محبت حسد پر غالب آتی ہے
”محبت حسد نہیں کرتی۔“—۱-کرنتھیوں ۱۳:۴۔
۱، ۲. (ا) یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو محبت کی بابت کیا بتایا تھا؟ (ب) محبت کیسے غیرت پر اثرانداز ہوتی ہے، اور آپ کیوں اسطرح جواب دیتے ہیں؟
محبت سچی مسیحیت کا شناختی نشان ہے۔ ”اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو،“ یسوؔع مسیح نے کہا۔ (یوحنا ۱۳:۳۵) پولسؔ رسول کو اس بات کی وضاحت کرنے کے لئے الہام بخشا گیا کہ کیسے محبت کو مسیحی تعلقات پر اثرانداز ہونا چاہئے۔ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ، اُس نے لکھا: ”محبت حسد نہیں کرتی۔“—۱-کرنتھیوں ۱۳:۴۔
۲ جب پولسؔ نے یہ الفاظ تحریر کئے تو وہ حسد کا حوالہ دے رہا تھا۔ ورنہ وہ اُسی کلیسیا کو یہ نہیں بتا سکتا تھا: ”مجھے تمہاری بابت خدا کی سی غیرت ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲) اُس کی ”خدا کی سی غیرت“ اُن آدمیوں کی وجہ سے بھڑکی تھی جو کلیسیا میں ایک خراب کرنے والا اثر تھے۔ اس چیز نے پولسؔ کو کرنتھسؔ کے مسیحیوں کو پُرمحبت مشورت والا دوسرا الہامی خط لکھنے کی تحریک دی۔—۲-کرنتھیوں ۱۱:۳-۵۔
مسیحیوں کے مابین حسد
۳. کرنتھسؔ کے مسیحیوں کے اندر حسد سے متعلق مسئلہ کیسے پیدا ہوا تھا؟
۳ کرنتھیوں کے نام اپنے پہلے خط میں پولسؔ نے ایک مسئلے کو سلجھانا تھا جو نئے مسیحیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مِلجُل کر رہنے سے روک رہا تھا۔ وہ بعض آدمیوں کو ”ایک کی تائید میں دوسرے کے برخلاف شیخی . . . [مارنے]“ سے بہت اُونچا کر رہے تھے۔ یہ کلیسیا میں کسی کا ”اپنے کو پولسؔ کا،“ ”کوئی اپلوؔس کا،“ ”کوئی کیفاؔ کا،“ کہنے کے ساتھ، تفرقے کا باعث بنا۔ (۱-کرنتھیوں ۱:۱۲؛ ۴:۶) روحاُلقدس کی زیرِہدایت، پولسؔ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے قابل ہوا تھا۔ کرنتھی ”روحانی آدمیوں“ کی طرح نہیں بلکہ جسمانی ذہنیت والے لوگوں کی طرح کام کر رہے تھے۔ لہٰذا، پولسؔ نے لکھا: ”کیونکہ ابھی تک جسمانی ہو۔ اس لئے کہ جب تم میں حسد اور جھگڑا ہے تو کیا تم جسمانی نہ ہوئے اور انسانی طریق پر نہ چلے؟“—۱-کرنتھیوں ۳:۱-۳۔
۴. اپنے بھائیوں کو ایک دوسرے کی بابت درست نظریے پر پہنچنے میں مدد دینے کیلئے پولسؔ نے کونسی مثال استعمال کی، اور ہم اس سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۴ پولسؔ نے کرنتھیوں کو کلیسیا میں مختلف لوگوں کی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی بابت درست نظریے کی قدرافزائی کرنے میں مدد دی۔ اُس نے پوچھا: ”تجھ میں اور دوسرے میں کون فرق کرتا ہے؟ اور تیرے پاس کونسی ایسی چیز ہے جو تُو نے دوسرے سے نہیں پائی؟ اور جب تُو نے دوسرے سے پائی تو فخر کیوں کرتا ہے کہ گویا نہیں پائی؟“ (۱-کرنتھیوں ۴:۷) ۱-کرنتھیوں ۱۲ باب میں، پولسؔ نے وضاحت کی کہ وہ جو کلیسیا کا حصہ تھے وہ انسانی بدن کے مختلف اعضا کی مانند تھے، جیسےکہ ہاتھ، آنکھ، اور کان۔ اُس نے نشاندہی کی کہ خدا نے بدن کے اعضا کو اس طرح سے بنایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی پرواہ کرتے ہیں۔ پولسؔ نے یہ بھی لکھا: ”اگر ایک عضو عزت پاتا ہے تو سب اعضا اُس کے ساتھ خوش ہوتے ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۲:۲۶) آجکل خدا کے تمام خادموں کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلق میں اس اُصول کا اطلاق کرنا چاہئے۔ خدا کی خدمت میں کسی شخص کی تفویض یا کامرانیوں کی وجہ سے اُس سے حسد کرنے کی بجائے، ہمیں اُس شخص کے ساتھ مل کر خوشی کرنی چاہئے۔
۵. یعقوب ۴:۵ میں کیا آشکارا کِیا گیا ہے، اور صحائف ان الفاظ کی صداقت کو کیسے نمایاں کرتے ہیں؟
۵ مانا کہ ایسا کہنا کرنے کی بجائے زیادہ آسان ہے۔ بائبل مصنف یعقوؔب ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ ”حسد کرنے کا میلان“ ہر گنہگار انسان کے اندر موجود ہے۔ (یعقوب ۴:۵، اینڈبلیو) پہلی انسانی موت اسی وجہ سے واقع ہوئی کیونکہ قائنؔ اپنے حسد کے آگے جھک گیا۔ فلستیوں نے اس لئے اضحاؔق کو ستایا کہ وہ اس کی بڑھتی ہوئی خوشحالی سے حسد کرتے تھے۔ راخلؔ اپنی بہن کی بچے پیدا کرنے کی باروری سے حسد کرتی تھی۔ یعقوؔب کے بیٹے اپنے چھوٹے بھائی یوؔسف کے لئے دکھائی جانے والی کرمفرمائی سے حسد کرتے تھے۔ مریمؔ واضح طور پر اپنی غیراسرائیلی بھابی سے حسد کرتی تھی۔ قوؔرح، داتنؔ اور اؔبیرام نے حسد کرتے ہوئے موسیٰؔ اور ہاؔرون کے خلاف سازش کی۔ ساؔؤل بادشاہ داؔؤد کی جنگی کامیابیوں سے حسد کرنے لگا۔ بِلاشُبہ حسد یسوؔع کے شاگردوں میں بھی بار بار اس بات پر بحث چھڑنے کا باعث تھا کہ اُن میں بڑا کون ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ناکامل انسان کلی طور پر ”حسد کرنے کے“ گنہگارانہ ”میلان“ سے آزاد نہیں ہے۔—پیدایش ۴:۴-۸؛ ۲۶:۱۴؛ ۳۰:۱؛ ۳۷:۱۱؛ گنتی ۱۲:۱، ۲؛ ۱۶:۱-۳؛ زبور ۱۰۶:۱۶؛ ۱-سموئیل ۱۸:۷-۹؛ متی ۲۰:۲۱، ۲۴؛ مرقس ۹:۳۳، ۳۴؛ لوقا ۲۲:۲۴۔
کلیسیا میں
۶. بزرگ کیسے حسد کرنے کے میلان پر قابو پا سکتے ہیں؟
۶ تمام مسیحیوں کو حسد اور بدگمانی کے خلاف خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس میں خدا کے لوگوں کی کلیسیاؤں کی خبرگیری کرنے کے لئے مُتعیّنہ بزرگوں کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ اگر ایک بزرگ فروتن ہے تو وہ بلندنظری سے دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش نہیں کریگا۔ اس کے برعکس، اگر ایک بزرگ میں ایک منتظم یا ایک عوامی مقرر کی نمایاں لیاقتیں ہیں تو دیگر اسے کلیسیا کے لئے ایک برکت خیال کرتے ہوئے اس سے خوش ہونگے۔ (رومیوں ۱۲:۱۵، ۱۶) شاید ایک بھائی اپنی زندگی میں خدا کی روح کے پھل پیدا کرنے کا ثبوت دیتے ہوئے، اچھی ترقی کر رہا ہو۔ اُس کی لیاقتوں پر غور کرتے ہوئے، بزرگوں کو احتیاط برتنی چاہئے کہ وہ بعض چھوٹی چھوٹی خامیوں کو مبالغہآرائی سے بیان کرتے ہوئے اُس کی بطور خدمتگزار خادم یا ایک بزرگ کے سفارش نہ کرنے کے لئے جواز نہ بنائیں۔ یہ محبت اور معقولپسندی کی کمی کو ظاہر کریگا۔
۷. جب ایک مسیحی کو کوئی تھیوکریٹک تفویض ملتی ہے تو کونسا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے؟
۷ اگر کسی کو کوئی تھیوکریٹک تفویض یا روحانی بخشش حاصل ہوتی ہے تو کلیسیا کے اندر دوسروں کو حسد سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ ایک لائق بہن کو دوسروں کی نسبت مسیحی اجلاسوں پر اکثر زیادہ مظاہرے پیش کرنے کے لئے استعمال کِیا جاتا ہے۔ شاید یہ بعض بہنوں کے اندر حسد کو پیدا کر دے۔ اسی طرح کا مسئلہ شاید فلپیؔ کی کلیسیا کی یوؤؔدیہ اور سنتخےؔ کے درمیان تھا۔ اسی طرح کی جدید زمانے کی عورتوں کو شاید بزرگوں کیطرف سے مشفقانہ حوصلہافزائی کی ضرورت ہو تاکہ فروتن بنیں اور ”خداوند میں یکدل رہیں۔“—فلپیوں ۲:۲، ۳؛ ۴:۲، ۳۔
۸. حسد کونسے گنہگارانہ کاموں کا باعث بن سکتا ہے؟
۸ شاید ایک مسیحی اُس شخص کی کسی ماضی کی غلطی کی بابت جانتا ہو جسے اب کلیسیا میں استحقاقات سے نوازا گیا ہے۔ (یعقوب ۳:۲) حسد کی وجہ سے، شاید دوسروں کے ساتھ اس کی بابت بات کرنے اور کلیسیا میں اُس شخص کی تفویض کو چیلنج کرنے کی آزمائش کا سامنا ہو۔ یہ محبت کے برعکس ہوگا، جوکہ ”بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔“ (۱-پطرس ۴:۸) حسد والی گفتگو کلیسیا کے امن کو برباد کر سکتی ہے۔ ”لیکن اگر تم اپنے دل میں سخت حسد اور تفرقے رکھتے ہو،“ یعقوؔب شاگرد نے خبردار کِیا، ”تو حق کے خلاف نہ شیخی مارو نہ جھوٹ بولو۔ یہ حکمت وہ نہیں جو اُوپر سے اُترتی ہے بلکہ دُنیوی اور نفسانی اور شیطانی ہے۔“—یعقوب ۳:۱۴، ۱۵۔
اپنے خاندان میں
۹. شادیشُدہ ساتھی کیسے حسد کے احساسات پر قابو پا سکتے ہیں؟
۹ بہت سی شادیاں حسد کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں۔ رفیقِحیات پر اعتماد کی کمی ظاہر کرنا پُرمحبت بات نہیں ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۷) اس کے برعکس، ہو سکتا ہے کہ ایک ساتھی دوسرے ساتھی کی طرف سے حسد کے جذبات کے لئے بےحس ہو۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ ایک بیوی اُس توجہ کی وجہ سے حسد کرتی ہو جو اُس کا شوہر مخالف جنس کے کسی دوسرے شخص کو دیتا ہے۔ یا ایک شوہر شاید اس وجہ سے حسد کرنے لگے کہ اُس کی بیوی حاجتمند رشتہداروں کی دیکھبھال میں زیادہ وقت صرف کرتی ہے۔ ایسے احساسات پر ندامت محسوس کرتے ہوئے ہو سکتا ہے کہ شادیشُدہ لوگ خاموش رہیں اور اپنی پریشانیوں کا اظہار ایسے طریقوں سے کریں جو مسئلے کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔ اسکی بجائے، ایک حاسد شادیشُدہ ساتھی کو باتچیت کرنے اور دوسرے کے احساسات کے سلسلے میں دیانتدار بننے کی ضرورت ہے۔ اس کے بدلے میں، دوسرے ساتھی کو سمجھداری دکھانے اور اپنی محبت کی یقیندہانی کرانے کی ضرورت ہے۔ (افسیوں ۵:۲۸، ۲۹) ایسے حالات سے گریز کرتے ہوئے جوکہ اسے فروغ دیتے ہیں، اُن دونوں کو شاید حسد کے جذبات کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ بعضاوقات ہو سکتا ہے کہ ایک مسیحی نگہبان کو اپنی بیوی کو یہ سمجھنے میں مدد دینے کی ضرورت ہو کہ وہ خدا کے گلّہ کے چرواہے کے طور پر اپنی ذمہداری کو پورا کرنے کی خاطر مخالف جنس کے ارکان کو محدود، مناسب توجہ دے رہا ہے۔ (یسعیاہ ۳۲:۲) بِلاشُبہ، ایک بزرگ کو ہوشیار رہنا چاہئے کہ وہ کبھی بھی حسد کی جائز وجہ فراہم نہ کرے۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ اپنے ذاتی ازدواجی رشتے کو مضبوط رکھنے کے لئے وقت دے رہا ہے، یہ بات توازن کا تقاضا کرتی ہے۔—۱-تیمتھیس ۳:۵؛ ۵:۱، ۲۔
۱۰. حسد کے احساسات پر غالب آنے کے لئے والدین اپنے بچوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
۱۰ والدین کو اپنے بچوں کو بھی حسد کے تصور کو سمجھنے میں مدد دینی چاہئے۔ بچے اکثر ایسے بےمعنی جھگڑوں میں اُلجھ جاتے ہیں جو لڑائی میں بدل جاتے ہیں۔ اکثر بنیادی وجہ حسد ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر بچے کی ضروریات منفرد ہوتی ہیں، اس لئے بچوں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں کِیا جا سکتا۔ مزیدبرآں، بچوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اُن میں سے ہر ایک مختلف خوبیوں اور خامیوں کا مالک ہے۔ اگر ایک بچے کی ہمیشہ اُسی طرح کرنے کے لئے حوصلہافزائی کی جاتی ہے جیسے دوسرا کرتا ہے تو یہ شاید ایک میں حسد اور دوسرے میں تکبّر پیدا کر دے۔ لہٰذا، والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی بجائے خدا کے کلام میں دی گئی مثالوں پر غور کرتے ہوئے اپنی ترقی کا اندازہ لگائیں۔ بائبل کہتی ہے: ”ہم بیجا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“ اس کی بجائے، ”ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے۔ اس صورت میں اُسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا موقع ہوگا نہ کہ دوسرے کی بابت۔“ (گلتیوں ۵:۲۶؛ ۶:۴) سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسیحی والدین کو باقاعدہ بائبل مطالعہ کے ذریعے، خدا کے کلام میں پائی جانے والی اچھی اور بُری مثالوں کو نمایاں کرتے ہوئے، اپنے بچوں کو مدد دینے کی ضرورت ہے۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۵۔
حسد پر قابو پانے کی مثالیں
۱۱. حسد پر قابو پانے میں موسیٰؔ کیسے ایک عمدہ نمونہ تھا؟
۱۱ اس دُنیا کے اقتدار کے بھوکے راہنماؤں کے برعکس، ”موسیٰ . . . رُویِزمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا۔“ (گنتی ۱۲:۳) جب بنیاسرائیل کی پیشوائی کرنا اکیلے موسیٰؔ کے لئے دُوبھر ہو گیا تو یہوؔواہ نے دیگر ۷۰ اسرائیلیوں کو موسیٰؔ کی معاونت کرنے کے لئے طاقت بخشتے ہوئے اپنی روح کو اُن میں کام کرنے دیا۔ جب ان آدمیوں میں سے دو نے نبیوں کی طرح کام کرنا شروع کر دیا تو یشوؔع نے محسوس کِیا کہ اس چیز نے نامناسب طور پر موسیٰؔ کی پیشوائی کو کمتر بنا دیا ہے۔ یشوؔع ان آدمیوں کو روکنا چاہتا تھا لیکن موسیٰؔ نے فروتنی سے استدلال کِیا: ”کیا تجھے میری خاطر رشک آتا ہے؟ کاش خداوند کے سب لوگ نبی ہوتے اور خداوند اپنی روح اُن سب میں ڈالتا“! (گنتی ۱۱:۲۹) جیہاں، جب دوسروں کو خدمت کے استحقاقات حاصل ہوتے تو موسیٰؔ خوش ہوتا تھا۔ وہ حاسدانہ طور پر صرف اپنے لئے ہی عزت کا خواہاں نہ تھا۔
۱۲. کس چیز نے یونتنؔ کو حسد کے جذبات سے بچنے کے قابل بنایا؟
۱۲ محبت کیسے حسد کے ممکنہ احساسات پر غالب آتی ہے اس کی عمدہ مثال، اسرائیلی بادشاہ ساؔؤل کے بیٹے، یونتنؔ کے ذریعے فراہم کی گئی تھی۔ یونتنؔ اپنے خاندان میں اپنے باپ کے بعد تخت کا وارث تھا، لیکن یہوؔواہ نے، یسیؔ کے بیٹے داؔؤد کو اگلا بادشاہ ہونے کے لئے منتخب کِیا تھا۔ یونتنؔ کی صورتحال میں بہتیرے لوگوں نے، داؔؤد کو حریف خیال کرتے ہوئے اس سے حسد کِیا ہوتا۔ تاہم، داؔؤد کے لئے یونتنؔ کی محبت نے اُسے ہمیشہ کسی ایسے جذبے سے مغلوب ہونے سے باز رکھا۔ یونتنؔ کی موت کی بابت جاننے پر، داؔؤد کہہ سکتا تھا: ”اَے میرے بھائی یونتنؔ! مجھے تیرا غم ہے۔ تُو مجھ کو بہت ہی مرغوب تھا۔ تیری محبت میرے لئے عجیب تھی۔ عورتوں کی محبت سے بھی زیادہ۔“—۲-سموئیل ۱:۲۶۔
سب سے نمایاں مثالیں
۱۳. غیرت کے معاملے میں کون بہترین مثال ہے، اور کیوں؟
۱۳ یہوؔواہ خدا اُس شخص کی سب سے نمایاں مثال ہے جسے غیرت پر بھی غلبہ حاصل ہے۔ وہ ایسے جذبات کو پوری طرح سے قابو میں رکھتا ہے۔ الہٰی غیرت کا کوئی بھی زورآور اظہار ہمیشہ خدا کی محبت، انصاف اور حکمت کی مطابقت میں ہوتا ہے۔—یسعیاہ ۴۲:۱۳، ۱۴۔
۱۴. شیطان کے برعکس یسوؔع نے کونسا نمونہ قائم کِیا؟
۱۴ غیرت پر غالب آنے والی دوسری نمایاں مثال خدا کا اپنا پیارا بیٹا، یسوؔع مسیح ہے۔ یسوؔع نے ”اگرچہ [وہ] خدا کی صورت پر تھا،“ توبھی ”خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔“ (فلپیوں ۲:۶) اُس بلندنظر فرشتے کی اختیارکردہ روش کے کس قدر برعکس جو شیطان اِبلیس بن گیا! ”بابلؔ کے بادشاہ“ کی طرح، خود کو یہوؔواہ کی مخالفت میں حریف معبود بناتے ہوئے، شیطان نے حسد سے ”حقتعالیٰ کی مانند“ بننے کی خواہش کی۔ (یسعیاہ ۱۴:۴، ۱۴؛ ۲-کرنتھیوں ۴:۴) شیطان نے یسوؔع سے بھی خود کو ”جھک کر سجدہ“ کرانے کی کوشش کی۔ (متی ۴:۹) لیکن کوئی بھی چیز یسوؔع کو یہوؔواہ کی حاکمیت کے لئے اُس کی عاجزانہ تابعداری سے جُدا نہ کر سکی۔ شیطان کے برعکس، یسوؔع نے ”اپنے آپ کو خالی کر دیا اور خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔ اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔“ شیطان کی متکبرانہ اور حاسدانہ روش کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، یسوؔع نے اپنے باپ کی حکمرانی کی حقیقت کو سربلند کِیا۔ یسوؔع کی وفاداری کے پیشِنظر، ”خدا نے بھی اُسے بہت سربلند کِیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔ تاکہ یسوؔع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے۔ خواہ آسمانیوں کا ہو خواہ زمینیوں کا۔ خواہ اُن کا جو زمین کے نیچے ہیں۔ اور خدا باپ کے جلال کے لئے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوؔع مسیح خداوند ہے۔“—فلپیوں ۲:۷-۱۱۔
اپنے حسد پر غلبہ پانا
۱۵. ہمیں کیوں حسد کے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لئے محتاط ہونا چاہئے؟
۱۵ خدا اور مسیح کے برعکس، مسیحی ناکامل ہیں۔گنہگار ہوتے ہوئے، وہ گنہگارانہ حسد کے باعث وقتاًفوقتاً کچھ کر سکتے ہیں۔ اس لئے، بجائے اس کے کہ ہم حسد کو اجازت دیں کہ وہ ہمیں ساتھی ایماندار کی معمولی غلطی یا بھولچُوک کی بابت نکتہچینی کرنے کی تحریک دے، یہ اشد ضروری ہے کہ ہم اِن الہامی الفاظ پر غور کریں: ”حد سے زیادہ نیکوکار نہ ہو اور حکمت میں اعتدال سے باہر نہ جا اس کی کیا ضرورت ہے کہ تُو اپنے آپ کو برباد کرے؟“—واعظ ۷:۱۶۔
۱۶. اس رسالے کے ایک پُرانے شمارے میں حسد کی بابت کونسی عمدہ مشورت دی گئی تھی؟
۱۶ حسد کے موضوع پر، مینارِنگہبانی (انگریزی) مارچ ۱۵، ۱۹۱۱، نے خبردار کِیا: ”اگرچہ ہمیں بہت جوشیلے، خداوند کے مقصد کے لئے بہت غیرتمند ہونا چاہئے، پھربھی ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ یہ ذاتی نوعیت کا معاملہ نہیں ہے؛ اور اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا ہم ’مفسد‘ ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد، ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ آیا یہ چیز بزرگوں کے نوٹس میں لانے کے لئے موزوں ہے یا نہیں اور یہ کہ آیا یہ ہمارا فرض ہوگا کہ اس سلسلے میں بزرگوں کے پاس جائیں یا نہیں۔ ہم سب کو خداوند کے مقصد اور خداوند کے کام کے لئے کافی غیرت رکھنی چاہئے، لیکن اس کی بابت بہت محتاط رہیں کہ یہ غلط قسم کی نہ ہو . . . باالفاظِدیگر، ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ یہ دوسرے سے حسد نہیں، بلکہ دوسرے کے لئے، اُس کے مفادات اور خوشحالی کے لئے غیرت ہے۔“—۱-پطرس ۴:۱۵۔
۱۷. ہم کیسے حسد کے گنہگارانہ کاموں سے بچ سکتے ہیں؟
۱۷ بطور مسیحیوں کے ہم کیسے تکبّر، حسد اور بدگمانی سے بچ سکتے ہیں؟ اس کا حل خدا کی پاک روح کو اپنی زندگیوں میں کام کرنے کی اجازت دینے میں پنہاں ہے۔ مثال کے طور پر، ہمیں خدا کی روح کے لئے اور اسکے عمدہ پھل ظاہر کرنے میں مدد کے لئے دُعا کرنے کی ضرورت ہے۔ (لوقا ۱۱:۱۳) ہمیں مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے کی ضرورت ہے جوکہ دُعا کے ساتھ شروع ہوتے ہیں اور جن پر خدا کی روح اور اُس کی برکت ہوتی ہے۔ علاوہازیں، ہمیں بائبل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے جوکہ خدا کے الہام سے ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) اور ہمیں بادشاہتی منادی کے کام میں حصہ لینے کی ضرورت ہے جوکہ یہوؔواہ کی پاک روح کی طاقت سے کِیا جا رہا ہے۔ (اعمال ۱:۸) اُن ساتھی مسیحیوں کی مدد کرنا جو کسی ناخوشگوار تجربے کی وجہ سے شکستہدل ہیں، خدا کی روح کے اچھے اثر کے تحت آنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ (یسعیاہ ۵۷:۱۵؛ ۱-یوحنا ۳:۱۵-۱۷) جانفشانی کے ساتھ ان تمام مسیحی تقاضوں کو پورا کرنا حسد کے گنہگارانہ کاموں سے بچنے میں ہماری مدد کرے گا، کیونکہ خدا کا کلام بیان کرتا ہے: ”روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہرگز پورا نہ کروگے۔“—گلتیوں ۵:۱۶۔
۱۸. ہمیں کیوں ہمیشہ حسد کے جذبات کے خلاف جدوجہد نہیں کرنی پڑیگی؟
۱۸ خدا کی پاک روح کے پھلوں میں محبت سرِفہرست ہے۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) محبت کو عمل میں لانا ہمیں اب گنہگارانہ رغبتوں پر قابو پانے میں مدد دیگا۔ لیکن مستقبل کی بابت کیا ہے؟ یہوؔواہ کے لاکھوں خادم آنے والی زمینی فردوس میں زندگی کی اُمید رکھتے ہیں، جہاں وہ انسانی کاملیت کو پہنچائے جانے کے منتظر ہو سکتے ہیں۔ اُس نئی دُنیا میں، محبت کا دوردورا ہوگا اور کوئی بھی حسد کے جذبات کا شکار نہ ہوگا، کیونکہ ”مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔“—رومیوں ۸:۲۱۔ (۱۴ ۹/۱۵ w۹۵)
غوروخوض کے لئے نکات
▫ حسد کا مقابلہ کرنے کے لئے پولسؔ نے کونسی مثال استعمال کی؟
▫ حسد کیسے کلیسیا کے امن کو برباد کر سکتا ہے؟
▫ کیسے والدین حسد پر قابو پانے میں اپنے بچوں کو تربیت دے سکتے ہیں؟
▫ ہم کیسے حسد کے گنہگارانہ کاموں سے بچ سکتے ہیں؟
[تصویر]
حسد کو کلیسیا کے امن کو برباد کر نے کی اجازت نہ دیں
[تصویر]
والدین اپنے بچوں کو حسد کے جذبات پر قابو پانے کی تربیت دے سکتے ہیں