سؔنگاپور پرستش کی آزادی کو پامال کرتا ہے
۲۴ فروری، ۱۹۹۵، کی شام سنگاؔپور کے شہر میں پولیس نے چار گھروں پر چھاپا مارا۔ کُل ۶۹ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔a ان میں ایک ۷۱ سالہ عمررسیدہ عورت اور دو ۱۵ سالہ لڑکیاں تھیں۔ کیوں؟ کیا یہ مُجرمانہ یا تخریبکار سرگرمی کی وجہ سے تھا؟ جینہیں۔ ان میں سے ایک بھی کسی ایسے کام میں ملوث نہیں تھا جسے کسی بھی لحاظ سے خطرناک، بداخلاق، اور سماجدشمن خیال کیا جا سکے۔ وہ سنگاؔپور کے اپنے ساتھی انسانوں کی اخلاقی اقدار، تحفظ، اور بہبود کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے۔ پھربھی، چار گھروں کی اچھی طرح تلاشی لینے کے بعد، پولیس ۶۹ افراد کو پولیس اسٹیشن لے گئی، جو بائبل مطالعہ کرنے اور سماجی میلجول سے لطف اُٹھانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ انہیں راتبھر وہاں رکھا گیا، پوچھگچھ کی گئی، انگلیوں کے نشانات لئے گئے، اور تصویریں اتاریں گئیں—جیہاں، عام مُجرموں کی طرح دہشتزدہ کیا گیا! اس وقت کے دوران—تقریباً ۱۸ گھنٹے گھٹیا حالتوں میں—انکے قانونی چارہجوئی کرنے کے حق کو رد کیا گیا اور یہانتک کہ خاندانی اراکین کو مطلع کرنے کیلئے کہ وہ کہاں ہیں ٹیلیفون کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ کوئی محض تصور ہی کر سکتا ہے کہ کیسے ایسی سرسری کارروائی ان پُرامن، قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں پر اثرانداز ہوئی ہوگی!
یہ منظر نازی جرمنیؔ کے قرونِمظلمہ اور سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں کمیونسٹ دَور کی سفاکانہ حالتوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کی توقع سنگاؔپور میں آنے والا ایک عام سیاح اس صافستھرے اور متموّل جدید شہری ریاست میں نہیں کریگا۔ سنگاؔپور نے معاشی اور معاشیاتی ترقی کے ۲۰ویں صدی کے عجائب کے طور پر شہرت حاصل کر لی ہے۔ یہ اعلانیہ جمہوریہ ہے جس کا ایک آئین ہے جو اپنے شہریوں کو اظہار، مذہب، اور گروہی آزادی سمیت، بنیادی حقوقِانسانی کی ضمانت دیتا ہے۔
تاہم، جنہیں فروری میں گرفتار کیا گیا، وہ صرف یہوؔواہ کے گواہ ہونے کی وجہ سے نشانہ بنے تھے جو بائبل کا مطالعہ کرنے اور مسیحی رفاقت میں شریک ہونے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ ان پر ”ایک غیرقانونی سوسائٹی کے اجلاس پر حاضر ہونے“ کا الزام تھا۔
درحقیقت، ۱۹۷۲ سے لیکر یہوؔواہ کے گواہوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے جب سے سنگاؔپور کلیسیا کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی اور واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے ذریعے شائع ہونے والے لٹریچر، سمیت بائبل، پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان مفروضات کو چیلنج کرنے کے کسی موقع کی اجازت نہیں دی گئی جس پر یہ کارروائی کی گئی تھی۔ حال ہی میں چار گواہوں کے مقدمے میں اس سرکاری امتیاز کی قانونی حیثیت کو سنگاؔپور کی عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے جنہیں فروری ۱۹۹۴ میں ممنوعہ بائبل لٹریچر رکھنے پر مُجرم قرار دیا گیا تھا۔ ان کے اثباتِجرم کے خلاف اپیل کی سماعت اگست ۱۹۹۴ میں ہوئی اور سرسری طور پر برخاست کر دی گئی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یون پین ہوؔ نے اگلے ماہ اپنی رائے دی۔ اس نے فیصلہ سنایا کہ مذہبی آزادی کی کوئی خلافورزی نہیں کی گئی تھی اور اس بنیاد پر الزامات کی توجیہ کی گئی کہ یہوؔواہ کے گواہ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں کیونکہ اس کے اراکین فوجی خدمت میں حصہ نہیں لیتے۔ ۱۷ فروری، ۱۹۹۵ کو ان چار گواہوں نے سنگاؔپور کورٹ آف اپیل میں اس سخت فیصلے کی اپیل کرنے کی اجازت مانگی۔ ان کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔
اس حتمی فیصلے کو پریس میں نمایاں کیا گیا جس پر سنگاؔپور کی حکومت کا کنٹرول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کورٹ کے اس فیصلے اور منتج اشتہاربازی نے اس کے بعد ہونے والے واقعات کی عکاسی کی۔ ایک ہفتے کے اندر ۶۹ گواہوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ان چاروں—برؔطانیہ، فرانسؔ، اور لکسمبرؔگ کے شہریوں—پر الزامات کو بعدازاں خارج کر دیا گیا۔ تاہم، ان کے لئے بھی یہ تجربہ ہولناک تھا۔ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ سنگاؔپور میں سالہاسال سے رہائشپزیر تھا اور کام کرتا تھا۔ انہیں اپنی ملازمتوں اور اپنے کرائے کے مکان سے ہاتھ دھونا پڑا اور بہتیرے قریبی رفقاء کو مجبوراً خداحافظ کہنا پڑا۔
باقیماندہ ۶۳ بالغوں پر ایک پابندی لگی سوسائٹی کیساتھ تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا، اور بعض پر ممنوعہ لٹریچر رکھنے کا بھی الزام لگایا گیا۔ وہ قیدخانہ میں زیادہ سے زیادہ تین سال یا ۳،۰۰۰ سنگاؔپور ڈالر (۲،۱۰۰ امریکی ڈالر) جرمانہ یا دونوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ۱۵ سالہ دو لڑکیاں الگ الگ نابالغوں کی عدالت میں حاضر ہوئیں۔
ملکی شناخت اور اتحاد کیلئے کوئی خطرہ نہیں
پوری دنیا میں، ۲۰۰ سے زائد ممالک جہاں یہوؔواہ کے گواہ رہتے ہیں، وہ آبرومند، دیانتدار، قانون پر چلنے والے لوگوں کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کی تخریبکاری، حکومت کا تختہ الٹنے کی سرگرمی—غیرمسیحی کام جو ان کے خارج، یا رفاقت سے محروم کر دئے جانے پر منتج ہو سکتے ہیں—میں حصہ لینے میں اپنے ٹھوس انکار کے لئے پہچانے جاتے ہیں۔ واقعی، سنگاؔپور کی حکومت کو ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ کسی بھی طرح سے سنگاؔپور کی ملکی سلامتی یا ملکی شناخت یا اتحاد کے احساس کے لئے خطرہ نہیں ہیں۔ (رومیوں ۱۳:۱-۷) اسے واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے صدر، ملٹنؔ جی. ہینشل کی طرف سے سنگاؔپور کے وزیرِاعظم گوؔ چوک ٹن کو ایک خط بتاریخ ۲۱ مارچ، ۱۹۹۵، میں واضح طور پر بیان کیا گیا تھا۔ ہمارے قارئین کے فائدہ کے لئے یہاں اس خط کی نقل پیش کی گئی ہے۔
کاروبار، حکومت، اور پرائیویٹ سیکٹر میں محبانِآزادی یہ دیکھنے کے لئے دلچسپی سے نظر کریں گے کہ سنگاؔپور میں یہ صورتحال کس طرح فروغ پاتی ہے۔ کیا سنگاؔپور کی حکومت بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مطابقت میں کام کرے گی جنکی تائید اس کے اپنے آئین اور ملکوں کی بینالاقوامی آبادی کے ذریعے کی گئی ہے۔ یقیناً پوری دنیا کے یہوؔواہ کے گواہ سنگاؔپور میں اپنے ساتھی پرستاروں کی بابت نہایت فکرمند ہیں۔ وہ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد کرتے اور بائبل میں پائی جانے والی اس یقیندہانی کو ذہن میں رکھتے ہیں: ”خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے مُقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔“—زبور ۳۷:۲۸۔ (۲۹ ۱۰/۰۱ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a جبکہ ان ۶۹ کو گرفتار کیا گیا تھا، مہینوں کے دوران ۱۱ اَور گواہوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور غیرقانونی لٹریچر رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
[بکس]
مارچ ۲۱، ۱۹۹۵
گوؔ چوک ٹن
وزیرِاعظم
اسٹانہ انیکسی
سنگاؔپور ۰۹۲۳
ریپبلک آف سنگاؔپور
لی کوؔآن یو
سینیئر منسٹر
پرائم منسٹر آفس
۴۶۰ ایلگزینڈرا روڈ
۰۰-۳۷ پیایساے بلڈنگ
سنگاؔپور ۰۵۱۱
ریپبلک آف سنگاؔپور
جنابِعالیٰ:
سنگاؔپور سے ارسالکردہ ایک حالیہ نیوز سروس بتاریخ ۲۵ فروری، ۱۹۹۵ نہایت ہی پریشانکُن تھی۔ اس نے رپورٹ دی کہ یہوؔواہ کے گواہوں کے بائبل مطالعے کے اجلاس کو پولیس کے ذریعے منتشر کیا گیا اور ۶۹ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ نے سنگاؔپور میں یہوؔواہ کے گواہوں کی صورتحال پر دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے، جہاں انکی سرگرمیوں اور لٹریچر پر ۲۰ سالوں سے پابندی عائد ہے۔
یہ سمجھنا مشکل امر ہے کہ کیوں ایک مذہبی تنظیم پر جمہوری اصولوں کی تائید کرنے والے ملک سنگاؔپور میں پابندی عائد ہونی چاہئے جو ۲۰۰ سے زائد ممالک میں قانون کے پورے تحفظ میں آزادی سے کام کرتی ہے۔ اپنے شہریوں کے لئے پرستش کی آزادی کی بابت سنگاؔپور کی آئینی ضمانت کے پیشِنظر تو یہ بات اَور زیادہ پریشانکُن ہے۔
یہوؔواہ کے گواہ کہیں پر بھی قومی سلامتی کے لئے کوئی خطرہ نہیں بنے ہیں۔ واقعی، پوری دنیا میں وہ پُرامن، محنتی، اخلاقی طور پر دیانتدار، اور قانون کی پابندی کرنے والوں کی شہرت رکھتے ہیں—یہ ایسے اوصاف ہیں جو مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے ملک میں فروغ دینا چاہتے ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ مسیحیوں کیلئے بائبل معیاروں سے انکی پُختہ وابستگی میں یہوؔواہ کے گواہوں کے مؤقف کو بعضاوقات غلط سمجھا گیا یا غلط پیش کیا گیا ہے۔ لیکن، کیا یہ مسیحیت کے بانی کی بابت سچ نہیں ہے جسے اپنے وقت کی حکومت ”قیصر،“ کے خلاف ہونے کے طور پر بھی غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا؟ یہوؔواہ کے گواہ صرف یسوؔع اور ابتدائی مسیحیوں کے نمونے پر چلتے ہیں۔ وہ جہاں رہتے ہیں وہاں کی حکومت کیلئے احترام دکھاتے، انکے ٹیکس ادا کرتے، اور اچھے اخلاق کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ فرضشناس اور دیانتدار شہری ہیں۔ یہوؔواہ کے گواہوں نے کبھی بھی کسی ملک میں کسی قسم کی تخریبکاری میں حصہ نہیں لیا ہے اور میں آپکو یقین دلا سکتا ہوں کہ سنگاؔپور میں انکی موجودگی آپکے قومی مفادات کیلئے کوئی خطرہ پیش نہیں کرتی۔
ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹ کے باعث، یہوؔواہ کے گواہوں کے خلاف آپ کی حکومت نے جو استبدادی اقدام اُٹھائے ہیں اب ان کا چرچا عام ہے۔ یہ خاص طور پر پوری دنیا میں انکے ۱۲ ملین رفقاء کے لئے لمحہفکریہ ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ صورتحال کے تدارک کے لئے آپ اپنے اعلیٰ اختیار کو استعمال کریں اور اپنے ملک میں پرستش اور ضمیر کی آزادی عطا فرمائیں جس کی آئین کے ذریعے ضمانت دی گئی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ یہوؔواہ کے گواہوں کے نمائندگان کے ساتھ کھلےبندوں باتچیت ہماری تنظیم اور سرگرمی کی بابت کسی بھی طرح کی غلطفہمیوں کو دور کر دیگی اور آپ کو یقین دلائے گی کہ سنگاؔپور کی حکومت کو یہوؔواہ کے گواہوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے ایسی میٹنگ کا بندوبست کرکے خوشی ہوگی۔
مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
آپ کا مخلص
ملٹنؔ جی. ہینشل
صدر
[تصویر کا حوالہ]
Nik Wheeler/H. Armstrong Roberts