یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏12 ص.‏ 5-‏7
  • بغیر جنگ کی دُنیا—‏کب؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بغیر جنگ کی دُنیا—‏کب؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مذہب—‏ایک بڑی رکاوٹ
  • مذہب کا مستقبل
  • ناکامل انسانی فطرت
  • یسوؔع مسیح—‏سلامتی کا شہزادہ
  • ناکام کوششوں کے سال
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • جھوٹے مذاہب کا خاتمہ نزدیک ہے
    جھوٹے مذاہب کا خاتمہ نزدیک ہے
  • حقیقی اَمن—‏کس ماخذ سے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏12 ص.‏ 5-‏7

بغیر جنگ کی دُنیا—‏کب؟‏

اقوامِ‌متحدہ کا چارٹر ۲۴ اکتوبر، ۱۹۴۵ کو نافذ ہوا۔ یہ عالمی امن کے لئے انسانوں کی طرف سے کبھی ترتیب دی جانیوالی نہایت قابلِ‌فہم حکمتِ‌عملی ہے۔ اپنے ابتدائی ۵۱ رکن ممالک کے ساتھ، اقوامِ‌متحدہ عالمی تاریخ میں سب سے بڑی بین‌الاقوامی تنظیم بن گئی۔ نیز، پہلی بار، ایک بین‌الاقوامی تنظیم کو امن اور سلامتی قائم کرنے اور جنگ کے بغیر دُنیا لانے کے لئے فوجی رسائی حاصل ہوگی۔‏

آجکل، ۱۸۵ رکن ممالک کے ساتھ، اقوامِ‌متحدہ پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہے۔ تو پھر، کیوں تاریخ کی نہایت طاقتور بین‌الاقوامی تنظیم اپنے شاندار مقاصد کو پوری طرح سرانجام دینے میں ناکام ہوگئی ہے؟‏

مذہب—‏ایک بڑی رکاوٹ

ایک بڑی پیچیدگی وہ کردار ہے جو مذہب دُنیاوی معاملات میں ادا کرتا ہے۔ سچ ہے کہ اقوامِ‌متحدہ کے آغاز سے، دُنیا کے بڑے بڑے مذاہب نے اس تنظیم کی حمایت کا عہد کر رکھا ہے۔ اس کی ۵۰ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے، پوپ جان پالؔ دوئم نے ”‏امن کو فروغ دینے اور اسے محفوظ رکھنے والے بہترین آلۂ‌کار“‏ کے طور پر اقوامِ‌متحدہ کا ذکر کِیا۔ اُس کے جذبات میں مذہبی راہنماؤں کی عالمگیر برادری بھی شریک ہوئی ہے۔ لیکن مذہب اور حکومت کے درمیان یہ باموقع رابطہ اِس حقیقت کو چھپا نہیں سکتا کہ مذہب اقوامِ‌متحدہ کے لئے رکاوٹ اور پریشان‌کُن رہا ہے۔‏

صدیوں سے مذہب نے قوم‌پرستانہ نفرت، جنگوں، اور نسل‌کُشی کو فروغ دینے یا حمایت کرنے میں بنیادی کردار ادا کِیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، مذہبی جنون کی آڑ میں، ہمسائیوں نے ایک دوسرے کو قتل کِیا ہے۔ بلقانی ریاستوں کی جنگ کے سلسلے میں ”‏نسلی صفائی“‏ کی اصطلا‌ح وسیع پیمانے پر استعمال کی گئی ہے۔ تاہم، چونکہ اُن میں سے زیادہ‌تر ایک ہی نسلی مصدر رکھتے ہیں اسلئے وہاں پر بہتیرے ایک دوسرے کے لئے جو شدید نفرت رکھتے ہیں وہ نسل کی بجائے مذہبی الحاق پر مبنی ہے۔ جی‌ہاں، مذہب کو سابق یوگوؔسلاویہ میں خونین‌غسل کے لئے زیادہ ذمہ‌داری کو قبول کرنا چاہئے، اور اقوامِ‌متحدہ اِسے روکنے کے قابل نہیں ہوئی ہے۔‏

موزوں طور پر، مذہب کے ایک کالج پروفیسر نے حال ہی میں بیان کِیا کہ ”‏سرد جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی مذہبی جھڑپوں کی دُنیا میں مذہب اور نسل‌کُشی کا ایک جائزہ اس کے اُلجھن پیدا کرنے کے باوجود، ہماری اہم‌ترین اوّلیتوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔“‏ مذہب عالمی امن کے لئے کوششوں کی راہ میں جسطرح حائل ہو رہا ہے آجکل اُس کی بابت بیداری واضح ہے۔‏

۱۹۸۱ کی ایک یواین قرارداد نے بیان کِیا:‏ ”‏دُنیا کے بعض علاقوں میں ابھی تک دکھائی دینے والے مذہب یا عقیدے کے معاملات میں تعصب کے اظہارات اور ناروا امتیاز کے وجود سے پریشان، اور اپنی اقسام اور اظہارات میں ایسے تعصب کو فوری طور پر کچلنے اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر ناروا امتیاز کو روکنے اور اس کے خلاف مقابلہ کرنے کی خاطر تمام ضروری اقدام کرنے کے لئے پُرعزم۔“‏

اُن کی قرارداد کی مطابقت میں، اقوامِ‌متحدہ نے ۱۹۹۵ کو رواداری کا سال قرار دیا ہے۔ حقیقت‌پسندانہ طور پر بات کرتے ہوئے، تاہم، کیا مذہب سے منقسم دُنیا میں امن اور سلامتی حاصل کرنا کبھی ممکن ہوگا؟‏

مذہب کا مستقبل

بائبل کی مکاشفہ کی کتاب میں ایک پیشینگوئی جواب مہیا کرتی ہے۔ یہ ایک علامتی ”‏بڑی کسبی“‏ کا ذکر کرتی ہے جو ”‏ملکہ“‏ بن بیٹھتی ہے اور ”‏زمین کے بادشاہوں پر حکومت“‏ کرتی ہے۔ یہ کسبی ”‏عیاشی“‏ کی زندگی بسر کرتی ہے اور دُنیا کی حکومتوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے۔ ان حکومتوں کی ”‏قرمزی رنگ کے حیوان“‏ کے طور پر تصویرکشی کی گئی ہے جس پر کسبی بڑے آرام سے بیٹھتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱-‏۵،‏ ۱۸؛‏ ۱۸:‏۷‏)‏ ”‏بڑا بابلؔ“‏ کے طور پر مشہور، اس طاقتور اور بداخلاق عورت کا نام قدیم بابلؔ، بُت‌پرستانہ مذہب کے جائے‌آغاز، پر رکھا گیا ہے۔ موزوں طور پر، آجکل کسبی تمام دُنیا کے مذاہب کی نمائندگی کرتی ہے جو حکومتوں کے معاملات میں اُلجھے ہوئے ہیں۔‏

بیان جاری رہتا ہے کہ وقت آنے پر، خدا حیوان کے فوجی عناصر کے دِلوں میں کارروائی کرنے کا خیال ڈالیگا۔ یہ ”‏کسبی سے عداوت رکھینگے اور اُسے بیکس اور ننگا کرینگے اور اُس کا گوشت کھا جائینگے اور اُسکو آگ میں جلا ڈالینگے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۱۶‏)‏a لہٰذا جھوٹے مذہب کو ختم کرنے کی مہم میں طاقتور قوموں کو صف‌آرائی کرنے کی تحریک دیتے ہوئے یہوؔواہ خدا خود پہل کر چکا ہوگا۔ عالمگیر مذہبی نظام، اپنی عالیشان مذہبی عمارات اور مندروں سمیت، مکمل طور پر برباد کر دیا جائیگا۔ امن اور سلامتی قائم کرنے کی راہ سے پھر مذہبی رکاوٹ کو اُکھاڑ دیا جائیگا۔ لیکن پھربھی، کیا زمین پر حقیقی امن اور سلامتی ہوگی؟‏

ناکامل انسانی فطرت

کیا اِس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ مذہب کو ختم کرنا واقعی جنگ کے بغیر دُنیا کے لئے راستہ ہموار کر دیگا؟ جی‌نہیں۔ اقوامِ‌متحدہ کو ایک طنزآمیز صورتحال کا سامنا رہیگا۔ ایک طرف تو لوگ امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ تاہم، دوسری طرف، یہی وہ لوگ ہیں جو امن اور سلامتی کے لئے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ نفرت، تکبّر، خودپسندی، خودغرضی، اور جہالت جیسے انسانی خصائل تمام فسادات اور جنگوں کی جڑ ہیں۔—‏یعقوب ۴:‏۱-‏۴‏۔‏

بائبل نے پہلے سے بتا دیا کہ ہمارے زمانے میں لوگ ”‏خودغرض۔ زردوست۔ شیخی‌باز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بے‌ضبط۔ تُندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے،“‏ ہونگے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۴‏۔‏

سیکرٹری جنرل بطرؔوس غالی نے تسلیم کِیا کہ ”‏دُنیا معاشرتی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے جو، بہت سے معاشروں میں، بے‌اندازہ تناسبوں کی حد تک ہے۔“‏ سفارتی تحاریک کی کوئی بھی تعداد ناکامل انسانی فطرت کے نقصاندہ خصائل کے اثر کو زائل نہیں کر سکتی۔—‏مقابلہ کریں پیدایش ۸:‏۲۱؛‏ یرمیاہ ۱۷:‏۹‏۔‏

یسوؔع مسیح—‏سلامتی کا شہزادہ

صاف طور پر، اقوامِ‌متحدہ میں عالمی امن لانے کی اہلیت نہیں ہے۔ اِس کے ارکان اور حمایتی سب کے سب ناکامل ہیں، اپنے بلندپایہ مقاصد پر قائم نہیں رہتے۔ بائبل کہتی ہے کہ ”‏انسان کی راہ اُس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“‏ (‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳‏)‏ مزیدبرآں، خدا آگاہ کرتا ہے:‏ ”‏نہ اُمرا پر بھروسہ کرو نہ آدم‌زاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔“‏—‏زبور ۱۴۶:‏۳‏۔‏

بائبل پیشینگوئی کرتی ہے کہ یہوؔواہ اپنے بیٹے، ”‏سلامتی کے شہزادے،“‏ کے ذریعے کیا کچھ سرانجام دیگا۔ یسعیاہ ۹:‏۶، ۷ بیان کرتی ہیں:‏ ”‏ہمارے لئے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خدایِ‌قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔ اُس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔“‏

اقوامِ‌عالم ناکام کوششوں کے ۵۰ سالوں سے ہلکان ہو گئی ہیں۔ بہت جلد وہ کسبی‌نما مذہبی تنظیموں کو تباہ کر دینگی۔ اس کے بعد یسوؔع مسیح، ”‏بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند“‏ اور آسمانی جنگجوؤں کی اُس کی فوج تمام انسانی حکومتوں کو نیست کر دیگی اور خدا کی حاکمیت رد کرنے والے تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالیگی۔ (‏مکاشفہ ۱۹:‏۱۱-‏۲۱‏؛ مقابلہ کریں دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏۔)‏ اِس ذریعے سے یہوؔواہ جنگ کے بغیر دُنیا کو وجود میں لائے گا۔ (‏۵ ۱۰/۰۱ w۹۵)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بڑے بابلؔ کی بابت مکاشفہ کی پیشینگوئی کا گہرا مطالعہ کرنے کے لئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹیڈ کی ۱۹۸۸ میں شائع‌کردہ کتاب ریویلیشن—‏اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!‏، کے ۳۳ تا ۳۷ ابواب کو دیکھیں۔‏

‏[‏بکس]‏

اقوامِ‌متحدہ کی بابت مسیحی نظریہ

بائبل پیشینگوئی میں، انسانی حکومتوں کی نمائندگی اکثر جنگلی حیوانوں سے کی گئی ہے۔ (‏دانی‌ایل ۷:‏۶،‏ ۱۲،‏ ۲۳؛‏ ۸:‏۲۰-‏۲۲‏)‏ لہٰذا، کئی عشروں سے مینارِنگہبانی رسالے نے مکاشفہ ۱۳ اور ۱۷ ابواب کے حیوان کی شناخت آجکل کی دُنیاوی حکومتوں سے کرائی ہے۔ اِس میں اقوامِ‌متحدہ شامل ہے جسکی مکاشفہ ۱۷ باب میں سات سروں اور دس سینگوں والے قرمزی حیوان کے طور پر تصویرکشی کی گئی ہے۔‏

تاہم، صحیفائی نقطۂ‌نظر حکومتوں یا اُن کے سرکاری اہلکاروں کے لئے کسی بھی قسم کی بے‌ادبی کو نظرانداز نہیں کرتا۔ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہر شخص اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظام کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائینگے۔“‏—‏رومیوں ۱۳:‏۱، ۲‏۔‏

اسلئے، یہوؔواہ کے گواہ، جو مکمل سیاسی غیرجانبداری قائم رکھے ہوئے ہیں، انسانی حکومتوں سے نہیں اُلجھتے۔ وہ کبھی بھی انقلاب کو ہوا نہیں دیتے یا شہری نافرمانی کے کاموں میں شریک نہیں ہوتے۔ بلکہ، وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی معاشرے میں نظم‌ونسق کو قائم رکھنے کے لئے کسی قسم کی حکومت ضروری ہے۔—‏رومیوں ۱۳:‏۱-‏۷؛‏ ططس ۳:‏۱‏۔‏

یہوؔواہ کے گواہ اقوامِ‌متحدہ کو ویسا ہی خیال کرتے ہیں جیسا وہ دُنیا کی دیگر حکومتی جماعتوں کو کرتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ اقوامِ‌متحدہ خدا کی اجازت سے موجود ہے۔ بائبل کی مطابقت میں، یہوؔواہ کے گواہ تمام حکومتوں کے لئے واجب احترام دکھاتے ہیں اور اُس وقت تک اُن کی فرمانبرداری کرتے ہیں جب تک ایسی فرمانبرداری اس بات کا تقاضا نہیں‌کرتی کہ وہ خدا کے خلاف گناہ کریں۔—‏اعمال ۵:‏۲۹‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں