راستبازی اور بےعیبی کیساتھ پیش آئے۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۰) ہم ۲-کرنتھیوں ۶:۴، ۵ میں مرقوم پولسؔ کے الفاظ میں اُس کی وفاداری کا مزید ثبوت پاتے ہیں، جہاں ہم پڑھتے ہیں: ”خدا کے خادموں کی طرح ہر بات سے اپنی خوبی ظاہر کرتے ہیں۔ بڑے صبر سے مصیبت سے۔ احتیاج سے۔ تنگی سے۔ کوڑے کھانے سے۔ قید ہونے سے۔ ہنگاموں سے۔ محنتوں سے۔ بیداری سے۔ فاقوں سے۔“ یہ ساری باتیں پولسؔ رسول کے عزتِنفس رکھنے کی تصدیق کرتی ہیں اس لئے کہ وہ وفادار تھا۔
جدید زمانے میں وفادار اشخاص
۱۷. جے. ایف. رتھرؔفورڈ کے کن الفاظ نے وفادار رہنے کے اُس کے عزم کو ظاہر کِیا؟
۱۷ جدید زمانے کی بات کرتے ہوئے، ہمارے پاس عمدہ مثال ہے جس پر ہم نے شروع میں غور کِیا تھا۔ غور کریں کہ کتاب ورلڈوائڈ سیکیورٹی انڈر دی ”پرنس آف پیس“ (انگریزی) میں، صفحہ ۱۴۶ پر ذیلی سُرخی ”قید کے زمانہ میں وفاداری“ کے تحت کیا بیان کِیا گیا ہے۔ وہاں یہ کہا گیا ہے: ”اپنی قید کے زمانہ میں یہوؔواہ کی تنظیم کے لئے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، واچٹاور سوسائٹی کے صدر، جوؔزف ایف. رتھرفورڈ نے دسمبر ۲۵، ۱۹۱۸ کو مندرجہذیل تحریر کِیا: ’چونکہ مَیں نے بابلؔ سے مصالحت کرنے سے انکار کر دیا، لیکن وفاداری سے اپنے خداوند کی خدمت کرنے کی کوشش کی، اس لئے، مَیں قید ہوں، جس کے لئے مَیں ممنون ہوں۔ . . . مَیں حیوان سے مصالحت کرنے یا اُس کے آگے جھک جانے اور آزاد ہوکر پوری دُنیا سے خراجِتحسین حاصل کرنے کی نسبت اُس [خداوند] کی مقبولیت اور تبسّم کو زیادہ ترجیح دیتا ہوں خواہ اس کیلئے قید ہی رہوں۔‘“b
۱۸، ۱۹. ہمارے پاس وفاداری کی جدید زمانے کی کونسی مثالیں ہیں؟
۱۸ ہمیں دیگر بہتیرے ایسے مسیحیوں میں وفاداری کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے اذیت کو برداشت کِیا ہے۔ ایسے وفادار افراد میں نازی دورِحکومت کے دوران، یہوؔواہ کے جرمنؔ گواہ ہیں، جیساکہ انگریزی زبان میں وسیع پیمانے پر تقسیم ہونے والی ویڈیو پرپل ٹرائیاینگلز میں تصویرکشی کی گئی ہے۔ بہتیرے یہوؔواہ کے وفادار افریقی گواہ بھی قابلِذکر ہیں جیسےکہ وہ جو ملاؔوی میں ہیں۔ وہاں، جیل کے ایک داروغہ نے یہ کہتے ہوئے گواہوں کی وفاداری کی تصدیق کی: ”وہ کبھی بھی مصالحت نہیں کریں گے۔ وہ بڑھتے ہی جاتے ہیں۔“
۱۹ کوئی بھی شخص حالیہ ائیربُکس آف جیہوواز وٹنسز (انگریزی) کو سچے مسیحیوں کی طرف سے ظاہرکردہ وفاداری سے متاثر ہوئے بغیر نہیں پڑھ سکتا، جیسےکہ وہ جو یوؔنان، موؔزمبیق، اور پولینڈؔ میں ہیں۔ اُن میں سے بہتیرے شدید اذیت کا نشانہ بنے؛ دیگر کو قتل کر دیا گیا۔ 1992 ائیربُک (انگریزی) کا صفحہ ۱۷۷ ایتھیوؔپیا کے اُن نو مسیحی مردوں کی تصاویر کو پیش کرتا ہے جو قتل کئے جانے کی حد تک وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔ یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر، کیا ہم اس بات سے خوش نہیں کہ وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کی تحریک دینے کے لئے ہمارے پاس اتنی زیادہ عمدہ مثالیں ہیں؟
۲۰. اگر ہم وفادار رہتے ہیں تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
۲۰ آزمائشوں اور دباؤں کی وفاداری سے مزاحمت کرنے سے، ہم اپنی عزتِنفس کو بڑھاتے ہیں۔ لہٰذا، توپھر، وفاداری کے مسئلے میں ہم کس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں؟ وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے سے، ہم مسئلے میں یہوؔواہ کی حمایت کرتے ہیں اور شیطان ابلیس کو گھٹیا، سنگین دروغگو ثابت کرتے ہیں جو وہ ہے بھی! یوں ہم اپنے صانع، یہوؔواہ خدا کی مقبولیت اور خوشی میں ہمیشہ کی زندگی کا اجر حاصل کرتے ہیں۔ (زبور ۳۷:۲۹؛ ۱۴۴:۱۵ب) وفاداری کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے کیا درکار ہے اس پر آگے غور کِیا جائیگا۔ (۱۰ ۰۳/۱۵ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کا شائعکردہ دو جلدوں پر مشتمل بائبل انسائیکلوپیڈیا۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ وفادار ہونا ایک چیلنج کیوں پیش کرتا ہے؟
▫ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ ”وفاداری“ ایک منفرد لفظ ہے؟
▫ ہمارے پاس ایسے ناکامل انسانوں کی کونسی صحیفائی مثالیں ہیں جو وفادار تھے؟
▫ ہمارے پاس جدید زمانے کی وفاداری کی عمدہ مثالیں کونسی ہیں؟
[تصویر]
چاؔرلس ٹیز رسل
[تصویر]
یسوؔع واقعی یہوؔواہ کا ”وفادار,“ تھا
[تصویر]
اؔیوب، ناکامل ہو نے کے باوجود، خدا کا وفادار ثابت ہوا
[تصویر]
پولسؔ نے یہوؔواہ کیلئے وفاداری کا عمدہ نمونہ قائم کِیا