یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏12 ص.‏ 29
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمیں پاک روح کی رہنمائی کی ضرورت کیوں ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • رُوح کے موافق چلنے اور خود کو یہوواہ کے لئے وقف کرنے میں تعلق
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • ‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • روحانی نیت کیساتھ زندہ رہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏12 ص.‏ 29

سوالات از قارئین

گلتیوں ۶:‏۸ کے مطابق، ”‏جو کوئی جسم کیلئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹیگا او جو روح کیلئے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹیگا۔“‏ کس ”‏روح“‏ کا مفہوم پیش کیا گیا ہے، اور اسطرح ہم زندگی کی فصل کیسے کاٹ سکتے ہیں؟‏

عبرانی اور یونانی اصطلا‌حیں جنکا ترجمہ ”‏روح“‏ کِیا گیا ہے کئی معنی رکھتی ہیں، جیسے‌کہ (‏۱)‏ خدا کی سرگرم قوت، (‏۲)‏ انسانوں اور جانوروں میں قوتِ‌حیات، (‏۳)‏ ایک شخص کی آمادہ کرنیوالی ذہنی رغبت، اور (‏۴)‏ ایک روحانی شخص، یا فرشتہ۔ ان میں سے پہلا—‏خدا کی سرگرم قوت—‏کا مطلب ہم گلتیوں ۶:‏۸ میں پاتے ہیں۔‏

پس‌منظر کی غرض سے، گلتیوں ۳:‏۲ پر غور کریں، جہاں پر گلتیوں کی کتاب کے اندر ہم ”‏روح“‏ کا پہلا استعمال پاتے ہیں۔ پولسؔ نے مسیحیوں سے پوچھا:‏ ”‏تم نے شریعت کے اعمال سے روح کو پایا یا ایمان کے پیغام سے؟“‏ اس کے بعد، اُس نے گلتیوں ۳:‏۵ آیت میں اس روح کو معجزے کرنے کیساتھ منسلک کِیا ہے۔ پس جس ”‏روح“‏ کا اُس نے ذکر کِیا، وہ روح‌القدس، خدا کی نادیدہ سرگرم قوت تھی۔‏

بعدازاں، گلتیوں ۵:‏۱۶ میں، پولسؔ نے روح اور جسم کا موازنہ کِیا۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏مَیں یہ کہتا ہوں کہ روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہشوں کو ہرگز پورا نہ کرو گے۔“‏ ”‏جسم کی خواہش“‏ سے اُسکا مطلب گہنگارانہ جسمانی خواہشات سے تھا۔ اس طرح، گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۳ میں اُس نے ”‏جسم کے کاموں“‏ کے مقابلے میں روح کے پھلوں کو درج کِیا۔‏

لہٰذا، گلتیوں ۶:‏۸ میں جو شخص ”‏اپنے جسم کیلئے بوتا ہے“‏ وہ ضرور ایسا شخص ہوگا جو ”‏جسم کے کاموں“‏ کے مزے لیتے ہوئے خود کو گہنگارانہ انسانی خواہشات کے تابع کر لیتا ہے۔ وہ شاید ایسے چال‌چلن کے بُرے اثرات کا تجربہ کرے اور اگر وہ تبدیلی نہیں لاتا تو وہ خدا کی بادشاہت میں یا اسکے تحت یقیناً زندگی حاصل نہیں کریگا۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹، ۱۰‏۔‏

عقیدتمند مسیحیوں کے طور پر ہمیں ’‏خدا کی روح کیلئے بونے‘‏ کی خواہش رکھنی چاہئے۔ اس میں اس طریقے سے زندگی بسر کرنا شامل ہے جو روح‌القدس کو اسکے پھل ظاہر کرنے میں ہماری مدد کرتے ہوئے ہماری زندگیوں میں آزادی سے کارفرما ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ جب ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا پڑھیں یا کونسے ٹی‌وی پروگرام دیکھیں تو ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جب ہم اجلاس پر توجہ دیتے اور روح سے مُتعیّن بزرگوں کی مشورت کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم روح کیلئے بوتے ہیں۔—‏اعمال ۲۰:‏۲۸‏۔‏

دلچسپی کی بات ہے کہ گلتیوں ۶:‏۸ اس یقین‌دہانی کیساتھ ختم ہوتی ہے کہ جب ہم ایسے کام کرتے ہیں تو ہم ”‏روح“‏ سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹنے“‏ کی حیثیت میں ہونگے۔ جی‌ہاں، مسیح کے فدیے کی بدولت خدا روح‌القدس کے عمل کے ذریعے غیرمختتم زندگی عطا کریگا۔—‏متی ۱۹:‏۲۹؛‏ ۲۵:‏۴۶؛‏ یوحنا ۳:‏۱۴-‏۱۶؛‏ رومیوں ۲:‏۶، ۷؛‏ افسیوں ۱:‏۷‏۔ (‏۳۱ ۰۶/۱۵ w۹۵)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں