یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏2 ص.‏ 5-‏7
  • ایک بہتر زندگی—‏عنقریب!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک بہتر زندگی—‏عنقریب!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک بہتر زندگی—‏کب؟‏
  • ایک بہتر زندگی—‏کیسے؟‏
  • آپکو جوکچھ کرنے کی ضرورت ہے
  • فردوس بالکل قریب ہے!‏
    آپ خدا کے دوست بن سکتے ہیں!‏
  • کیا ہم ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں؟‏
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • ‏”‏فردوس میں ملیں گے!‏“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • فردوس کب آئے گا؟‏
    خدا کی سنیں اور ہمیشہ کی زندگی پائیں
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏2 ص.‏ 5-‏7

ایک بہتر زندگی—‏عنقریب!‏

ایک‌ایسے موسمی پیش‌بین کا تصور کریں جس کی پیشینگوئیاں ہمیشہ سچ ثابت ہوتی ہیں۔ اگر وہ شام کی خبروں میں یہ پیشینگوئی کرتا ہے کہ اگلے دن بارش ہوگی تو آپ اگلی صبح جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو اپنی چھتری ساتھ لیجانے میں تامل نہیں کرتے۔ اُس کے گزشتہ ریکارڈ نے آپ کے اعتماد کو جیت لیا ہے۔ جوکچھ وہ کہتا ہے آپ اُس پر عمل‌پیرا ہوتے ہیں۔‏

اب بات یہ ہے کہ فردوسی زمین پر بہتر زندگی کے لئے یہوؔواہ کا وعدہ کسقدر قابلِ‌اعتماد ہے؟ اُس کا گزشتہ ریکارڈ کیا ظاہر کرتا ہے؟ بائبل پیشینگوئیوں کی تکمیل واضح طور پر یہوؔواہ کے ریکارڈ کو سچا ثابت کر دیتی ہے۔ وہ قابلِ‌اعتماد صحت‌وصداقت اور سچائی کا خدا ہے۔ (‏یشوع ۲۳:‏۱۴؛‏ یسعیاہ ۵۵:‏۱۱‏)‏ یہوؔواہ خدا کے وعدے اسقدر قابلِ‌اعتماد ہیں کہ بسااوقات وہ درحقیقت موعودہ مستقبل کے واقعات کا اس طرح ذکر کرتا ہے گویا کہ وہ پہلے ہی رونما ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، اُس کے نئی دُنیا کے وعدے کے بعد جس میں موت اور ماتم نہیں رہیگا، ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏یہ باتیں [‏موعودہ برکات]‏ پوری ہو گئیں۔“‏ باالفاظِ‌دیگر، ”‏یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۵، ۶‏۔‏

جی‌ہاں، یہوؔواہ کے گزشتہ وعدوں کی تکمیل ہمیں نوعِ‌انسان کے لئے ایک بہتر زندگی کے اُس کے وعدے کی تکمیل پر اعتماد بخشتی ہے۔ لیکن یہ بہتر زندگی کب آئے گی؟‏

ایک بہتر زندگی—‏کب؟‏

ایک کہیں بہتر زندگی بہت جلد آئے گی!‏ ہم اس کا یقین رکھ سکتے ہیں کیونکہ بائبل کہتی ہے کہ فردوس میں بہتر زندگی حاصل ہونے سے ذرا پہلے زمین پر بہت سی خراب باتیں واقع ہونگی۔ وہ خراب باتیں اب واقع ہو رہی ہیں۔‏

مثال کے طور پر، یسوؔع مسیح نے پیشینگوئی کی کہ بڑی بڑی جنگیں ہوں گی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۷‏)‏ یہ پیشینگوئی سچ ثابت ہوئی ہے۔ ۱۹۱۴ سے لیکر ۱۹۴۵ کے سالوں کے دوران، دو عالمی جنگیں لڑی گئیں اور ان کے بعد بیشمار دیگر لڑائیاں لڑی گئی ہیں جن میں قومیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار رہی ہیں۔ ”‏اوسطاً سالانہ بنیاد پر، اس عرصہ کے دوران [‏دوسری عالمی جنگ سے لیکر]‏ جنگ سے اموات کی شرح ۱۹ویں صدی میں واقع ہونے والی اموات کی نسبت دُگنی اور ۱۸ویں صدی کی نسبت ۷ گنا زیادہ رہی ہے۔“‏—‏ورلڈ ملٹری اینڈ سوشل ایکسپنڈیچرز ۱۹۹۳۔‏

