یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏2 ص.‏ 20-‏24
  • نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏خدا کا علم“‏
  • فصل بہت ہے!‏
  • سوالی بکس
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۶
  • وہ علم حاصل کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کریں جو زندگی کا باعث ہے
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۶
  • علم کی نعمت سے ہمیشہ تک لطف اُٹھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • شاگرد بنانے کے اہم کام پر ترقی‌پسندانہ نظر
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۸
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏2 ص.‏ 20-‏24

نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے

‏”‏تُو خداوند کے خوف کو سمجھیگا اور خدا کی معرفت [‏”‏علم،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کو حاصل کریگا۔“‏—‏امثال ۲:‏۵‏۔‏

۱.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ انسانی دِل الہٰی کاریگری کا ایک شاہکار ہے؟‏

کوئی ۵،۶۰۰،۰۰۰،۰۰۰ انسانی دل اس وقت زمین پر دھڑک رہے ہیں۔ ہر روز، آپکا اپنا دل ۱۰۰،۰۰۰ مرتبہ دھڑکتا ہے اور ۷،۶۰۰ لیٹر کے برابر خون پمپ کرکے آپ کے بدن کے ۱۰۰،۰۰۰ کلومیٹر کے کارڈیووسکیولر نظام میں سے گزارتا ہے۔ کوئی دوسرا عضو الہٰی کاریگری کے اس شاہکار سے زیادہ سخت کام نہیں کرتا ہے۔‏

۲.‏ آپ علامتی دِل کو کیسے بیان کرینگے؟‏

۲ اس کے علاوہ زمین پر ۵،۶۰۰،۰۰۰،۰۰۰ علامتی دل بھی کام کرتے ہیں۔ علامتی دل کے اندر ہمارے جذبات، ہمارے محرکات، ہماری خواہشات بسیرا کرتی ہیں۔ یہ ہماری سوچ، ہماری سمجھ، ہماری اُفتادِطبع کا مرکز ہے۔ علامتی دل فروتن یا متکبر، اُداس یا شادماں، تاریک یا روشن ہو سکتا ہے۔—‏نحمیاہ ۲:‏۲؛‏ امثال ۱۶:‏۵؛‏ متی ۱۱:‏۲۹؛‏ اعمال ۱۴:‏۱۷؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۶؛‏ افسیوں ۱:‏۱۶-‏۱۸‏۔‏

۳، ۴.‏ خوشخبری کے ساتھ دِلوں تک کیسے پہنچا جا رہا ہے؟‏

۳ یہوؔواہ خدا انسانی دل کو پڑھ سکتا ہے۔ امثال ۱۷:‏۳ کہتی ہے:‏ ”‏چاندی کے لئے کٹھالی ہے اور سونے کے لئے بھٹی پر دِلوں کو خداوند پرکھتا ہے۔“‏ تاہم، محض ہر دِل کو پڑھنے اور سزا سنانے کی بجائے، یہوؔواہ اپنے گواہوں کو خوشخبری کے ساتھ انسانی دِلوں تک پہنچنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ یہ پولسؔ رسول کے ان الفاظ کی مطابقت میں ہے:‏ ”‏جو کوئی خداوند کا نام لیگا نجات پائیگا۔ مگر جس پر وہ ایمان نہیں لائے اُس سے کیونکر دُعا کریں؟ اور جس کا ذکر اُنہوں نے سنا نہیں اُس پر ایمان کیونکر لائیں؟ اور بغیر منادی کرنے والے کے کیونکر سنیں؟ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں منادی کیونکر کریں؟ چنانچہ لکھا ہے کہ کیا ہی خوشنما ہیں اُنکے قدم جو اچھی چیزوں کی خوشخبری دیتے ہیں۔“‏—‏رومیوں ۱۰:‏۱۳-‏۱۵‏۔‏

