ناکام کوششوں کے سال
”ہم اقوامِمتحدہ کی اقوام آئندہ نسلوں کو جنگ کے عذاب سے بچانے، جو ہماری زندگی ہی میں دو مرتبہ نوعِانسان پر بےحد غم لائی ہے، اور بنیادی انسانی حقوق، انسانی تشخص کی قدروقیمت اور عظمت، مَردوزن اور ادنیٰ اور اعلیٰ اقوام کے مساوی حقوق کے سلسلے میں یقین کو پھر سے مستحکم کر نے کا عزم کئے ہو ئے ہیں، . . .“—اقوامِمتحدہ کے چارٹر کی تمہید۔
اکتوبر ۲۴، ۱۹۹۵، اقوامِمتحدہ کی ۵۰ ویں سالگرہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ تمام ۱۸۵ موجودہ رکن ممالک چارٹر میں تنظیم کے بیانکردہ ابتدائی اصولوں اور مقاصد کے پابند ہیں: بینالاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنا؛ جارحانہ کاموں کا خاتمہ کرنا جو عالمی امن کے لئے خطرہ پیدا کرتے ہیں؛ قوموں کے مابین دوستانہ تعلقات کی حوصلہافزائی کرنا؛ نسل، جنس، زبان، یا مذہب پر مبنی امتیاز کے بغیر تمام لوگوں کی بنیادی آزادی کی حفاظت کرنا؛ اور معاشی، معاشرتی، اور ثقافتی مسائل کو حل کرنے میں بینالاقوامی تعاون حاصل کرنا۔
اقوامِمتحدہ کی تنظیم نے عالمی امن اور سلامتی لانے کے لئے ۵۰ سال سے قابلِذکر کوششیں کی ہیں۔ قابلِاستدلال طور پر، شاید اِس نے تیسری عالمی جنگ کو روک دیا ہے، اور نیوکلیئر بموں کے ذریعے انسانی زندگی کی مکمل تباہی کو دہرایا نہیں گیا۔ اقوامِمتحدہ نے لاکھوں بچوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی ہیں۔ اِس نے، دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ، پینے کا صاف پانی اور مُہلک بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنے سے صحت کے بہتر معیاروں کے سلسلے میں کردار ادا کِیا ہے۔ لاکھوں پناہگزینوں نے انساندوست اعانت حاصل کی ہے۔
اِس کی کامرانیوں کے اعتراف میں، اقوامِمتحدہ کی تنظیم کو پانچ مرتبہ امن کے نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے۔ تاہم، زندگی کی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی تک جنگ کے بغیر دُنیا میں نہیں رہتے۔
امن اور سلامتی—حاصل نہ ہونے والے مقاصد
۵۰ سالہ جدوجہد کے بعد بھی امن اور سلامتی ابھی تک حاصل نہ ہونے والے مقاصد ہیں۔ اقوامِمتحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ خطاب میں، ریاستہائےمتحدہ کے صدر نے یہ کہتے ہوئے اپنی نااُمیدی کا اظہار کِیا کہ ”اُمید اور موافق امکان اور کامرانی سے معمور یہ صدی بہت زیادہ تباہی اور مایوسی کا ایک دَور بھی رہی ہے۔“
۱۹۹۴ کے اختتام پر، دی نیو یارک ٹائمز نے بیان کِیا: ”تقریباً ۱۵۰ جنگیں یا جھڑپیں جاری ہیں جن میں ہزاروں افراد مر رہے ہیں—اعدادوشمار کے مطابق فوجیوں کی نسبت زیادہتر شہری مر رہے ہیں—اور لاکھوں پناہگزین بنتے جا رہے ہیں۔“ اقوامِمتحدہ کے شعبہ برائے معلوماتِعامہ نے رپورٹ دی کہ ۱۹۴۵ سے لیکر ۲۰ ملین لوگ مسلح فسادات کے نتیجے میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اقوامِمتحدہ میں یو.ایس. کی سفیر، میڈلینؔ البرائٹ، نے بیان کِیا کہ ”اب علاقائی فسادات متعدد طریقوں سے زیادہ سفاکانہ ہیں۔“ انسانی حقوق کی خلافورزی اور تعصب روزانہ کی خبروں کا حصہ ہیں۔ بہتیری اقوام ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ سلوک کی بجائے ایک دوسرے کو برداشت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
اقوامِمتحدہ میں برؔطانیہ کے سفیر سر ڈؔیوڈ ہینی تسلیم کرتے ہیں کہ ”اقوامِمتحدہ بڑی معقول حد تک ناکام رہی ہے۔“ اقوامِمتحدہ کے سیکرٹری جنرل، بطرؔوس غالی، نے اظہارِافسوس کِیا کہ جب امن بحال رکھنے کی کارروائیاں کرنے کی بات آتی ہے تو رُکن ممالک میں بڑھتی ہوئی بےاعتنائی اور تھکن پائی جاتی ہے۔ اُس نے رائےزنی کی کہ بہت سے ارکان کے لئے ”اقوامِمتحدہ امتیازی حیثیت نہیں رکھتی۔“
ذرائعابلاغ کا اثر
