خوف—دوست یا دشمن؟
”مَیں اس بارے میں سوچتی ہوں کہ مجھے کیسے مرنا چاہئے۔ مَیں نہیں چاہتی کہ مجھے گولی لگے، لیکن اگر مجھے گولی لگ جاتی ہے تو مَیں چاہتی ہوں کہ سیدھی سر پر لگے تاکہ مَیں فوراً ہی مر جاؤں۔“
لاس اینجلس ٹائمز کے رپورٹر نے ایک ۱۴سالہ لڑکی سے یہ سنا۔ وہ حالیہ قتلوغارت کے سلسلے میں طلباء سے انٹرویو لے رہا تھا—نوجوان جو بالغوں اور دیگر نوجوانوں دونوں کا قتل کرتے ہیں۔ رپورٹ کا عنوان تھا: ”خوف کی دُنیا۔“
آپ یقینی طور پر اس بات سے آگاہ ہونگے کہ بہتیرے خوف کی دُنیا میں رہتے ہیں۔ کس چیز کا خوف؟ بالخصوص کسی ایک خوف کی نشاندہی کرنا ذرا مشکل ہوگا۔ کوشش کریں اگر آپ متصل بکس میں ایسی چیزیں تلاش کر سکتے ہیں جن سے آپ کے دوست یا آپ کے علاقے کے بہتیرے دیگر لوگ ڈرتے ہیں۔ یہ بکس نومبر ۲۲، ۱۹۹۳، کے نیوزویک سے لیا گیا ہے اور یہ ”۱۰ سے ۱۷ سال کے بیچ کی عمر کے ۷۵۸ بچوں، بمع اُنکے والدین“ کی رائےزنی کے نتائج کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر اب اُن نوجوانوں کا انٹرویو لیا جائے تو وہ خوف کی اضافی وجوہات بیان کرینگے، جیسےکہ زلزلے۔ لاس اینجلز میں جنوری ۱۹۹۴ میں تباہکُن زلزلے کے بعد، ٹائم نے رپورٹ دی: ”زخمی ہونے کے دباؤ کے امراض کی علامات میں بےقابو ماضی کی یادیں، بھیانک خواب، حد سے زیادہ چوکنا ہونا اور اپنی زندگی پر قابو رکھنے میں ناکامی کے باعث غصہ شامل ہیں۔“ ایک تاجر جو نقلمکانی کا فیصلہ کر چکا تھا اُس نے کہا: ”نقصان کی تو کوئی بات نہیں۔ یہ تو خوف کی وجہ ہے۔ آپ جوتوں سمیت نچلی منزل پر بستر پر لیٹ جاتے ہیں۔ آپکو نیند نہیں آتی۔ آپ ہر شب بیٹھے ہوئے اُسکے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ بہت ہی ناخوشگوار بات ہے۔“
”پےدرپے آفات نے جاپانیوں کو بوکھلا دیا ہے“ یہ وہ عنوان تھا جو ٹوکیوؔ سے اپریل ۱۱، ۱۹۹۵، کی رپورٹ کو دیا گیا تھا۔ اس نے بیان کِیا: ”آرگینوفاسفیٹ جنگی گیس کا حملہ . . . بالخصوص جاپانیوں کے ذہنوں پر ایک کاری ضرب تھی کیونکہ یہ واقعات کے ایسے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر وارد ہوئی تھی جس نے مجموعی طور پر مستقبل کی بابت نئے غیریقینی حالات پیدا کر دئے تھے۔ . . . لوگ اُن گلیوں میں محفوظ محسوس نہیں کرتے تھے جو کبھی دِن یا رات کو اپنے محفوظ ہونے کے لئے مشہور تھیں۔“ اور صرف عمررسیدہ ہی نہیں ڈرتے۔ ”[سؔیجو یونیورسٹی کے] پروفیسر ایشیؔکاوا نے کہا کہ پریشانی . . . خاص طور پر نوجوان لوگوں میں زیادہ شدید تھی جو اکثر اس چیز کا واضح تصور نہیں رکھتے کہ مستقبل اُن کے لئے کیا تھامے ہوئے ہے۔“
شہادت ظاہر کرتی ہے کہ ”کئی دہوں بعد بھی لوگوں کو مختلف حالتوں کے تحت اُن کے جسموں میں پیدا ہونے والی ایڈرنلین کے لئے اور زیادہ حساس بناتے ہوئے، ناقابلِبرداشت دہشت کا ایک واقعہ دماغی حالت کو بدل سکتا ہے۔“ سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دماغ کس طرح سے ایک خوفناک حالت کو ظاہر کرتا ہے—ہم کیسے تمام تفصیلات کا اندازہ لگاتے اور خوف کا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ پروفیسر جوؔزف لیڈیوکس نے لکھا: ”اُس اعصابی راستے کو دریافت کرنے سے جس کے ذریعے کوئی حالت کسی شخص کو خوف کی بابت جاننے کا سبب بنتی ہے، ہم یادداشت کی اس قسم کے عام میکانیاتی اُصول کی وضاحت کرنے کی توقع کرتے ہیں۔“
تاہم، ہم میں سے زیادہتر، خوف کیلئے کیمیاوی یا اعصابی وجوہات میں اسقدر دلچسپی نہیں رکھتے۔ حقیقتپسندانہ طور پر ہم شاید ایسے سوالات کے جوابات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جیسےکہ، ہم کیوں خوفزدہ ہیں؟ ہمیں کیسا ردِعمل ظاہر کرنا چاہئے؟ کیا کسی قسم کا خوف اچھا ہے؟
آپ غالباً اس سے اتفاق کرینگے کہ بعضاوقات خوف آپکی مدد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور، فرض کریں کہ جونہی آپ اپنے گھر پہنچتے ہیں تو اندھیرا ہو چکا ہے۔ دروازہ کھلا ہوا ہے، اگرچہ آپ اسے بند کر کے گئے تھے۔ کھڑکی میں سے آپ متحرک سائے دیکھتے ہیں۔ جلد ہی اس بات کو بھانپتے ہوئے کہ کوئی گڑبڑ ہے آپ میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ شاید اندر کوئی چور یا زبردستی گھر میں گھس آنے والا چاقوبردار شخص ہے۔
ایسی حالتوں کیلئے آپ کا فطری خوف آپ کو احمقانہ طور پر کسی خطرناک حالت میں پھنسنے سے بچا سکتا ہے۔ خوف آپکو ممکنہ نقصان کا سامنا کرنے سے پہلے مدد حاصل کرنے یا احتیاطی اقدام اُٹھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اسکی ایسی بہتیری مثالیں ہیں: آپکو ہائی وولٹیج سے خبردار رہنے کا اشارہ؛ آپکے علاقے کی طرف تیزی سے بڑھنے والے خوفناک طوفان کی بابت ریڈیو پر اعلان؛ ایک پُرہجوم سڑک پر گاڑی چلاتے وقت آپکی کار سے کان پھاڑنے والا میکانیکی شور۔
بعض حالتوں میں خوف کا احساس یقینی طور پر معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ہمیں خود کو بچانے یا دانشمندی سے کام کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، شاید آپ جانتے ہوں کہ مسلسل یا شدید خوف درحقیقت دوست نہیں ہے۔ یہ ایک دشمن ہے۔ یہ سانس پھولنے، اختلاجِقلب، بےہوش ہونے، کانپنے، جی متلانے اور ایک شخص کے اپنے ماحول سے نکال دئے جانے کے احساس کے پیدا ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔
شاید آپ اس بات کو نہایت دلچسپ پائیں کہ بائبل نے پہلے ہی سے یہ بات واضح کر دی تھی کہ ہمارے زمانے کی نشاندہی زمین پر دہشتناک باتوں کے واقع ہونے اور شدید خوف سے ہوگی۔ ایسا کیوں ہے اور اسکا ہماری زندگی اور سوچ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ اسکے علاوہ، یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ بائبل کے نقطۂنظر سے ہر روز ایک ایسا خوف موجود ہے جوکہ بالخصوص مددگار اور خوشگوار ہے؟ آئیے دیکھیں۔
[بکس]
جب بالغوں اور بچوں سے پوچھا جائے کہ کیا چیز اُن کیلئے اور اُنکے خاندانوں کیلئے سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ خوف ہے:
بچے والدین
۵۶٪ خاندانی افراد کے خلاف پُرتشدد جرم ٪۷۳
۵۳٪ ایک بالغ کی ملازمت چھوٹ جانا ٪۶۰
۴۳٪ خوراک فراہم کرنے کا مقدور نہ ہونا ٪۴۷
۵۱٪ علاج مہیا کرنے کے قابل نہ ہونا ٪۶۱
۴۷٪ مکان فراہم کرنے کے قابل نہ ہونا ٪۵۰
۳۸٪ خاندان کے ایک فرد کو منشیات کا مسئلہ درپیش ہونا ٪۵۷
۳۸٪ انکا خاندان متحد نہیں رہیگا ٪۳۳
ماخذ: نیوزویک، نومبر ۲۲، ۱۹۹۳