بیماری کا عام ہونا فردوس میں بہتر زندگی کے قریب ہونے کا ایک اَور ثبوت ہے۔ یسوؔع نے پیشینگوئی کی کہ ’‏جابجا مری پڑیگی۔‘‏ (‏لوقا ۲۱:‏۱۱‏)‏ کیا یہ پیشینگوئی سچ ثابت ہوئی ہے؟ جی‌ہاں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد، اسپینش فلو نے ۲۰ ملین سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ اُس وقت سے لیکر، کینسر، عارضۂ‌قلب، ملیریا، ایڈز اور دیگر بیماریوں نے لاکھوں لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ہے۔ ترقی‌پذیر ممالک میں، آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں (‏بشمول اسہال اور انتڑیوں میں کیڑوں کے امراض کے)‏ ہر سال لاکھوں زندگیاں ختم کرتی ہیں۔‏

یسوؔع نے یہ بھی کہا:‏ ”‏جگہ جگہ کال پڑیں گے۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۷‏)‏ جیسے‌کہ پچھلے مضمون میں مشاہدہ کِیا گیا ہے، دُنیا کے غریبوں کے پاس کھانے کو کافی نہیں ہے۔ یہ اس ثبوت کی ایک اَور کڑی ہے کہ فردوس میں ایک بہتر زندگی جلد آنے والی ہے۔‏

‏”‏بڑے بڑے بھونچال آئیں گے،“‏ یسوؔع نے کہا۔ (‏لوقا ۲۱:‏۱۱‏)‏ ہمارے زمانہ میں یہ بھی سچ ثابت ہوا ہے۔ ۱۹۱۴ سے لیکر تباہ‌کُن بھونچالوں کے ذریعے بربادی نے ہزاروں جانیں چھین لی ہیں۔‏

بائبل مزید کہتی ہے کہ ”‏اخیر زمانہ“‏ لوگوں میں تبدیلی سے پہچانا جائیگا۔ وہ ”‏خودغرض“‏ اور ”‏زردوست“‏ ہونگے اور بچے ”‏ماں‌باپ کے نافرمان“‏ ہونگے۔ عام طور پر لوگ ”‏خدا کی نسبت عیش‌وعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے“‏ ہونگے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵‏)‏ کیا آپ اس سے متفق نہیں کہ بہتیرے اس بیان پر پورا اُترتے ہیں؟‏

جب زیادہ‌تر لوگ بُرے کام کرتے ہیں تو لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی بھی پیشینگوئی کی گئی تھی۔ متی ۲۴:‏۱۲ کے مطابق، یسوؔع نے ”‏بیدینی [‏”‏لاقانونیت،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے بڑھ جانے“‏ کا ذکر کیا۔ غالباً آپ اس سے متفق ہونگے کہ گزشتہ سالوں کی نسبت جرم اب زیادہ بدتر ہے۔ ہر جگہ لوگ اس بات سے خائف ہیں کہ اُنہیں کسی نہ کسی طریقے سے لوٹ لیا جائیگا، دھوکا دیا جائیگا یا نقصان پہنچایا جائیگا۔‏

جنگیں، دُور تک پھیلی ہوئی بیماری، کال، بھونچال، بڑھتا ہوا جرم اور انسانی رشتوں میں بگا‌ڑ کے لئے تبدیلی—‏یہ سب آج کل بالکل ویسے ہی واضح نظر آتے ہیں، جیسے بائبل نے پیشینگوئی کی تھی۔ ’‏لیکن کیا یہ باتیں ہمیشہ انسانی تاریخ میں واقع نہیں ہوئیں؟‘‏ آپ شاید پوچھیں ’‏ہمارے زمانے کی بابت کونسی بات مختلف ہے؟‘‏

آجکل جوکچھ واقع ہو رہا ہے اس کے چند نہایت اہم پہلو ہیں۔ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ کوئی ایک عنصر، جیسے‌کہ کال، بذاتِ‌خود اس بات کا ثبوت ہونگے کہ ہم آخری ایّام میں رہ رہے ہیں اور یہ کہ ایک بہتر زندگی قریب ہے۔ آخری زمانے کی بابت بائبل کی پیشینگوئیوں کو ایک بے‌دین نسل پر پورا ہونا تھا۔—‏متی ۲۴:‏۳۴-‏۳۹؛‏ لوقا ۱۷:‏۲۶، ۲۷‏۔‏

مزیدبرآں، یہ بالکل غیرمعمولی بات ہے کہ یسوؔع کی پیشینگوئی کے بعض عناصر—‏بالخصوص وہ جو کال اور دُور تک پھیلی ہوئی بیماری کی بابت ہیں—‏آجکل پورے ہو رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ پہلے کبھی اسقدر سائنسی کامرانیاں نہیں ہوئیں۔ طبّی علم اور طریقۂ‌علاج کبھی بھی اسقدر ترقی‌یافتہ یا عام نہیں رہے۔ صرف خدا ہی اپنے کلام بائبل میں یہ پیشینگوئی کر سکتا تھا کہ ایسے وقت میں، بیماری اور قحط بہتر نہیں بلکہ بدتر ہو جائینگے۔‏

چونکہ خاتمے کے وقت، یا ”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت بائبل کی پیشینگوئیاں سچ ثابت ہو رہی ہیں، اسلئے ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ کہ ایک بہتر زندگی قریب ہے!‏ لیکن یہ کیسے آئیگی؟‏

ایک بہتر زندگی—‏کیسے؟‏

آپ کے خیال میں کیا انسان فردوس لا سکتے ہیں؟ آج دِن تک پوری تاریخ کے دوران، بہتیری اقسام کی انسانی حکومتیں رہی ہیں۔ بعض نے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کی ہے۔ تاہم، بہت سے مسائل بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ امیر اور غریب دونوں طرح کے ممالک میں، حکومتیں منشیات کے ناجائز استعمال، ناقص رہائش، مفلوک‌الحالی، جرم، بیروزگاری اور جنگ کے خلاف نبردآزما ہیں۔‏

اگر حکومتیں ان میں سے چند ایک مسائل حل کر بھی سکیں توبھی وہ خراب صحت سے مکمل چھٹکارا فراہم نہیں کر سکتیں؛ نہ ہی وہ بڑھاپے اور موت کو ختم کر سکتی ہیں۔ واضح طور پر، انسان کبھی بھی اس زمین پر فردوس نہیں لا سکیں گے۔‏

بائبل دانشمندی سے بیان کرتی ہے:‏ ”‏نہ اُمرا پر بھروسہ کرو نہ آدم‌زاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔“‏ توپھر، ہمیں کس پر اپنا بھروسہ رکھنا چاہئے؟ بائبل جواب دیتی ہے:‏ ”‏خوش‌نصیب ہے وہ جس کا مددگار یعقوؔب کا خدا ہے اور جسکی اُمید خداوند اُس کے خدا سے ہے۔“‏ (‏زبور ۱۴۶:‏۳،‏ ۵‏)‏ اگر ہم اپنی اُمید یہوؔواہ خدا پر لگاتے ہیں تو ہم کبھی بھی مایوس نہیں ہونگے۔‏

یقینی طور پر جو زمین، سورج اور ستاروں کو خلق کرنے کی حکمت اور قوت رکھتا ہے وہ زمین کو ایک فردوس بھی بنا سکتا ہے۔ وہ انسانوں کو ایک بہتر زندگی سے لطف اُٹھانے کے قابل بنا سکتا ہے۔ یہوؔواہ خدا جو کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ اُسے سرانجام دے سکتا ہے اور دیگا۔ اُس کا کلام کہتا ہے:‏ ”‏جو قول خدا کی طرف سے ہے وہ ہرگز بے‌تاثیر نہ ہوگا۔“‏ (‏لوقا ۱:‏۳۷‏)‏ لیکن خدا کیسے ایک بہتر زندگی لائیگا؟‏

یہوؔواہ اپنی بادشاہت کے ذریعے بنی‌آدم کے لئے ایک بہت بہتر زندگی لائیگا۔ اور خدا کی بادشاہت کیا ہے؟ یہ خدا کی طرف سے مقررکردہ حکمران، یسوؔع مسیح کے ساتھ ایک حقیقی حکومت ہے۔ خدا کی بادشاہت آسمان میں قائم ہے لیکن یہ عنقریب فردوسی زمین کے باشندوں کے لئے شاندار برکات اور ایک بہت بہتر زندگی لائے گی—‏یسعیاہ ۹:‏۶، ۷‏۔‏

ہو سکتا ہے کہ آپ پہلے ہی سے بائبل میں متی ۶:‏۹-‏۱۳ میں پائی جانے والی یسوؔع کی نمونے کی دُعا سے واقف ہوں۔ خدا کے حضور اُس دُعا کا ایک حصہ کہتا ہے:‏ ”‏تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ اس دُعا کی مطابقت میں، خدا کی بادشاہت زمین کے لئے یہوؔواہ خدا کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ”‏آئے“‏ گی۔ اور اُس کا مقصد یہ ہے کہ زمین فردوس بن جائے۔‏

ایک آخری سوال پیدا ہوتا ہے:‏ آنے والی فردوس میں ایک بہتر زندگی سے لطف اُٹھانے کے لئے آپکو کیا کرنا چاہئے؟‏

آپکو جوکچھ کرنے کی ضرورت ہے

یہوؔواہ خدا پُرمحبت طور پر اُن سب کے سامنے فردوس میں ایک بہتر زندگی کا امکان رکھتا ہے جو اُس کی مرضی بجا لاتے ہیں۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے:‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۲۹‏)‏ لیکن کیا چیز ایک شخص کو خدا کی نظروں میں صادق بناتی ہے؟‏

یہوؔواہ کو خوش کرنے کیلئے ہمیں اس کی بابت اَور زیادہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم خدا کے علم کو حاصل کرتے اور اپنی زندگیوں میں اس کا اطلاق کرتے ہیں تو ہم ابد تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ خدا سے دُعا میں، یسوؔع نے کہا:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏—‏یوحنا۱۷:‏۳۔‏

کتاب جو ہمیں یہوؔواہ خدا اور یسوؔع مسیح کی بابت بتاتی ہے وہ خدا کا کلام بائبل ہے۔ یہ یہوؔواہ کی بیش‌قیمت بخششوں میں سے ایک ہے۔ بائبل ایک شفیق باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لئے ایک خط کی مانند ہے۔ یہ ہمیں بنی‌آدم کے لئے ایک بہتر زندگی لانے کے خدا کے وعدے کی بابت بتاتی ہے اور ہم پر ظاہر کرتی ہے کہ کسطرح ہم اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ بائبل ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ خدا نے ماضی میں کیا کچھ کِیا اور مستقبل میں وہ کیا کچھ کریگا۔ یہ ہمیں اس کی بابت بھی عملی مشورت سے نوازتی ہے کہ اس وقت کیسے اپنے مسائل کے ساتھ کامیابی سے نپٹا جائے۔ بلا‌شُبہ، خدا کا کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اس مصیبت‌زدہ دُنیا میں بھی ہم کسی حد تک کیسے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏۔‏

یہوؔواہ کے گواہ آپ کے لئے ایک مُفت گھریلو بائبل مطالعے کا بندوبست خوشی سے کرینگے۔ سیکھیں کہ کیسے آپ مستقبل قریب میں ایک بہت بہتر زندگی کے امکان کیساتھ، اس وقت ایک پُرمسرت زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ (‏۴ ۱۱/۱۵ w۹۵)‏

‏[‏تصویر]‏

بائبل پیشینگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ایک بہتر زندگی قریب ہے

‏[‏تصویر]‏

خدا کی بادشاہت نوعِ‌انسان کیلئے ایک بہتر زندگی کی راہ کھول دے گی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں