بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
بائبل سچائی خاندان کو متحد کرتی ہے
آجکل، دُنیا کے بہتیرے حصوں میں، خاندانی اتحاد تقریباً ماضی کی کوئی چیز بن گیا ہے۔ تاہم، بائبل خاندانی اتحاد کے راز کو افشا کرتی ہے۔ یسوؔع کے الفاظ پر غور کریں: ”جو کوئی میری یہ باتیں سنتا اور اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس عقلمند آدمی کی مانند ٹھہریگا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔“ (متی ۷:۲۴) یہوؔواہ کے گواہوں کے درمیان ہزاروں خاندانوں نے ان الفاظ کا اطلاق کرنے سے خاندانی اتحاد کو حاصل کر لیا ہے۔ دیگر لوگ بھی ایسے اتحاد کو حاصل کر رہے ہیں، جیسےکہ مندرجہذیل تجربہ ظاہر کرتا ہے۔
جب دانیؔایل فرانسؔ میں فوج میں ملازمت کرتا تھا تو فوج کے پادری نے دانیؔایل کو بائبل خریدنے کا مشورہ دیا جو اُس نے خرید لی اور اُس نے اسے باقاعدہ پڑھنا شروع کر دیا۔ آخرکار اس کا تبادلہ تاہیٹیؔ کر دیا گیا۔ دانیؔایل کے ساتھی فوجیوں میں سے بعض ایڈوینٹسٹ اور دیگر مورمنز تھے۔ اُنکی گفتگو اکثر مذہب کے موضوع پر چھڑ جاتی تھی۔ ایک دن ایک چیف سارجنٹ نے دانیؔایل کا اپنی بیوی سے تعارف کرایا جو یہوؔواہ کےگواہوں میں سے ایک تھی۔ اُس نے دانیؔایل کے بہت سے سوالوں کے جواب دینے میں پوری سہپہر صرف کر دی اور تاہیٹیؔ میں یہوؔواہ کے گواہوں کی مقامی کلیسیاؤں میں سے ایک کیساتھ اُس کا رابطہ کرا دیا۔ جلد ہی اُس نے ایک باقاعدہ بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔
پیچھے فرانسؔ میں دانیؔایل کے والدین بہت پکے کیتھولک تھے۔ اُس کا والد ایک سکول کونسلر اور ایک کیتھولک سکول میں مذہبی تعلیم کا مُعلم تھا۔ جن روحانی باتوں کی بابت وہ سیکھ رہا تھا اُس میں اپنے والدین کو بھی شامل کرنے کی خواہش رکھتے ہوئے، دانیؔایل نے اپنے خطوط میں چند بائبل نظریات لکھنے شروع کر دئیے۔
شروع میں تو دانیؔایل کی والدہ خوش تھی مگر اپنے بیٹے کے خطوط میں سے ایک کے اندر نام یہوؔواہ پاکر اُسے دھچکا سا لگا۔ چند دنوں کے بعد، اُس نے ایک ریڈیو پروگرام سنا جس نے یہوؔواہ کے گواہوں کو ایک ”خطرناک فرقے“ کے طور پر پیش کِیا۔ اُس نے دانیؔایل کو خط لکھا اور گواہوں کے ساتھ تمامتر تعلقات فوراً ختم کرنے کو کہا۔ تاہم، دانیؔایل نے اپنے مطالعے میں آگے بڑھنا جاری رکھا اور جلد ہی فوج کو چھوڑنے اور واپس فرانسؔ جانے کے انتظامات کر لئے۔
ایک بار پھر گھر واپس آکر، دانیؔایل ہر شام کو—بعضاوقات تو رات گئے تک—اپنی والدہ کیساتھ طویل بائبل مباحثوں میں صرف کر دیتا۔ آخرکار وہ دانیؔایل کے ہمراہ کنگڈم ہال جانے کیلئے آمادہ ہو گئی۔ جب وہ پہلی مرتبہ اجلاس پر گئی تو وہ اسقدر متاثر ہوئی کہ اُس نے اپنا ذاتی بائبل مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اُس نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے بپتسمہ لے لیا۔
دانیؔایل کا باپ ایک بُردبار انسان تھا مگر اپنی پیشہوارانہ اور مذہبی سرگرمیوں کیلئے وقف تھا۔ پھربھی، ایک موقع پر وہ اپنی گاڑی میں اپنی بیوی اور دانیؔایل کو ڈسٹرکٹ کنونشن پر لیکر گیا۔ ۱۴ جولائی کا دن تھا، اور اُسکے ذہن میں تھا کہ وہ شہر میں باسٹیل ڈے پریڈ دیکھیگا۔ انتظار کے دوران، تجسّس سے تحریک پاکر، اُس نے کنونشن ہال میں جھانکنے کا فیصلہ کِیا۔ وہ اُس نظمونسق اور امن سے متاثر ہوا جو اُس نے یہوؔواہ کے لوگوں میں دیکھا، اور جب وہ مختلف کنونشن شعبوں میں سے گزرا تو ہر ایک نے اُسے ”بھائی“ کہہ کر پکارا۔ وہ باسٹیل ڈے پریڈ کے بارے میں سب کچھ بھول گیا اور کنونشن ختم ہونے تک وہاں رہا۔ اُس نے بائبل مطالعے کی درخواست کی اور تیزی کیساتھ ترقی کی، تاہم، اُس نے جتنا زیادہ سیکھا، اتنا ہی وہ اپنے کام میں دقت محسوس کرنے لگا، لہٰذا ۵۸ سال کی عمر میں، اُس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ اب خاندان کے تینوں افراد مخصوصشُدہ اور بپتسمہیافتہ ہیں اور باہمی اتحاد کیساتھ یہوؔواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔
یہ بائبل کی سچائی ہی تھی جس نے دانیؔایل کے خاندان کو متحد کر دیا۔ یہ دیگر خاندانوں کو بھی متحد کر سکتی ہے اگر وہ اسے سیکھیں اور پورے دل سے اسکا اطلاق کریں۔ (۸ ۰۴/۰۱ w۹۴)