۴ ”‏اچھی چیزوں کی خوشخبری دینے“‏ اور اثرپذیر دِل رکھنے والوں کی تلاش کرنے کے لئے زمین کے تمام حصوں میں اپنے گواہوں کو بھیجنے سے یہوؔواہ کو خوشی حاصل ہوئی ہے۔ زمین پر ۱ گواہ کے لئے تقریباً ۱،۲۰۰ لوگوں کے تناسب سے—‏اب ہماری تعداد ۵،۰۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے۔ زمین کے کروڑہا لوگوں تک خوشخبری کے ساتھ پہنچنا آسان کام نہیں ہے۔ لیکن خدا اس کام کی راہنمائی یسوؔع مسیح کے ذریعے کر رہا ہے اور خلوصدل لوگوں کو کھینچ رہا ہے۔ یوں، یسعیاہ ۶۰:‏۲۲ میں مندرج پیشینگوئی سچ ثابت ہو رہی ہے:‏ ”‏سب سے چھوٹا ایک ہزار ہو جائیگا اور سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔ مَیں خداوند عین وقت پر یہ سب کچھ جلد کرونگا۔“‏

۵.‏ علم کیا ہے، اور دُنیا کی حکمت کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟‏

۵ وہ وقت اب ہے، اور ایک بات بالکل واضح ہے—‏زمین کے کروڑہا لوگوں کو علم کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر، علم تجربے، مشاہدے، یا مطالعہ سے حاصل‌کردہ حقائق کے ساتھ واقفیت ہے۔ دُنیا نے کافی زیادہ علم حاصل کر لیا ہے۔ آمدورفت، صحت کی نگہداشت، اور مواصلات جیسے میدانوں میں ترقی ہوئی ہے۔ لیکن کیا یہ دُنیاوی علم ہی ہے جسکی نوعِ‌انسان کو واقعی ضرورت ہے؟ ہرگز نہیں!‏ جنگ، استبداد، بیماری اور موت انسان کے ناک میں دم کئے ہوئے ہے۔ دُنیا کی حکمت کافی حد تک اکثر گردباد میں بے‌ثبات ریت کی مانند ثابت ہوئی ہے۔‏

۶.‏ خون کے سلسلے میں، خدا کا علم دُنیاوی حکمت سے کیسے مختلف ہے؟‏

۶ مثال دیکر سمجھانے کے لئے:‏ دو صدیاں پہلے، مفروضہ علاج کے طور پر فصد کھلوانے کے لئے رجوع کرنا عام رواج تھا۔ ریاستہائے متحدہ کے پہلے صدر، جاؔرج واشنگٹن، کی زندگی کے آخری لمحات میں، بار بار نشتر لگا کر اُسکی رگ سے خون نکالا گیا تھا۔ ایک موقع پر اُس نے کہا:‏ ”‏مجھے خاموشی سے مر جانے دو؛ مَیں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔“‏ اُس نے صحیح کہا تھا، کیونکہ وہ اُسی دِن—‏۱۴ دسمبر، ۱۷۹۹ کو وفات پا گیا۔ آجکل فصد کھلوانے کی بجائے، انسانی بدن کے اندر خون منتقل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ دونوں طریقِ‌کار جان‌لیوا مسائل کے ساتھ خطرناک نتائج والے ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم، اس تمام عرصے کے دوران، خدا کے کلام نے کہا ہے:‏ ”‏لہو .‏ .‏ .‏ سے پرہیز کرو۔“‏ (‏اعمال ۱۵:‏۲۹‏)‏ خدا کا علم ہمیشہ صحیح، قابلِ‌اعتماد، جدید رہا ہے۔‏

۷.‏ جہاں تک بچوں کی پرورش کا تعلق ہے صحیح صحیفائی علم دُنیاوی حکمت سے کیسے مختلف ہے؟‏

۷ ناقابلِ‌اعتماد دُنیاوی حکمت کی ایک اَور مثال پر غور کریں۔ سالوں سے نفسیات کے ماہرین نے بچوں کی روادار پرورش کی حمایت کی ہے، لیکن اسکے حامیوں میں سے ایک نے بعدازاں تسلیم کِیا کہ یہ ایک غلطی تھی۔ جرمن فلولاجیکل ایسوسی‌ایشن (‏جرمن لسانیاتی ایسوسی‌ایشن)‏ نے ایک دفعہ کہا کہ رواداری ”‏کم‌ازکم بِلاواسطہ اُن مسائل کی ذمہ‌دار ہے جو ہمیں اب نوجوان لوگوں کے سلسلے میں درپیش ہیں۔“‏ دُنیاوی حکمت گویا ہوا سے تھپیڑے کھا کر ادھراُدھر ہچکولے کھا سکتی ہے لیکن صحیح صحیفائی علم غیرمتزلزل رہا ہے۔ بائبل بچوں کی تعلیم‌وتربیت کے سلسلے میں متوازن مشورت دیتی ہے۔ امثال ۲۹:‏۱۷ کہتی ہے:‏ ”‏اپنے بیٹے کی تربیت کر اور وہ تجھے آرام دیگا اور تیری جان کو شادمان کریگا۔“‏ ایسی تربیت محبت کے ساتھ دی جانی ہے، کیونکہ پولسؔ نے لکھا:‏ ”‏اے اولاد والو!‏ تُم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُنکی پرورش کرو۔“‏—‏افسیوں ۶:‏۴‏۔‏

‏”‏خدا کا علم“‏

۸، ۹.‏ آپ کیسے وضاحت کرینگے کہ جس علم کی نوعِ‌انسان کو واقعی ضرورت ہے اُسکی بابت امثال ۲:‏۱-‏۶ کیا کہتی ہیں؟‏

۸ اگرچہ پولسؔ تعلیم‌یافتہ شخص تھا، اُس نے کہا:‏ ”‏اگر کوئی تُم میں اپنے آپکو اس جہان کا حکیم سمجھے تو بیوقوف بنے تاکہ حکیم ہو جائے۔ کیونکہ دُنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بیوقوفی ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۸، ۱۹‏)‏ صرف خدا ہی وہ علم فراہم کر سکتا ہے جسکی نوعِ‌انسان کو واقعی ضرورت ہے۔ اسکی بابت امثال ۲:‏۱-‏۶ کہتی ہیں:‏ ”‏اے میرے بیٹے!‏ اگر تُو میری باتوں کو قبول کرے اور میرے فرمان کو نگاہ میں رکھے۔ ایسا کہ تُو حکمت کی طرف کان لگائے اور فہم سے دِل لگائے بلکہ اگر تُو عقل کو پکارے اور فہم کے لئے آواز بلند کرے اور اُسکو ایسا ڈھونڈے جیسے چاندی کو اور اُسکی ایسی تلاش کرے جیسی پوشیدہ خزانوں کی تو تُو خداوند کے خوف کو سمجھے گا اور خدا کی معرفت کو حاصل کریگا کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔ علم‌وفہم اُسی کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔“‏

۹ نیک دِلوں سے تحریک پانے والے خداداد علم کا مناسب استعمال کرتے ہوئے حکمت پر توجہ دیتے ہیں۔ وہ محتاط طریقے سے اُن حقائق کی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہوئے جو وہ سیکھتے ہیں، اپنے دلوں کو بصیرت کی طرف مائل کرتے ہیں۔ عملاً، وہ فہم یا صلاحیت کو پکارتے ہیں، تاکہ یہ جان سکیں کہ کیسے ایک مضمون کے پہلوؤں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ راستدل اشخاص ایسے کام کرتے ہیں کہ گویا چاندی کو ڈھونڈ رہے یا پوشیدہ خزانوں کی تلاش کر رہے ہوں۔ لیکن اثرپذیر دِل رکھنے والے لوگوں کو کونسا عظیم خزانہ ملا ہے؟ یہ ”‏خدا کی معرفت [‏علم]‏“‏ ہے۔ وہ کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں، یہ خداکے کلام بائبل میں موجود علم ہے۔‏

۱۰.‏ اچھی روحانی صحت سے لطف‌اندوز ہونے کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۰ خدا کا علم قابلِ‌اعتماد، لاتبدیل، زندگی‌بخش ہے۔ یہ روحانی صحت کو تقویت پہنچاتا ہے۔ پولسؔ نے تیمتھیسؔ کو تاکید کی:‏ ”‏جو صحیح باتیں تُو نے مجھ سے سنیں اُس ایمان اور محبت کے ساتھ جو مسیح یسوؔع میں ہے اُن کا خاکہ یاد رکھ۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۱۳‏)‏ ایک زبان الفاظ کا خاکہ رکھتی ہے۔ اسی طرح، صحیفائی سچائی کی ”‏پاک زبان“‏ بنیادی طور پر بائبل کے موضوع بادشاہت کے ذریعے یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت پر مبنی ”‏صحیح باتوں کا خاکہ“‏ رکھتی ہے۔ (‏صفنیاہ ۳:‏۹)‏ ہمیں ان صحیح باتوں کے خاکے کو دِل‌ودماغ میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے علامتی دِل کی بیماری سے بچنا ہے اور روحانی طور پر صحتمند رہنا ہے تو ہمیں زندگی میں بائبل کا اطلاق کرنا چاہئے اور اُن روحانی انتظامات کا جو خدا ”‏عقلمند اور دیانتدار نوکر“‏ کے ذریعے کر رہا ہے بھرپور استعمال کرنا چاہئے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷؛‏ ططس ۲:‏۲‏)‏ آئیے ہمیشہ یاد رکھیں کہ اچھی روحانی صحت کے لئے، ہمیں خدا کے علم کی ضرورت ہے۔‏

۱۱.‏ بعض کن وجوہات کی بنا پر نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے؟‏

۱۱ دیگر وجوہات پر غور کریں کہ کیوں زمین کے کروڑوں لوگوں کو خدا کے علم کی ضرورت ہے۔ کیا وہ سب جانتے ہیں کہ زمین اور انسان کیسے وجود میں آئے تھے؟ جی‌نہیں، وہ نہیں جانتے۔ کیا تمام نسلِ‌انسانی سچے خدا اور اُسکے بیٹے کو جانتی ہے؟ کیا ہر کوئی اُن مسائل سے واقف ہے جو شیطان نے الہٰی حاکمیت اور انسانی راستی کے سلسلے میں پیدا کئے ہیں؟ پھر جواب ہے نہیں۔ کیا عام طور پر لوگ یہ جانتے ہیں کہ ہم کیوں بوڑھے ہوتے اور مرتے ہیں؟ ایک مرتبہ پھر ہمیں کہنا پڑیگا کہ نہیں۔ کیا زمین کے تمام باشندے یہ جانتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت حکمرانی کر رہی ہے اور یہ کہ ہم آخری ایّام میں رہ رہے ہیں؟ کیا وہ شریر روحانی افواج سے باخبر ہیں؟ کیا تمام انسان اسکی بابت قابلِ‌اعتماد علم رکھتے ہیں کہ کیسے حقیقی شادمان زندگی بسر کریں؟ اور کیا لوگوں کی اکثریت یہ جانتی ہے کہ فرمانبردار بنی‌آدم کے لئے ہمارے خالق کا مقصد فردوس میں مسرور زندگی ہے؟ اِن سوالات کا جواب بھی نہیں ہے۔ لہٰذا، واضح طور پر نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے۔‏

۱۲.‏ ہم کیسے ”‏روح اور سچائی“‏ سے خدا کی پرستش کر سکتے ہیں؟‏

۱۲ جوکچھ یسوؔع نے اپنی زمینی زندگی کی آخری رات کو دُعا میں کہا اُسکے باعث بھی بنی‌آدم کو خدا کے علم کی ضرورت ہے۔ اُسکے رسولوں نے اُسے یہ کہتے ہوئے سن کر بہت زیادہ تحریک پائی ہوگی:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ قابلِ‌قبول طور پر خدا کی پرستش کرنے کا واحد طریقہ ایسے علم کا اطلاق کرنا ہی ہے۔ ”‏خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اُسکے پرستار روح اور سچائی سے پرستش کریں،“‏ یسوؔع نے کہا۔ (‏یوحنا ۴:‏۲۴‏)‏ ہم خدا کی پرستش ”‏روح سے“‏ اُس وقت کرتے ہیں جب ہم ایمان اور محبت کے ساتھ معمور دِلوں سے تحریک پاتے ہیں۔ ہم ”‏سچائی سے“‏ اُسکی پرستش کیسے کرتے ہیں؟ اُس کے کلام کا مطالعہ کرنے اور اُس کی ظاہرکردہ سچائی—‏”‏خدا کے علم“‏—‏کے مطابق اُسکی پرستش کرنے سے۔‏

۱۳.‏ اعمال ۱۶:‏۲۵-‏۳۴ میں کونسا واقعہ درج ہے، اور ہم اُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۱۳ ہر سال ہزاروں یہوؔواہ کی پرستش کرنا شروع کرتے ہیں۔ تاہم، کیا دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے ساتھ کافی عرصہ تک بائبل مطالعے کرائے جانے چاہئیں، یا کیا خلوصدل اشخاص کیلئے زیادہ جلدی سے بپتسمہ کے مرحلے تک پہنچ جانا ممکن ہے؟ اعمال ۱۶:‏۲۵-‏۳۴ میں متذکرہ فلپیؔ کے داروغہ اور اُسکے گھرانے کے معاملے میں جوکچھ واقع ہوا اُس پر غور کریں۔ پولسؔ اور سیلاؔس فلپیؔ میں قید تھے، لیکن آدھی رات کے قریب ایک بڑے بھونچال نے قیدخانے کے دروازے کھول دئیے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ تمام قیدی فرار ہو گئے ہیں اور یہ کہ اُسے سخت سزا دی جائیگی، داروغہ خودکشی کرنے ہی کو تھا کہ پولسؔ نے اُسے بتایا کہ وہ سب وہاں موجود ہیں۔ پولسؔ اور سیلاؔس نے ”‏اُسکو اور اُسکے سب گھر والوں کو خداوند کا کلام سنایا۔“‏ وہ داروغہ اور اُس کا خاندان غیرقوم تھے جنکے پاس مُقدس صحائف کی ضروری معلومات نہیں تھیں۔ تاہم، اُس ایک رات میں، وہ ایمان لے آئے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ”‏اُسی وقت اپنے سب لوگوں سمیت بپتسمہ لیا۔“‏ یہ غیرمعمولی حالات تھے، لیکن نئے اشخاص کو بنیادی سچائیوں کی تعلیم دی گئی تھی اور اسکے بعد دیگر باتیں کلیسیائی اجلاسوں سے سیکھیں۔ آج کل بھی کچھ ایسا ہی ممکن ہونا چاہئے۔‏

فصل بہت ہے!‏

۱۴.‏ قلیل مدت میں اَور زیادہ مؤثر بائبل مطالعے کروانے کی کیوں ضرورت ہے؟‏

۱۴ یہ اچھا ہوگا اگر یہوؔواہ کے گواہ قلیل مدت کے اندر کافی تعداد میں مؤثر بائبل مطالعے کروا سکیں۔ اسکی واقعی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، مشرقی یورپ کے ممالک میں، لوگوں کو بائبل مطالعوں کے لئے ویٹنگ لسٹ پر رہنا پڑتا ہے۔ دیگر جگہوں پر بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ ڈومینیکن ریپبلک میں ایک قصبے کے اندر، پانچ گواہوں کے پاس اتنی زیادہ درخواستیں تھیں کہ وہ سب کو مطالعے نہیں کروا سکتے تھے۔ اُنہوں نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کی کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر حاضر ہونے اور بائبل مطالعے کرنے کے لئے ویٹنگ لسٹ پر نام لکھوانے کے لئے حوصلہ‌افزائی کی۔ پوری دُنیا میں بہت سی جگہوں پر ایسی ہی حالت پائی جاتی ہے۔‏

۱۵، ۱۶.‏ خدا کے علم کو اَور تیزی کے ساتھ پھیلانے کے لئے کیا فراہم کِیا گیا ہے، اور اس کی بابت بعض حقائق کیا ہیں؟‏

۱۵ وسیع‌تر علاقے—‏کٹائی کے بڑے میدان—‏خدا کے لوگوں کے لئے کھل رہے ہیں۔ اگرچہ ”‏فصل کا مالک،“‏ یہوؔواہ اَور زیادہ مزدور بھیج رہا ہے، توبھی کرنے کو بہت کچھ ہے۔ (‏متی ۹:‏۳۷، ۳۸‏)‏ اسلئے، خدا کے علم کو اَور زیادہ تیزی سے پھیلانے کے لئے، ’‏دیانتدار نوکر‘‏ نے ایک ایسی چیز فراہم کی ہے جو خصوصی معلومات کو مختصراً مہیا کرتی ہے تاکہ بائبل طالبعلم ہر سبق کے ساتھ روحانی ترقی کر سکیں۔ یہ ایک نئی اشاعت ہے جو ترجیحاً جلدی گھریلو بائبل مطالعوں میں زیرِبحث لائی جا سکتی ہے—‏شاید چند مہینوں میں۔ اور اسے بآسانی ہمارے بریف‌کیسوں، ہمارے دستی‌بیگوں یا یہانتک‌کہ جیبوں میں بھی رکھا جا سکتا ہے!‏ یہوؔواہ کے گواہوں کی ”‏شادمان مدّاحین“‏ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر جمع‌شُدہ ہزاروں لوگ اس ۱۹۲ صفحات کی نئی کتاب کو حاصل کر کے خوش تھے جسکا عنوان ہے علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے۔‏

۱۶ مختلف ممالک کے انشاءپردازوں نے مواد تیار کِیا جسے احتیاط کے ساتھ ترتیب دیکر علم کی کتاب کے لئے حتمی شکل دے دی گئی۔ اس لئے اسے بین‌الاقوامی پسندیدگی حاصل ہونی چاہئے۔ لیکن کیا اس نئی اشاعت کو پوری دُنیا کے لوگوں کی زبانوں میں شائع کرنے میں کافی وقت لگے گا؟ جی‌نہیں، کیونکہ ۱۹۲ صفحات کی کتاب کا بڑی کتابوں کی نسبت زیادہ جلدی ترجمہ کِیا جا سکتا ہے۔ اکتوبر ۱۹۹۵ تک، گورننگ باڈی کی رائٹنگ کمیٹی اس کتاب کے انگریزی سے ۱۳۰ سے زیادہ زبانوں میں ترجمے کی اجازت دے چکی تھی۔‏

۱۷.‏ کن عناصر کو علم کی کتاب کو استعمال کرنا آسان بنانا چاہئے؟‏

۱۷ علم کی کتاب کے ہر باب میں موجود تفصیلات کو طالبعلموں کو اچھی طرح سے تیزی کے ساتھ ترقی کرنے کے قابل بنانا چاہئے۔ کتاب صحیفائی سچائیوں کو ترقی‌پسندانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ جھوٹے عقائد کو تفصیل سے بیان نہیں کرتی۔ زبان کی فصاحت اور منطقی ترتیب کو بائبل مطالعے کروانے اور خدا کے علم کو سمجھنے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لئے اس کتاب کے استعمال کو آسان بنانا چاہئے۔ درج‌شُدہ صحائف کے علاوہ، حوالہ‌شُدہ بائبل آیات بھی ہیں جنہیں طالبعلم بات‌چیت کے لئے تیاری کے دوران دیکھ سکتا ہے۔ اگر وقت اجازت دے تو اِنہیں مطالعہ کے دوران پڑھا جا سکتا ہے، اگرچہ ایسے غیرمتعلقہ مواد کو شامل کرنا دانشمندانہ بات نہیں ہے جو اہم نکات کو سمجھنے میں رُکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسکی بجائے جو مطالعہ کروا رہے ہیں اُنہیں جوکچھ کتاب ہر باب میں ثابت کر رہی ہے اُسے سمجھنے اور طالبعلم تک منتقل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسکا مطلب ہے کہ سکھانے والے کو مستعدی سے اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہئے، تاکہ اہم خیالات اُسکے ذہن میں بہت واضح ہوں۔‏

۱۸.‏ علم کی کتاب کے استعمال کے سلسلے میں کونسی تجاویز پیش کی گئی ہیں؟‏

۱۸ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے شاگرد بنانے کے کام کی رفتار کو کیسے تیز کر سکتی ہے؟ اس ۱۹۲ صفحات کی کتاب کا نسبتاً کم وقت میں مطالعہ کِیا جا سکتا ہے اور جتنے ”‏ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کئے گئے“‏ ہیں اُنہیں یہوؔواہ کے لئے مخصوصیت کرنے اور بپتسمہ لینے کے لئے اسکے مطالعہ کے ذریعے کافی کچھ سیکھنے کے قابل ہونا چاہئے۔ (‏اعمال ۱۳:‏۴۸‏)‏ پس آئیے ہم علم کی کتاب کو خدمتگزاری میں خوب استعمال کریں۔ اگر ایک طالبعلم کسی دوسری کتاب کا کافی زیادہ مطالعہ کر چکا ہے تو اُسے مکمل کرنا عملی ہوگا۔ بصورتِ‌دیگر، یہ مشورہ دِیا جاتا ہے کہ بائبل مطالعوں کو علم کی کتاب پر لیجانا چاہئے۔ اس نئی اشاعت کو مکمل کرنے کے بعد، یہ مشورہ نہیں دیا جاتا کہ اُسی طالبعلم کے ساتھ دوسری کتاب سے مطالعہ کِیا جائے۔ جو سچائی کو قبول کرتے ہیں وہ یہوؔواہ کے گواہوں کے اجلاسوں پر حاضر ہونے اور خود سے بائبل اور مختلف مسیحی مطبوعات پڑھنے سے اپنے علم کو وسیع کر سکتے ہیں۔—‏۲-‏یوحنا ۱‏۔‏

۱۹.‏ علم کی کتاب میں سے بائبل مطالعے کرانے سے پہلے، اپنی خدمتگزاری کو پورا کر نے کے لئے منظم میں سے ۱۷۵ تا ۲۱۸ صفحات کا اعادہ کرنا کیوں مددگار ہوگا؟‏

۱۹ علم کی کتاب کو اُن تمام سوالات کا جواب دینے میں کسی شخص کی مدد کرنے کے نصب‌العین کے ساتھ تحریر کِیا گیا تھا جن پر بزرگ یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر بپتسمہ لینے کے خواہشمند غیربپتسمہ‌یافتہ پبلشروں کے ساتھ نظرثانی کرتے ہیں۔ اس لئے، اس سے پہلے کہ آپ اپنے موجودہ مطالعے کو نئی اشاعت پر لیکر جائیں، اس بات کی سفارش کی جاتی ہے کہ آپ اپنی خدمتگزاری کو پورا کر نے کے لئے منظم کتاب کے ۱۷۵ تا ۲۱۸ صفحات کے سوالات پر نظرثانی کرنے کے لئے چند گھنٹے صرف کریں۔‏a ایسا کرنا علم کی کتاب سے بائبل مطالعوں کے دوران ایسے سوالات کے جوابات پر زور دینے کے لئے آپ کی مدد کرے گا۔‏

۲۰.‏ آپ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے ساتھ کیا کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں؟‏

۲۰ ہر جگہ لوگوں کو خوشخبری سنائی جانی چاہئے۔ جی‌ہاں، نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت ہے اور اسے مشہور کرنے کے لئے یہوؔواہ اپنے گواہ رکھتا ہے۔ اب ہمارے پاس ہمارے پُرمحبت آسمانی باپ کی طرف سے دیانتدار اور عقلمند نوکر کے ذریعے فراہم‌کردہ یہ نئی کتاب ہے۔ کیا آپ سچائی کی تعلیم دینے اور یہوؔواہ کے مُقدس نام کو عزت دینے کے لئے اسے استعمال کرینگے؟ جب آپ بہتیروں کے لئے اس علم کو جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث بنتا ہے ممکن‌الحصول بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تو یقیناً یہوؔواہ آپکو برکت دیگا۔ (‏۱۰ ۰۱/۱۵ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ آپ علامتی دِل کو کیسے بیان کرینگے؟‏

▫ خدا کا علم کیا ہے؟‏

▫ نوعِ‌انسان کو خدا کے علم کی ضرورت کیوں ہے؟‏

▫ کونسی نئی کتاب دستیاب ہے اور آپ اسے کسطرح استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

اسکی بہت سی وجوہات ہیں کہ زمین کے کروڑہا لوگوں کو کیوں خدا کے علم کی ضرورت ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں