ایک بہتر زندگی کا وعدہ کِیا گیا ہے
کیا آپ اُن مسائل سے آزاد ہونا پسند کرینگے جو زندگی کو دُشوار بناتے ہیں؟ کیا آپ ایک ایسی دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں زندگی اتنی مسرتبخش ہو جیسےکہ اس رسالے کے سرِورق اور پُشت پر اس کی منظرکشی کی گئی ہے؟ اس تصویر کو غور سے دیکھیں۔ لوگوں کے پاس افراط سے کھانے کو ہے۔ وہ واقعی اس لذیذ خوراک سے لطفاندوز ہونگے۔ ہر کوئی خوش ہے۔ مختلف نسلوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ امن کی حالت میں ہیں۔ یہانتک کہ جانور بھی امن کی حالت میں ہیں! کوئی لڑائی نہیں کر رہا ہے۔ کوئی مفلس نہیں ہے۔ کوئی بیمار نہیں ہے۔ خوبصورت ماحول، خوشنما درخت اور صافشفاف پانی ہے۔ کیا ہی شاندار ماحول!
کیا یہ زمین کبھی ایسی ہوگی؟ جیہاں، یہ ایک فردوس بنے گی۔ (لوقا ۲۳:۴۳) خدا، جس نے زمین کو خلق کِیا، یہ مقصد ٹھہرایا ہے کہ انسان فردوسی زمین پر بہتر زندگی سے لطف اُٹھائیں۔ اور آپ وہاں ہو سکتے ہیں!
آپ کونسی زندگی کو ترجیح دینگے؟
مستقبل کا زمینی فردوس اس دُنیا سے کیسے مختلف ہوگا جس میں ہم اب رہتے ہیں؟ اس وقت، ہر روز ایک بلین سے زیادہ لوگ بھوکے رہتے ہیں۔ لیکن فردوس میں جس کا خدا نے اس زمین کے لئے مقصد ٹھہرایا ہے، ہر ایک کے پاس افراط سے کھانے کو ہوگا۔ بائبل وعدہ کرتی ہے: ”ربالافواج . . . سب قوموں کے لئے فربہ چیزوں سے ایک ضیافت تیار کرے گا بلکہ ایک ضیافت تلچھٹ پر سے نتھری ہوئی مے سے۔“ (یسعیاہ ۲۵:۶) وہاں خوراک کی قلّت نہیں ہوگی، کیونکہ بائبل کہتی ہے: ”زمین پر اناج کی افراط ہوگی؛ پہاڑوں کی چوٹیوں پر فراوانی ہوگی۔“—زبور ۷۲:۱۶، اینڈبلیو۔
آجکل، بہتیرے جھونپڑیوں اور تنگوتاریک گھروں میں رہتے ہیں یا وہ اپنا کرایہ ادا کرنے کی کشمکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ دیگر کے پاس کوئی گھر نہیں اور سڑکوں پر سوتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، دُنیا بھر کے ۱۰۰ ملین کے لگبھگ بچے بےخانماں ہیں۔ لیکن آنے والے فردوس میں، ہر ایک کے پاس گھر ہوگا جسے وہ اپنا کہہ سکے گا۔ خدا کا کلام کہتا ہے: ”وہ گھر بنائینگے اور اُن میں بسینگے۔ وہ تاکستان لگائینگے اور اُنکے میوے کھائینگے۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۱۔
بہتیرے ایسی ملازمتوں پر سخت محنت کرتے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔ وہ اکثر دیر تک اور مشقت طلب کام کرتے ہیں لیکن معاوضے میں بہت کم اُجرت پاتے ہیں۔ دُنیا میں تقریباً ہر ۵ افراد میں سے ۱، ایک سال میں ۵۰۰ ڈالر سے کم آمدنی میں گزربسر کرتا ہے۔ تاہم، آنے والے فردوس میں، لوگ اپنے کام سے لطف اُٹھائینگے اور اس سے اچھے نتائج حاصل کرینگے۔ خدا وعدہ کرتا ہے: ”میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُٹھائینگے۔ اُنکی محنت بےسود نہ ہوگی۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۲، ۲۳۔
آجکل دُکھ اور بیماری ہر جگہ ہیں۔ بہت سے نابینا ہیں۔ بعض بہرے ہیں۔ دیگر چلپھر نہیں سکتے۔ لیکن فردوس میں، لوگ دُکھ اور بیماری سے آزاد ہونگے۔ یہوؔواہ فرماتا ہے: ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴) جو پہلے ہی معذور ہیں اُن کیلئے اُمیدافزا وعدہ یہ ہے: ”اُس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی۔“—یسعیاہ ۳۵:۵، ۶۔
اس وقت، دُکھ اور تکلیف، غم اور موت ہے۔ لیکن زمین پر فردوس میں یہ تمام چیزیں موجود نہیں ہونگی۔ جیہاں، موت بھی ختم ہو جائیگی! بائبل کہتی ہے: ”خدا آپ اُنکے ساتھ رہیگا . . . اور وہ اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
لہٰذا، واضح طور پر، یہوؔواہ کے موعودہ زمینی فردوس کا مطلب نوعِانسان کیلئے ایک بہتر زندگی ہوگا۔ لیکن ہم کیسے یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ آئیگا؟ یہ کب اور کیسے آئیگا؟ وہاں موجود ہونے کیلئے آپ کو کیا کرنا لازم ہے؟ (۳ ۱۱/۱۵ w۹۵)