اقوامِمتحدہ جتنی طاقتور دکھائی دے سکتی ہے، اس کی کوششوں میں سیاست اور ذرائعابلاغ اکثر حائل رہتے ہیں۔ اگر اِسے اپنے ارکان کی حمایت حاصل نہ ہو تو اقوامِمتحدہ کمزور ہے۔ لیکن عوام کی اجازت کے بغیر، بہتیرے یواین ارکان اقوامِمتحدہ کی حمایت نہیں کرینگے۔ مثال کے طور پر، دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، ”صوؔمالیہ اور بوؔسنیا میں وسیع ناکامیوں نے بہتیرے امریکیوں کو قائل کر لیا ہے کہ تنظیم نہ صرف بیکار بلکہ درحقیقت خطرناک ہے۔“ اسکے بعد، عوام کے اِس رویے نے بعض امریکی سیاستدانوں کو اقوامِمتحدہ کی یو.ایس. مالی امداد کم کرنے کی تجویز پیش کرنے پر آمادہ کِیا ہے۔
جب اقوامِمتحدہ پر سخت تنقید کرنے کی بات آتی ہے تو اخباری تنظیمیں ہچکچاتی نہیں۔ یواین کارروائیوں کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے وقت ”مکمل نااہل،“ ”تکلیفدہ،“ ”بےاثر،“ اور ”مفلوج“ جیسی اصطلاحات کُھل کر استعمال کی گئی ہیں۔ دی واشنگٹن پوسٹ نیشنل ویکلی ایڈیشن نے حال ہی میں بیان کِیا کہ ”حقیقی دُنیا کے مطابق بننے کی کوشش کرتے ہوئے اقوامِمتحدہ سُسترو بیوروکریسی تک محدود رہی ہے۔“
ایک اَور اخبار نے سیکرٹری جنرل بطرؔوس غالی کا حوالہ دیا جس نے رواؔنڈا کے قتلِعام کی بابت اپنی مایوسی کا اظہار کِیا۔ اُس نے کہا: ”یہ محض اقوامِمتحدہ کی ناکامی نہیں ہے؛ یہ بینالاقوامی برادری کی ناکامی ہے۔ اور ہم سب اِس ناکامی کے ذمہدار ہیں۔“ ۱۹۹۳ میں ایک مشہور ٹیلیویژن نیوز-سپیشل نے بیان کِیا کہ اقوامِمتحدہ ”امن کے لئے سب سے بڑے خطرے—نیوکلیئر ہتھیاروں کا پھیلاؤ—روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔“ ٹیوی پروگرام نے اقوامِمتحدہ کی بابت کہا کہ ”دہوں سے زیادہتر باتیں ہی ہوئی ہیں۔“
نااُمیدی کا یہ عام احساس اقوامِمتحدہ کے اہلکاروں کے ذہنوں پر بھاری بوجھ ڈالتا ہے اور اُن کی مایوسی میں اضافہ کرتا ہے۔ تاہم، مایوسیوں کے باوجود، اقوامِمتحدہ کی ۵۰ویں سالانہ تقریب پر، بہتیرے نئی اُمید رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ایک نئے آغاز کی توقع کر رہے ہیں۔ تاہم، اقوامِمتحدہ کی کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے، سفیر البرائٹ نے بہتوں کے جذبات کو دہرایا جب اُس نے کہا: ”ماضی میں ہم نے جوکچھ کِیا ہمیں اُس کی بابت باتچیت کو بند کرنا ہے اور جو کچھ ہم مستقبل میں کرینگے اُس کی بات ہمیں گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔“
جیہاں، دُنیا کس طرف جا رہی ہے؟ کیا کبھی بغیر جنگ کے کوئی دُنیا ہوگی؟ اگر ایسا ہے تو اقوامِمتحدہ اِس میں کیا کردار ادا کریگی؟ مزیدبرآں، اگر آپ خداترس ہیں تو آپ کو پوچھنا چاہئے، ’خدا اِس میں کیا کردار ادا کریگا؟‘ (۳ ۱۰/۰۱ w۹۵)
[بکس]
ناکام کوششیں
جب تک جنگ، غربت، جُرم، اور بدعنوانی ہے امن اور سلامتی قائم نہیں رہ سکتے۔ اقوامِمتحدہ نے حال ہی میں مندرجہذیل اعدادوشمار شائع کئے تھے۔
جنگیں: ”۱۹۸۹ اور ۱۹۹۲ کے دوران ۸۲ مسلح فسادات میں سے ۷۹ خانہجنگیاں تھیں، زیادہتر نسلی فسادات؛ زخمیوں میں سے ۹۰ فیصد شہری تھے۔“—اقوامِمتحدہ شعبہ برائے معلوماتِعامہ (یواینڈیپیآئی)
ہتھیار: ”آئیسیآرسی [انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس] رائےزنی کرتی ہے کہ ۴۸ ممالک میں ۹۵ سے زیادہ صنعتکار ہر سال ۵ اور ۱۰ ملین کے درمیان فوجیمار سُرنگیں بنا رہے ہیں۔“—یونائٹیڈ نیشنز ہائی کمیشنر فار ریفیوجیز (یواینایچسیآر)
”افرؔیقہ میں، ۱۸ سے زیادہ ممالک میں پھیلی ہوئی تقریباً ۳۰ ملین بارودی سُرنگیں ہیں۔“—یواینایچسیآر
غربت: ”پوری دُنیا میں، ہر پانچ افراد میں سے ایک—مجموعی طور پر ایک بلین سے زیادہ—سطح افلاس سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں، اور تخمیناً ۱۳ ملین سے ۱۸ ملین سالانہ غربت سے متعلقہ اسباب سے مر جاتے ہیں۔“—یواینڈیپیآئی
جُرم: ”اطلاعشُدہ جُرم ۱۹۸۰ کے دہے سے ہر سال ۵ فیصد کی عالمی شرح تک بڑھ گیا ہے؛ صرف یو.ایس.اے. میں ہی، سالانہ ۳۵ ملین جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے۔“—یواینڈیپیآئی۔
بدعنوانی: ”عوامی بدعنوانی عام ہوتی جا رہی ہے۔ بعض ممالک میں مالی فراڈ مُلک کی سالانہ کُل مقامی پیداوار کے ۱۰ فیصد کے برابر لاگت تک پہنچنے کا حساب لگایا گیا ہے۔“—یواینڈیپیآئی